Sunday, 13 September 2020

"پولیس کی ایک اور نا اہلی"

"پولیس کی ایک اور نا اہلی"
================
 (کارِ جہاں) ... میاں غفار احمد!

شیرشاہ سوری صرف 5 سال برصغیر کا حکمران رہا اگر اُسے زندگی مہلت دیتی اور 50 سال تک حکمران رہتا تو پورے ہندوستان کا کلچر بدل چکا ہوتا۔ کہتے ہیں کہ شیرشاہ سوری کے دور میں ایک اندھے قتل کی واردات ہوئی اور تھانیدار اُس واردات کو ٹریس کرنے میں ناکام رہا۔ اُس دور میں شیرشاہ سوری کے سب سے بڑے منصوبے جی ٹی روڈ پر کام ہورہا تھا اور سڑک کی تعمیر کے دوران سڑک کے اطراف میں تیزی سے شجرکاری کا عمل بھی جاری تھا۔ کئی روز گزر جانے کے باوجود قاتل نہ پکڑا جاسکا تو شیرشاہ سوری نے آج کی طرح کے نااہل‘ نکمے اور احساس سے عاری حکمرانوں کی طرح رپورٹ طلب نہیں کی بلکہ خاموشی سے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوا اور چند ساتھیوں کے ہمراہ ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر کرکے اُس تھانیدار کے علاقے میں پہنچ گےا جہاں قتل ہوا تھا۔ شیرشاہ سوری نے وہاں جاکر درختوں کو کاٹنا شروع کردیا۔ تھوڑی سی دیر بعد اُس دور کی پولیس گھوڑے دوڑاتی ہوئی وہاں پہنچ گئی اور تھانیدار نے شیرشاہ سوری کو گرفتار کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں علم نہیں کہ بادشاہ کے حکم کے مطابق درخت کاٹنا جرم ہے۔ اُسی دوران شیرشاہ سوری کے ذاتی محافظ بھی پہنچ گئے اور شیرشاہ سوری نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ”میں نے تمہارے علاقے میں درخت کاٹا اور تمہیں مخبری ہوگئی‘ تمہارے علاقے میں قتل ہوا ہے تمہیں مخبری کیسے نہیں ہوئی اور تم سے قاتل کیوں نہ پکڑا گیا؟“ وہی تھانیدار گرفتار ہوا‘ نوکری سے گیا‘ اُس کی مراعات ختم ہوئیں اور تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ 48 گھنٹے میں قاتل گرفتار ہوچکا تھا۔
وہ روشن ضمیر لوگ تھے‘ انہیں احساس تھا کہ کہیں نہ کہیں انہیں جوابدہ ہونا ہے‘ انہیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انہوں نے روزِمحشر پیش ہونا ہے مگر اُن احساسات سے آج کے حکمران‘ آج کی نوکرشاہی اور آج کی اشرافیہ عاری ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے انجام بارے نہیں سوچتے بلکہ کینیڈا‘ امریکہ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا میں اپنا انجام تلاش کرتے ہیں۔ 
سکون کی زندگی اور طاقت کا ناجائز استعمال کرنے کے عادی یہ لوگ سورة کہف کی آیات کی روشنی میں اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ جس طرح اﷲ نے انہیں دُنیا میں مال ومتاع‘ جاہ وجلال‘ عزت واحترام اور طاقت دی ہے یقینا اگلے جہان میں بھی اُن کو اُسی قسم کا پروٹوکول ملے گا اور پھر جس طرح تکبر کرنے والے کا باغ اُجڑا‘ پھل درختوں سے گر گئے‘ پانی گہرا ہوگیا‘ کہیں پاکستانی اشرافیہ کی غلط فہمی کا وہی نتیجہ نہ نکلے۔
آئے روز وارداتیں ہورہی ہیں مگر اقتدار کے نشے نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ موٹروے پر بچوں کی موجودگی میں گاڑی سے عورت کو نکال کر اُسے بے آبرو کرنا‘ اس نظام کے منہ پر سب سے بڑا طمانچہ ہے اور میں لکھ کردیتا ہوں کہ پولیس ملزموں کو گرفتار نہیں کرسکے گی کیونکہ پولیس میں تفتیش کا عنصر ختم‘ ذہانت کی جگہ تکبر اور فہم وفراست کی جگہ چِھتر نے لے لی ہے‘ پھر کون پوچھنے والا ہے؟ 4اوباش پکڑ کر اُن پر کیس ڈال دیں گے اور بے شرمی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے سُرخرو بھی ہوجائیں گے۔ ہاں! اگر حکومت پنجاب کی لاہور میں قائم پنجاب فرانزک لیب جوکہ سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کا اُسی طرح کا شاندار کارنامہ ہے جس طرح چودھری پرویزالٰہی کا 1122‘ تو ڈی این اے کی بنیاد پر یقینا قاتل گرفتار ہوں گے ہاں البتہ نااہل اشرافیہ ملزمان کی گرفتاری کا سہرا ڈی این اے کی چھاتی پر سجانے کے بجائے پولیس کی چھاتی پر سجائے گی کیونکہ انتخابات میں جائز اور ناجائز کام اس بدبخت سیاسی سسٹم کے پروردہ لوگوں نے اُسی پولیس سے لینا ہوتا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں اور جمعرات 10 ستمبر کو دوپہر 3 بجے یہ کیس پنجاب فرانزک لیب کے حوالے کردیا گیا ہے جو قصور کی زینب کیس اور چونیاں زیادتی کیس کے اصل ملزم پکڑ کر پولیس کے حوالے کرچکی ہے اور اُن میں سے ایک مجرم تو اپنے انجام کو بھی پہنچ چکا ہے۔
پولیس کا نظام اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ اربوں روپے کا بجٹ لینے والی اس پولیس نے چونیاں اور قصور میں اس قدر نااہلی کا مظاہرہ کیا کہ ملزمان کی شارٹ لسٹنگ بھی نہیں کرسکی۔ نتیجتاً قصور کیس میں تقریباً 1600 سے 1700 افراد کے ڈی این اے لئے گئے اور ان میں 1400 سے 1500 کی فہرست کے درمیان ملزم عمران کے ڈی این اے نے میچ کیا تھا جو کیس فرانزک لیب والوں نے حل کیا تھا تو اُس پر 12 سے 15 کروڑ لاگت آئی تھی مگر میڈل پولیس کے گلے میں ڈالے گئے اور میڈل وصول کرنے والے کسی بھی چہرے پر شرم کی رَتی بھر بھی رمق نہ تھی۔ اسی طرح چونیاں کیس میں بھی پولیس سے کہا گیا کہ تحصیل میں بچوں سے زیادتی کے حوالے سے جو ریکارڈ یافتہ لوگ ہیں صرف اُن کا ڈی این اے کرایا جائے مگر اُس کے لئے تو فائل ورک کرنا پڑتا تھا اور اگر چِھتر کا استعمال کرنا ہو تو وہاں فائل ورک کیونکر؟ ہر کسی کو پکڑا گیا اور نمونے لئے گئے‘ کروڑوں روپے فرانزک لیب پر خرچ ہوئے اور آخرکار جب پولیس نے سائنسدانوں اور نفسیات دانوں کی بات مانی تو اُن لوگوں کو پکڑا جو بچوں سے زیادتی کے حوالے سے حراست میں رہ چکے تھے یا جن کے بارے اس قسم کی شکایات تھیں‘ پھر صرف 11 گھنٹے میں اصل مجرم محض ڈی این اے کی بنیاد پر پکڑا گیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب فرانزک لیب پولیس کی نااہلی‘ جہالت‘ ناکامی اور عدم مہارت کا پول کھول رہی ہے لہٰذا پنجاب کی بیوروکریسی اور پنجاب پولیس پورا زور لگارہی ہے کہ شہبازشریف کے دور میں بنائی گئی ایشیاء کی جدید ترین فرانزک لیب بند ہوجائے اور پولیس کی سیاہ کاریاں جاری رہیں۔ انہیں انجام سے کیا خوف اور آخرت کا کیا ڈر مگر خاطر جمع رکھیں جس قسم کا چِھتر ظالم کے خلاف وہاں چلے گا ‘اُس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ کاش! کوئی ان نااہل حکمرانوں اور اشرافیہ کو سمجھائے کہ نام مِٹ جاتے ہیں اور کام زندہ رہتے ہیں۔
٭٭٭
 روزنامہ خبریں گروپ ٗ ..... 11 ستمبر 2020ء

No comments:

Post a Comment

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...