*وراثت میں حصہ ۔۔۔۔۔۔*
کل میرا بھائی آیا اور مجھے دس لاکھ روپے دے کر کہا کہ یہ تمھارا ابا کی وراثت میں سے حصہ ہے۔
والد صاحب نےانتقال کے وقت ترکہ میں دو منزلہ مکان چھوڑا جو اس وقت چالیس لاکھ کا تھا۔
پچیس سال گزر گئے ہم بہنیں خاموشی سے منتظر رہیں کہ بھائی خود ہی تقسیم کریں گے۔
پچھلے ماہ بھائی نے وہ مکان چار کروڑ میں بیچا کاغذی کارروائی میں ہم دونوں بہنیں بھی ساتھ تھیں۔ لیکن جو ہمیں حصہ دیا وہ م پچیس سال پہلے کی مکان کی قیمت کے حساب سے صرف دس لاکھ دیا ۔
مولانا صاحب کیا یہ زیادتی نہیں ہے ؟
اس خاتون نے مولانا صاحب سے پوچھا ۔
بالکل ذیادتی ہے اول تو وقت پر تقسیم ہونی چاہیے تھی لیکن اگر پچیس سال بعد جائیداد کی تقسیم ہوئی تو ورثاء میں آج کی قیمت کے اعتبار سے حصہ تقسیم کیا جانا چاہیے تھا ۔
بلکہ دین کا تقاضا تو یہ ہے کہ جتنے سال بھائی نے فایدہ اٹھایا اس کا کرایہ بھی ان پر واجب الادا ہے یہ اور بات کہ دیگر ورثا خود ہی نہ لینا چاہیں۔
یہ ایک بہن کا مسئلہ تھا جس کے بھائی نے لا علمی یا پھر چالاکی سے بہن کے حصہ کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا۔ہزاروں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھوں نے باپ کے مال پر صرف قبضہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے حق سمجھ کر کھایا ۔
میرا ایک آرٹیکل شادی میں جہیز جیسے بوجھ سے چھٹکارہ پانے کے حوالے سے تھا ۔
کچھ لوگوں نے اس پر کہا کہ ماں باپ چونکہ وراثت میں بیٹی کو حصہ نہیں دیتے اس لیے جہیز دے دیتے ہیں۔
آپ جہیز کی مخالفت ضرور کریں کہ یہ فضول رسم ہے لیکن بیٹیوں کے وراثت میں ان کے شرعی حصہ کی تو بات کریں ۔جو ان کا رب کی طرف سے دیا گیا حق ہے ۔
جہاں جہیز سے ڈسے لوگوں کی کمی نہیں وہاں ایسے اعلی تعلیم یافتہ ،بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہزاروں لوگ بھی ہیں ۔ بیٹیوں کو حق دینے کی بات پر جن کی غیر ت جاگ جاتی ہے کہ انھوں نے ایسا کہا تو کیوں کہا؟ بیٹیاں روایتی شرم کے زیر اثر اس پر مستزاد میکے کا بھرم اور مان قائم رکھنے کی خاطر خاموشی سے گھٹتے عمر بتا دیتی ہیں۔ زبان سے اف تک نہیں کہتیں۔
فیملی میں ہی ایک رشتہ دار اپنے بچوں سے کہہ رہے تھے میرے مرنے کے بعد تینوں مکانوں کو دونوں بھائی آپس میں برابر برابر تقسیم کر لینا ۔ کسی نے توجہ دلائی کہ صرف دو بھائی ہی تو نہیں تین بہنیں بھی تو حقدار ہیں ۔
ایک نے کم علمی کے زیر اثر سوال کیا ۔جس گھر میں رہائش ہوکیا اس میں سے بھی بہنوں کا حصہ نکلے گا۔
تبھی مولانا صاحب آگئے انھوں نے تفصیلا بتایا کہ جہیز اور شادی کے اخراجات کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ۔
وہ صرف والدین کی طرف سے تحائف ہو سکتے ہیں اور ترکہ کے لئے رہائشی یا غیر رہائشی کی بھی کوئی شرط نہیں ۔
کسی کے فوت ہونے کے بعد اس کی ایک ایک چیز ترکہ(وراثت کا مال ) بن جاتی ہے جس کی تقسیم اللہ رب العزت نے خود کی ہے کوئی اپنی مرضی سے اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کر سکتا۔
اس کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے میت پر کوئی قرض ہو تو وہ میت کے چھوڑے ہوئے مال سےادا کیا جائے گا۔ چاہے قرض دینے میں ہی سارا مال ختم ہو جائے قرض سب سے پہلے دینا ہوگا۔
اس کے بعد اس کے تجہیز و تکفین کا بندوست اسی مال سے کیا جائے گا ۔
اگر میت نے اپنے ورثاء کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو کل مال کے تیسرے حصے سے ادا کی جائے گی ۔
بقیہ مال ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا اس کا باقاعدہ علم علم الفرائض کے نام سے موجود ہے جس کے سیکھنے کی باقاعدہ ترغیب دی گئی ہے ۔اب اس حوالے سے ایپس بھی بن چکی ہیں آپ کل مال لکھیں اور ورثاء لکھیں تو ہر ایک کو ملنے والا حصہ معلوم ہو جائے گا ۔
تخصص کی کلاس میں مولانا صاحب ایک اور مسئلہ کا بتا رہے تھے کہ ایک شخص نے پلاٹ بیٹے کے نام لگوائے اور اسے کہا کہ یہ میری ملکیت ہیں میرے مرنے کے بعد شریعت کے مطابق ان میں سے بہنوں اور ماں کو حصہ دے دینا ۔اچانک ہی کسی ناگہانی میں پہلے باپ پھر بیٹا چل بسا ۔ بہو نے یہ کہتے ہوئے بہنوں کو حصہ دینے سے انکار کر دیا کہ میرے شوہر کے نام ہیں لہذا اسے کوئی مجھ سے نہیں لے سکتا۔
کچھ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مال کب تک کھاؤ گی یہاں نہ دو گی تو دوسرے جہاں میں پھنسنا یقینی ہے عدالت کے فیصلے سے بھی حقیقت تو نہ بدلے گی۔ بات سمجھ نہ آنی تھی نہ آئی کہ دولت فتنوں میں ایک بڑا فتنہ ہے
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ فضول رسم و رواج سے ہٹ کر اپنی اصل کی طرف آئے وہ تمام حقوق جو رب کریم نے کسی کے بتائے وہ پورے کئے جائیں الگ سے جو بھی دیں رسوم کے زیرِ اثر نہیں اخلاص اور نیک نیتی سے دیں۔
اپنا حق لینے میں شرمانے یا قباحت کی کوئی بات نہیں ۔
اگر کوئی اپنا حصہ لینے کے بعد کسی دوسرے کو اپنی مرضی سے دے دے تو وہ ایسا کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔
مقام شرم تو موجود ہ صورتحال ہے۔ جہاں لوگ معاشرے کی اندھی تقلید ،ریاکاری ،اور لوگ کیا کہیں گے کے چکر میں قرضدار ہی نہیں ذہنی مریض اور پھردل کے مریض بن جاتے ہیں اور میکے والوں کو زندگی بھر اس بوجھ سے چھٹکارہ نہیں ملتا۔
No comments:
Post a Comment