Sunday, 31 October 2021

سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کاابو موسٰی اشعری کو خط

💞 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ابو موسیٰ اشعری رض کو ایک جامع خط 💞

عمر رضی اللہ عنہ کا عبد اللہ بن قیس ( ابو موسیٰ اشعری) کی طرف : آپ پر سلامتی ہو .

اما بعد ! بے شک فیصلہ کرنا پکا فریضہ اور واجب الاتباع سنت ہے تو سمجھ لو کہ جب تمہارے پاس کوئی دعویٰ آئے تو ایسی حق گوئی جس کی تعمیل نہ ہو، فایدہ نہیں دیتی۔
اپنے ملنے میں ، عدل میں اور مجلس میں لوگوں سے مساویانہ سلوک کرو حتی کہ کوئی عزت دار تمہارے ظلم و ستم کی طمع نہ کرے اور کوئی کمزور تمہارے عدل سے ناامید نہ ہو۔
دلیل لانا مدعی کے زمہ ہے اور جو انکار کرے اس کے زمہ قسم ہے۔
مسلمانوں کے درمیان صلح کرنا جائز ہے مگر وہ صلح (جائز نہیں ) جو حرام کو حلال کردے اور حلال کو حرام کردے۔
کل کیا ہوا کوئی فیصلہ تجھے نہ روکے کہ تو اپنی عقل سے اس میں غور وفکر کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے اور پھر تو حق کی طرف لوٹ آئے۔ بیشک حق قدیم ہے اور حق کی طرف رجوع کرنا باطل میں حد سے تجاوز کرنے سے بہتر ہے ۔

_______________________
حوالہ : الاحکام السلطانیة، جلد ١ صفحه ١٢٢ .

اپنی اولاد کو متقیوں کا امام بنانے کی کوشش کریں

🍀 *اپنی اولاد کو متقیوں کا* *امام بنانے کی کوشش کریں* 🍀
وہ چھٹے بیج کی طالبہ تھی۔
اب جب بھی فون کرتی ہے اسی دعا کی درخواست کرتی ہے کہ اللہ اسےاولاد کی نعمت سے نواز دے۔
واقعی اولاد کی قدر کسی بے اولاد جوڑے سے پوچھئے۔۔
اولاد کی تمنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے لیکن ایک مسلمان اولاد کی خواہش کیوں رکھتا ہے قرآن خوبصورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
حضرت زکریا کے دل کی دعا ۔۔وہ چپکے چپکے پکارتے تھے اور
اپنا وارث طلب کرتے تھے۔
کیا پیغمبروں کی اساس دھن دولت ہوتی ہے؟
وہ کونسی میراث ہے جس کا وارث بنانے کے لیے وہ پریشان تھے؟
کیا ان کی ملیں دھواں اگلنا بند کر دیں گی؟
ان کی فیکٹریوں میں سناٹا ہو جائے گا؟
ان کے ویران سرے محلوں میں فاختائیں انڈے دیں گی؟
کیا پیغمبر معاذاللہ مال و جائیداد کی فکر میں گھلتے تھے ؟؟
بات واضح ہے۔حضرت زکریا اپنے دینی ورثے کے لیے بے چین تھے۔ انہیں یقیناً خاندان میں کوئی ایسا نظر نہیں آرہا ہوگا جو ان کے بعد اس داعیانہ کردار کو نبھا سکے۔۔
یہاں ٹھہریئے اور ۔۔
خود سے سچ بولیں۔
اپنے دل سے پوچھیں کہ یہ پاک آرزو ہمارے دل اور دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ ہے؟؟
کیا واقعی کوئی بے اولاد۔۔ اولاد کی دعا اس لیے کرتا ہے کہ جو نیکیاں میں دنیا میں پھیلا رہا ہوں میرے بعد ان نیکیوں کا سلسلہ میری نسل میں ختم نہ ہو جائے!!
کیا واقعی ہماری زندگی میں اتنا اہم مشن ہے کہ ہم فکر مند ہوں کہ جب ہم زیر زمین ہوں تب بھی یہ مشن جاری وساری رہے۔۔
ہم تو اپنے سماج میں لوگوں کو اس دکھ میں مبتلا دیکھتے ہیں کہ بیٹا ہوتا تو باپ کے بعد کاروبار سنبھال لیتا۔۔
بہنوں کی شادی کی ذمہ داری میں باپ کا ہاتھ بٹا دیتا۔
جس آدمی کے چار یا چھ بیٹے ہوں ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس گھرانے سے دین کو کتنا فروغ مل رہا ہوگا۔
ہم سوچتے ہیں کہ بیٹے معاشی آسودگی کی علامت ہیں نہ کہ دین کے فروغ کی۔۔۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اکثر لوگ جو دعوت و تبلیغ میں اپنی عمر گزارتے ہیں انکی اولاد اس راہ پر ان کی ہم سفر نہیں ہوتی۔
یہ بھی طرفہ تماشا ٹھہرا کہ ہم اپنے مادی ترکے کا وارث تو اپنی اولاد ہی کو بنانا چاہتے ہیں لیکن اپنے مشن کے ترکے کے لئے غیروں کی اولادوں کو تلاش کرتے ہیں ۔۔
کسی کے بیٹے کا کاروبار خسارے سے دوچار ہو تو والدین ہر ایک سے دعا کی درخواست کرتے ہیں لیکن وہی بیٹا اگر فرض عبادات سے غافل ہو تو والدین کی وہ تڑپ نظر نہیں آتی۔۔

ہم میں سےکتنے والدین تنہائیوں میں گڑگڑا کر اپنے رب سے اپنی اولاد کے لئے متقیوں کا امام بننے کی دعا مانگتے ہیں۔۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بوڑھے والد باقاعدگی سے باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کرتے ہیں اور جوان بیٹے گھر میں موجود ہوتے ہیں۔۔
باپ سمجھتے ہیں کہ تعلیم اور روزگار نے انہیں تھکا رکھا ہے فارغ ہوں گے تو عبادت بھی کرلیں گے۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ
والد اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دے سکتا ہے وہ اچھی تعلیم اور تربیت ہے۔۔
اولاد کو یہ تحفہ دینا ہی دل کی سب سے بڑی آرزو ہونا چاہیے ۔بالکل ایسے جیسے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا اچھا گھر اور اچھی معاش ہو۔
جب ہم واجعلنا للمتقین اماما کی دعا
کرتے ہیں تو ہماری زندگی کا سب سے بڑا مشن یہ ہونا چاہیے کہ ہم انہیں دین کی پاکیزہ تعلیمات سے آشنا کرائیں اور انھیں بتائیں کہ وہ ایک مشنری گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔اسلام ایک مشن کا نام ہے
قرآن نے زندگی کا حاصل بتا دیا کہ اگر اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتے ہیں تو انھیں متقیوں کا امام بنانے کی سعی کریں۔۔
تحریر،، افشاں نوید
انتخاب،، عابد چودھری
*برائے مہربانی پوسٹ کو شئیر یا فارورڈ کیا جائے*

🔹▬▬▬▬ 🌹 ▬▬▬▬🔹

Thursday, 21 October 2021

سبق

کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ، کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی،  اتنے میں پرنسپل  کلاس روم میں داخل ہوئے،   کلاس روم  میں سناٹا چھاگیا ۔

پرنسپل  صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔

*سبق01*

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔

وزیٹنگ پروفیسر  انصاری نے ہال  میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ  کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….

‘‘تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….

‘‘یہ ناممکن ہے۔’’، کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔

پروفیسر  نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے  بلیک بورڈ پر اس  لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔   اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:

‘‘آپ  نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے،  وہ  یہ ہے  دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام  کیے بغیر، ان سے حسد  کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’’

آگے بڑھنےکی خواہش  انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔  دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے اور بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔

*سبق02*

دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی  پروفیسر  انصاری نے  بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد  انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے  ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ   کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:

‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا‘‘ایک سیاہ نقطہ’’۔

طالب علم  تعجب کا اظہار کررہے تھے سر  بھی کمال کرتے ہیں ،  کل لکیر کھینچی تھی آج نقطہ   بنادیا ہے ….

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ حیرت ہے ! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک چھوٹا  سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟’’

زندگی میں کیے گئے لاتعداد اچھے کام سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں پر توجہ زیادہ دیتی ہے لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے  ، تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے ….   دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے  جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاشکرلیتے ہیں۔

ہماری زندگی کے معاملات میں لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔   ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’ جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ دو راہوں پر گامزن کردیتے ہیں۔ یہ دوراہی  فیصلہ لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس صورتحال میں صرف نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکررہ جاتے ہیں۔

اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں، کوئی بھی راہ چنیں ، تو یہ یاد رکھیں کہ  آپ ہر شخص کو مطمئننہیں کرسکتے ۔

*سبق03*

تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔

‘‘سر کیا آپ وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’ ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا  ‘‘نہیں!  آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے  خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’

‘‘پچاس گرام’’، ‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔

‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’ پروفیسر نے کہا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’

‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘ٹھیک ہے، اب یہ  بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’ پروفیسر نے پوچھا۔

‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’ طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔

‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’ پروفیسر  نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’

‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔

‘‘بہت اچھا!’’ پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا ‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیلہوا….؟’’

‘‘نہیں۔’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’پروفیسر  نے پوچھا۔طالب علم چکرائے گئے۔

‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’ ایک طالب علم نے کہا۔

‘‘بالکل صحیح!….’’ استاد نے کہا۔

‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک  لگتے ہیں۔انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

 دیکھیے….!اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً  اہمیت رکھتا ہے۔لیکن…. اس سے کہیں زیادہ اہم  بات یہ ہے کہ ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتاردیا جائے۔ اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے۔ اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو  یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے  کرنا رکھنا یاد رکھیں۔’’

*سبق04*

پروفیسر نے  کہا  کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔

جب طلباء  تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا کہ :

‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ  نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر  چن لیں اور اس  پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں۔’’

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا،  پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو  دیکھابعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے۔

پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:

  ‘‘ یہ آپ کا ہوم ورک ہے،   آپ سب  ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لیے پھریں۔ رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں،   جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز  آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا۔ ’’

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو  چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب  نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں  کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا….؟’’

سب طلبہ و طالبات خاموش رہے۔

‘‘اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ  ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا ، کسی پر احسان کرنااس شخص کے لیے  اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لیے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں ، اس کے خلاف بدلہ لینے  کے لیے سوچتے ہیں اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔“

Wednesday, 20 October 2021

ملکیت

"ملکیت"
ہماری شادی بڑے ڈرامائی انداز میں ہوئی۔ ایک رات اس کا مجھے میسج آیا کہ چلو شادی کر لیں۔ یہ بات میرے لئے تشویش ناک تھی کیونکہ ایک سیٹلڈ لائف کے بغیر شادی کرنا ہمارے خود ساختہ اصولوں کے خلاف تھا۔!!

ہم ایک دوسرے کو عرصے سے جانتے تھے۔ ایک شہر، ایک محلہ اور پھر ایک سکول۔ ہماری پسند ٹین ایج میں ہی محبت میں تبدیل ہو چکی تھی۔۔


متوسط گھرانوں سے ہونے کے باوجود اس نے میری نسبت بڑے مشکل حالات دیکھے تھے۔ جس کی ایک وجہ اس کا مخصوص گھرانہ تھی۔ وہ مالی طور پہ بھی وہ بہت مستحکم نہیں تھے اسی باعث اس نے ہمیشہ ایک سیٹلڈ لائف پارٹنر کی خواہش کی تھی، شاید اسکے لئے یہی ایک راہ فرار بچی تھی۔!!

میں ابھی حال ہی میں گریجویٹ ہوا تھا اور ہر پاکستانی نوجوان کی طرح ڈگری کرنے کے بعد یہ سوچ رہا تھا کہ اب کمانے کے لئے کیا کرنا ہے۔. اس دن اس کے گھر میں معمول کے مطابق ہونے والی لڑائی کچھ مختلف تھی۔۔۔ جب اس کا مجھے میسج آیا تو میرے طوطے اڑ چکے تھے۔ اس نے اپنے سارے اصولوں کی گٹھریاں ایک تنکے کے ساتھ باندھ دی تھیں اور وہ "میں" تھا۔!!

اس نے بس ایک سوال کیا...

"دو وقت کی روٹی اور رہنے کے لئے گھر دے سکتے ہو__؟"

عورت بھی عجیب شے ہے، جب خواہش کرنے پہ آئے تو قارون کے خزانے بھی کم پڑ جائیں اور جب گزارہ کرنے پہ آئے تو ایک چھت اور روٹی کو جنت بنا لیتی ہے۔!!

میں جذبات کے معاملے میں عمروعیار نہیں تھا، میں نے اس کے علاوہ کبھی کسی کا نہیں سوچا تھا۔ اس کے اعتماد نے میرا ڈر بھی نگل لیا تھا اور اگلے دن میں سر جھکائے والدین کے سوالوں کے لشکر کے سامنے "محبت کی تلوار" لئے تنہا کھڑا تھا۔!!
بادل بہت گرجے، برسے لیکن میرے ارادوں کے بادبانوں کو گرا نہ سکے۔!!

اس کے گھر میں کیا ہوا مجھے اس کا اندازہ تھا نہ پوچھنے کا حوصلہ۔ اس کی طرف سے زیادہ تر لوگوں کا بائیکاٹ تھا کیونکہ وہ خاندان سے باہر رشتہ نہیں کرتے تھے سو بڑی سادگی سے "نکاح" کر کے ہم اسے گھر لے آئے...

میرا کمرا چھوٹا تھا سو والدین کے کمرے کو ہمارے لئے خالی کر دیا گیا۔ جہیز میں اس کے پاس دو اٹیچی کیس تھے جو شاید اس کی ماں نے اپنے والے خالی کر کے اسے دے دئے تھے۔ ایک میں کچھ کپڑے تھے جن میں سے زیادہ تر پرانے تھے، دوسرے میں کتابیں اور میرے دیے کچھ تحفے جو مجھے بھی بھول چکے تھے لیکن اس نے سنبھال رکھے تھے۔!!

شادی کی پہلی رات ہم ایک دوسرے کو دیکھ کے بڑی دیر ہنستے رہے کہ یہ ہم نے کیا کر دیا ہے لیکن ان قہقہوں کے پیچھے کی فکریں ہم دونوں کے چہروں سے عیاں تھیں۔ شادی چونکہ جلد بازی اور خاندان والوں کی ناراضگی میں ہوئی تھی سو مونہہ دکھائی کے پیسے میرے پاس نہیں تھے..

ایک دوست سے ادھار پکڑ کے سونے کی ایک ہلکی سی انگوٹھی اسے دی جسے اس نے یہ کہہ کے واپس کر دیا کہ میں تمہارے حالات سے واقف ہوں، جن حالات میں شادی ہوئی ہے اس سے بھی واقف ہوں، سو جب خود دلا سکو گے تب لوں گی۔!!

میں نے تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھا کہ

"اچھا بتاؤ۔!

تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے۔۔؟؟؟ میں کسی دن وہ ضرور پوری کروں گا"

اس نے کچھ تامل کے بعد کہا کہ

" زندگی میں دو ہی خواہشات کے لئے خدا کے سامنے گڑگڑائی ہوں۔۔۔

ایک اپنا گھر ہو، چاہے بہت چھوٹا سا ہو لیکن اپنا ہو اور دوسرا ۔۔۔۔۔

"دوسرا۔۔؟"

"دوسرا، میرے سامنے ہے ۔۔"

ہم دونوں نے ایک دوسرے کا مونہہ دیکھا اور مسکرانے لگے۔!!

پسند کی شادی پہ عورت پہلے اپنے گھر والوں سے سنتی ہے بعد میں سسرال سے۔ وہ ساری کشتیاں جلا کے آئی تھی سو اس نے زبان سی لی۔ اب اگلی ذمہ داری میری تھی۔ ایک دوست کے توسط سے لاہور ایک کال سنٹر میں جاب مل گئی لیکن میں کبھی اپنے شہر سے نکلا نہیں تھا سو ایک انجان شہر میں جانے کے لئے مجھے تھوڑا سرمایہ درکار تھا۔ ابو سے مجھے دس ہزار ملے، اگلے ہفتے کی ٹکٹ تھی۔ رات کو میں حسابوں میں مصروف تھا تو وہ میرے پاس آئی، اس نے اپنے زور سے بند مٹھی کھولی اور میرے سامنے کر دی۔۔۔

میں نے کہا

"تم فکر نہ کرو میرے پاس پیسے ہیں، یہ تم اپنے پاس ۔۔۔"

"یار مجھ سے جھوٹ نہ بولا کرو، مجھے پتہ ہے نہیں ہیں"
یں خاموش ہو گیا کیونکہ پیسوں کی ضرورت مجھے تھی۔ وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور کسی ماسٹر پلانر کی طرح مجھے سمجھانے لگی۔!!

"میں نے ایک پلان سوچا ہے"

"کیا۔۔؟"

"تمہاری گندم گاؤں سے آتی ہے نا۔۔؟"

"ہاں"

"تم ایسا کرو ان پیسوں کی گندم لے لو، گھر کے لئے بھی لینی ہے، گاؤں سے تمہیں سستی مل جائے گی۔ میری ایک دوست ہے، اس سے بات کی ہے میں نے اس کو ضرورت ہے، تم یہاں سے اٹھا کے وہاں دے دینا کچھ پیسے بچ جائیں گے"

وہ بڑی اکسائٹمنٹ سے مجھے ایک بزنس پلان سمجھا رہی تھی۔ میں اس کی معصومیت پہ مسکرایا لیکن پلان برا نہیں تھا۔

پلان کامیاب رہا، یہ پلان ہم نے گھروالوں سے مخفی رہا۔ پیسے لے کے جب میں گھر آیا تو رات کو ہم چھوٹے بچوں کی طرح پیسے گن رہے تھے جیسے بچے غلہ توڑنے کے بعد گنتے ہیں حتی کہ ان کو پورا حساب ہوتا ہے۔

ہمیں فی من ساڑھے تین سو کے حساب سے چھے ہزار تین سو (6,300) منافع ہوا۔!!

یہ ہمارا پہلا کامیاب بزنس تھا۔ دو ہزار میں نے اس کے منع کرنے کے باوجود اس کے ہاتھ پہ رکھا کیونکہ اصولی طور پہ یہ اسی کی کمائی تھی۔!!

اگلے ہفتے میں اسے چھوڑ کے لاہور نکل گیا۔ لاہور میرے لئے انجان تھا۔ کچھ دن دوست کے گھر رہا، بعد میں جب اپنی رہائش ڈھونڈنی پڑی تو دال روٹی کا بھاؤ پتا چلنے لگا۔ رہائش اور ماہانہ خرچوں کا حساب لگایا تو یہ میری سوچ سے تھوڑا زیادہ تھا ۔ پیچھے میری ایک منتظر بیوی بھی تھی اور ایک تنخواہ میں مجھے میرا گزارہ ہوتا مشکل نظر آ رہا تھا۔ پتہ نہیں یہ اس کی محبت تھی یا احساس ذمیداری میں نے بھی تہیہ کیا کہ کچھ نہ کچھ تو کروں گا ہی۔ اس نے اگر میرے بھروسے سب چھوڑا ہے تو اس کا بھروسہ نہیں ٹوٹنے دے سکتا۔ !!

میں نے اپنے کال سنٹر کے قریب کام ڈھونڈنا شروع کیا۔ اتفاق سے وہاں ایک ریستوران میں مجھے نوکری مل گئی۔!!

ہوتا اب یہ تھا کہ صبح 7 سے شام 5 میں کال سنٹر میں تھا، وہاں سے آ کے سو جاتا تھا اور رات 12 سے صبح چھ نائٹ شفٹ پہ ریستوران۔!!

وہاں سے مجھے دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا جس سے میرا کافی خرچہ بچ جاتا تھا۔ کال سنٹر کی تنخواہ 15 ہزار تھی جو کمیشن ملا کے 25,26 بن جاتا تھا اور ریستوراں والے مجھے آٹھ ہزار دیتے تھے۔ اس اضافی کام کا میں نے گھر نہیں بتایا تھا ورنہ ___ (میری بیوی) مجھے کبھی یہ نہ کرنے دیتی۔!!

مہینے بعد گھر گیا تو بارہ ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دئے۔ اس نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ تیں دفعہ گنتی کی، پھر انہیں دو دفعہ چوما اور نمناک آنکھوں کے ساتھ اپنے اٹیچی کیس میں اپنا حق سمجھ کے رکھ لئے.!!

اس کی وہ خوشی میرے لیے کائنات کی سب سے محبوب شے تھی۔۔۔

میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا لیکن میرے وہاں کے حالات اس چیز کی اجازت نہیں دیتے تھے، اس نے بھی بردباری کی انتہا کرتے ہوئے خود ہی منع کر دیا۔!!

اس کی دعائیں تھیں یا اس کا رزق، دو ماہ میں مجھے ایک فرم میں نوکری مل گئی۔ یہاں میری تنخواہ چالیس ہزار تھی جو میری سوچ اور ضروریات کے حساب سے کافی زیادہ تھا۔!! محنت کی عادت تو مجھے پہلے ہی تھی سو فارغ وقت میں، میں نے ایک پیکنگ کمپنی میں نائٹ شفٹ پہ نوکری کر لی۔ یہ کام ریستوران سے کافی بہتر اور صاف ستھرا تھا اور تنخواہ بھی مناسب تھی۔ اس نوکری کا میں نے اسے نہیں بتایا کہ اس کو سرپرائز دوں گا۔ اس دفعہ میں دو ماہ بعد گھر گیا اس کی سالگرہ تھی۔!!

اور گھر والوں کے سامنے ہم انتہا کے میسنے تھے، ان کو کچھ نہیں بتاتے تھے۔۔۔ سالگرہ پہ ایک چھوٹا سا کیک ہم 7 لوگوں میں تقسیم ہوا۔ رات کو ہم جب کمرے میں اکیلے ہوئے تو اسے ایک ڈبہ پکڑا دیا۔ اس نے خوشی اور حیرت سے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور پوچھا

"کیا ہے اس میں...؟ "

"خود ہی دیکھ لو"

"اوہ! اچھا میرے پاس بھی کچھ ہے"

میں نے حیرت سے پوچھا

"واقعی۔۔؟ کیا۔۔؟"

اس نے اپنے اٹیچی کیس سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکال کے مجھے دے دیا۔!!

پہلے اس نے اپنا ڈبہ کھولا تو خوشی کے مارے اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ یہ ایک اینڈرائیڈ سمارٹ فون تھا۔ اس کو فوٹو گرافی اور برانڈز سرچ کرنے کا خبط تھا جس کو وہ دوستوں کے موبائل سے کبھی کبھار پورا کر لیتی تھی۔ اس نے جلدی جلدی اسے نکالا، آن کیا اور کہا۔۔۔

"lets_take_a_selfie"

اور یہ ہماری اک ساتھ پہلی باقاعدہ فوٹو تھی۔!!

اب میری باری تھی، میں نے گفٹ کھولنا شروع کیا۔ یہ Gshock کی ایک سپورٹس واچ تھی۔ اسے میری خواہشات کا بخوبی علم تھا۔ یہ کافی مہنگی تھی جس کی میں نے زندگی میں ہمیشہ بس خواہش کی تھی۔ اس کے پیسے اس نے اپنے خرچے میں سے کیسے بچائے تھے وہ میری سمجھ سے باہر تھا، اس کے تحفے کے آگے میرا تحفہ شرمندہ ہو رہا تھا۔!!

اس رات ہم نے اپنے "تحائف" کو خوب انجوائے کیا۔!!

عورتیں گھر داری کے معاملے میں بہت دور اندیش ہوتی ہیں، وہ اپنے ہمسفر کے ساتھ بچوں کے نام حتی کہ ہونے والے گھر کے پردوں اور چادروں کے ڈیزائن تک شادی سے پہلے سوچ لیتی ہیں۔ ہم نے شادی کی پہلی رات یہ وعدہ کیا تھا کہ اولاد کی طرف تب جائیں گے جب ان کو خود سے بہتر زندگی دے سکیں۔!!

ہماری اگلی کوشش اپنے گھر کے لئے تھی، جس کے لیے ہم دونوں ایک دوسرے سے چھپ کے کوشش کر رہے تھے۔ اس نے بھی ایک پرائیویٹ سکول آکسفورڈ میں ٹیچنگ شروع کر دی تھی اور گھر میں بھی کچھ بچے پڑھنے آ جاتے تھے۔ گھر میں اس معاملے کو لے کے کبھی کبھی گرما گرمی بھی ہو جاتی کہ بہنیں جوان ہو رہی ہیں، ان کا تمہیں خیال نہیں۔۔۔ گو کہ میں گھر میں تھوڑا خرچہ دے دیتا تھا لیکن ساس بہو کی وہی ازلی لڑائی کہ سارا خرچہ ہمارے ہاتھ میں ہو۔ ___ نے اس حوالے سے کبھی گھر بحث نہیں کی وہ اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ خود ہی امی کو دے دیتی تھی اس کا بھی حل ہم نے ایسے نکالا تھا کہ ایک دن میں گھر آیا ہوا تھا، میں نے پلان کے مطابق جان بوجھ کے اس بات پہ خوب لڑائی کی کہ ___ خرچہ گھر نہیں دے گی۔!! وہ جوان ہے، نئی بیاہی ہے سو اس کی اپنی بھی ضروریات ہیں۔ والدہ گرج برس کے چپ ہو گئیں، جب ___ کی تنخواہ آئی تو اس نے خود ہی والدہ کو تھوڑے پیسے دے دیئے کہ وہ تو کہتے رہتے ہیں۔۔ ماں زیر ہو گئیں کہ کیسی "فرمان بردار بہو" ہے جب کہ یہ پلان بھی بہو کا تھا۔!!

دو سال بعد آخر وہ دن آ گیا جس کے لیے اس نے ساری زندگی خواہش اور میں نے محنت کی تھی۔ یہ بھی اس کا "برتھ ڈے سرپرائز" تھا۔ شہر کے ایک پوش علاقے میں ساڑھے چار مرلے کا ایک پلاٹ۔!!

اس کو جب میں نے بتایا کہ یہ تمہارا ہے تو زندگی میں پہلی دفعہ میرے سامنے وہ "دھاڑیں" مار مار کے روئی، جیسے یہ سب آنسو اس نے اسی دن کے لئے بچا رکھے تھے۔ ہم کافی دیر خالی پلاٹ میں مٹی پہ
ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بیٹھے رہے... وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی زمین پہ گھسیٹی اور کسی بچے کی طرح لکھ کے دہراتی

"میری ملکیت"

زندگی اب ٹریک پہ آ چکی تھی۔ جس دن مجھے اس کی پریگننسی کا پتہ چلا اس دن میں پاگلوں کی طرح خوش تھا۔ ہم نے گھر کا کام، بچوں کے کپڑے اور پتہ نہیں کیا کیا پلان کرنا شروع کر دیا۔ ایک رات اس کی طبیعت معمول سے زیادہ خراب ہوئی۔ میں اپنی زندگی میں سارہ کو لے کے کبھی نہیں ڈرا، اس وقت بھی نہیں جب پورے خاندان کے سامنے اکیلا کھڑا تھا۔ لیکن زندگی میں پہلی دفعہ اس کی اس حالت نے میری روح نچوڑ کے رکھ دی۔!!

میں اسے لے کے ہسپتال بھاگا۔ میری حالت یہ تھی کہ شرٹ پہنی تھی جس کے بٹن بند نہیں تھے اور میں ننگے پیر ہسپتال میں اس کو اٹھا کے بھاگ رہا تھا۔۔ اس کی حالت خراب تھی، ڈاکٹروں نے ایک زندگی بچانے کا آپشن دیا تھا جس کا جواب واضع تھا۔ میں وارڈ کے باہر فرش پہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اللہ تعالیٰ سے اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔!!

لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا، اس نے ___ کے لیے بہتر گھر چن رکھا تھا۔ وہ ایک بیٹی کا تحفہ دے کے مجھے دغا دے گئی، اس کا تحفہ ہمیشہ کی طرح میرے سارے تحائف پہ بھاری تھا۔ میں نے اسی کے نام پر ہماری بیٹی کا نام ___ رکھا۔!!

آج بھی میں اپنی بیٹی کو جب اس پوش علاقے میں ایک خوبصورت پلاٹ کے پاس اس کی ماں سے ملوانے لے جاتا ہوں تو وہ مجھ سے اکثر پوچھتی ہے کہ۔۔۔

بابا.!

ماما یہاں سب سے الگ کیوں رہتی ہیں___؟

میں اسے ہمیشہ ٹال دیتا ہوں ۔۔۔ میں اسے کس طرح بتاؤں کہ یہ اسی کا گھر ہے، یہ اسی کی "ملکیت" ہے جس پہ اس کے علاوہ کسی کا حق نہیں۔!
Copied

بیٹیاں

#Copied
بیٹوں نے اپنی اپنی تعلیم مکمل کی اور پاکستان آگئے۔اللہ کی رحمت سے دونوں کو ایک ہی شہر میں ملازمت ملی۔بڑا سا گھر بھی مل گیا تھا لیکن پورا ایک سال گھر خالی رہا کہ جب تک والدین ساتھ نہیں ہوں گے ہم نے گھر میں نہیں سیٹ ہونا
آخر کار دوسال پہلے بیٹوں اور بڑی بیٹی (بہو) کی بے انتہا ضد پہ ہم نے سرگودھا چھوڑا اور پنڈی شفٹ ہو گئے

اس مرتبہ ستمبر میں سرگودھا گئی تو میرا ایلوویرا کا پودا بے یارو مدد گار اکیلے گھر میں ہمارا انتظار کررہا تھا
پتہ نہیں وہ کیسے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو گا کہ پانی بھی جب بارش ہوتی تو اسے ملتا

ادھر پنڈی والے گھر میں ، میرے شوق کے پیش نظر بچوں نے پھولوں، سبزیوں کے ساتھ ساتھ ایلوویرا بھی لگوایا ہے۔ لیکن جو لوگ باغبانی سے دلچسپی رکھتے ہیں انہیں علم ہوگا کہ دوسال سے کم ، عمر کا ایلوویرا استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے

بہرحال سرگودھا والا پودا پہلے ہی ایک بڑے سے گملے میں تھا اور اب بہت صحت مند نظر آرہا تھا اور اس کے مزید بچے بھی پیدا ہو چکے تھے تو میں نے سوچا کہ اسے بھی پنڈی ساتھ ہی لے جاوں۔

ایک تو یہ کہ مجھے ضرورت بھی تھی اور دوسرا یہ کہ اکیلے گھر میں آخر کب تک رہ سکتا اور تیسرا یہ کہ میری چھوٹی بیٹی نے اپنی شادی سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بابا کے گھر میں اس کو بڑی محبت سے لگایا تھا ۔۔ ایک دن یہ ختم ہی نہ ہو جائے

اب مسئلہ اسے ساتھ لے کے جانے والا تھا کہ اگر گملے سے نکالوں تو مر ہی نہ جائے اور اگر گملے سمیت لے کے جاؤں تو گملا بہت بڑا اور وزنی
آخر کار سرداراں اور بیٹے نے حفاظت سے اٹھا کے گاڑی کی ڈگی میں رکھا ارد گرد سہارا دیا کہ راستے میں ہچکولوں سے گرے نہیں اور یوں سرگودھا سے پنڈی روانہ ہوئے

گھر پہنچ کے اسے باقی پودوں کے ساتھ رکھا لیکن گملے سے نہیں نکالا

اگلے دن صبح اسکی خیریت پوچھنے گئی تو پودا تو اتنا اداس لگا کہ جیسے سخت دکھی بلکہ ناراض ہو
ہر دن کے ساتھ مرجھانا شروع ہو چکا تھا

میں پریشان کہ وہاں اکیلے گھر میں جہاں دھوپ گرمی سردی اور فاقے تھے وہاں یہ نہ صرف سرسبز تھا بلکہ اپنے خاندان کو بھی بڑھا لیا تھا
اور یہاں اتنے رنگ برنگے پودے ہیں پھول ہیں ، حفاظت ہے وقت پہ پانی مل رہا ہے اور یہاں یہ دن بدن اپنی آب و تاب کھو رہا ہے
ایک دن میں بہت پریشان ہو کے اس کے پاس آکے بیٹھ گئی۔اس کے پتوں پہ پیار سے ہاتھ پھیرا اسے آہستہ آہستہ بتانا شروع کیا کہ میں تو آپ سے بہت پیار کرتی۔اس لئے تو آپ کو اپنے ساتھ یہاں لے آئی تا کہ آپ میری آنکھوں کے سامنے رہیں۔۔اپ کو میرا خیال نہیں، میں اس حال میں دیکھ کے بہت پریشان ہوں آپ کیلئے۔۔پلیز خوش رہا کرو۔اپکا گھر اور آپکی فیملی تو آپ کے پاس ہے۔ صرف جگہ تبدیل ہوئی ہے نا

اب مجھے نہیں پتہ کہ اس پہ میری باتوں اور میری توجہ کا اثر پڑا یا ویسے ہی
لیکن اگلے دن میرا ایلوویرا مسکراتا ہوا لگ رہا تھا

اور میں سوچ رہی تھی کہ اگر ایک پودے نے اپنی سارے خاندان سمیت اپنے گھر(گملے) کے ساتھ صرف جگہ کی تبدیلی کو اتنا محسوس کیا جبکہ اسکے احساسات انسان جیسے نہیں تو جب ہماری بیٹیاں ہم سے دور نئے گھروں کو آباد کرنے جاتیں ہیں تو وہ کتنی مشکلوں سے اس نئے ماحول، نئے لوگوں اور نئے مزاجوں میں اپنی زندگی کی جنگ لڑتی ہیں
اس وقت اگر تھوڑی سی محبت، تھوڑا سا پیار اور احساس کا رویہ ہو تو ہم سب کی بیٹیوں کیلئے کتنی آسانیاں ہو جائیں گی
سلامت باشد
روبینہ قریشی۔  2021

قیمتی چیز

تمہیں پتہ ہے تمہارے پاس ایک بہت قیمتی چیز ہے جو بہت کم لوگوں کے پاس ہی ہوتی ہے اللہ وہ چیز بس اُنہیں دیتا ہے جنہیں پسند کرتا ہے اور اپنے قریب کرنا چاہتا ہے.... پتہ ہے وہ کیا ہے ؟
دوسروں کی تکلیف کا احساس, دُعا کی توفیق, دُعاؤں کا جواب نا ملنے کے بعد یقین.... اور صبر.... یہ بہت خاص چیزیں ہیں اگر تُمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ہے تو تُم بہت امیر ہو اللہ کے پسندیدہ ہو اگر یہ نہیں ہیں تو تُم خالی ہو....

گھمنڈ

*_اپنی طاقت پر کبھی گھمنڈ نہ کریں بعض اوقات آپ کے پیچھے چلنے والے آپ کو بچالیتے ہیں_*❣️🌹🥀❤️


جنت کے خزانے

حمد و ثنا اور توبہ و استغفار

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟‘‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیوں نہیں! (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: ’’تم کہو:

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

’’گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘

صحیح البخاری، الدعوات، باب قول: لاحول ولا قوۃ الاّ باللہ، حدیث:6409، وصحیح مسلم، الذکر والدعائ، باب الستحباب خفض الصوت، حدیث:6862

گمان

*تم جیسا گمان کرو گے اپنے رب کو ویسا پاؤ گے وہ اپنے بندے کی خاموش سسكی بھی سنتا ہے وہ باتیں جو تم زبان پر نہی لا پا تے وہ ان کو سن کر بھی قبول کرتا ہے بس کبھی یہ نہ سمجھنا کے وہ سن نہیں رہا وہ تمھارےکام میں اسی چیز کو وسیلہ بنا دے گا جو رکاوٹ ہے بس اچھا گمان رکھنا ۔*

نعت شریف

ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ
ﷺ چہرہ ھے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
ﷺ آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ھیں
ﷺ ماتھا ھے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ھے
ﷺ عارِض ھیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں
ﷺ ھیں
ﷺ گیسو ھیں کہ ” وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے
ﷺ سائے
ﷺ  ابرو ھیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ھیں
ﷺ  گردن ھے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
ﷺ  لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ھیں
ﷺ  قَد ھے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
ﷺ  بازو ھیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم 
ﷺ  ھیں
ﷺ  سینہ ھے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
ﷺ  پلکیں ھیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ھیں
ﷺ  باتیں ھیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ھوئی 
ﷺ  کلیاں
ﷺ  لہجہ ھے کہ یزداں کی زباں بول رھی ھے
ﷺ  خطبے ھیں کہ ساون کے امنڈتے ھوئے دریا
ﷺ  قِرأت ھے کہ اسرارِ جہاں کھول رھی ھے
ﷺ  یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
ﷺ  یاقوت کی وادی میں دمکتے ھوئے ھیرے
ﷺ  شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
ﷺ  یہ موجِ تبسم ھے کہ رنگوں کی دھنک ھے
ﷺ  یہ عکسِ متانت ھے کہ ٹھہرا ھوا موسم
ﷺ  یہ شکر کے سجدے ھیں کہ آیات کی تنزیل
ﷺ  یہ آنکھ میں آنسو ھیں کہ الہام کی رِم 
ﷺ  جھم
ﷺ  یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
ﷺ  یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
ﷺ  یہ پاؤں، یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
ﷺ  یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
ﷺ  یہ رفعتِ دستار ھے یا اوجِ تخیل!
ﷺ  یہ بندِ قبا ھے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
ﷺ  یہ سایۂ داماں ھے کہ پھیلا ہوا بادل
ﷺ  یہ صبحِ گریباں ھے کہ خمیازۂ خورشید
ﷺ  یہ دوش پہ چادر ھے کہ بخشش کی گھٹا
ﷺ  ھے
ﷺ  یہ مہرِ نبوت ھے کہ نقشِ دلِ مہتاب
ﷺ  رخسار کی ضَو ھے کہ نمو صبحِ ازل کی
ﷺ  آنکھوں کی ملاحت ھے کہ روئے شبِ کم
ﷺ  خواب 
ﷺ  ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ھے کہ جیسے     
ﷺ  تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال       
ﷺ  ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ھے جیسے     
ﷺ  ترتیب سے پہلے رُخِ ھستی کے خد و خال      
ﷺ                                                              
ﷺ  رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور        
ﷺ  کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ھے      
ﷺ  گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن        
ﷺ  معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ھے 
ﷺ                         
ﷺ  وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں        
ﷺ  وہ فقر کہ ٹھوکر میں ھے دنیا کی بلندی   
ﷺ  وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون  
ﷺ وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی     
ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ

ٹین ڈبے والا

ٹین ڈبے والا

میں لاہور میں سعودی عرب کے تعلیمی اتاشی کے سامنے بیٹھا تھا، میرے کاغذات اور جدہ یونیورسٹی کا ویزا اسکے ہاتھ میں تھا- وہ کافی دیر تک کاغذات کو دیکھتا رہا پھر بولا لیکن میں اس ویزے کو نہیں مانتا- میں نے پوچھا وجہ؟ اس نے کہا تعلیم تو ٹھیک ہے مگر تمھارا تجربہ انڈسٹری کا ہے تدریس کا تجربہ تو صفر ہے، جسکو پڑھانے کا کوئی تجربہ ہی نہ ہو وہ کیا پڑھائے گا- میں نے کہا سر لیکن جدہ میں رئیس القسم نے میرا ٹیسٹ اور پڑھائی کا طریقہ دیکھ کر میری سفارش کی ، پھر میرا ڈین سے انٹرویو ہوا اسکے بعد یہ ویزا دیا گیا ہے- اسکےہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی بولا ضروری نہیں کہ اگر انھوں نے غلطی کی ہو تو میں بھی غلطی کروں- میں نے کہا سر یہ ویزا وائس چانسلر نے جاری کیا ہے جسکی پوسٹ وزیر کے برابر ہوتی ہے، وہ پھر مسکرایا اور بولا اور مجھکو ایسے 15 وزیروں کے کاموں کو چیک کرنے کے لیئے بٹھایا گیا ہے اگرآپ چاہیں تو میں آپ کے کاغذات پر لکھ کر دے سکتا ہوں کہ آپ کو ویزا نہیں دیا جاسکتا۔ میں نے اس سے مزید حجت کی تو اس نے کہا جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے - میرے ذہن میں اپنی پرانی کمپنی کے
مسٹر فریڈرک کیسے کے الفاظ گونجے " مسٹر رضوان ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر بڑی غلطی کررہے ہو، میں نے ان لوگوں کے ساتھ 20 سال کام کیا ہے، انکا ہر وعدہ غلط ہوتا ہے" اور میں نے غصہ میں جواب دیا تھا " یہ لوگ ہمارے لئیے بڑے مقدس ہیں تم انکی توہین کررہے ہو، اس نے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا ایک وقت آئے گا تم میرے الفاظ کو یاد کروگے- شاید وہ وقت آگیا تھا- پھر اس کے بعد میں نے دو اور چکر لگائے ہوائی جہاز سے اور ہر بار اتاشی کا وہی جواب تھا " کہ جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے" میرے لئیے یہ بڑا سخت وقت تھا نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ دو مہینے بےروزگاری کے ہوچکے تھےمیں سخت ٹینشن میں بیٹھا تھا کہ بیل بجی دروازے پر ٹین ڈبےوالا تھا، کوئی ستر سال کا ہوگا بالکل ہڈیوں کا ڈھانچا، میلا کچیلا پیوند لگے کپڑے، پسینے میں نہایا ہوا- کہنے لگا صاحب دس سال ہوگئے ہیں ان گلیوں میں چکر لگاتے آج پہلی بار کسی کے گھر کی بیل بجائی ہے میں نے حیرت سے کہا ہاں ۔۔ بولو، کہنے لگا یہاں نہیں وہاں نیم کے پیڑ کے نیچے چبوترے پر بیٹھ کر آرام سے بات کرنی ہے- میں تذبذب کے عالم میں اس کے ساتھ چل پڑا- کہنے لگا صاحب میری اکلوتی بچی کی شادی ہونے والی ہے شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے مگر میرے پاس ایک پیسہ نہیں ہے آج کل کام بھی بہت مندا ہےکئی لوگوں سے ادھار مانگا سب نے منع کردیا، کل رات بہت دیر تک مسجد میں رویااور دعا مانگی تو رات میں خواب میں آپ کی گلی اور گھر نظر آیا اور آواز آئی ان سے جا کر مانگ لے اس لئیے صرف آپکا دروازہ کھٹکھایا ہے- مجھے اس کی کہانی پر یقین نہیں آیا اور ہنسی بھی آئی کہ لوگ کیسی کیسی چار سو بیسی کرنے لگے ہیں- میں نےازراہ مذاق پوچھا کتنے پیسے کی ضرورت ہے بولا صاحب سادگی سے رخصتی کرنی ہے، زیور تو میں اپنے بیوی کا چڑھا دوں گا، مگر پانچ چھ جوڑے اور شادی کا کھانا تو کرنا ہوگا، کوئی تیس ہزار کا خرچہ ہوگا-

میں نے سوچا 50000 تو آج کل صرف دلہن کے بیوٹی پارلرمیں ہی خرچ ہوجاتے ہیں- یہ رقم میرے لئیے بہت معمولی تھی اگر میں باہر کام کررہا ہوتا، مگر اب اس بے روزگاری میں یہ میرے لئیے بہت بڑی رقم تھی- میں خاموش سا ہوگیا وہ بولا صاحب آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں اور میرے محلے والوں سے پوچھ لیں یہ جھوٹی کہانی نہیں ہے، میں غریب ضرور ہوں مگر ایماندار ہوں قسطوں میں آپ کی رقم لوٹا دوں گا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر بےچارگی اور لجاجت- وہ پھر بولا میں کبھی بیل نہ بجاتا اگر یہ خواب نہ دیکھتا۔ میں عجیب شش و پنج میں تھا پھر مجھے یاد آیا کہیں پڑھا تھا کہ جب تنگی ہو تو خدا سے تجارت کیا کرو وہ کبھی نا امید نہیں کرتا۔۔۔ تیس ہزار دینے کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی کی کوئی امید نہیں – خیر میں گیا اور تیس ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دئیے- اس نے میرے ہاتھ چوم لئیے اور رونے لگا۔۔۔
کوئی پندرہ دن بعد پھر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے غصہ سے پوچھا اب کیا مسئلہ ہے کیا پھر کوئی خواب دیکھا ہے بولا ہاں مگر آپ کو کیسے پتہ چلا ؟ میں نے جنجھلا کر کہا ظاہر ہےپہلے خواب دیکھا تھا تو بیل بجائی اب پھر خواب دیکھا ہوگا جو بیل بجائی ہے- جلدی بتاؤ مجھے بہت کام ہیں- کہنےلگا صاحب کل عشاء کی نماز پڑھ کر بڑی دعا کی کہ مولا قرض تو دلا دیا ہے اب ادائیگی میں بھی مدد کردے اور سوگیا تو پھر آپ کا گھر نظر آیا آواز آئی کہ تیرا قرض ادا کردیا گیا ہے جاکر بتادے کہ اسکا بھی کام کردیا گیا ہے- میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا- میں نے کہا ٹھیک ہے جاؤ میں نے تم سے کون سا قرض وصول کرنا تھا- لیکن کمرہ میں آکر میں کافی دیر تک سوچتا رہا پھر والدہ سےمشورہ کیا تو وہ بولی تم کل ہی لاہور جاؤ ہوسکتا ہے قدرت کوئی راستہ نکالے میں نے تنک کر کہا تین بار تو جا چکا ہوں وہ تو بس ایک ہی بات کہتا ہے" جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے" اب تو اس کو میرا چہرا بھی زبانی یاد ہوگیا ہوگا- والدہ نے کہا میں پیسے دیتی ہوں تم اللہ کا نام لے کر جاؤ تو سہی، کچھ لوگ خدا کےبہت قریب ہوتے ہیں یہ بات عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔
خیر میں اگلےدن لاہور پہنچا موسلا دھار بارش ہورہی تھی، ڈرتے ڈرتے اتاشی کے کمرہ میں داخل ہوا دیکھا کرسی پر ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہے، میں نے کہا یہاں تو ایک اور صاحب ہوتے تھے بولا ہاں انکو ایک ہفتہ ہوا واپس وزارت خارجہ میں بلا لیا گیا ہے اور میں نے چارج سنبھال لیا ہے- میں نے کاغذات اسکو دیئے بولا آپ بہت لیٹ آئے اب تو یونیورسٹی کھلنے میں چند دن رہ گئےہیں- پھر اس نے سکریٹری کو بلایا کہا کہ پرسوں سےیونیورسٹی شروع ہورہی ہے یہ پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں فورا ٹکٹ بناؤ پاسپورٹ پر ویزا لگاؤ اورسالانہ ھاؤس رینٹ، ایک ماہ کی سلیری کا چیک بنا کر لے آؤ، اور سنو چائے بھجوادینا- میں ایک لمحہ کے لئیے گم سم سا ہوگیا، قدرت اس طرح بھی مہرباں ہوسکتی ہے ؟، پرانے اتاشی کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہےتھے- اوپر والے نے اس مغرور شخص کی کرسی چھین لی تھی کیا صرف میرا کام کروانے کے لئیے؟ پھر موسم پر میں نے گفتگو شروع کی بتایا کہ بہت موسلادھار بارش ہورہی تھی بڑی مشکل ہوئی آنے میں تو اس نے بڑی شائستہ اردو میں جواب دیا کہ آپ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں ہم تو ایسے موسم کو ترستے ہیں، مجھ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے اس کی اردو سن کر- میرا حیران چہرہ دیکھ کر وہ ہنسا بولا میں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی ہے پاکستانی ایک ذہین ، محنتی اور بڑی مہمان نوازقوم ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں خاص طور پر استادوں سے۔۔۔ چائے ختم ہوگئی تھی، پاسپورٹ، ٹکٹ اور چیک میرے ہاتھ میں تھا۔۔۔ مجھے ٹین ڈبے والے کے خواب کےالفاظ یاد آئے کہ تمھارا قرض ادا کردیا گیا ہے- لیکن ایسی ادائیگی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا-“
U. H❤️ S

Monday, 4 October 2021

بیکن ہاؤس

*..بیکن ھاؤس ..*

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی "سکول" کسی ریاست کو شکست دے دے؟؟
حالیہ کچھ عرصہ میں ریاست پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے تمام بچوں کو خواہ امیر ہوں یا غریب انکو یکساں نصاب پڑھایا جائے گا.....
اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا.....
لیکن کل بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کیا.....

بیکن ھاؤس کا نام سب سے پہلے سوشل میڈیا پر تب گردش میں آیا جب طلباء و طالبات کی مخلوط ڈانس محفلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔

پھر وہاں کے پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو " انڈین سٹیٹس" لکھا گیا تھا۔
اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام کلاسسز کی تمام کتابوں میں تھے جن کے خلاف سوشل میڈیا، میڈیا حتی کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔

بیکن ھاؤس کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے بیکن ھاؤس کے سابق ملازم ارمغان حلیم صاحب کو اس قسم کے مواد کے خلاف آواز اٹھانے پر شدید زدوکوب کیا گیا اور قتل تک کی دھمکیاں ملیں۔

بیکن ھاؤس میں انڈین سرمایہ کاری کا انکشاف بھی ہوا۔ 1996ء میں ان سکولوں میں ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے " انٹرنیشنل فائنینس گروپ " نے براہ راست کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کی۔

بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔

یہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بیگم نسرین قصوری کی ملکیت ہے جن کو ان کا بیٹا قاسم قصوری چلاتا ہے۔

خورشید محمود قصوری وہی صاحب ہیں جس نے پندرویں آئینی ترمیم ( شریعہ بل ) کے خلاف احتجاجاً استعفی دیا تھا۔ ( شائد اسلام سے نفرت اس پورے خاندان کے خون میں شامل ہے )

لبرل ازم کا علمبرادار " بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرنے والے ان طلباء کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور افکار کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے بلکہ جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلباء کی اکثریت کو اردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے۔ (جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے رکھنے والا دوسرا اہم ترین جز ہے۔ :) )

پاکستان کے اعلی ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلباء کی اکثریت بڑی تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اسی طبقے کا ایک بڑا حصہ فوج میں بھی جارہا ہے جو ظاہر ہے وہاں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے نہیں جاتے

مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں کہ ۔۔

۔۔ " ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوسی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے"

بیکن ھاؤس نے " تعلیم " کے عنوان سے پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ دونوں ناکام نظر آرہے ہیں۔

اس " عفریت " کو اب عوام ہی زنجیر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام ہم سب نے ملکر کرنا ہے۔انکے خلاف آواز اٹھائیں

اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں اور اس مضمون کو کاپی کر کے اپنے اپنے پیجز اور ٹائم لائنز پر شیر کریں۔

ماں

ماں
سارے رشتے پیدا ہونے کے بعد بنتے ہیں ، اس زمین پر ایک واحد ایسا رشتہ ہے جو ہمارے پیدا ہونے سے نو ماہ پہلے بن جاتا ہے۔
وہ بس وہی کھاتی ہے جس سے ہمیں نقصان نہ ہو ، وہ بڑے سے بڑے درد میں بھی عذاب بھگت لیتی ہے، مگر درد مارنے کی دوا نہیں کھاتی کہ کہیں وہ دوا ہم کو نہ مار دے ۔ ہم اس کی پسند کے کھانے چھڑا دیتے ہیں ، ہم اس پر نیند حرام کر دیتے ہیں ، وہ کسی ایک طرف ہو کر چین سے سو نہیں سکتی ، وہ سوتے میں بھی جاگتی رہتی ہے ، ٩ مہینے ایک عذاب سے گزرتی ہے، گرتی ہے تو پیٹ کے بل نہیں گرتی پہلو کے بل گر کر ہڈی تڑوا لیتی ہے لیکن تجھے بچا لیتی ہے ۔
اس نے ابھی تیری شکل نہیں دیکھی ، لوگ شکل دیکھ کر پیار کرتے ہیں، وہ غائبانہ پیار کرتی ہے ، لوگ تصویر مانگ کر سلیکٹ کرتے ہیں ، دنیا کا کوئی رشتہ اس خلوص کی مثال پیش نہیں کر سکتا ، خدا کو اس پر اتنا اعتبار ہے کہ اس کو اپنی محبت کا پیمانہ بنا لیا ، اور جنتی ہے تو قیامت سے گزر کر جنتی ہے اور ہوش آتا ہے تو پہلا سوال تیری خیریت کا ہی ہوتا ہے ۔

خدا کے بعد وہ واحد ہستی ہے جو عیب چھپا چھپا کر رکھتی ہے ، تیری حمایت میں وہ عذر تراشتی ہے کہ تیرے باپ کو مطمئن اور تجھے حیران کر دیتی ہے۔ باپ کھانا بند کرے تو وہ اپنے حصے کا کھلا دیتی ہے ، باپ گھر سے نکال دے تو وہ دروازہ چوری سے کھول دیتی ہے۔
خدا کے سوا کوئی تیرا اتنا خیال نہیں رکھتا جتنا ماں رکھتی ہے۔ خدا نے بھی جنت اٹھا کر اس ماں کے قدموں میں رکھ دی ۔
اللہ پاک سب کے ماؤں کو لمبی زندگی دے جن کے مائیں فوت ہو گئی ہیں انہیں اللہ پاک جنت فردوس عطا کریں ۔
آمین ثم آمین
🔰WJS🔰

صحت

**یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا 

’’ صحت‘‘۔ 

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘
 
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت 
اور 
منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔

یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
 مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں 
مگر 
ہم جب تیز چلتے ہیں‘ 
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
 ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
 یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
 یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

 مثلاً
 دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
 قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

 مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘ 

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں

‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘ 

مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے

‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے

‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
 اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ 

آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں

‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘ 
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ 

ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘ 

صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
 مگر
 جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ 
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ 

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے

‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا

‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں

‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘ 

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں

‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ 
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘ 

دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘

 لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘ 

آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘

 دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘

 آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘ 

دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔

گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘

 انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے

‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘ 

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘

 آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘

 شوگر‘
 کولیسٹرول
 اور
 بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
 اور
 آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی‘ 

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘

 ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر 
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ 

ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘
 ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘
 ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘
 دوڑ لگا سکتے ہیں‘ 
جھک سکتے ہیں
 اور
 ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ 
کانوں سے سن‘ 
ہاتھوں سے چھو‘ 
ناک سے سونگھ
 اور منہ سے چکھ سکتے ہیں

 تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘
 اس کے کرم کے قرض دار ہیں
 اور 
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
 کیونکہ 
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘ 

ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔

یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ 
اللہ کریم و عظیم رحمان و رحیم آ پ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین یا میرے رب کریم و عظیم.💞

بچو کی تربیت کے موضوع پر کچھ باتیں

*بچوں کی تربیت کے موضوع پر* *کچھ باتیں* !

ہر گھر کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بھی اگر کچھ اصول بنا لیے جائیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے؛ ہماری ہی نہیں، انکی بھی!
اصول تھوڑے ہوں، اور جو ہوں انکی پابندی کی جائے۔ احمد کے لئے جو اصول ہمارے گھر میں ہیں،
ان میں سے چند مختصراً بتاتی ہوں۔ میں چاہوں گی کہ آپ کا اگر کوئیخاص اصول ہے تو شیئر کریں۔ ہم سبھی ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔

*1- صدقہ دینا۔*
جب بھی احمد کو کچھ پیسے ملیں، اصول یہی ہے کہ پہلے صدقہ الگ کرنا ہے۔ اب الحمدللہ وہ چھوٹو سا آ کر جب مجھے کہتا ہے کہ ماما! یہ صدقہ رکھ لیں، کسی غریب بندے کے لئے، بہت اچھا لگتا ہے۔ ہم سب کبھی باہر کسی غریب کو کھانا پکڑا دیتے ہیں، گھر میں کام کرنے والی ماسی کی کوئی مدد کر دیتے ہیں، حتی کہ باہر پرندوں کو بچی ہوئی روٹی ڈالتے ہیں، لیکن بچوں کو شامل نہیں کرتے۔ کرنا چاہیے! انہیں پتہ ہو کہ ہر بندے کے پاس وہ تمام سہولتیں نہیں جو ہمارے پاس ہیں اور جنکی قدر ہمیں نہیں۔ اور پیسہ جتنا بھی ہمیں عزیز ہو، اسکے ایک حصے پر اوروں کا حق ہے۔

*2- کھانے سے متعلق ہمارا اصول* ۔
احمد کو کھانا کھلانا شروع سے ہی ایک مشکل کام رہا۔ یہی وہ وقت ہے جس وقت صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور بار بار چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کوئی لیکچر سنا کہ اگر کھانا حلال اور صحت بخش ہے تو بس یہ کافی ہے، کھانے کے وقت کو جنگ نہ بنائیں۔ اس دن کے بعد سے اگر احمد وہ کھانا نہیں کھانا چاہتے جو گھر میں بنا ہے تو جو وہ چاہیں، حلال اور صحت بخش، انکو مل سکتا ہے بشرطیکہ وہ پہلے اتنے نوالے گھر بنے کھانے کے لیں جتنی انکی عمر ہے۔ جب 4 سال کے تھے تو چار لقموں کے بعد انہیں بریڈ انڈہ/دودھ سیریل/نان پنیر۔۔۔ جو وہ چاہیں مل سکتا تھا۔ اب پانچ سال کے ہیں تو پہلے پانچ لقمے لینا پڑیں گے، یہی ہمارا اصول ہے۔

*3- "میں نہیں کر سکتا" نہیں* *کہنا* ۔
یہ ہمارا ایک نیا سا اصول ہے اور اسکا بہت فائدہ دیکھتی ہوں۔ ہمارے گھر میں "I can't" کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں احمد کو یہ بتاتی ہوں کہ "I can't/میں نہیں کر سکتا" تو ہوتا ہی نہیں ہے، "I'll try/میں کوشش کروں گا" ہوتا ہے۔ کوشش بھی پہلی بار شاید کامیاب نہ ہو لیکن ہمیں پھر بھی کوشش کرتے رہنی ہے جب تک ہم وہ کام سیکھ نہ لیں۔ پھر میں اسکو یاد بھی کرواتی ہوں کہ یاد ہے جب آپ پہلی بار تیرنے کے لئے گئے تھے، کنارے پر بیٹھی ماما کی انگلی ہی نہیں چھوڑ رہے تھے۔ اب دیکھیں، کیسے زور سے پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ یاد ہے شروع میں آپکو پڑھنا مشکل لگتا تھا، اب آپ چھوٹی چھوٹی کتابیں خود ہی پڑھ لیتے ہیں۔۔۔ کچھ دن پہلے احمد کے بابا نے اس سے کہا کہ وہ lego نہیں بنا سکتے تو احمد کا جواب تھا: "بابا! ہم نے ہمیشہ کوشش کرنی ہوتی ہے۔ پھر ہمیں آ جاتا ہے۔ شروع میں نہ آیا تو کچھ دفعہ کے بعد آپ سیکھ جائیں گے۔" :)
*4- اپنے ہر عمل کے ذمہ دار ٓاپ* *خود* *ہیں* ۔
ٓاپ نے غلط لفظ کیوں بولا؟ مجھے فلاں نے سکھایا ہے۔ ٓاپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیوں کہ فلاں نے ٓائیڈیا دیا تھا۔ ایسے جواب ٓاپکے بچے بھی بارہا ٓاپکو دیتے ہونگے۔ ایسے میں اصول یہ ہے کہ
Learn to take responsibility for all your actions. No blaming is allowed, neither acceptable.
اپنے ہر عمل کے ذمہ دار ٓاپ خود ہیں۔ اگر کسی نے مستی والے کام کا ٓائیڈیا دیا ہے تو بھی ٓاپ اسکی بات ماننے یا انکار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو بھی عمل ٓاپ نے کیا ہے، اچھا یا برا، اس کے لئے ذمہ دار اور جوابدہ ٓاپ خود ہیں۔

بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اولاد کی بہترین پرورش کرنے والا بنائے، انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

تحریر،، نیر تاباں
انتخاب،، عابد چودھری

*برائے مہربانی پوسٹ کو شئیر کیا جائے کاپی پیسٹ نہ کیا جائے*

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂
*🌼Join🌼*

🇵🇰 اپنے بچوں کی اچھی تربیت اورتربیہ گروپ کی مزید تحریریں اور ویڈیوز اور روزانہ قرآنی، اصلاحی اور سبق آموز *کہانی* حاصل کرنے اور واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کیلئے اس نمبر پر *تربیہ* لکھ کر واٹس ایپ میسج کریں
03459277238
❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂

مسکرانا سنت ہے

جمعہ کی نماز کےبعد جب چندے والا ڈبہ میرے
سامنے سے گزرا تو میں نے اپنے وائلٹ سے چن کر نہایت بوسیدہ سا پچاس کا نوٹ ڈبے میں ڈالا۔ اتنے میں پچھلی لائن سے ایک صاحب نے میرے کندھے کو تھپتھپاتے ہوے ایک کڑک سا ہزار روپے کا نوٹ مجھے پکڑایا جسے میں نے فوراً ڈبے میں ڈال دیا پھر مڑ کر احترامًا اس کی جانب بہت ہی قابل تحسین نظروں سے دیکھا میرےتو حواس تب اڑے جب اس نے مسکراتے ہوئے کہا، بٹوا نکالتے ہوئے آپ کی جیب سے گر گیا تھا احتیاط کیا کریں😂

نوٹ:
صدقات و خیرات آپ خود نکالا کریں ورنہ خود بھی نکل سکتے ہیں..
*مسکرانا سنت ہے...*

لمحہ فکریہ🔥

🔥لمحہ فکریہ🔥

والدین کا رشتہ قیمتی ترین رشتوں میں سے ہے...
⁦☝🏼⁩
 ہمارے دین میں والدین کی خدمت اور انکی عزت پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے.... 
اور نافرمانی کی سزا عذاب الہی ہے....🔥

بس اتنی گزارش ہے....⁦🙏🏻⁩
 جب یہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں.. تو ان کی خدمت میں کمی نہ کیجئے....
 ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے میں احسان مت جتائیے.....
 والدین کی خدمت اور ان کی ضرورت کا خیال رکھنا فرائض میں سے ہے...  

🍁والدین کو نہ صدقہ لگتا ہے نہ زکوٰۃ..... ان پر خرچ کرنا ہمارا ہے🍁

 آج ہم جس مقام پر ہیں انہی کی بدولت ہیں،
 اگر یہ ہماری تربیت نہ کرتے اور ہمیں پال پوس کر بڑا نہ کرتے تو آج ہم اس مقام پر نہ ہوتے..😥

اسکے علاوہ ایک بات یاد رکھیں.... 
⁦☝🏼⁩
💔آپ اپنے والدین کے ساتھ جو بھی نیکی کرتے ہیں وہ پلٹ کر آپ کی اولاد آپ کو دے گی، یہی قدرت کا اصول ہے.... جیسا کرو گے ویسا بھرو گے💔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے...
💔
 بیوی بچوں کے آنے کے بعد ،
 والدین کو وقت دینا،
ان کا حال پوچھنا،
ان کے پاس بیٹھنا،
 یہ سب ناپید ہوتا جا رہا ہے...😥
 ان باتوں کا خیال ان کی زندگی رکھیے،
 ورنہ ان کے مرنے کے بعد جو خلا آپ کی زندگی میں پیدا ہوگا وہ کبھی بھر نہیں سکے گا

،،🥀🥀،بھلا نہیں سکتا،، 🥀🥀،،

،،🥀🥀،بھلا نہیں سکتا،، 🥀🥀،،
،،دنیا کا انمول، عظیم،، رشتہ.. ماں،،
جسکے پیروں کے نیچے.. جنت.. جسکو.. دیکھے تو.. حج..،، جسکے دوڑنے کو.. حج کا.. رکن،،،، ،جسکے ساتھ بیٹھو تو.. اعتکاف،،، اور.. اور،،، اور،،، وہ... ناراض ھو جاے.... تو... جہنم... ماں کی عظمت کو سلام..
.🥀،،،،  میں بھلا نہیں سکتا،،، ،🥀
،،اس رات کو... خود گیلے میں مجھے سوکھے میں سلایا،،،،
،،اس دن کو،، جب گھر سے نکلا تو دعائیں دیں...
اس شام کو..جبتک نہ آیا منتظر پایا
اس بارش کو... خود بھیگتی رھی مجھے بارش سے بچایا.....
،، اس عیادت کو.... خود بیمار  تھی میرے لیے. طبیب.. بلوایا....
،اس سوچ کو.. خود ان پڑھ تھی. مجھے پڑھنا سکھایا.....،،،، ،،،،
اس لاغری کو... خود کمزور تھی مجھے طاقتور بنایا....،، 
، اس عادت کو...  دوسروں سے لڑ کر بھی.. مجھے.. مسکرانا سکھایا،،
اس تحفظ کو.. مجھے. دنیا میں جینا سکھایا....                       
،،،، اور❤️اور،،،، ،،،،❤️،،،،،،،،❤️،،اور
اس زندہ دلی کو.... پیدائش کے وقت تکلیف برادشت کرکے..... مجھے.... مسکراہ کر دیکھا...،،
،

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...