Thursday, 23 March 2023

ارمضان المبارک کے تین گھنٹے بہت قیمتی ہیں، پس اگر تم ان کی حافظت کرو تو یہ تین گھنٹے ماہ رمضان کے آخر تک نوے گھنٹے ہوجائیں گ !!!*


*رمضان المبارک کے تین گھنٹے بہت قیمتی ہیں، پس اگر تم ان کی حافظت کرو تو یہ تین گھنٹے ماہ رمضان کے آخر تک نوے گھنٹے ہوجائیں گے !!!*

یہ تین گھنٹے👇🏻:

۱♥️: افطار کا گهنٹہ، افطاری جلدی تیار کیجئے اور دعا کے لئے وقت نکالئے کیونکہ روزه دار کی دعا اس وقت رد نہیں ہوتی لہذا خود اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور مرحومین کے لیے دعا کریں-

۲♥️: دوسرا گهنٹہ: رات کا آخری گهنٹہ پس خداوندعالم سے خلوت کرو کہ اللہ آواز دیتا ہے آیا کوئی درخواست کرنے والا ہے کہ میں قبول کروں آیا کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اس کو معاف کردوں پس اس تم وقت استغفار کرو-

۳♥️: تیسرا گھنٹہ: صبح کی نماز کے بعد سے سورج نکلنے تک مصلے پر بیٹھے رہنا اور ذکر خدا کرنا-
🟢یہ نوے گهنٹے ہیں ان اوقات پر مداومت کرو, ذکر خدا کرو اور غیبت سے دوری ... نماز پنجگانہ اور نافلہ بجا لاو کہ صرف تیس دن ہیں اور بہت جلدی گزر جائیں گے-

تین دعائیں اپنے سجدوں میں پڑهئے👇🏻
1- *اللهم إنی أسألك حسن الخاتمة*

2- *اللهم ارزقني توبة نصوحه قبل الموت*

3- *ياالله یارحمن یارحیم یا مقلب القلوب ثبّت قلبي علي دينك*

پارسا کتے (استدعا ہے مکمل پڑھئے)

استدعا ہے کہ مکمل پڑھیئے گا

پارسا کتے

مریض پر گزشتہ 20 منٹ سے جھکا ہوا ڈاکٹر سیدھا ہوکر مڑا چند ثانیے توقف کے بعد عاشق حسین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مغموم لہجے میں کہا :

''بزرگو! ہم نے اپنی سی پوری کوشش کی زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں یے کسی بھی وقت کوئی بھی معجزہ رونما ہو سکتا ہے ۔مگر مرض اتنا پرانا تھا اور سلوتریوں نے مرض کو اتنا بگاڑا تھا کہ مریض کے بچنے کی اب کوئی امید نہیں ہے۔ بمشکل 13 گھنٹے جی سکے گا ۔''
عاشق حسین نے نیلی آنکھوں سے جو بہ کثرت رونے سے لال ہوئی تھی ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا :
''ڈاکٹر صاحب ، کیا میرے جوان جہان بیٹے کے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔؟ ڈاکٹر نے تاسف کے ساتھ کہا :
''مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ شائد ہی ہم آپ کے بیٹے کو بچاسکیں ۔''
'' اچھا ڈاکٹر صاحب پھر ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم گھر کی راہ لیں۔''
عاشق حسین نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر اس تقاضے پر ششدر رہ گیا۔
حیرت سے کہا : ''بزرگو! آپ کے بیٹے پر جانکنی طاری ہے۔ وہ جان دینے کے کرب میں مبتلا ہے ۔ یہاں ہم اسے ایسی ادویات ڈرپ میں ڈال کر دے رہے ہیں کہ جس سے موت کا عمل کم تکلیف دہ ہوتا ہے۔ درد کا احساس کم ہوتا ہے اور روح قدرے کم تکلیف سے نکل جاتی ہے اور آپ نیم مردہ بیٹے کو گھر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔''
عاشق حسین نے افسردگی کے ساتھ کہا : ''ڈاکٹر صاحب آپ موت کی تکلیف کی بات کر ریے ہیں لیکن آپ زندگی کے درد سے واقف نہیں ہیں۔کبھی تو غریب رہ کر زندہ رہنے کا تجربہ کر لیجئے۔ کبھی تو غریب کی طرح مر کر دیکھ لیجئے ۔آپ کو کیا معلوم غربت کی زندگی اور غربت کی موت کسی محشر سے کم نہیں ہوتی۔ ہمیں ہسپتال سے جانے کی اجازت دیجئے ۔سرکار پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔''
ڈاکٹر نے غصہ ہوکر کہا: '' یہی تو تم لوگوں کی جاہلیت ہے ۔پہلے جوان بیٹے کو خودساختہ ڈاکٹرز، حکیموں اور پیروں فقیروں سے علاج کرواتے ہوئے موت کے منہ میں دھکیلا، ایک سادہ عام سی بیماری کو اتنا پیچیدہ کردیا کہ بیچارہ اس دنیا سے رخصت ہورہا ہے ۔اب اسے چین سے مرنے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کا فرزند ہے یا دشمن۔؟''
عاشق حسین نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا :''ڈاکٹر صاحب اگر یہ چین سے مر گیا تو دنیا والے مجھے چین سے جینے نہیں دیں گے۔ میرے بیٹے کی درد ناک موت میں میری آبرومندانہ زندگی چھپی ہوئی ہے۔ ہمارے گاوں تک بس کا کرایہ 120 روپے ہے اور ایمبولینس والے 6 ہزار مانگتے ہیں۔ بس والے میت کی ٹکٹ نہیں کاٹتے اور نہ ہی مردے کو سیٹ دیتے ہیں۔ البتہ رستے میں اگر سواری مرجائے تو لاش کو اتارنے کا نہیں کہتے ۔آپ نے 13 گھنٹے مزید زندہ رہنے کا کہا ہے اور یہ تجہیز و تکفین کے لیئے مناسب وقت ہے ۔ایمبولینس کا کرایہ آخری رسومات پر خرچ کرلوں گا اور بس میں انشاللہ اسے موت بھی جلد آجائیگی ۔ جانکنی کے عذاب کا دورانیہ بھی کم ہوجائے گا ۔''
ڈاکٹر یہ سب کچھ سن کر سن ہوگیا ۔ بنا کچھ کہے چل پڑا ۔عاشق حسین بیٹے کو ٹکٹکی باندھے اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں نے اس کا چہرہ ڈھانپ نہ لیا تھا ، اتنے میں نرس نے آکر عاشق حسین کو ڈسچارج سلپ تمھاتے ہوئے کہا:
'' بابا جی آپ مریض کو لیکر جاسکتے ہیں۔''
عاشق حسین بوجھل دل اور شکست خوردہ قدموں کے ساتھ گاؤں کی طرف چل پڑا۔ بس میں دوران سفر اب بھی وہ گاؤں سے کوسوں دور تھا وہ تجہیز و تکفین کے پورے انتظامات کو ذہن میں ترتیب دے چکا تھا۔ آج جمعہ مبارک کا دن تھا ۔صبح کے 10 بج ریے تھے۔اسے امید تھی کہ گاؤں پہنچتے پہنچتے اس کے بیٹے نے جان دے چکی ہوگی ۔ گاؤں والے انا”فانا” قبر کھود کر تیار کرلیں گے ۔کفن، عرق گلاب، سخات کا صابن، مولوی صاحب کی جائے نماز اور دیگر تمام لوازمات گاؤں کے بازار میں "سلام دکاندار” کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔ اس نے انگلیوں پر موٹا موٹا حساب لگاتے ہوئے تخمینہ ساڑھے چار ہزار کا نکالا ۔ اس کے علاوہ قل تک اور بعد میں بھی فاتحہ پڑھنے کے لیئے آنے والے مہمانوں اور دور پاس کے رشتہ داروں کے لیئے آٹے، دودھ ، پتی، چائے اور گھی شکر کا خرچہ اس کے حساب سے کوئی ڈھائی ہزار بن رہا تھا اور تقریبا اتنی ہی رقم اس کے پاس بچی ہوئی تھی ۔جو اس نے بیٹے کے علاج معالجے کے لیئے گھر کا آخری اثاثہ بیل بیچتے ہوئے کھری کی تھی ۔
انسانوں سے جانور اچھے ہوتے ہیں ضرورت کے وقت تو کام آجاتے ہیں۔اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے سوچا ۔ورنہ انسان تو مشکل میں منہ موڑ لیتے ہیں اور خوامخوا کے لیئے اشرف المخلوقات بنے پھرتے ہیں۔ ورنہ کہاں جانور اور کہاں انسان ۔۔۔۔
جوں جوں گاؤں قریب آتا جارہا تھا توں توں اس کی پریشانی بڑھ رہی تھی۔ اس نے جنازے کا وقت ظہر کی نماز ادا ہوتے ہی طے کیا تھا اور مغرب تک ساری رسومات ادا ہو چکی ہوں گی ۔ مغرب پڑھنے کے بعد مسجد میں گاؤں والوں اور مہمانوں کو جو کھانا اس نے دینا تھا اس کا انتظام اس سے نہیں ہو پارہا تھا ۔کسی سے ادھار لینا تو ناک کٹنے والی بات تھی۔ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ شرم کی بات تھی ۔زندگی بھر گاؤں والے طعنہ دیتے کہ بیٹے کو ادھارے کا کفن پہنایا تھا ۔مسکینوں کی طرح زمین میں گاڑا تھا ۔بغیر رسومات ادا کئے جانے کے دفنانا تھوڑا ہوتا ہے۔ گاڑنا ہی تو ہوتا ہے۔ اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے مردہ بیٹے کو گاؤں لانے کی بجائے جاں بلب بیٹے کو لانے کا فیصلہ کیا ۔ورنہ گاؤں میں شلوار بھی اترتی اور بیٹے کی بخشش بھی نہ ہوتی ۔
گلابو کمہار کے ساتھ یہی تو ہوا تھا ۔ بیوی کی موت پر جنازے کے بعد نہ مولویوں میں سخات بانٹ سکا، نہ ہی امام مسجد کو جائے نماز خرید کر دے سکا اور نہ ہی تدفین کے بعد لوگوں کو کھانا کھلا سکا ۔مولوی صاحب تو صاف بات کرنے کے عادی تھے۔انہوں نے تو برملا کہا تھا کہ
''گلابو کمہار کی بیوی کی بخشش نہیں ہوگی اور اگر پھر بھی کوئی نیکی کام آگئی اور بخشش ہو بھی گئی تو عذاب قبر تو تا قیامت پکاہے۔ بے چارہ گلابو کمہار! بیوی بھی جہنمی اور وہ بھی ۔
آج تک کسی سے آنکھ ملانے کا قابل نہیں ہے۔عاشق حیسن کو جھرجھری سی آگئی اور ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو داد دی کہ بیٹے کو جانکنی کی حالت میں ہسپتال سے نکالا ،ورنہ اگر یہی پیسے ایمبولینس پر خرچ ہوتے تو اس کا انجام بھی گلابو کمہار جیسا ہوتا اور بیٹا بھی عذاب قبر سہتا۔
اچانک عاشق حسین کو زبردست جھٹکا لگا۔ ڈرائیور نے اتنے زور سے بریک دبائی تھی کہ سڑک پر ٹائروں کے نشانات پڑ گئے تھے اور پہیوں کے گھسنے کی کریہہ آواز بھی دور تک سنائی دی گئی تھی۔
مگر ڈرائیور پھر بھی ان تین کتوں کو نہیں بچا سکا تھا جو جفتنی کتیا کا تعاقب کرتے ہوئے کتیا سمیت چلتی بس کی زد میں آگئے تھے۔ جنس کی شدت ہمیشہ حواس چھینتی ہے۔ محبت اور عقل اسی لئے تو ایک دوسرے کی ضد ہے آگ اور پانی ہے، چوہے بلی کا کھیل ہے ۔محبت میں جنسی نا آسودگی پاگل پن طاری کرتی ہے ۔دیوانہ بناتی ہے ۔محبت میں خود سپردگی تتلیوں کی گود میں سونا ہے۔ رنگ و نور میں نہانا ہے ۔محبتوں میں جسمانی ملاپ بارش کی معصوم ادا ہے۔ کلی کا چٹکنا ہے ۔ بن جسمانی لمس کے محبت زہنی مرض ہے۔ آسیب ہے۔
بریک لگنے کی شدت سے سواریاں ایک دوسرے پر لڑھک گئی تھیں ۔بس میں یک دم سے افراتفری مچ گئی۔ سواریوں کے شور وغوغا نے آسمان سر پر اٹھا دیا۔
تین کتے، ایک کتیا اور عاشق حسین کا بیٹا؛ایک ساتھ مرگئے۔ ادھر تین کتے اور ایک کتیا بس کے نیچے آکر کوچ کرگئے اور ادھر عاشق حسین کے بیٹے کی روح اوپر پرواز کر گئی۔
عاشق حسین نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے رب کا شکریہ بھی ادا کردیا کہ تین کتوں اور ایک کتیا کے ساتھ ساتھ اس کے بیٹے کی جان بھی نکال دی۔
اس نے دل ہی دل میں عزرائیل کو بھی بڑی داد دی، کس چابکدستی سے لوگوں کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ اگر عزرائیل نہ ہوتا تو خدا جانے لوگ کیسے جیتے۔ ؟
بیٹے اور کتوں کے مرنے کا وقت اور مقام جیسے اس کے زہن میں نقش ہو کر رہ گیا ۔
کنڈیکٹر نے جلدی جلدی مرے ہوئے کتوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے سڑک کے کنارے ڈال دیا اور بس روانہ ہوئی۔ تقریبا 5 منٹ بعد بس عاشق حسین کے گاؤں کے سٹاپ پر رکی ۔سٹاپ کے قریبی گھر سے چارپائی منگوا کر عاشق حسین نے گاؤں والوں کی مدد سے بیٹے کی لاش چارپائی پر رکھی اور گھر کی راہ لی بس اس گاؤں کے واحد سواریوں کو اتارنے کے بعد دھواں اگلتے ہوئے اور غوں غوں کی آوازیں نکالتے اگلی منزل کی طرف رینگنے لگی تھی۔
عاشق حسین نے گاؤں والوں اور رشتہ داروں کے حوالے تجہیز و تکفین کے انتظام کرتے ہوئے چھوٹے بھائی کو ساری نقد رقم بھی ہاتھ میں تمھا دی ۔خواتین کے بین اور گاؤں والوں کی با آواز بلند انتظامات بارے باتوں کے دوران عاشق حسین ایک بڑی بوری میں ایک عدد کلہاڑی ، تیز دار والی چھری اور کام والے میلے اور بوسیدہ کپڑے رکھ کر خاموشی کے ساتھ نکل گیا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ جائے حادثہ پر موجود تھا ۔
سڑک پر ویرانی چھائی ہوئی تھی وہ جلدی جلدی چاروں مرے ہوئے کتوں کو ٹانگوں سے کھینچتے ہوئے سڑک کنارے گنے کے کھیتوں میں اندر تک لے گیا ۔بجلی کی سی سرعت کے ساتھ اس نے چاروں کتوں کو کاٹ کر بوری میں ڈالا اور کپڑوں کے اوپر پہنے ہوئے میلے اور خون آلود ملبوس کو اتار کر ماچس کی تیلی سلگا دی۔ گھر داخل ہوکر اس نے بڑی بیٹی کو گوشت حوالے کرکے میت کا کھانا تیار کرنے کے بارے میں اچھی طرح سمجھایا اور باہر نکل کر فاتحہ کے لیے آنے والوں میں گھل مل گیا ۔تدفین بھی شان سے ہوئی۔ چار پیٹی صابن بانٹا گیا اور آئے ہوئے تمام مولویوں میں جائے نماز، سفید ٹوپیاں اور تسبیح بھی تقسیم کی گئیں۔ مغرب کے بعد سارے گاوں کو مسجد ہی میں چھوٹا گوشت کھلایا گیا۔ گرم گرم تندوری روٹیوں کے ساتھ سب نے پیٹ بھر کر کھایا خوب واہ واہ ہوئی۔ سب نے لذت کی تعریف کی۔
عاشق حسین مطمئن تھا کہ انشاللہ میت کا ایسا کھانا گاؤں میں کسی کے باپ نے بھی اب تک نہیں دیا ہوگا اور نہ ہی آئندہ سو سالوں میں کھلا سکے گا۔ عاشق حسین نے ایک بھرا ہوا خوانچہ مولوی صاحب کے گھر بھی بجھوایا خوب دعائیں ہوئیں اور مرحوم کو شہید کا درجہ بھی عطا ہوا ۔اگلی صبح فجر پڑھ کر بھری مسجد میں مولوی صاحب نے عاشق حسین کو مخاطب کیا ''بھائی عاشق حسین رات کو تو بڑی عجیب بات ہوئی میں نے اور ملانی جی نے اکھٹے ایک ہی خواب دیکھا کہ تیرا برخوردار جنت کی باغوں میں چہل قدمی کر رہا ہے۔ خوش و خرم ہے۔ میں نے تو بس صرف یہی دیکھا۔ مگر ملانی جی کہہ رہی تھی کہ اسے شہید نے کہا کہ ابا کی حویلی بھی وہ جنت میں دیکھ چکا ہے جس کی سفید موتیوں کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے ۔''
تمام جماعت عش عش کر اٹھی۔ عاشق حسین زیر لب مسکرایا اسے پہلی مرتبہ نجس کتے کی پارسائی کے زور کا علم ہوا تھا ۔ واقعی جنت کا ہر راستہ پیٹ سے گزرتا ہے اور جہنم بھوک کی پیداوار ہے ۔
عاشق حسین نے دل ہی دل میں ان چاروں کتوں کا شکریہ ادا کیا کہ نجس ہونے کے باوجود اس کی انا اور دین کو قائم رکھا۔ اس کے بیٹے اور اسے جنت تک لے جانے کا سبب بنے پہلی مرتبہ اس کے دل سے کتوں کے لیے دعا نکلی اگر ان کتوں نے آج اس کی پردہ پوشی نہ کی ہوتی تو انسان تو اسے برہنہ کرچکے ہوتے

وراثت میں حصہ

*آسیہ عمران*
*وراثت میں حصہ ۔۔۔۔۔۔*
کل میرا بھائی آیا اور مجھے دس لاکھ روپے دے کر کہا کہ یہ تمھارا ابا کی وراثت میں سے حصہ ہے۔
والد صاحب نےانتقال کے وقت ترکہ میں دو منزلہ مکان چھوڑا جو اس وقت چالیس لاکھ کا تھا۔
پچیس سال گزر گئے ہم بہنیں خاموشی سے منتظر رہیں کہ بھائی خود ہی تقسیم کریں گے۔
پچھلے ماہ بھائی نے وہ مکان چار کروڑ میں بیچا کاغذی کارروائی میں ہم دونوں بہنیں بھی ساتھ تھیں۔ لیکن جو ہمیں حصہ دیا وہ م پچیس سال پہلے کی مکان کی قیمت کے حساب سے صرف دس لاکھ دیا ۔
مولانا صاحب کیا یہ زیادتی نہیں ہے ؟
اس خاتون نے مولانا صاحب سے پوچھا ۔
بالکل ذیادتی ہے اول تو وقت پر تقسیم ہونی چاہیے تھی لیکن اگر پچیس سال بعد جائیداد کی تقسیم ہوئی تو ورثاء میں آج کی قیمت کے اعتبار سے حصہ تقسیم کیا جانا چاہیے تھا ۔
بلکہ دین کا تقاضا تو یہ ہے کہ جتنے سال بھائی نے فایدہ اٹھایا اس کا کرایہ بھی ان پر واجب الادا ہے یہ اور بات کہ دیگر ورثا خود ہی نہ لینا چاہیں۔
یہ ایک بہن کا مسئلہ تھا جس کے بھائی نے لا علمی یا پھر چالاکی سے بہن کے حصہ کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا۔ہزاروں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھوں نے باپ کے مال پر صرف قبضہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے حق سمجھ کر کھایا ۔
میرا ایک آرٹیکل شادی میں جہیز جیسے بوجھ سے چھٹکارہ پانے کے حوالے سے تھا ۔
کچھ لوگوں نے اس پر کہا کہ ماں باپ چونکہ وراثت میں بیٹی کو حصہ نہیں دیتے اس لیے جہیز دے دیتے ہیں۔
آپ جہیز کی مخالفت ضرور کریں کہ یہ فضول رسم ہے لیکن بیٹیوں کے وراثت میں ان کے شرعی حصہ کی تو بات کریں ۔جو ان کا رب کی طرف سے دیا گیا حق ہے ۔
جہاں جہیز سے ڈسے لوگوں کی کمی نہیں وہاں ایسے اعلی تعلیم یافتہ ،بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہزاروں لوگ بھی ہیں ۔ بیٹیوں کو حق دینے کی بات پر جن کی غیر ت جاگ جاتی ہے کہ انھوں نے ایسا کہا تو کیوں کہا؟ بیٹیاں روایتی شرم کے زیر اثر اس پر مستزاد میکے کا بھرم اور مان قائم رکھنے کی خاطر خاموشی سے گھٹتے عمر بتا دیتی ہیں۔ زبان سے اف تک نہیں کہتیں۔
فیملی میں ہی ایک رشتہ دار اپنے بچوں سے کہہ رہے تھے میرے مرنے کے بعد تینوں مکانوں کو دونوں بھائی آپس میں برابر برابر تقسیم کر لینا ۔ کسی نے توجہ دلائی کہ صرف دو بھائی ہی تو نہیں تین بہنیں بھی تو حقدار ہیں ۔
ایک نے کم علمی کے زیر اثر سوال کیا ۔جس گھر میں رہائش ہوکیا اس میں سے بھی بہنوں کا حصہ نکلے گا۔
تبھی مولانا صاحب آگئے انھوں نے تفصیلا بتایا کہ جہیز اور شادی کے اخراجات کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ۔
وہ صرف والدین کی طرف سے تحائف ہو سکتے ہیں اور ترکہ کے لئے رہائشی یا غیر رہائشی کی بھی کوئی شرط نہیں ۔
کسی کے فوت ہونے کے بعد اس کی ایک ایک چیز ترکہ(وراثت کا مال ) بن جاتی ہے جس کی تقسیم اللہ رب العزت نے خود کی ہے کوئی اپنی مرضی سے اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کر سکتا۔
اس کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے میت پر کوئی قرض ہو تو وہ میت کے چھوڑے ہوئے مال سےادا کیا جائے گا۔ چاہے قرض دینے میں ہی سارا مال ختم ہو جائے قرض سب سے پہلے دینا ہوگا۔
اس کے بعد اس کے تجہیز و تکفین کا بندوست اسی مال سے کیا جائے گا ۔
اگر میت نے اپنے ورثاء کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو کل مال کے تیسرے حصے سے ادا کی جائے گی ۔
بقیہ مال ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا اس کا باقاعدہ علم علم الفرائض کے نام سے موجود ہے جس کے سیکھنے کی باقاعدہ ترغیب دی گئی ہے ۔اب اس حوالے سے ایپس بھی بن چکی ہیں آپ کل مال لکھیں اور ورثاء لکھیں تو ہر ایک کو ملنے والا حصہ معلوم ہو جائے گا ۔
تخصص کی کلاس میں مولانا صاحب ایک اور مسئلہ کا بتا رہے تھے کہ ایک شخص نے پلاٹ بیٹے کے نام لگوائے اور اسے کہا کہ یہ میری ملکیت ہیں میرے مرنے کے بعد شریعت کے مطابق ان میں سے بہنوں اور ماں کو حصہ دے دینا ۔اچانک ہی کسی ناگہانی میں پہلے باپ پھر بیٹا چل بسا ۔ بہو نے یہ کہتے ہوئے بہنوں کو حصہ دینے سے انکار کر دیا کہ میرے شوہر کے نام ہیں لہذا اسے کوئی مجھ سے نہیں لے سکتا۔
کچھ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مال کب تک کھاؤ گی یہاں نہ دو گی تو دوسرے جہاں میں پھنسنا یقینی ہے عدالت کے فیصلے سے بھی حقیقت تو نہ بدلے گی۔ بات سمجھ نہ آنی تھی نہ آئی کہ دولت فتنوں میں ایک بڑا فتنہ ہے
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ فضول رسم و رواج سے ہٹ کر اپنی اصل کی طرف آئے وہ تمام حقوق جو رب کریم نے کسی کے بتائے وہ پورے کئے جائیں الگ سے جو بھی دیں رسوم کے زیرِ اثر نہیں اخلاص اور نیک نیتی سے دیں۔
اپنا حق لینے میں شرمانے یا قباحت کی کوئی بات نہیں ۔
اگر کوئی اپنا حصہ لینے کے بعد کسی دوسرے کو اپنی مرضی سے دے دے تو وہ ایسا کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔
مقام شرم تو موجود ہ صورتحال ہے۔ جہاں لوگ معاشرے کی اندھی تقلید ،ریاکاری ،اور لوگ کیا کہیں گے کے چکر میں قرضدار ہی نہیں ذہنی مریض اور پھردل کے مریض بن جاتے ہیں اور میکے والوں کو زندگی بھر اس بوجھ سے چھٹکارہ نہیں ملتا۔

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...