Saturday, 19 September 2020

🔘 *کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں* 🔘

🔘 *کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں* 🔘

میں ایک گھر کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک مجھے گھر کے اندر سے ایک دس سالہ بچے کے رونے کی آواز آئی۔ آواز میں اتنا درد تھا کہ مجھے مجبوراً گھر میں داخل ہو کر معلوم کرنا پڑا کہ یہ دس سالہ بچا کیوں رو رہا ہے۔ اندر داخل ہو کر میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ 
میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں  کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔
ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر  اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ چکر کیا ہے۔ میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دوکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ہی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ہی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔بھلا ہو اس شخص کا  جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہی کہا۔ تھوڑی سی سبزی تھی جلد ہی فروخت ہو گئی۔اور وہ بچہ اٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ہوا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر  دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔ 
 میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹا دیر ہو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے  سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ہے اسے مت مارو۔ استاد فرمانے لگے کہ سر یہ روزانہ ایک گھنٹا دیر سے آتا ہے میں روزانہ اسے سزا دیتا ہوں کہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ہوں۔ بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ہوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ہی گیا ہوں۔
حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔ 
اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ منڈی ٹائم ہر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔ سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ہوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔ میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ہے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہی۔چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ہم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔ حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی درد بھری سیسکیاں لے کر زاروقطار رو رہی تھی اور میں نے  فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ہو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو۔
اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ہوئے سکول چلا گیا۔ 
حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ہوگئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے لو۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹا لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ہاتھ آگئے بڑھا دیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔
استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ہے وہ کس کے لیے ہے۔ بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئ سوٹ نہی ہے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ہے۔ یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟ میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ہی نکال دی۔۔۔۔ 
بچے نے جواب دیا نہیں انکل جی چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے دوں گا.... 😭😭



*اگر پوسٹ اچھی لگی ہے تو شٸیر ضرور کردیجٸیے*


Friday, 18 September 2020

ہمیں صرف اسلامی قانون چاہیے:

ہمیں صرف اسلامی قانون چاہیے:

لوگوں کے اعضاء نہ کاٹیں بلکہ نکاح کو آسان کریں شادی کی فضول رسومات کو ختم کریں جہیز پر پابندی لگائیں وراثت کو یقینی بنائیں کیونکہ بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ بچی گناہ و ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بنیں گے اور گناہ کریں گے.

اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا نکاح انسانوں کا طریقہ ہے جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں رہ سکتے ہیں ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں جوان بچیوں کو یونیورسٹیز ہوسٹل میں رکھنا شرعا حرام ہے ان کی بنیادی ضرورت نکاح ہوتا ہے اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے اور زنا کیلئے سخت ترین وعیدیں ہیں.

بلوغت کے بعد مرتے دم تک نکاح انسان کے حیا کی حفاظت کرتا ہے بغیر نکاح کے انسان باولے کتے کی مانند ہوتا ہے وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے اور نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے بدقسمتی کی انتہا یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔

والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں
نوجوانوں کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ جنسی زندگی  ہے اور اس پہ بات کرنا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے جو والدین اولاد سے دوستی نہیں کرتے یا جو بچے والدین سے دوستی نہیں کرتے وہ مستقل نقصان کرتے رہتے ہیں نکاح کی تحریک شروع کریں نکاح کو آسان بنائیں اگر اپنی معاشرت عزیز ہے بصورت دیگر 
عذاب کا انتظار کریں.

Sunday, 13 September 2020

یک مجاہد جس نے 17 سال جہاد کیا بیان کرتا ہے:

 یک مجاہد جس نے 17 سال جہاد کیا بیان کرتا ہے:


میں نے اپنے امیر سے اجازت لی اور گھر واپس آیا۔ اپنی والدہ سے پوچھا:


امی! میری خالہ کیسی ہیں؟

(جواب ملا): وہ وفات پا چکی ہیں۔

(اور) پھوپھو کیسی ہیں؟

وہ بھی وفات پا چکی ہیں۔

(اور) میرے چچا کیسے ہیں؟

وہ بھی گزر چکے ہیں۔


میں نے کہا:

"دیکھیں! 17 سال جس موت کی امید آپ نے مجھ سے کی، مجھے نہیں آئی لیکن ان لوگوں کو آ گئی جو (گھروں میں) بیٹھے تھے۔" 


___


کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے ( مکی زندگی میں ) کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کر رکھو ، اور نماز قائم کیے جاؤ اور زکوٰۃ دیتے رہو ۔ پھر جب ان پر جہاد فرض  کیا گیا تو ان میں سے ایک جماعت ( دشمن ) لوگوں سے ایسی ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے ، یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگی ، اور ایسے لوگ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ، تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہیں دی؟   کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے ، اور جو شخص تقوی اختیار کرے اس کے لیے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے ، اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔

تم جہاں بھی ہوگے ( ایک نہ ایک دن ) موت تمہیں جاپکڑے گی ، چاہے تم مض


مائیں اتنی معصوم کیوں ہوتی ہیں

😥😥😥
مائیں اتنی معصوم کیوں ہوتی ہیں؟
موبائل فون میں ایک مقبول عام ایپ ہے’’ٹاکنگ ٹام‘‘۔ آپ جانتے ہوں گے کہ اِس ٹام کے سامنے جو کچھ بولا جاتا ہے یہ اُسے مضحکہ خیز آواز کے ساتھ دُہرا دیتا ہے۔ یہ آپ ہی کی آواز ہوتی ہے جو پچ کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ آپ کو سنائی دیتی ہے۔ شہزاد صغیر میرا دیرینہ دوست ہے۔ اُس کی والدہ حیات تھیں تو ایک پرانے اینڈرائڈ موبائل پر بطور خاص ٹاکنگ ٹام سے گھنٹوں باتیں کیا کرتی تھیں۔حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب وہ ٹاکنگ ٹام سے باتیں کرتیں تو پہلے وضو کرتیں، پھر سر پر چادر اوڑھ کر نہایت انہماک سے گھر کے کسی پرسکون کونے میں بیٹھ کر ٹاکنگ ٹام ایپ کھول کر گفتگو کرنے لگتیں۔ گھر والوں نے پوچھا کہ ماں جی یہ آپ کیا باتیں کرتی ہیں؟ جواب ملا ’میں اسے قرآن پڑھا رہی ہوں‘۔ شہزاد صغیر کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ بڑی خوش تھیں کہ ٹاکنگ ٹام نامی یہ بچہ بڑی محنت اور محبت سے قرآن کی آیات سیکھ رہا ہے اور جیسا میں سکھاتی ہوں ویسا ہی آگے سے پڑھتاہے…!!!
کئی برس پہلے میں لاہور کے ایک ٹی وی چینل سے بطور اسکرپٹ ایڈیٹر وابستہ تھا ۔ملتان سے ماں جی بے تابی سے پوچھا کرتی تھیں کہ کب آئو گے؟ میری مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ ایک سال سے پہلے چکر لگانا مشکل ہوتا تھا لہٰذا میں رمضان کے آخری دنوں میں ہرحال میں ملتان پہنچ جایا کرتا تھا تاکہ عید والدین کے ساتھ کرسکوں۔ ایک دفعہ چینل کی تنخواہ کچھ لیٹ ہوگئی۔ پچیسواں روزہ تھا۔ ماں جی کے فون پر فون آرہے تھے کہ تم آکیوں نہیں رہے۔ پہلے تو میں بہانے بناتا رہا لیکن جب اٹھائیسواں روزہ آگیا اور تنخواہ نہ ملی تو مجبوراً مجھے بتانا پڑا کہ ابھی مجھے پیسے نہیں ملے۔ ماں جی کی آواز میں پریشانی امڈ آئی۔فوراً بولیں’’میں تمہارے ابو کو لاہور بھیجتی ہوں تاکہ وہ تمہاری ’’فیکٹری ‘‘ والوں سے جاکر پوچھیں کہ آخر بچے کے پیسے کیوں نہیں دے رہے…‘‘
بیس سال پہلے مجھے ایک اخباری فیچر کی تیاری کے سلسلے میں جیل جانے کا اتفاق ہوا۔فیچر کا موضوع تھا کہ سزائے موت کے قیدی کیا محسوس کرتے ہیں؟ جیل میں میری ملاقات ایک ایسے قیدی سے ہوئی جسے فخر تھا کہ اُس نے اپنے دو دشمنوں کو سوتے میں موت کے گھاٹ اتاردیا۔ یہ قیدی ایک پچیس سال کا نوجوان لڑکا تھا جسے سزائے موت سنائی جاچکی تھی اور سپریم کورٹ سے بھی اُس کی اپیل رد ہوگئی تھی۔میں نے جیل انتظامیہ سے اُس کے گھر کا ایڈریس لیا اور اُس کی ماں سے ملا۔ جب اسے پتا چلا کہ میں صحافی ہوں اور اُس کے بیٹے سے مل کر آرہا ہوں تو ایک دم رونے لگی اور ہاتھ جوڑ کر بولی’’میرے بچے کو چھوٹی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں ملنی چاہیے‘‘۔ میں نے بے بسی سے کہا کہ ماں جی آپ کے بیٹے نے دو قتل کیے ہیں اور اعتراف بھی کرچکا ہے۔ ماں بھرائی ہوئی آواز میں بولی’’پُتروہ تو ناسمجھ ہے، جب میں کہہ رہی ہوں کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا تو پھر یہ لوگ اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے…اُنہیں کہو اگر میری بات کا یقین نہیں تو میرا تین مرلے کا سارا مکان گارنٹی کے طور پر رکھ لیں۔‘‘
میرے ایک دوست ریحان علی کے والد فوت ہوئے تو جائیداد کا بٹوارہ ہوگیا۔ والد صاحب کا آبائی گھر بک گیا تو ریحان نے اپنے حصے کے پیسے بھی والدہ کو تھما دیے۔ والدہ نے زندگی میں کبھی دو ہزار سے زائد کی رقم نہیں دیکھی تھی سو پریشان ہوگئیں اور پوچھا کہ یہ کتنے پیسے ہیں؟ ریحان نے بتایا کہ امی دس لاکھ ہیں۔ والدہ مزید پریشان ہوگئیں ۔ ان کی بلا جانے کہ دس لاکھ کیا ہوتے ہیں، نہایت رازدارانہ انداز میں بولیں’’پیسے بہت زیادہ لگتے ہیں کہیں گھر میں ڈاکا ہی نہ پڑ جائے ایسا کرو پانچ ہزار بینک میں رکھوا دو ، باقی بے شک یہیں پڑے رہنے دو۔‘‘
پاکستان کے صف اول کے ایک مقبول اداکار بتانے لگے کہ ایک دفعہ انہوں نے ایک ڈرامے میں ایک سنگدل شوہر کا کردار ادا کیا جو اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلیتاہے اور وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ڈرامے کی بیس اقساط آن ایئر جاچکی تھیں۔اسی دوران اُنہیں اپنے ایک دوست کے گھر کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا۔ جونہی دوست کی والدہ نے اداکار کو دیکھا اُسے نہایت پیار سے ہاتھ پکڑ کر تخت پوش پر بٹھایا اور سمجھانے لگیں کہ بیٹا تمہاری بیوی بہت مشکل میں ہے، نہ اس کے پاس کوئی گھر ہے نہ کوئی ٹھکانا۔ بچے بھی رُل گئے ہیں۔ خدا کے لیے جائو اور اُسے واپس لے آئو ، مجھے پتا ہے وہ اس وقت کہاں ہے۔‘‘
کچھ عرصہ پہلے ایدھی ہوم میں ایک 75 سالہ ماں جی سے ملاقات ہوئی۔ بہت خوش نظر آئیں۔ حیرت سے پوچھا کہ آپ کی اولاد آپ کویہاں چھوڑ گئی ہے اور آپ اتنی خوش ہیں؟ چہک کر بولیں’’وے کملیا! میرے بچوں نے تو مجھ پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا ہے‘‘۔ تفصیل پوچھی تو بڑے فخر سے بتانے لگیں کہ ’’میرے دو بیٹے ہیں، دونوں شادی شدہ ہیں لیکن میری بہوئیں اچھی نہیں۔مجھے کھانا بھی نہیں دیتی تھیں اور بغیر پنکھے والے کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ اصل میں وہ ہر وقت میرے مکان پر قبضے کے خواب دیکھتی رہتی تھیں۔ پھر میرے بیٹوں نے مجھے کہا کہ ماں جی یہ چھوٹا سا گھر ہے اسے بیچ دیتے ہیں اور ہم اپنے پیسے بھی ملا کر آپ کے لیے ایک بہت بڑاسا گھر لے لیتے ہیں جہاں ہماری بیویوں کو آنے کی اجازت ہی نہیں ہوگی۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا۔میں نے گھر اُن کے نام کردیا۔ گھر بک گیا لیکن میرے بچوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور یہ دیکھو مجھے اتنا بڑا گھر لے کر دیا ہے جہاں اتنے سارے پنکھے بھی لگے ہوئے ہیں، کھانا بھی وقت پر ملتا ہے اور میری کوئی بہو یہاں قدم بھی نہیں رکھتی۔اللہ میاں میرے بچوں کو دنیا جہان کی خوشیاں دے۔
تحریر مستعار
✍️ادبی تحریریں📚

قیمتی باتیں

1- آپ کے جوتے وہ پہلی چیز ہیں جن کی وجہ سے لوگ آپ کی شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ نفیس جوتے پہنو ۔

2- اگرآپ گیارہ گھنٹے سے زیادہ بیٹھے رہتے ہیں تو جان لیں کہ پچاس فیصد امید ہے آپ دو سال میں بیمار ہو جائیں گے ۔

3- کم ازکم چھ لوگ دنیا میں آپ کے ہم شکل موجود ہیں ۔ اور نو فیصد امید ہے کہ زندگی میں ان میں سے ایک سے آپ کی ملاقات بھی ہو گی

4- تکیے کے بغیر سونے سے آپ کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ اور کمر درد سے آرام محسوس ہوتا ہے

5-کسی شخص کا قد عموما اس کے باپ کی طرح ہو گا ۔ اور وزن اس کی ماں کی طرح

6- انسانی دماغ تین چیزوں پر فورا متوجہ ہوتا ہے ۔ کھانا ، دلکش لوگ اور خطرہ

7-دایاں ہاتھ استعمال کرنے والے کھانا بھی دائیں طرف چباتے ہیں ۔

8- خشک ٹی بیگ ورزش کے سامان اور بدبودار جوتوں سے بدبو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

9- البرٹ آئن سٹائن کے مطابق اگر زمین سے شہد کی مکھی کا وجود ختم ہو جائے تو انسانی حیات چار دن میں ختم ہو جائے گی ۔

10- سیب کی اتنی زیادہ اقسام ہیں کہ اگر ہر روز ایک نئی قسم کا سیب آپ کھانا شروع کر دیں ۔ تو بیس سال تک کھاتے رہیں گے ۔

11-آپ کھانے کے بغیر ہفتوں تک زندہ رہ سکتے ہیں ۔ لیکن نیند کے بغیر صرف گیارہ دن زندہ رہ پائیں گے ۔

12-ہنسنے مسکرانے والے لوگ خشک مزاج لوگوں سے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں ۔

13-سستی اسی طرح لوگوں کو ہلاک کرتی ہے جیسے سگریٹ نوشی ۔

14- ایک انسانی دماغ وکی پیڈیا سے پانچ گُنا زیادہ معلومات جمع کر سکتا ہے ۔

15- ہمارا دماغ دس واٹ کے بجلی کے بلب جتنی طاقت استعمال کرتا ہے ۔

16- ہمارا جسم تیس منٹ میں اتنی حرارت پیدا کرتا ہے کہ ڈیڑھ لڑ پانی اُبالا جا سکتا ہے ۔

17- ہر روز دس منٹ پیدل چلنا چاہئیے ۔ مسکراتے ہوئے ۔ اس سے ڈپریشن دور ہوجاتا ہے ۔
#یو کے یوسفزئی
کچھ دن پہلے چھوٹے بھائی کا فون آیا۔ جو اماں کا سب سے لاڈلہ تھا کہ اماں نے اس سے بات چیت بند کی ہوئی ہے۔ لہٰذا میں سفارش کر کے اماں کو راضی کرلوں۔ گاؤں جب گیا، اماں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ سلام کرکے چارپائی کے ایک کونے پر ادب سے بیٹھ گیا۔ اور بولا کہ اماں چھوٹے کا فون آیا تھا۔ آپ کس بات پر اُس سے ناراض ہیں؟ معاف کردیں اُسے اماں غصے سے اُٹھ گئیں۔ اور کہا کہ وہ تو اپنا دودھ بھی اس کو نہ بخشیں، اتنا دل دُکھایا ہے اُس نے۔ میں ہل کر رہ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ گھر میں ابا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تو اماں نے چھوٹے کا اے ٹی ایم کارڈ ابا کو دیا کہ اکاونٹ سے پیسے نکال کر خرچ کرلینا۔ اگلے دن چھوٹے کا فون آیا کہ ابا کو میرے پیسے نظر آگئے تھے۔ میرے اپنے بچے ہیں اپنے بچوں کےلئے کچھ بچاسکوں۔ ابا کو احساس ہی نہیں ہے۔ 
اماں بتارہی تھیں اور روئے جارہی تھیں کہ ابھی تو میں زندہ ہوں اور یہ لوگ میرے شوہر کی توہین کررہے ہیں۔ کتنی مشکلوں سے میرے شوہر نے ان کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اگر میں اُس کے ساتھ لڑتی جھگڑتی ہوں۔ تو وہ ہم دونوں کا آپس کا معاملہ ہے۔ مگر کسی کو یہ حق نہیں دوں گی کہ وہ میرے جیتے جی میرے سُہاگ کی توہین کرے۔

میں خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اور فون نکال کر بیوی کو کال ملائی۔ آگے سے پُھنکارتی ہوئی آواز میں وہ چیخی کہ یہ معلوم کرنے کےلئے فون کیا ہے ناں؟ کہ میں زندہ ہوں، یا مر گئی ہوں۔
میں نے کہا کہ کیا واقعی تم میرے بغیر زندہ رہ سکتی ہو؟

دوسری طرف فون پر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

هنسنا منع ہے

😋ھنسنا_منع_ھے 🙂

ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا . طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے
پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے

جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے .
پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا
موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے

اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے

اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے

استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا

جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے

اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔

استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا

کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں

جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں

ان کو تو کمپیوٹر کی الف ب کا پتا نہیں۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے

۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ،
طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھا

میں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔

اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی

جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ،

جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویہ پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔
اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے 

اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کے کام بھی آتا ہے😂😂😂😂😂😂😂😂

منقول۔۔
✍️ادبی تحریریں📚

یہ سانپ کئی طریقہ سے ڈستے ہیں

بہت پرانا قصہ ہے۔ بارہا کہا گیا بارہا سنا گیا۔ایک شخص جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے خاردار جھاڑیوں میں ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا سانپ زخموں سے چور ملتجیٰ نظروں سے اس آدمی کو دیکھنے لگا آدمی کو سانپ پہ ترس آگیا اور اس نے اک زیتون کی شاخ لے کر زخمی سانپ کو جھاڑیوں سے باہر نکالا
باہر نکلے کے بعد بجائے اسکے کہ سانپ اس آدمی کا مشکور ہوتا سانپ نے پھنکارنا شروع کردیا میں تمہیں ڈسوں گا، میں تمہیں ڈسوں گا۔
اب آدمی مشکل میں پھنس گیا اسے سمجھ نہ آئے کیا کرے۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی مگر سانپ کے زہر کے ڈر سے بھاگ نہ سکا۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ نیکی گلے پڑگئی

 
اس آدمی نے سانپ سے کہا میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی مگر تم بجائے ممنون ہونے کے الٹا مجھے ڈسنے پہ آمادہ ہو۔ سانپ نے کہا ہاں نیکی کا بدلہ بدی ہے۔

اس آدمی نے کہا چلو کسی معزز کسی منصف کے پاس چلتے ہیں فیصلہ کروا لیتے ہیں۔ میں نے نیکی کی ہے اور میرے خیال میں نیکی کا بدلہ نیکی ہے
اس لیے فیصلہ میرے حق میں ہی ہوگا۔ سانپ نے کہا یہ رہا گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان فیصلہ کروانا کون سا مشکل کام ہے ابھی چلتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا آج
نیکی کا بدلہ بدی ہے
اس لیے فیصلہ میرے حق میں ہوگا۔ سب سے پہلے وہ آدمی اور سانپ ایک گائے کے پاس گئے اور اپنا مدعا بیان کیا۔
اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کے سانپ کہتا ہے کہ
نیکی کا بدلہ بدی ہے۔
گائے نے ساری کہانی سنی اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولی اے شخص شاید تمہیں قبول نہ ہو مگر
اب نیکی کا بدلہ بدی ہے۔
مجھے دیکھو میں جوان تھی تو مالک کو دودھ دیتی تھی۔ مالک کا بوجھ اٹھاتی تھی۔ اس کے بچے میرا دودھ پی کر جوان
ہوئے ہیں۔ مالک بھی میرا خیال رکھتا تھا۔ مجھے چارہ اور پانی دیتا تھا۔ اب میں بیمار اور بوڑھی ہوگئی ہوں۔ اب میں دودھ دینے کے قابل نہیں رہی۔ تو مالک نے میرا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اب میں بھوکی مروں یا پیاسی اس کی بلا سے۔
یہ سن کر سانپ خوشی سے پھنکارنے لگا میں تمہیں ڈسوں گا
میں تمہیں ڈسوں گا۔ اب پریشان آدمی نے اس سے کہا یہ گائے بیمار ہے عربی کی کہاوت ہے بیمار کی رائے بھی بیمار ہوتی ہے چلو کسی اور سے پوچھتے ہیں۔ سانپ مان گیا۔

آگے ان کو ایک گدھا ملا۔ گدھے نے پوری بات سنی اور کہا میرے خیال میں بھی
نیکی کا بدلہ بدی ہے۔
جب میرے اندر دم تھا میرا مالک
دن رات مجھ پہ سوار رہتا تھا۔ میرے مالک نے میری سواری کرکے قریہ قریہ گھوما ہے۔ مجھ پہ میری سکت سے دوگنا بوجھ لادتا رہا۔ اب جب میں بوڑھا ہوگیا تو میرے مالک نے مار پیٹ کے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ اب میں جنگل میں درندوں سے بچتا پھرتا ہوں۔ اس حالت میں میرا کوئی پرسان حال نہیں۔

 
سانپ یہ بات سن کر آدمی کو ڈسنے ہی لگا تو آدمی نے منت سماجت کرکے سانپ سے کہا مجھے اک موقع اور دے دو۔
گدھے میں کہاں کی عقل جو ہم اس سے فیصلہ کروانے چلے۔ کسی دانا کے پاس چلتے ہیں۔
سانپ طوعاً وکرہاً مان گیا۔ دو فیصلے سانپ کے حق میں ہوچکے تھے سانپ کو امید تھی تیسرا فیصلہ بھی اسی کے
حق میں ہوگا۔ اب کی بار وہ اک بزرگ کے پاس پہنچے اور سارا واقعہ دہرایا۔ ساتھ میں سابقہ فیصلوں کی تفصیل بھی بیان کردی۔ بزرگ نے ان کا قصہ سنا اور ان سے کہا مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو جہاں سے سانپ کو نکالا تھا۔ پہلے سانپ کو جھاڑیوں میں پھینکو اور پھر میرے سامنے نکالو جیسا
تم نے پہلے نکالا تھا۔ تب میں فیصلہ کروں گا۔
ایسا ہی کیا گیا۔ تینوں جھاڑیوں کے پاس گئے اور سانپ کو دوبارہ خاردار جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا۔
اب آدمی سانپ کو دوبارہ نکالے ہی لگا تھا کے بزرگ نے منع کردیا۔ اور کہا اس کی یہ اوقات نہیں کے اس کے ساتھ نیکی کی جائے۔
اس کا مقام یہی خاردار جھاڑیاں ہیں۔ اس کے لیے یہی بہتر کے یہاں ہی پڑا رہے جو اسے نکالے گا وہی نقصان اٹھائے گا۔

عشروں سے ہمارا واسطہ بھی کئی طرح کے سانپوں سے ہے۔
کچھ آستین کے سانپ۔
کئی مذہب کے نام پر لوٹ مار کرنے والے سانپ۔
کچھ خون چوسنے والے سانپ۔
کچھ رنگ باز سانپ۔
کئی خاندانی سانپ ہیں جو نسل درنسل زہر پھونک رہے ہیں۔
اور ہم نے ہی ان جھاڑیوں میں رہنے والوں کو مسند ارشاد عطا کی ہے۔

ان سانپوں نے اپنے محسنوں کو ڈس ڈس کر جھاڑیوں میں پھینک دیا ہے اور خود محل پہ محل کھڑے کر لیے ہیں۔
یہ سانپ کئی طریقہ سے ڈستے ہیں
کبھی لیڈری کے نام پر۔
کبھی سیاست کے نام پر۔
کبھی رہبری کے نام پر۔
ان سانپوں کا اصل مقام خاردار جھاڑیاں ہیں۔
کبھی گائے اور گدھے کو منصف نہ چنیں۔
اپنے فیصلے ان لوگوں کے ہاتھ دیں جو دانا اور بزرگ ہوں اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں. 

#Copied

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

نصیب

شادی کے ایک سال بعد میری گریجویٹید بہن پاس بیٹھی تھی
کہتی اب تم بھی شادی کرلو سنجیدہ ہو جاؤ... عمر بڑھ جائے تو رشتے نہیں ملتے... اور اپنی بیوی کا خیال رکھنا
میں ہنس دیا اور کہنے لگا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تمہارے سسرال والے تمہیں روٹی بھی نہ دیتے ہوں
اک دم سے زرد پڑ گئی اور رونے لگ گئی
میں ڈر گیا کہ کیوں رونے لگ گئی پوچھا تو کہنے لگی
"وہ مجھے روٹی نہیں دیتے" میں نے کہا کیا مطلب؟
کہتی بھائی جب شوہر سسرال کچھ دن کے لیے چھوڑ جائے مجھ پر زندگی تنگ ہو جاتی ہے، سارے کام کرتی ہوں سب کے کپڑے استری کرکے دیتی ہوں، ایک وقت کا صرف کھانا 5 کلو کا سالن بنانا ہوتا ہے پھر 3 درجن تک روٹیاں ... جیٹھانی نے کبھی ہاتھ نہیں بٹایا یہ بھی نہیں سوچا مہمان ہوں جو ٹکڑے بچتے ہیں ان کو پانی میں ڈبو کر کھاتی ہوں کیونکہ سالن یا ختم ہو جاتا ہے یا جیٹھانی فریج میں رکھ کر اسے تالا لگا دیتی ہے، میری بچی میری کوکھ میں تھی تب بھی کام کروایا، ڈیلوری کے بعد بھی شوہر جب مل کر چلے گئے تو بھی کام پر لگا دیا...
میں مرد ہوں میں کمزور نہیں کہ روؤں لیکن اس دن میں عورت کی طرح رویا مجھے پتا ہی نہیں چلا میں کب رویا...
کہنے لگی بھائی میں آپ لوگوں کو دکھ نہیں دینا چاہتی نہ شوہر کو ایسے اس کے گھر والوں سے بدظن کرنا چاہتی ہوں، تمہاری روٹی نہ دینے والی بات نے مجھے رولا دیا...
بے بسی تھی جس نے بتایا آج مرد ہو کر بھی میں اپنی بہن کے لیے کچھ نہیں کر سکتا....
ابھی لوگ کہتے ہیں ڈگری والی پڑھی لکھی عورتوں کو گھر بسانا نہیں آتے
. اللہ سب کی بہن بیٹی کا نصیب اچھا کرے آمین❤️

🔘 *رشتے اور جُدائیاں* 🔘

🔘 *رشتے اور جُدائیاں* 🔘

ہمارے سامنے کی بات ہے کہ جب گاوں کے ایک گھر تنور گرم کیا جاتا تو گھر والی خاتون  اپنی بچی کو پڑوس کے گھر بھجواتی کہ آ کے روٹیاں لگا لیں۔اور خواتین اپنا آٹا لے کر پہنچ جاتیں۔ ایک تو سب کا بھلا ہو جاتا دوسرا تنور میں جو آگ جلائی جاتی وہ ایندھن ضائع ہونے سے بچ جاتا کیونکہ ایک دفعہ آپ تنور گرم کر لیں تو پانچ گھروں کی روٹیاں پکا سکتے ہیں۔پھر تنور کے اندر بینگن سیخ میں پرو کر ڈالے جاتے اور بھون لیے جاتے اس کے بعد بھی آگ اتنی ہوتی کہ بڑے پتیلے میں پانی بھر کر چنے۔گندم۔باجرہ بمع گڑ ڈال دیتے اور کچھ دیر میں گھگھنیاں تیار ہو جاتیں۔ ہماری مائیں گھگھنیاں خیرات کے طور پر پکاتی تھیں۔جس خاتون نے قرآن کا اس دن ختم کیا ہوتا وہ گھنگنیاں پکا کے خیرات کرتی۔ صبح جب مکھن کے لیے دودھ بلویا جاتا تو پڑوسی بچے اس گھر لسی لینے پہنچ جاتے اور ایک ایک لیٹر لسی سب کو فری ملتی۔ گاٶں والی ماسیاں  چھوٹا سا مکھن کا پیڑا بھی ڈال دیتیں۔ اگرچہ غریبی کا زمانہ تھا مگر لوگوں کے دل بہت بڑے تھے۔ گاوں کے گھروں میں بچے ایک دوسرے کے گھر سے نمک۔مرچ۔لہسن۔پیاز۔ مانگنے آتے تو پیار محبت سے دے دئیے جاتے اور یکجہتی میں اضافہ ہوتا۔ پکے ہوے سالن کی مُنگری تو ساتھ کے ایک دو گھر ضرور جاتی۔ شروع میں جب میں لاھور سے ایک الارم والی گھڑی جو تین انچ گولائی میں ہوتی لے آیا۔ گاوں والے نہر کا پانی اپنی باری کے حساب سے لگاتے تو بہت خوش ہوۓ کہ چلو اب ٹایم دیکھ کے پانی لگایا کریں گے۔گاوں کے کارپینٹر سے اس کا شیشم کی لکڑی کا ڈبے نما فریم بنایا گیا پالش ہوئی اس کو پکڑنے کے لیے اوپر ہینڈل لگا دیا۔ گاٶں کے کسان ایک ہاتھ میں گھڑی اور دوسرے میں کہی اٹھاے خوشی خوشی پھرتے اور اپنے نمبر پر کھیت کو پانی دیتے۔ بعض تو اتنا سادہ تھے کہ پہلے ان کو سمجھانا پڑتا کہ بڑی سوئی جب 12 بجے پہنچے گی تمھاری پانی لگانے کی باری شروع ہو گی۔ یہ گھڑی 24 گھنٹے میں ایک دفعہ ہمارے گھر اس لیے واپس آتی کہ ہم اس کو چابی دے دیں۔اب ویسی گھڑیاں کہیں نظر نہیں آتیں۔جب گاوں میں شادی کی تقریب ہوتی ہر گھر سے لڑکے ایک ایک چارپائی جمع کرتے رنگدار پانی کے ساتھ گھر والے کا نام لکھا جاتا اور شادی مکمل ہونے پر واپس کرتے۔سردیوں میں ایک ایک بستر بھی جمع  کیا جاتا۔ شروع میں جب ریڈیو اور پھر ٹی وی ہمارے گھر آیا تو شام کو بچوں کی پوری کلاس بیٹھ کے ریڈیو سنتی اور ٹی وی دیکھتے کیونکہ پورے گاوں میں ٹی وی ایک دو گھر تھا۔اس کے لیے زمین پر دریاں بچھائی جاتیں۔ ہمارے مکان کچے تھے ہر سال ساون کے مہینے سے پہلے لپائی کرنی ہوتی۔اس کے لیے گاوں کے پندرہ بیس آدمی بلاۓ جاتے جس کو وِنگار کہتے۔ یہ سب بلا معاوضہ گھر کی لپائی کر دیتے صرف کھانا اور چاے ان کو مہیا کی جاتی۔ اسی طرح عورتیں پنگھٹ پر یا کنویں سے گھڑوں میں پانی بھرنے اکٹھی ہوتیں تو یہ ایک قسم کی کیمونٹی میٹنگ ہوتی۔ایک دوسرے کے دکھ درد۔بیماری خوشی۔کا پتہ چلتا اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کو تیار رہتے۔ یہ سب پیار سب یکجہتی اس وقت ختم ہونا شروع ہوئی جب باھر کے لوگ ہمارے گاوں پہنچے۔پہلے پہل ہمیں قومی اور نسلی تفاخر کا سبق پڑھایا گیا کہ یہ تورانی۔یہ افغانی  یہ فلاں یہ فلاں ہم سے کمتر اور ہم بہتر ہیں۔ جب یہ فارمولا پورا کامیاب نہ ہوا تو جمھوریت نے حملہ کر دیا۔ گاوں میں گروپ بن گئیے کون کونسلر بنے گا کس کے ووٹ زیادہ ہیں۔ بس اب ہم جدا ہونا شروع ہوۓ۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ باہر سے کچھ پڑھے لکھے عالم تشریف لاے ۔انہوں نے ہمیں واضع کیا کہ آپ کا باپ بریلوی ۔بھائی دیوبندی۔کزن شیعہ۔ماموں وہابی۔چچا پتھری۔ خالو ض صحیح نہیں پڑھتا۔ پھوپھا تبلیغی ہے۔بس پھر تو وہ گرد اڑی کی خدا کی پناہ ہم نے مسجدیں جدا جدا بنا کر اپنا مسلک لکھ دیا ۔میناروں پر چار پانچ لاوڈسپیکرز لگا لیے ۔امام صاحب علیحدہ۔نمازیں الگ۔جنازے الگ۔عیدیں الگ۔ پھر فرقہ واریت کا جو نتیجہ نکلا اور خون کی ہولی کھیلی گئی سب کے سامنے ہے۔ ابھی کچھ کسر باقی تھی کہ سیاسی پارٹیاں نمودار ہو گئیں پھر ایک بار ہم فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد نعرے لگاتے باہم ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گیے۔ ہمارے لیڈر ہم سے ووٹ لے کر پانچ سال کے لیے غائیب ہو  جاتے ہیں مگر ہم ووٹر روز لڑتے رہتے ہیں۔ان تمام عوامل کا اثر یہ ہوا کہ آج ہمارے گاوں میں بھائی اپنے بھائی سے جدا ہے اور جمھوریت ۔ فرقہ بندی ۔ نااتفاقی۔لڑائی جھگڑوں۔ نسلی فخر اور غرور کے جہنم کے گڑھے میں جل رہا ہے اور یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس آگ کو بھڑکانے والے ہاتھ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں غائیب ہو جاتے ہیں؟

میاں بیوی

میاں بیوی دونوں ایک ہی فیلڈ میں کام کر رہے تھے۔
بیوی پائلٹ تھی اور خاوند کنٹرول ٹاور انسٹرکٹر۔

پائلٹ بیوی: ہیلو کنٹرول ٹاور! یہ فلائٹ 358 ہے۔ یہاں کچھ پرابلم ہے۔
کنٹرول ٹاور سے شوہر: آپ کی آواز ٹھیک سے نہیں آ رہی ہے۔ کیا آپ دوباہ اپنی پرابلم بتا سکتی ہیں؟
بیوی: کچھ نہیں، جانے دو، تمہیں میری آواز آتی ہی کب ہے؟ شوہر: براہ مہربانی، اپنی پرابلم بتائیے۔
بیوی: اب تو رہنے ہی دو۔
شوہر: پلیز بتائیں۔
بیوی: کچھ نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ تم رہنے دو۔
شوہر: ارے بولیٔے کیا پرابلم ہے؟
بیوی: تمہیں میرے پرابلم سے کیا مطلب؟
شوہر: بے وقوف عورت! اس فلائٹ میں دو سو پیسنجر بھی ہیں۔ پرابلم بتا۔
بیوی: تمہیں کبھی میری پرواہ نہیں رہی۔ ابھی بھی دو سو مسافروں کی پرواہ ہے۔ بس مجھے نہیں کرنی بات…
او پیا جے جاج 🧐😁😂

🌹آج کی اچھی بات 🌹 *✍ ‏‏‏

🌹آج کی اچھی بات 🌹

*✍ ‏‏‏کیا ہم پر ہمارے ربّ کا یہ انعام تھوڑا ہے کہ ہم جتنے بھی نافرمان ہو جائیں، سرکشی کر لیں۔ بس سچے دل سے توبہ کر لیں، خود کو ٹھیک کر لیں، ہمارا ربّ ہم سے راضی ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ !!!🌴*

*‏بعض لوگوں کے دلوں مَیــــں واقعی سوراخ ہوتے ہیــــــــں ... جتنی بھی محبتیــــں ڈال لیــــں ... وہ خالی ہی رہتے ہیــــــــں ......!!!*❤️

آج کی آیت

آج کی آیت۔

ولسوف یعطیک ربک فترضی۔

"عنقریب آپ کا رب آپ کو کچھ ایسا عطا کرے گا جس سے آپ راضی ہوجائیں گے۔"
اگر آپ آج یہ آیت پڑھ رہے ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک نشانی ہے۔ آیت کا مطلب ہی نشانی ہوتا ہے۔ اللہ تعالی بنا کسی وجہ کے ہمیں اپنی آیات نہیں پڑھواتا۔اللہ کے ہاں ہماری کہانیاں لکھی ہوتی ہیں۔ اسٹیپ بائی اسٹیپ۔ اللہ تعالی کو بہتر معلوم ہے کہ ہمیں کیا دینا ہے، کیا نہیں دینا اور کیا کس مرحلے سے گزار کے دینا ہے۔ ایسے میں یہ آیت اگر آپ کے سامنے آئی ہے، تو یقینا اللہ تعالی آپ کو بہت جلد کچھ ایسا عطا کرے گا جس سے آپ راضی ہوجائیں گے۔

ہو سکتا ہے کہ یہ وہ چیز نہ ہو جس کی آپ کو بہت خواہش ہو۔ ہم خواہشیں اپنی خوشی تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جب یہ ملے گا تو ہم خوش ہوجائیں گے۔ مگریہاں پہ یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ وہ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوں گے بلکہ راضی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ راضی ہونا خوش ہونے سے مختلف ہوتا ہے۔ خوشی کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، اس کے کھونے کا خوف رہتا ہے۔ رضا ایسی نہیں ہوتی۔ رضا دل کے مطمئن ہوجانے کا نام ہے۔ رضا دل کے سکون کا نام ہے۔

اگر آپ کا دل کسی مسئلے کی وجہ سے بے چین ہے، اس میں اضطراب ہے، تو یقین رکھیں، اللہ تعالی جلد کچھ ایسا کرے گا کہ آپ کا دل راضی ہوجائے گا۔ ایسے میں اگر اللہ نے آپ کو یہ خوشخبری دی ہے تو آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد ایک دفعہ آنکھیں بند کریں، دل میں اپنی تمام محرومیوں اور قدرتی آزمائشوں کو لائیں اور اللہ تعالی سے کہیں کہ اے اللہ...میں آپ سے، اور آپ کے دیے گئے امتحانوں سے راضی ہوں۔ آپ جس حال میں بھی رکھیں، آنکھ آنسو بہائے گی لیکن زبان شکوہ نہیں کرے گی۔ اللہ میں راضی ہوں۔ آپ بھی مجھ سے راضی ہوجائیں۔
اگر آپ نہیں راضی تب بھی یہ کہہ کے دیکھیں۔ عنقریب آپ کی زندگی میں ایسی نعمت عطا ہوگی کہ آپ واقعی راضی ہوجائیں گے۔ اللہ تعالی ہم سب سے راضی ہوجائے۔ آمین

*‏کوئی کسی کا نہیــں ہوتا ہے ... اور اســــں کوئی میــــں "ہــــم" خود بھی شامل ہوتے ہیــــــــں .....!!!* 💞 💞

: *‏جسے لوگ زندگی کہتے ہیــــــــں ... وہ : *‏کبھی کـبھی ہم اس لیے خاموش ہـو جاتے ہیــــــــں ... کہ دوسرے انسان کو ہمارا احساس ہو ... وہ خود ہم سے بات کرے ... لیکــن ایسا نہیــں ہوتا ... کیونکہ مان تو ہوتے ہی ٹوٹنے کیلئے ہیــــــــں ......!!!*
💞 💞


*دٌکھ دودھ کی طرح ہوتا ہے ... آنسوؤں کا پانی ملاتے جائیــــں گے ... تو بــــڑھتــــا جائے گا ... پـی لــــیں گے ... تو ختم ہــــو جائـــے گا .......!!!*
💞 💞


 *‏جب کوئی نہ سمجھ رہا ہو ... تب خاموش رہنا بہتر ہے ... کیونکہ بحث باتوں کو بگاڑ دیتی ہے ......!!!*
💞 💞

*‏خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں ... یہ اذیت بھی بڑی اذیت ہے .....!!!* 💞 💞

*‏خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں ... یہ اذیت بھی بڑی اذیت ہے .....!!!*
💞 💞

کچھ درد اتنے شدید ہوتے ہیــــــــں

*‏کچھ درد اتنے شدید ہوتے ہیــــــــں ... کہ ان کے سہہ لینے کے بعد انسان بےحس ہو جاتا ہے ... پھر چاہے کوئی کتنی ہی تکلیف دے فرق ہی نہیــں پڑتا ... آنکھیں رونا بھول جاتی ہیــــں ... دل و دماغ سوچنے کی قوت سے محروم ہو جاتے ہیــــں ... در حقیقت یہ ہی اذیت کی آخری حد ہوتی ہے ......!!!*
💞 💞

ایک عورت ہتھوڑا لےکر اپنے بیٹے کے اسکول میں پہونچی اور چپراسی سے پوچھنے لگی:

ایک عورت ہتھوڑا لےکر اپنے بیٹے کے اسکول میں پہونچی اور چپراسی سے پوچھنے لگی:

نقیب سر کی کلاس کونسی ہے؟😁

ہتھوڑے کو دیکھ کر چپراسی نے ڈرتے ہوئے پوچھا: لیکن آپ کو ان سے کیا کام ہے؟🤓

ہتھوڑے کو ہوا میں لہراتے ہوئے بولی: ارے وہ میرے بیٹے کی کلاس ٹیچر ہیں، مجھے ان کی کلاس دکھاؤ!🤭❤️

چپراسی دوڑ کر نقیب سر کے پاس گیا اور اطلاع دی کہ ایک عورت ہاتھ میں ہتھوڑا لئے آپ کو تلاش کررہی ہے!

نقیب سر کے چھکےّ چھوٹ گئے! وہ دوڑ کر پرنسپل کے پاس گئے!❤️👌

پرنسپل فوراً اس عورت کے پاس آکر نہایت عاجزانہ انداز میں بولے: آپ جلد بازی سے کام نہ لیں، اطمنان رکھیں آپ کی شکایت فوری طور پر دور کیجائے گی۔

اس عورت نے کہا: مجھے کوئی شکایت نہیں، بس آپ نقیب سر کی کلاس بتائیں، میں ان کی کلاس میں جانا چاہتی ہوں۔

پرنسپل نے کہا: لیکن!  آپ ان کی کلاس میں کیوں جانا چاہتی ہیں۔

اس عورت نے کہا: کیوں کہ مجھے وہاں اس Bench کی کیل ٹھوکنی ہے جس پر میرا بیٹا بیٹھتا ہے، کل وہ تیسری بار پینٹ پھاڑ کر آیا ہے۔
🙉🙈🙉🙈

"پولیس کی ایک اور نا اہلی"

"پولیس کی ایک اور نا اہلی"
================
 (کارِ جہاں) ... میاں غفار احمد!

شیرشاہ سوری صرف 5 سال برصغیر کا حکمران رہا اگر اُسے زندگی مہلت دیتی اور 50 سال تک حکمران رہتا تو پورے ہندوستان کا کلچر بدل چکا ہوتا۔ کہتے ہیں کہ شیرشاہ سوری کے دور میں ایک اندھے قتل کی واردات ہوئی اور تھانیدار اُس واردات کو ٹریس کرنے میں ناکام رہا۔ اُس دور میں شیرشاہ سوری کے سب سے بڑے منصوبے جی ٹی روڈ پر کام ہورہا تھا اور سڑک کی تعمیر کے دوران سڑک کے اطراف میں تیزی سے شجرکاری کا عمل بھی جاری تھا۔ کئی روز گزر جانے کے باوجود قاتل نہ پکڑا جاسکا تو شیرشاہ سوری نے آج کی طرح کے نااہل‘ نکمے اور احساس سے عاری حکمرانوں کی طرح رپورٹ طلب نہیں کی بلکہ خاموشی سے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوا اور چند ساتھیوں کے ہمراہ ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر کرکے اُس تھانیدار کے علاقے میں پہنچ گےا جہاں قتل ہوا تھا۔ شیرشاہ سوری نے وہاں جاکر درختوں کو کاٹنا شروع کردیا۔ تھوڑی سی دیر بعد اُس دور کی پولیس گھوڑے دوڑاتی ہوئی وہاں پہنچ گئی اور تھانیدار نے شیرشاہ سوری کو گرفتار کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں علم نہیں کہ بادشاہ کے حکم کے مطابق درخت کاٹنا جرم ہے۔ اُسی دوران شیرشاہ سوری کے ذاتی محافظ بھی پہنچ گئے اور شیرشاہ سوری نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ”میں نے تمہارے علاقے میں درخت کاٹا اور تمہیں مخبری ہوگئی‘ تمہارے علاقے میں قتل ہوا ہے تمہیں مخبری کیسے نہیں ہوئی اور تم سے قاتل کیوں نہ پکڑا گیا؟“ وہی تھانیدار گرفتار ہوا‘ نوکری سے گیا‘ اُس کی مراعات ختم ہوئیں اور تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ 48 گھنٹے میں قاتل گرفتار ہوچکا تھا۔
وہ روشن ضمیر لوگ تھے‘ انہیں احساس تھا کہ کہیں نہ کہیں انہیں جوابدہ ہونا ہے‘ انہیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انہوں نے روزِمحشر پیش ہونا ہے مگر اُن احساسات سے آج کے حکمران‘ آج کی نوکرشاہی اور آج کی اشرافیہ عاری ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے انجام بارے نہیں سوچتے بلکہ کینیڈا‘ امریکہ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا میں اپنا انجام تلاش کرتے ہیں۔ 
سکون کی زندگی اور طاقت کا ناجائز استعمال کرنے کے عادی یہ لوگ سورة کہف کی آیات کی روشنی میں اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ جس طرح اﷲ نے انہیں دُنیا میں مال ومتاع‘ جاہ وجلال‘ عزت واحترام اور طاقت دی ہے یقینا اگلے جہان میں بھی اُن کو اُسی قسم کا پروٹوکول ملے گا اور پھر جس طرح تکبر کرنے والے کا باغ اُجڑا‘ پھل درختوں سے گر گئے‘ پانی گہرا ہوگیا‘ کہیں پاکستانی اشرافیہ کی غلط فہمی کا وہی نتیجہ نہ نکلے۔
آئے روز وارداتیں ہورہی ہیں مگر اقتدار کے نشے نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ موٹروے پر بچوں کی موجودگی میں گاڑی سے عورت کو نکال کر اُسے بے آبرو کرنا‘ اس نظام کے منہ پر سب سے بڑا طمانچہ ہے اور میں لکھ کردیتا ہوں کہ پولیس ملزموں کو گرفتار نہیں کرسکے گی کیونکہ پولیس میں تفتیش کا عنصر ختم‘ ذہانت کی جگہ تکبر اور فہم وفراست کی جگہ چِھتر نے لے لی ہے‘ پھر کون پوچھنے والا ہے؟ 4اوباش پکڑ کر اُن پر کیس ڈال دیں گے اور بے شرمی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے سُرخرو بھی ہوجائیں گے۔ ہاں! اگر حکومت پنجاب کی لاہور میں قائم پنجاب فرانزک لیب جوکہ سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کا اُسی طرح کا شاندار کارنامہ ہے جس طرح چودھری پرویزالٰہی کا 1122‘ تو ڈی این اے کی بنیاد پر یقینا قاتل گرفتار ہوں گے ہاں البتہ نااہل اشرافیہ ملزمان کی گرفتاری کا سہرا ڈی این اے کی چھاتی پر سجانے کے بجائے پولیس کی چھاتی پر سجائے گی کیونکہ انتخابات میں جائز اور ناجائز کام اس بدبخت سیاسی سسٹم کے پروردہ لوگوں نے اُسی پولیس سے لینا ہوتا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں اور جمعرات 10 ستمبر کو دوپہر 3 بجے یہ کیس پنجاب فرانزک لیب کے حوالے کردیا گیا ہے جو قصور کی زینب کیس اور چونیاں زیادتی کیس کے اصل ملزم پکڑ کر پولیس کے حوالے کرچکی ہے اور اُن میں سے ایک مجرم تو اپنے انجام کو بھی پہنچ چکا ہے۔
پولیس کا نظام اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ اربوں روپے کا بجٹ لینے والی اس پولیس نے چونیاں اور قصور میں اس قدر نااہلی کا مظاہرہ کیا کہ ملزمان کی شارٹ لسٹنگ بھی نہیں کرسکی۔ نتیجتاً قصور کیس میں تقریباً 1600 سے 1700 افراد کے ڈی این اے لئے گئے اور ان میں 1400 سے 1500 کی فہرست کے درمیان ملزم عمران کے ڈی این اے نے میچ کیا تھا جو کیس فرانزک لیب والوں نے حل کیا تھا تو اُس پر 12 سے 15 کروڑ لاگت آئی تھی مگر میڈل پولیس کے گلے میں ڈالے گئے اور میڈل وصول کرنے والے کسی بھی چہرے پر شرم کی رَتی بھر بھی رمق نہ تھی۔ اسی طرح چونیاں کیس میں بھی پولیس سے کہا گیا کہ تحصیل میں بچوں سے زیادتی کے حوالے سے جو ریکارڈ یافتہ لوگ ہیں صرف اُن کا ڈی این اے کرایا جائے مگر اُس کے لئے تو فائل ورک کرنا پڑتا تھا اور اگر چِھتر کا استعمال کرنا ہو تو وہاں فائل ورک کیونکر؟ ہر کسی کو پکڑا گیا اور نمونے لئے گئے‘ کروڑوں روپے فرانزک لیب پر خرچ ہوئے اور آخرکار جب پولیس نے سائنسدانوں اور نفسیات دانوں کی بات مانی تو اُن لوگوں کو پکڑا جو بچوں سے زیادتی کے حوالے سے حراست میں رہ چکے تھے یا جن کے بارے اس قسم کی شکایات تھیں‘ پھر صرف 11 گھنٹے میں اصل مجرم محض ڈی این اے کی بنیاد پر پکڑا گیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب فرانزک لیب پولیس کی نااہلی‘ جہالت‘ ناکامی اور عدم مہارت کا پول کھول رہی ہے لہٰذا پنجاب کی بیوروکریسی اور پنجاب پولیس پورا زور لگارہی ہے کہ شہبازشریف کے دور میں بنائی گئی ایشیاء کی جدید ترین فرانزک لیب بند ہوجائے اور پولیس کی سیاہ کاریاں جاری رہیں۔ انہیں انجام سے کیا خوف اور آخرت کا کیا ڈر مگر خاطر جمع رکھیں جس قسم کا چِھتر ظالم کے خلاف وہاں چلے گا ‘اُس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ کاش! کوئی ان نااہل حکمرانوں اور اشرافیہ کو سمجھائے کہ نام مِٹ جاتے ہیں اور کام زندہ رہتے ہیں۔
٭٭٭
 روزنامہ خبریں گروپ ٗ ..... 11 ستمبر 2020ء

"انصاف وہی ہوتا ہے جو فوری ہو"

*Shaoor E Pakistan Family*

لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض علی چشتی کہتے ہیں کہ 1977 کے آخری دنوں کی بات ہے مارشل لاء کے نفاذ کو چند ماہ گزارے تھے، معمول کے مطابق جب میں دفتر گیا اور اخبارات دیکھنا شروع کیے تو وہاں مخصوص خبروں کی نشاندہی کی گئی تھی، ایک خبر پر سرخ دائرہ لگا ہوا تھا۔ اس خبر کے مطابق گلبرگ لاہور کے تاجر احمد داؤد کے اکلوتے کمسن بیٹے اعجاز عرف پپو کو اغوا کر کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ میں نے اسی وقت جنرل ضیاء کو جی ایچ کیو میں ٹیلیفون کیا اور ان سے دریافت کیا کہ سر! آپ نے اخبار دیکھا؟ ان کا جواب نفی میں تھا، میں اخبارات لے کر جی ایچ کیو میں ان کے دفتر پہنچ گیا اور ان سے کہا کہ مارشل لاء کے دوران بچے کا اغوا اور قتل مقام افسوس ہے، اس طرح عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ جنرل ضیاء الحق نے میرے سامنے ہی پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد اقبال کو ہدایات جاری کیں کہ مجرموں کو فوری پکڑا جائے چنانچہ پولیس حرکت میں آئی، تفتیش شروع ہوئی تو گھر کا ڈرائیور ہی مجرم نکلا، جس نے 18 دسمبر 1977ء کو اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ بچے کو اغوا کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزموں کا فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور فوری فیصلہ سنایا گیا جس میں تین مجرموں کو سزائے موت اور تین کو قید کی سزا سنائی گئی۔ مجرموں کو نشان عبرت بنانے کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی بار سرعام پھانسی کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے 23 مارچ 1978ء کی تاریخ مقررکی گئی۔ کیمپ جیل لاہور کے باہر خاص طور پر پھانسی کے تختے بنائے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ افراد پھانسی کا یہ منظر دیکھنے امڈ آئے۔ شام کے پانچ بجے مجرموں کو پھانسی دے دی گئی لیکن ان کی لاشیں لٹکتی رہیں اور ان کو شام کا اندھیرا ہونے کے بعد اتارا گیا۔ اس سزا کا نتیجہ یہ ہوا کہ مارشل لاء کے دور میں اس نوعیت کا واقعہ پھر کبھی پیش نہیں آیا پھانسی کے وقت جنرل ضیاء الحق شہید کے تاریخی الفاظ یہ تھے:-
"انصاف وہی ہوتا ہے جو فوری ہو"

👈 *"کسی کا پردہ پاش نہ کریں"* 👉

۔             👈 *"کسی کا پردہ پاش نہ کریں"* 👉


```ایک مصری عالم کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں کسی نے لاجواب نہیں کیا سوائے ایک عورت کے جس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جو ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تھال میں کیا چیز ہے؟؟


وہ بولی اگر یہ بتانا ہوتا تو پھر ڈھانپنے کی کیا ضرورت تھی۔
پس اس نے مجھے شرمندہ کر ڈالا۔


یہ ایک دن کا حکیمانہ قول نہیں بلکہ ساری زندگی کی دانائی کی بات ہے۔


کوئی بھی چیز چھپی ہو تو اس کے انکشاف کی کوشش نہ کرو۔
کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں خواہ آپ کو یقین ہو کہ وہ بُرا ہے یہی کافی ہے کہ اس نے تمہارا احترام کیا اور اپنا بہتر چہرہ تمہارے سامنے پیش کیا بس اسی پر اکتفا کرو۔


ہم میں سے ہر کسی کا ایک بُرا رخ ہوتا ہے جس کو ہم خود اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔


اللہ تعالٰی دنیا و آخرت میں ہماری پردہ پوشی فرمائے ورنہ
جتنے ہم گناہ کرتے ہیں اگر ہمیں ایک دوسرے کا پتہ چل جائے تو ہم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کریں۔


جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ کریم رب ان پر پردے فرماتا ہے۔


کوشش کریں کہ کسی کا عیب اگر معلوم بھی ہو تو بھی بات نہ کریں آگے کہیں آپ کی وجہ سے اسے شرمندگی ہوئی تو کل قیامت کے دن اللہ پوچھ لے گا کہ جب میں اپنے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہوں تو تم نے کیوں پردہ فاش کیا؟

سدا خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

اللہ کی لاٹهی بے آواز ہے

ستر اور اسی کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے ان کے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے.

وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہے تھے ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی خواہش کی انہوں نے اپنا ایک جہاز ال 747 بمع عملہ پیرس بھیجا جہاں سے آئیسکریم خریدنے کے بعد جنیوا سے چاکلیٹ لیکر اسی دن جہاز واپس کینیا پہنچا.

اس کے ایک دن کا خرچہ 1 ملین ڈالرز تھا.

لندن،پیرس،نیویارک،سڈنی سمیت دنیا کے 12 مہنگے ترین شہروں میں اس کے لگژری محلات تھے.

انہیں عربی نسل گھوڑوں کا شوق تھا دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاص اصطبل تھے.

اس کی دی ہوئی طلاق آج تک دنیا کی مہنگی ترین طلاق سمجھی جاتی ہے جب اس نے 875 ملین ڈالر اپنی امریکی بیوی کے منہ پر مارے اور اسے طلاق دی.

اس کی ملکیت میں جو یاٹ تھی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی یاٹ تھی،جو اس وقت بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھی
اس یاٹ میں 4 ہیلی کاپٹر ہر وقت تیار رہتے جب کہ 610 افراد پر مشتمل خدام اور عملہ تھا،وہ یاٹ بعد میں ان سے برونائی کے سلطان نے خریدی ان سے ہوتے ہوئے ڈونلڈ ٹرامپ تک پہنچی،ٹرامپ نے 29 ملین ڈالر میں خریدی.

ان کی اس یاٹ پر جیمز بانڈ سیریز کی فلموں سمیت کئی مشہور ہالی ووڈ فلمیں شوٹ کی گئیں.

اپنی پچاسویں سالگرہ پر اس نے سپین کے ساحل پر دنیا کی مہنگی ترین پارٹی دی جس میں دنیا کی 400 معروف شخصیات نے 5 دن تک خوب مستی کی.

امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کی ایک مسکراہٹ پر 60 ہزار پاونڈ مالیت کا طلائی ہار قربان کر دیا.

اسحلے کا بہت بڑا سوداگر تھا ملکوں کے درمیان وہ اسلحے کی ڈیل اور معاہدے کراتا تھا،سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان انہوں نے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کرائے.

شراب اور شباب ان کی کمزوری تھی 4 جائز اور 8 ناجائز بیگمات ان کے عقد میں تھیں.

یتیموں پر دست شفقت رکھنا،بیواوں کا خیال،مسکینوں کی مدد،سیلاب اور زلزلوں میں انسانی ہمدردی کے تحت فلاحی کام ان سب سے اسے سخت الرجی تھی ان کا یہ جملہ مشہور تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپ دی ہے.

اسی کی دہائی میں وہ 40 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک تھا.

پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے اس کی رسی کھینچ لی،اب تنزل و انحطاط کی طرف اس کا سفر شروع ہوا، اربوں ڈالرز کی مالیت کے ان کے ہیرے سمندر میں ڈوب گئے،کاروبار میں خسارے پہ خسارہ شروع ہوا،قرضے پہ قرضا چڑھا سب اثاثے فروخت کر ڈالے،ان کے دوست احباب،ان کے چاہنے والوں نے ان سے نظریں پھیر لی،یہ ایک لمبی مدت گمنامی کے پاتال میں چلا گیا،کسی کو خبر نہ تھی کہ کہاں ہے.

پھر ایک دن یہ لندن میں کسی سعودی تاجر کو ملا ،ان کی حالت غیر ہوچکی تھی،اس تاجر سے کہا وطن واپس جانا چاہتا ہوں لیکن کرایہ نہیں،اس سعودی تاجر نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے دیا اور یہ جملہ کہا.

اے عدنان ! اللہ تعالی نے فقیروں اور غریبوں پر مال خرچ کرنے اور صدقہ کا حکم دیا ہے یہ ٹکٹ بھی صدقہ ہے.

اپنے دور کا یہ کھرپ پتی شخص صدقے کی ٹکٹ پر عام مسافروں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جدہ پہنچ گیا.

اس عرب پتی تاجر کا نام عدنان خاشقجی تھا یہ عرب نژاد ترکی تھا،اس کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی ان کا والد شاہی طبیب تھا،یہ شخص ترکی میں قتل ہوئے صحافی جمال خاشقجی کا چچا تھا،2017 میں ان کا انتقال ہوا.

میں نے جب اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کیا یقین کیجئے میں ہل کر رہ گیا اللہ تعالی کے انصاف پر میرا ایمان مزید پختہ ہوگیا،یاد رکھیں آپ جتنے بھی طاقت ور ہیں آپ جتنے بھی ثروت مند ہیں اللہ تعالی کے آگے بہت کمزور ہیں،اپنی دولت اور طاقت کو کبھی بغاوت کے لئے استعمال نہ کرنا اللہ تعالی کی پکڑ بڑی سخت ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال نعمت سے ہمیشہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتے تھے.

اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك.

بقلم فردوس جمال!!!

🌹آج کی اچھی بات 🌹

🌹آج کی اچھی بات 🌹


*✍ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﻧﮧ ﻣﻼ ہوتا ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﺗﺮ ہوتی ۔۔۔ ﺍﻣﯿﺪ ہی ﻭﮦ ﺟﺬﺑﮧ ہے ﺟﻮ ﺑﮍﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﻣﺮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ہے ۔ ۔ ۔ !!!🌴*

*‏ہے خواہش میک اَپ سے" مثال حور" ہوجانا۔* *مگر ممکن کہاں کشمش کا پھر انگور ہو جانا۔🔥*

*‏ہے خواہش میک اَپ سے" مثال حور" ہوجانا۔*
*مگر ممکن کہاں کشمش کا پھر انگور ہو جانا۔🔥*

" دنیا کی تاریخ کا ایک دلیر ترین جاسوس "

السلام علیکم! 

" دنیا کی تاریخ کا ایک دلیر ترین جاسوس "

 کیا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں ؟

نہیں جانتے تو جان لیجیے 
  
سیدناسعد بن ابی وقاص رضی للہ عنہ نے 7 افراد لشکرفارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس لشکر کے ایک آدمی کو گرفتار کر کے لے آئیں!! 
یہ ساتوں آدمی ابھی نکلے ہی تھے کہ اچانک انھوں نے دشمن کے لشکر کو سامنے پایا .جب کہ ان کا گمان یہ تھا کہ لشکر ابھی دور ہے.انھوں نے آپس میں مشورہ کر کے واپس جانے کا فیصلہ کیا ، . مگر ان میں سے ایک آدمی نے امیر لشکر کی جانب سے ذمہ لگائی گئی مہم کو انجام دیے بغیر واپس جانے سے انکار کر دیا!! اور یہ چھے افراد مسلمانوں کے لشکر کی جانب لوٹ آئے ..جب کہ ہمارا یہ بطل جلیل اپنی مہم کی ادائی کے لیے فارسیوں کے لشکر کی جانب تنہا بڑھتا چلاگیا!! انھوں لشکر کے گرد ایک چکر لگایا اور اور اندر داخل ہونے کے لیے پانی کے نالوں کا انتخاب کیا اورا س میں سے گزرتا ہوا فارسی لشکر کے ہراول دستوں تک جاپہنچا جو کہ 40 ہزار لڑاکوں پر مشتمل تھے!! .پھروہاں سے لشکر کے قلب سے گزرتا ہوا یک سفید خیمے کے سامنے جاپہنچا ، جس کے سامنے ایک بہترین گھوڑا بندھا ہوا تھا، اس نے جان لیا کہ یہ دشمن کے سپہ سالار رستم کا خیمہ ہے!! چنانچہ یہ اپنی جگہ پر انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ رات گہری ہو گئی ، رات کا کافی حصہ چھا جانے پر یہ خیمہ کی جانب گئے ، اور تلوار کے ذریعے خیمہ کی رسیوں کو کاٹ ڈالا ، جس کی وجہ سے خیمہ رستم اور خیمہ میں موجود افراد پر گر پڑا ، گھوڑے کی رسی کاٹی اور گھوڑے پر سوار ہو کر نکل پڑے اس سے ان کا مقصد فارسیوں کی تضحیک اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کرنا تھا!! گھوڑا لے کر جب فرار ہوئے تو گھڑسوار دستے نے ان کا پیچھا کیا . جب یہ دستہ قریب آتا تو یہ گھوڑے کو ایڑ لگا دیتے اور جب دور ہو جاتا تو اپنی رفتار کم کرلیتے تاکہ وہ ان کے ساتھ آملیں ، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دھوکے سے کھینچ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے حکم کےمطابق لے جائیں !! چنانچہ 3 سواروں کے علاوہ کوئی بھی ان کا پیچھا نہ کر سکا انھوں نے ان میں سے دو کو قتل کیا اور تیسرے کو گرفتار کرلیا. یہ سب کچھ تن تنہا انجام دیا!! قیدی کو پکڑا ، نیزہ اس کی پیٹھ کے ساتھ لگایا ، اور اسے اپنے آگے ہانکتے ہوئے مسلمانوں کے معسکر جا پہنچے..اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا . فارسی کہنے لگا : مجھے جان کی امان دو میں تم سے سچ بولوں گا ..سعدرضی اللہ عنہ کہنے لگے: تجھے امان دی جاتی ہے اور ہم وعدے کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جھوٹ مت بولنا. پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں اپنی فوج کے بارے میں بتاؤ ..فارسی انتہائی دہشت ناک اور ہذیان کی کیفیت میں کہنے لگا :اپنے لشکر کے بارے میں بتانے سے قبل میں تمہیں تمھارے آدمی کے بارے میں بتلاتاہوں !!!! کہنے لگا : "یہ آدمی، ہم نے اس جیسا شخص آج تک نہیں دیکھا ، میں ہوش سنبھالتے ہی جنگوں میں پلا بڑھا ہوں ، اس آدمی نے دو فوجی چھاؤنیوں کو عبور کیا ، جنھیں بڑی فوج بھی عبور نہ کر سکتی تھی، پھر سالار لشکر کا خیمہ کاٹا ، اور اس کا گھوڑا لے اڑا ، گھڑسوار دستے نے اس کا پیچھا کیا ، جن میں سے محض 3 ہی اس کی گرد کو پا سکے ، ان میں سے ایک مارا گیا ۔جسے ہم ایک ہزار کے برابر سمجھتے تھے ، پھر دوسرا مارا گیا جو ہمارے نزدیک ایک ہزار افراد کے برابر تھا ، اور دونوں میرے چچا کے بیٹے تھے۔میں نے اس کا پیچھا جاری رکھا اوران دونوں مقتولین کے انتقام کی آگ سے میرا سینہ دہک رہا تھا ، میرے علم میں فارس کا کوئی ایسا شخص نہیں جو قوت میں میرا مقابلہ کر سکے۔اور جب میں اس سے ٹکرایا تو موت کو اپنے سر پر منڈلاتے پایا، چنانچہ میں نے امان طلب کر کے قیدی بننا قبول کر لیا۔اگر تمھارے پاس اس جیسے اور افراد ہیں تو تمھیں کوئی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا!!!" پھر اس فارسی نے اسلام قبول کر لیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم بطل جلیل کون تھے؟ جنھوں نے لشکر فارس کو دہشت زدہ کیا ، ان کے سالار کو رسوا کیا اور ان کی صفوں میں نقب لگا کر واپس آگئے۔ 
یہ صحابی رسول حضرت  طلیحہ بن خویلد الاسدی رضی اللہ عنہ تھے.
اسلام کے سپاہی.... زندہ باد

Thursday, 3 September 2020

اپنے ڈرم میں شارک رکهو


جاپانیوں کو تازہ مچھلیاں بہت پسند ہیں ، لیکن جاپان کے قریب کے پانیوں میں کئی دہائیوں سے زیادہ مچھلی نہیں پکڑی جاتی
لہذا جاپانی آبادی کو مچھلی کھلانے کے لئے ، ماہی گیر کشتیاں بڑی ہوتی گئیں اور پہلے سے کہیں زیادہ دور جانے لگیں -
ماہی گیر جتنا دور گئے ، مچھلیوں کو پکڑ کر واپس لانے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگنے لگا۔ اس طرح ساحل تک باسی مچھلی پہنچنےلگی -
مچھلی تازہ نہیں تھی اور جاپانیوں کو ذائقہ پسند نہیں تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ، فشینگ کمپنیوں نے اپنی کشتیوں پر فریزر لگائے۔
وہ مچھلی کو پکڑ کر سمندر میں فریز کردیتے۔ فریزرز کی وجہ سے کشتیوں کو مزید دور جانے اور زیادہ دیر تک سمندر میں رہنے کا موقع ملا ۔
تاہم ، جاپانیوں کو فروزن مچھلی کا ذائقہ بھی پسند نہ آیا ۔
فروزن مچھلی کم قیمت پڑتی تھی۔
تو ، ماہی گیر کمپنیوں نے فش ٹینک لگائے۔ وہ مچھلی کو پکڑ لیتے اور ٹینکوں میں بھر کر زندہ لے آتے -
مگر تھوڑے وقت کے بعد ، مچھلیاں سست ہو جاتیں ۔ وہ زندہ تو رہتیں لیکن مدہوش ہو جاتیں -
بدقسمتی سے ، جاپانیوں کو اب بھی اس مچھلی کا ذائقہ پسند نہ آیا چونکہ مچھلی کئی دن تک حرکت نہیں کرتی تھی ،
اس لئے تازہ مچھلی والا ذائقہ کھو جاتا -
ماہی گیری کی صنعت کو ایک آنے والے بحران کا سامنا کرنا پڑا!
لیکن اب اس بحران پر قابو پالیا گیا ہے اور وہ اس ملک میں ایک اہم ترین تجارت بن کر ابھرا ہے۔
جاپانی فشینگ کمپنیوں نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا؟
وہ جاپان میں تازہ ذائقے والی مچھلی کیسے حاصل کرتے ہیں؟
مچھلی کے ذائقے کو تازہ رکھنے کے لئے جاپانی ماہی گیر کمپنیوں نے اس مچھلی کو ٹینکوں میں ڈال دیا۔
لیکن اب وہ ہر ٹینک میں ایک چھوٹی سی شارک کو شامل رکھتے ہیں۔
شارک کچھ مچھلیاں کھا جاتی ہے ، لیکن زیادہ تر مچھلیاں انتہائی رواں دواں متحرک حالت میں رہتی ہیں ۔
مچھلیوں کو شارک سے خطرہ رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ متحرک رہتی ہیں اور صحت مند حالت میں مارکیٹ تک پہنچتی ہیں ۔
وہ اچھی قیمت پر فروخت ہوتی ہیں -
خطرے کا سامنا انھیں تازہ دم رکھتا ہے!
انسانی فطرت بھی مچھلی سے مختلف نہیں ہے ۔
ایل رون ہبارڈ نے 1950 کی دہائی کے اوائل میں مشاہدہ کیا:
"انسان صرف ایک مشکل ماحول کی موجودگی میں عجیب طور پر کافی گرو اور ترقی کرتا ہے۔
"جارج برنارڈ شا نے کہا:
"اطمینان موت ہے.. !"
 اگر آپ مستقل طور پر چیلنجوں کو فتح کر رہے ہیں تو ، آپ خوش ہیں۔ آپ کے  چیلنجز آپ کو متحرک رکھتے ہیں۔ وہ آپ کو بھرپور زندہ رکھیں گے... !
 _ آپ بھی اپنے ٹینک میں شارک رکھیں اور دیکھیں کہ آپ واقعی ترقی کرکے کہاں تک جا سکتے ہیں... !
 : اگر آپ صحت مند ، کم عمر اور متحرک نظر آتے ہیں تو ، یقینی طور پر آپ کے گھر میں بیوی موجود ہے۔
 جی ہاں شارک کو اپنی زندگی میں موجود رکھئیے
 اور اگر زیادہ متحرک زیادہ جوان زیادہ خوشحال رہنا چاہتے ہیں تو پھر شارک کی تعداد بڑھا لیں۔۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
#copied

👈۔ *رئیس کی امی کہتی تھی* 👉

👈۔  *رئیس کی امی کہتی تھی*  👉

: "کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا. اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا".

جبکہ میری امی کچھ نہیں کہتی تھیں. بلکہ عملی قدم اٹھاتیں. اور پانی کے پائپ کا گز بھر ٹکڑا اٹھاکر بلاتفریق ظالم مظلوم ہر دو فریق کی دھلائی فرماتیں. اور جب ایک مرتبہ دھلائی کا سیشن شروع ہوتا. تو کیا بہن اور کیا بھائی. سب ہی رگڑدیے جاتے.
مار کھانے کے بعد یہی پتہ نہیں چلتا تھا کہ ستانے والا کون سا تھا. اور مظلوم کون سا.

میرا بڑا بھائی بہت ڈرامے باز تھا. وہ جیسے ہی دیکھتا کہ والدہ جلال میں ہیں. اور پانی کا پائپ اٹھالیا ہے. مار کھانے سے پہلے ہی اونچی اونچی رونا شروع کردیتا. تاکہ والد صاحب متوجہ ہوجائیں. اور ریسکیو کےلیے آجائیں. مگر مجال ہے جو والد صاحب کے بھی کان پر جوں تک رینگے. جب ہم مار کھا کھا کر تھک جاتے اور والدہ دھلائی کر کر کے عاجز آجاتیں تو والد صاحب اپنا رجسٹر بند کرکے آجاتے کہ بھئی بس کرو. بچوں کو اتنا بھی کیا مارنا. 
آہ.. بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے....

ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھے. ایک دن مجھ سے بڑی والی بہن نے مشورہ دیا کہ "شرارتیں تو ہم چھوڑتے نہیں." اور غصے سے میری طرف دیکھا. کیوں کہ میں ہی نت نئے شرارتی آئیڈیاز سوچتا تھا.

"کیوں نہ ہم والد صاحب کا رجسٹر چھپادیں. رجسٹر نہیں ہوگا تو والد صاحب پہلے راؤنڈ میں ہی ہمیں بچانے آجایا کریں گے".
اس نے تائید طلب نگاہوں سے ہم تینوں کی طرف دیکھا. میں نے فوراً اثبات میں گردن ہلائی اور چھوٹی والی بہن کی ڈیوٹی لگادی کہ یہ چھپائے گی. یہ والد صاحب کی چمچی ہے.

بڑا بھائی جو گہری سوچ میں مستغرق تھا. ہماری جانب متوجہ ہو کر گویا ہوا "رجسٹر تو ہم چھپادیں. لیکن ایسا نہ ہو کہ پھر والد صاحب جلال میں آجائیں. ان کے کام کاج کی تفصیلات ہیں اس میں. وہ کہیں گے. نالائقو! چھپانا ہی تھا تو پانی کا پائپ چھپاتے. رجسٹر ہی چھپادیا. اور ان کا تو ہاتھ بھی بہت بھاری ہے. نہیں یہ آئیڈیا فلاپ ہے".

اس روز ہم بڑے بھائی کی دور اندیشی کے قائل ہوگئے. وقت گزرا اور ہم سب جوان ہوئے. اب چاروں الحمد للہ شادی اور شدہ اور صاحبِ اولاد ہیں. کسی کا ایک بیٹا تو کسی کے دو بیٹیاں ہیں. اب ہمارے بچے پورا دن شرارتیں کرتے ہیں. لیکن مجال ہے جو والدہ انہیں منع بھی کریں. بلکہ ان کے ساتھ خود بھی کھیلتی رہتی ہیں.

کبھی کبھار بہنیں سسرال سے میکے آئیں تو بچہ پارٹی میں ان کے بچے بھی جمع ہوجاتے ہیں. پھر تو ادھم بازی کی انتہا ہوجاتی ہے. ہم والدہ کو کہتے ہیں کہ ہمیں تو آپ ذرا سی شرارت پر مار مار لال نیلا پیلا کردیا کرتی تھیں. انہیں کچھ کیوں نہیں کہتیں. والدہ ہنس کر ٹال جاتی ہیں. 
کسی نے درست کہا ہے: "سود اصل سے پیارا ہوتا ہے".
اولاد سے زیادہ اولاد کی اولاد پیاری لگتی ہے.

اب والد صاحب کا رجسٹر بڑا بھائی سنبھالتا ہے. اور والد صاحب پورا دن میرے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہیں.
والدہ پہلے اپنی پوتیوں نواسیوں کو کھلاتی ہیں. پھر خود کھانا کھاتی ہیں.
اب ہماری شرارتوں دشمن پانی کا پائپ صرف واشنگ مشین میں پانی بھرنے کے کام آتا ہے.

اللہ سب کے والدین کو تندرستی والی طویل عمر عطا فرمائے. اور انہیں پوتے پوتیوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب فرمائے. آمین..

_________________________

*شکر کیجئے... اس طرح بھی سوچیے*👇

*شکر کیجئے... اس طرح بھی سوچیے*👇
〰️〰️🌹🌀🌹〰️〰️

*آپ کی مشکل نوکری ہر بیروزگار انسان کا ایک خواب ہے*

*آپ کا پریشان کرنے والا بچہ کئی بانجھ لوگوں کا خواب ہے*

*آپ کی خوشی کیی اداس لوگوں کا خواب ہے*

*آپ کی صحت کیی بیمار لوگوں کا خواب ہے*


👈 *کیا آپ کو پتہ ہے؟* 
کشمیر میں اس وقت روٹی، عزت اور جان سے بھی بڑھ کر آزادی ہے

👈 *کیا آپ کو پتا ہے؟* 
پہلے زمانے میں بیرون ممالک سفر کرنے والے سالہا سال اپنے پیاروں کی آواز نہ سن پاتے تھے شکل تو دور

👈 *کیا آپ کو پتا ہے*؟
روٹی کا نوالہ آپ پیسے سے نہیں کھاتے بلکہ قسمت سے کھاتے ہیں اور خدا کی مرضی شامل نہ ہو تو وہی نوالہ آپ کی جان لے سکتا ہے

👈 *کیا آپ کو پتا ہے؟* 
آپ کے گھر میں موجود فریج ٹی وی اے سی اور گاڑی جیسی سہولتیں بے شمار خزانوں کے مالک خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرود کے پاس بھی نہ تھی

👈 *کیا آپ کو پتا ہے؟*
اس دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بینائی سے محروم اور کبھی بھی دنیا کی خوبصورتی نہیں دیکھ پائیں گے

👈کیا آپ کو پتہ ہے دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے ساری زندگی ایک لفظ نہ بولا اور نہ سنا

*تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے*

*اے میرے ﷲ ۔۔۔ میں بہت تھک چکی ہوں*


*اے میرے ﷲ ۔۔۔ میں بہت تھک چکی ہوں*
ذمہ داریاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں. 
 بیشک زندگی بہت تھکا دینے والی چیز ہے ۔۔ دنیا میں ایسا الجھ گئی ہوں کہ سکون کھوتی جا رہی ہوں  آپ سے دور ہو کر جینا نہ پہلے کبھی آیا تھا نہ اب آتا ہے میں آپکی طرف لوٹنا چاہتی ہوں اس دنیا سے نجات چاہتی ہوں میں چھوٹی سے چھوٹی بات بھی آپ سے کیا کرتی تھی...آج اپنے لیئے دوسروں سے دعائیں کراتی پھرتی ہوں...میں جو توکل کی رسی تھامے ہوئے پرسکون رہا کرتی تھی...آج امید بھری آئیتیں تلاشتی رہتی ہوں....بیشک آپ گم نہیں ہوتے ہم گمراہ ہو جاتے ہیں اور مجھے اس گمراہی سے صرف آپ نکال سکتے ہیں میری مدد کردیں ۔۔۔!!
*اے میرے پیارے ﷲ۔*۔
میرے سارے مسائل کو تو ہی جانتا ہے... تو ہی مجھے سمجھتا ہے... ۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والی تحریر... ضرور پڑھیں اور شیئر کریں... حوریہ نور

رونگٹے کھڑے کر دینے والی تحریر... ضرور پڑھیں اور شیئر کریں... حوریہ نور 

میرابڑا بیٹاچونکہ پڑھائی کے معاملے میں بہت اچھا جارہا ہے اس لیے طے پایا کہ اسے مزید ’’ارسطو‘‘ بنایا جائے اور ٹیوشن رکھی جائے۔میں نے دبا دبا سا احتجاج کیا کہ بچے کو کھیلنے کے لیے بھی کچھ ٹائم ملنا چاہیے‘ لیکن بیگم نے غصے سے دیکھا اور کڑک کر بولی ’’آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ بچہ کچھ نہ پڑھے اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر سارا سارا دن ’’ٹام اینڈجیری ‘‘اور ’’ڈورے مان ‘‘دیکھتا رہے‘‘۔ میں نے کھسیانی آواز میں کہا’’یاروہ کارٹون تو میں صرف بچے کی دلچسپی کے لیے دیکھتا ہوں ورنہ اللہ جانتا ہے مجھے تو صرف نیشنل جیوگرافک چینل اچھا لگتاہے‘‘ ۔ حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ٹام اینڈ جیری اور ڈورے مان سے عشق ہے‘ یہ کارٹون لگے ہوں تو میں اکثر کھانا کھانا بھی بھول جاتاہوں۔بہرحال فیصلہ ہوگیا کہ ثمریز کے لیے ہوم ٹیوٹر کا بندوبست کیا جائے۔ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے اگلے ہی دن ایک پڑھے لکھے نوجوان کو میری طرف بھیج دیا۔ میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا‘ چائے پلائی اور بچے کو پڑھانے کا ’’جرمانہ ‘‘ پوچھا۔ اس نے انتہائی لاپروائی سے ٹانگ پر ٹانگ رکھی اورسپاٹ لہجے میں بولا’’پانچ ہزار۔۔۔وہ بھی ایڈوانس‘‘۔
آئیے 1988 ء میں چلتے ہیں‘ ملتان کے محلے طارق آباد میں یہ چھوٹا سا تین مرلے کاگھر ہمارا ہے‘ میں میٹرک میں پڑھ رہا ہوں‘ چھ ماہ بعد سالانہ امتحان ہونے والے ہیں اور گھر والوں کوخدشہ ہے کہ کہیں میں فیل نہ ہوجاؤں۔میں خود بھی گھر والوں کے خدشات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش میں ہوں لہذا پڑھتا تو ہر وقت ہوں لیکن صرف عمران سیریز کے ناول۔گھر میں بات چلی کہ مجھے ٹیوشن پڑھانی چاہیے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ذرائع آمدن محدود تھے اور ابا جی اپنی آمدنی میں سے میری ٹیوشن کے لیے ماہانہ ’’ڈیڑھ سو‘‘ روپیہ نکالنے سے قاصر تھے۔میں نے انہیں بڑا یقین دلایا کہ میں دل لگا کر پڑھ رہا ہوں لیکن پتا نہیں کیوں انہیں ہمیشہ میری پڑھائی پر شک ہی رہا۔انہی دنوں پتا چلا کہ ہمارے محلے میں چھ گلیاں دور ایک خدا ترس‘ ماسٹر شفیع صاحب رہتے ہیں جو بچوں کو مفت ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ہمارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور طے پایا کہ اب سے میں ماسٹر شفیع کے پاس ٹیوشن پڑھنے جایا کروں گا۔
اُن دنوں ٹیوشن تو ہوتی تھی لیکن پیسے ایڈوانس نہیں لیے جاتے تھے لہذا میں نے ماسٹر شفیع کے پاس جانا شروع کر دیا۔ ان کے گھر کی بیٹھک میں لگ بھگ بیس طالبعلم ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔ماسٹر شفیع اتنی محبت اور انہماک سے ہمیں پڑھاتے کہ ٹیوشن کا ٹائم ختم ہونے کے بعد بھی دل کرتا کہ ان کے پاس بیٹھے رہیں۔ان کی بیٹھک کا اندرونی دروازہ ایک اور چھوٹے سے کمرے میں کھلتا تھا ‘ یہ کمرہ ماسٹر صاحب کا تھا ‘ گو کہ میں ابھی تک اس کمرے میں نہیں گیا تھا لیکن جس جگہ میں بیٹھتا تھا وہاں سے اِس کمرے میں پڑی جائے نماز‘ تسبیح اور کتابوں کا ڈھیر ضرور نظر آتا تھا۔مجھے ماسٹر صاحب کے پاس ٹیوشن پڑھتے ہوئے ایک ماہ پوراہوا تو ایک دن ماسٹر صاحب نے ایک ایسا جملہ کہا کہ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ انہوں نے اندر والے کمرے کی طرف اشارہ کر کے کہا’’باری باری جاؤ اور اپنی فیس کے پیسے پلنگ کے پاس پڑے ہوئے ڈبے میں ڈال آؤ‘‘۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں‘ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ ماسٹر صاحب مفت پڑھاتے ہیں لیکن وہ تو پیسے مانگ رہے تھے۔میں نے پاس بیٹھے اپنے دوست علی عباس کو کہنی ماری ’’ماسٹر صاحب کی فیس کتنی ہے؟‘‘ اُس نے سرگوشی میں جواب دیا’’ڈیڑھ سو روپے‘‘۔۔۔اور میرے ہاتھ پاؤں سن ہوگئے۔مجھے صاف پتا چل رہا تھا کہ آج سب کے سامنے ذلیل ہونا پڑے گا۔ بیٹھک میں بیٹھا ایک ایک لڑکا باری بار ی اٹھ کر اندر کمرے میں جاتا اور فیس کے پیسے ڈبے میں ڈال کر واپس آجاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں علی عباس کی باری آگئی‘ وہ اطمینان سے اُٹھا اور اندر چلا گیا۔ بے عزتی اور شرمندگی کے احساس سے میری ہتھیلیاں نم ہونے لگیں‘میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ علی عباس واپس آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ماسٹر صاحب کی نظریں میری طرف اٹھ گئیں۔میں بوکھلا کر کھڑا ہوگیا اور بظاہر اپنا آپ معتبر بناتے ہوئے کمرے کی طرف چل دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے بائیں طرف دیکھا جہاں ایک پرانا سا پلنگ پڑا ہوا تھا‘ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی لکڑی کی میز تھی جس پر گتے کا ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا‘ ڈبے کے چاروں طرف کالے رنگ کی ٹیپ لپیٹی ہوئی تھی اوراوپر والی طرف چھوٹا ساسوراخ تھا‘ یہ بالکل ایسا ہی ڈبہ تھا جیسے چندے کے ڈبے ہوتے ہیں۔میں کچھ دیر سوچتا رہا‘ پھر اچانک دماغ میں ایک ترکیب آئی۔اگر میں ایسے ہی واپس چلا جاؤں تو؟؟؟۔۔۔ماسٹر صاحب کو بھلا کیسے پتا چلے گا کہ کس طالبعلم نے فیس کے پیسے نہیں دیے‘ یہ خیال ذہن میں آتے ہی میرے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔میں چند ساعتوں کے لیے وہیں رُکا اور پھر بڑے اطمینان سے بیٹھک میں آکر واپس بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں چھٹی ہوگئی۔
اگلے دن میرا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ کہیں ماسٹر صاحب کو میرے فراڈ کا پتا نہ چل گیا ہو‘  لیکن شاید میری چال کام کر گئی تھی‘ ماسٹر صاحب کو کچھ پتا نہ چل سکا اور میں اطمینان سے ٹیوشن پڑھتا رہا۔دوسرا مہینہ ختم ہوا تو میں نے پھر یہی طریقہ اختیار کیا اور صاف بچ نکلا۔اب مجھے بھی اطمینان ہوگیا تھا کہ کچھ نہیں ہونے والا لہٰذا ہر دفعہ جیسے ہی فیس دینے کی باری آتی‘ میں کمرے کے اندر جاتا اور گردن اکڑائے باہر آجاتا۔اب مجھے ماسٹر صاحب سے ٹیوشن پڑھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا تھا کیونکہ اب مجھ میں کافی اعتماد آگیا تھا کہ بہرحال اب میں ’’فیس‘‘ ادا کرکے ٹیوشن پڑھ رہا ہوں۔چھ ماہ تک میں نے ماسٹر صاحب کو یونہی بیوقوف بنائے رکھا اورمفت ٹیوشن کے مزے لوٹے۔ اس کے بعد سالانہ امتحان ہوگئے اور ٹیوشن بھی ختم ہوگئی۔میٹرک کے نتائج کے اعلان سے پہلے دو ماہ کی چھٹیاں تھیں لہذا میں نے خوب ناول پڑھے اور دوستوں کے ساتھ ہاکی اور ٹیبل ٹینس کھیلا۔ہم دوست جب بھی گراؤنڈ کی طرف جارہے ہوتے تو اکثر راستے میں ہمیں ماسٹر صاحب مل جاتے‘ ہم سب انہیں سلام کرتے‘ میں دل ہی دل میں قہقہے لگاتا کہ میں نے چھ ماہ تک ماسٹر صاحب کو پوری فیس ادا کرکے مفت ٹیوشن پڑھی ہے۔
1992 ء میں ماسٹر شفیع انتقال کرگئے‘ میں ان کے جنازے میں بھی شریک ہوا تھا اور دل ہی دل میں اُن سے اپنی حرکت کی معافی بھی مانگی تھی۔آج ماسٹر شفیع مجھے اس لیے بھی یاد آگئے کہ لگ بھگ 22 سال بعد میری ملاقات علی عباس سے ہوئی ‘ وہ ایک معروف الیکٹرانکس کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ ہے‘ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے‘ ملتان کی یادیں اور بچپن کی شرارتیں یاد کیں۔میں نے ہنستے ہوئے علی عباس کو اپنی ٹیوشن فیس والی حرکت بھی بتائی۔۔۔میری بات سن کر وہ یکدم سکتے میں آگیا‘ پھر بے اختیار اس کی پلکوں کے گوشے نم ہوگئے۔میں گھبرا گیا کہ کہیں میری حرکت کا خمیازہ علی عباس تو نہیں بھگتتا رہا؟؟؟ لیکن علی عباس نے ایک ایسی بات کہی کہ میرا پورا وجود برف ہوگیا۔کہنے لگا’’ ماسٹر شفیع سے ٹیوشن پڑھنے والا ہر طالبعلم یہی کیا کرتا تھا.

ماخوذ

🔘 *سبق آموز واقعہ* 🔘

🔘 *سبق آموز واقعہ* 🔘

لندن کے ایک امام مسجد کا سچا واقعہ 

کہا جاتا ہے کہ لندن کےایک امام صاحب تھے۔

 روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول تھا۔

لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔

1مرتبہ یہ امام بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر1 نشست پر بیٹھ گئے۔

ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔

پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ اُنکا حق نہیں بنتے۔ 

پھر 1 سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔

اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ آگیا۔

بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ 

یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے۔

ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ 

کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ 

میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آکر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ 

یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔

امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنےکیلئے ایک بجلی کے پول کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، 

یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔

یاد رکھئیے

 بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔

یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔

کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے. 

اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں.

*ہم مسلمانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سفید کپڑے پر لگا داغ دور سے نظرآجاتا ہے*

استخارہ

استخارہ کے فوائد
(۱)استخارہ دلیل ہے مومن کے دل کے اللہ کے ساتھ ہر حال میں تعلق پر۔

(۲)استخارہ قضاءو تقدیر پر رضامند ی کی دلیل ہے۔

(۳)دنیا وآخرت میں سعادت کا سبب ہے۔

(۴)استخارہ کے بعد انسان میسر اسباب کے مطابق کوشش کرتا ہے تو خوشی اور سکون ملتا ہے اور (جو بھی حاصل ہو تا ہے اس پر)رضا اور قناعت سے خوشی محسوس کرتا ہے۔

(۵)استخارہ کی ہر چھوٹے بڑے معاملے میں سخت ضرورت ہے۔

(۶)استخارہ سے انسان کی روحانیت بڑھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت میں پختہ یقین ہو تا ہے۔

(۷)استخارہ سے انسان کان ثواب اور ہے اپنے رب سے قرب بڑھتا ہے کیوں کہ اس کے ساتھ نماز اور دعا بھی ہوتی ہے۔

(۸)استخارہ انسان کے اپنے رب پر بھروسہ کی دلیل اور اس کے قرب کا وسیلہ ہے۔

(۹)استخارہ کرنے والا اپنی کوشش میں ناکام نہیں ہوتا اور اسے بھلائی اور خیر کو اختیار کرنا نصیب ہوتا ہے اور ندامت سے بچاؤ ہوتا ہے۔

(۱۰)استخارہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی ثناء ہے۔

(۱۱)استخارہ کے اندرپریشانی اور شک سے نکلنے کا راستہ ہے اور یہ اطمینان اور خوش حالی کا ذریعہ ہے۔

(۱۲)استخارہ کے اندر سنت مطہرہ پر عمل ہوتا ہے اور اس کی برکت حاصل ہوتی ہے۔

نضرۃ النعیم

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...