Sunday, 13 September 2020

کچھ دن پہلے چھوٹے بھائی کا فون آیا۔ جو اماں کا سب سے لاڈلہ تھا کہ اماں نے اس سے بات چیت بند کی ہوئی ہے۔ لہٰذا میں سفارش کر کے اماں کو راضی کرلوں۔ گاؤں جب گیا، اماں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ سلام کرکے چارپائی کے ایک کونے پر ادب سے بیٹھ گیا۔ اور بولا کہ اماں چھوٹے کا فون آیا تھا۔ آپ کس بات پر اُس سے ناراض ہیں؟ معاف کردیں اُسے اماں غصے سے اُٹھ گئیں۔ اور کہا کہ وہ تو اپنا دودھ بھی اس کو نہ بخشیں، اتنا دل دُکھایا ہے اُس نے۔ میں ہل کر رہ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ گھر میں ابا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تو اماں نے چھوٹے کا اے ٹی ایم کارڈ ابا کو دیا کہ اکاونٹ سے پیسے نکال کر خرچ کرلینا۔ اگلے دن چھوٹے کا فون آیا کہ ابا کو میرے پیسے نظر آگئے تھے۔ میرے اپنے بچے ہیں اپنے بچوں کےلئے کچھ بچاسکوں۔ ابا کو احساس ہی نہیں ہے۔ 
اماں بتارہی تھیں اور روئے جارہی تھیں کہ ابھی تو میں زندہ ہوں اور یہ لوگ میرے شوہر کی توہین کررہے ہیں۔ کتنی مشکلوں سے میرے شوہر نے ان کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اگر میں اُس کے ساتھ لڑتی جھگڑتی ہوں۔ تو وہ ہم دونوں کا آپس کا معاملہ ہے۔ مگر کسی کو یہ حق نہیں دوں گی کہ وہ میرے جیتے جی میرے سُہاگ کی توہین کرے۔

میں خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اور فون نکال کر بیوی کو کال ملائی۔ آگے سے پُھنکارتی ہوئی آواز میں وہ چیخی کہ یہ معلوم کرنے کےلئے فون کیا ہے ناں؟ کہ میں زندہ ہوں، یا مر گئی ہوں۔
میں نے کہا کہ کیا واقعی تم میرے بغیر زندہ رہ سکتی ہو؟

دوسری طرف فون پر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

No comments:

Post a Comment

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...