Sunday, 13 September 2020

" دنیا کی تاریخ کا ایک دلیر ترین جاسوس "

السلام علیکم! 

" دنیا کی تاریخ کا ایک دلیر ترین جاسوس "

 کیا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں ؟

نہیں جانتے تو جان لیجیے 
  
سیدناسعد بن ابی وقاص رضی للہ عنہ نے 7 افراد لشکرفارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس لشکر کے ایک آدمی کو گرفتار کر کے لے آئیں!! 
یہ ساتوں آدمی ابھی نکلے ہی تھے کہ اچانک انھوں نے دشمن کے لشکر کو سامنے پایا .جب کہ ان کا گمان یہ تھا کہ لشکر ابھی دور ہے.انھوں نے آپس میں مشورہ کر کے واپس جانے کا فیصلہ کیا ، . مگر ان میں سے ایک آدمی نے امیر لشکر کی جانب سے ذمہ لگائی گئی مہم کو انجام دیے بغیر واپس جانے سے انکار کر دیا!! اور یہ چھے افراد مسلمانوں کے لشکر کی جانب لوٹ آئے ..جب کہ ہمارا یہ بطل جلیل اپنی مہم کی ادائی کے لیے فارسیوں کے لشکر کی جانب تنہا بڑھتا چلاگیا!! انھوں لشکر کے گرد ایک چکر لگایا اور اور اندر داخل ہونے کے لیے پانی کے نالوں کا انتخاب کیا اورا س میں سے گزرتا ہوا فارسی لشکر کے ہراول دستوں تک جاپہنچا جو کہ 40 ہزار لڑاکوں پر مشتمل تھے!! .پھروہاں سے لشکر کے قلب سے گزرتا ہوا یک سفید خیمے کے سامنے جاپہنچا ، جس کے سامنے ایک بہترین گھوڑا بندھا ہوا تھا، اس نے جان لیا کہ یہ دشمن کے سپہ سالار رستم کا خیمہ ہے!! چنانچہ یہ اپنی جگہ پر انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ رات گہری ہو گئی ، رات کا کافی حصہ چھا جانے پر یہ خیمہ کی جانب گئے ، اور تلوار کے ذریعے خیمہ کی رسیوں کو کاٹ ڈالا ، جس کی وجہ سے خیمہ رستم اور خیمہ میں موجود افراد پر گر پڑا ، گھوڑے کی رسی کاٹی اور گھوڑے پر سوار ہو کر نکل پڑے اس سے ان کا مقصد فارسیوں کی تضحیک اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کرنا تھا!! گھوڑا لے کر جب فرار ہوئے تو گھڑسوار دستے نے ان کا پیچھا کیا . جب یہ دستہ قریب آتا تو یہ گھوڑے کو ایڑ لگا دیتے اور جب دور ہو جاتا تو اپنی رفتار کم کرلیتے تاکہ وہ ان کے ساتھ آملیں ، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دھوکے سے کھینچ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے حکم کےمطابق لے جائیں !! چنانچہ 3 سواروں کے علاوہ کوئی بھی ان کا پیچھا نہ کر سکا انھوں نے ان میں سے دو کو قتل کیا اور تیسرے کو گرفتار کرلیا. یہ سب کچھ تن تنہا انجام دیا!! قیدی کو پکڑا ، نیزہ اس کی پیٹھ کے ساتھ لگایا ، اور اسے اپنے آگے ہانکتے ہوئے مسلمانوں کے معسکر جا پہنچے..اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا . فارسی کہنے لگا : مجھے جان کی امان دو میں تم سے سچ بولوں گا ..سعدرضی اللہ عنہ کہنے لگے: تجھے امان دی جاتی ہے اور ہم وعدے کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جھوٹ مت بولنا. پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں اپنی فوج کے بارے میں بتاؤ ..فارسی انتہائی دہشت ناک اور ہذیان کی کیفیت میں کہنے لگا :اپنے لشکر کے بارے میں بتانے سے قبل میں تمہیں تمھارے آدمی کے بارے میں بتلاتاہوں !!!! کہنے لگا : "یہ آدمی، ہم نے اس جیسا شخص آج تک نہیں دیکھا ، میں ہوش سنبھالتے ہی جنگوں میں پلا بڑھا ہوں ، اس آدمی نے دو فوجی چھاؤنیوں کو عبور کیا ، جنھیں بڑی فوج بھی عبور نہ کر سکتی تھی، پھر سالار لشکر کا خیمہ کاٹا ، اور اس کا گھوڑا لے اڑا ، گھڑسوار دستے نے اس کا پیچھا کیا ، جن میں سے محض 3 ہی اس کی گرد کو پا سکے ، ان میں سے ایک مارا گیا ۔جسے ہم ایک ہزار کے برابر سمجھتے تھے ، پھر دوسرا مارا گیا جو ہمارے نزدیک ایک ہزار افراد کے برابر تھا ، اور دونوں میرے چچا کے بیٹے تھے۔میں نے اس کا پیچھا جاری رکھا اوران دونوں مقتولین کے انتقام کی آگ سے میرا سینہ دہک رہا تھا ، میرے علم میں فارس کا کوئی ایسا شخص نہیں جو قوت میں میرا مقابلہ کر سکے۔اور جب میں اس سے ٹکرایا تو موت کو اپنے سر پر منڈلاتے پایا، چنانچہ میں نے امان طلب کر کے قیدی بننا قبول کر لیا۔اگر تمھارے پاس اس جیسے اور افراد ہیں تو تمھیں کوئی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا!!!" پھر اس فارسی نے اسلام قبول کر لیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم بطل جلیل کون تھے؟ جنھوں نے لشکر فارس کو دہشت زدہ کیا ، ان کے سالار کو رسوا کیا اور ان کی صفوں میں نقب لگا کر واپس آگئے۔ 
یہ صحابی رسول حضرت  طلیحہ بن خویلد الاسدی رضی اللہ عنہ تھے.
اسلام کے سپاہی.... زندہ باد

No comments:

Post a Comment

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...