یک مجاہد جس نے 17 سال جہاد کیا بیان کرتا ہے:
میں نے اپنے امیر سے اجازت لی اور گھر واپس آیا۔ اپنی والدہ سے پوچھا:
امی! میری خالہ کیسی ہیں؟
(جواب ملا): وہ وفات پا چکی ہیں۔
(اور) پھوپھو کیسی ہیں؟
وہ بھی وفات پا چکی ہیں۔
(اور) میرے چچا کیسے ہیں؟
وہ بھی گزر چکے ہیں۔
میں نے کہا:
"دیکھیں! 17 سال جس موت کی امید آپ نے مجھ سے کی، مجھے نہیں آئی لیکن ان لوگوں کو آ گئی جو (گھروں میں) بیٹھے تھے۔"
___
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے ( مکی زندگی میں ) کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کر رکھو ، اور نماز قائم کیے جاؤ اور زکوٰۃ دیتے رہو ۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک جماعت ( دشمن ) لوگوں سے ایسی ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے ، یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگی ، اور ایسے لوگ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ، تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہیں دی؟ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے ، اور جو شخص تقوی اختیار کرے اس کے لیے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے ، اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔
تم جہاں بھی ہوگے ( ایک نہ ایک دن ) موت تمہیں جاپکڑے گی ، چاہے تم مض

No comments:
Post a Comment