Thursday, 3 September 2020

👈۔ *رئیس کی امی کہتی تھی* 👉

👈۔  *رئیس کی امی کہتی تھی*  👉

: "کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا. اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا".

جبکہ میری امی کچھ نہیں کہتی تھیں. بلکہ عملی قدم اٹھاتیں. اور پانی کے پائپ کا گز بھر ٹکڑا اٹھاکر بلاتفریق ظالم مظلوم ہر دو فریق کی دھلائی فرماتیں. اور جب ایک مرتبہ دھلائی کا سیشن شروع ہوتا. تو کیا بہن اور کیا بھائی. سب ہی رگڑدیے جاتے.
مار کھانے کے بعد یہی پتہ نہیں چلتا تھا کہ ستانے والا کون سا تھا. اور مظلوم کون سا.

میرا بڑا بھائی بہت ڈرامے باز تھا. وہ جیسے ہی دیکھتا کہ والدہ جلال میں ہیں. اور پانی کا پائپ اٹھالیا ہے. مار کھانے سے پہلے ہی اونچی اونچی رونا شروع کردیتا. تاکہ والد صاحب متوجہ ہوجائیں. اور ریسکیو کےلیے آجائیں. مگر مجال ہے جو والد صاحب کے بھی کان پر جوں تک رینگے. جب ہم مار کھا کھا کر تھک جاتے اور والدہ دھلائی کر کر کے عاجز آجاتیں تو والد صاحب اپنا رجسٹر بند کرکے آجاتے کہ بھئی بس کرو. بچوں کو اتنا بھی کیا مارنا. 
آہ.. بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے....

ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھے. ایک دن مجھ سے بڑی والی بہن نے مشورہ دیا کہ "شرارتیں تو ہم چھوڑتے نہیں." اور غصے سے میری طرف دیکھا. کیوں کہ میں ہی نت نئے شرارتی آئیڈیاز سوچتا تھا.

"کیوں نہ ہم والد صاحب کا رجسٹر چھپادیں. رجسٹر نہیں ہوگا تو والد صاحب پہلے راؤنڈ میں ہی ہمیں بچانے آجایا کریں گے".
اس نے تائید طلب نگاہوں سے ہم تینوں کی طرف دیکھا. میں نے فوراً اثبات میں گردن ہلائی اور چھوٹی والی بہن کی ڈیوٹی لگادی کہ یہ چھپائے گی. یہ والد صاحب کی چمچی ہے.

بڑا بھائی جو گہری سوچ میں مستغرق تھا. ہماری جانب متوجہ ہو کر گویا ہوا "رجسٹر تو ہم چھپادیں. لیکن ایسا نہ ہو کہ پھر والد صاحب جلال میں آجائیں. ان کے کام کاج کی تفصیلات ہیں اس میں. وہ کہیں گے. نالائقو! چھپانا ہی تھا تو پانی کا پائپ چھپاتے. رجسٹر ہی چھپادیا. اور ان کا تو ہاتھ بھی بہت بھاری ہے. نہیں یہ آئیڈیا فلاپ ہے".

اس روز ہم بڑے بھائی کی دور اندیشی کے قائل ہوگئے. وقت گزرا اور ہم سب جوان ہوئے. اب چاروں الحمد للہ شادی اور شدہ اور صاحبِ اولاد ہیں. کسی کا ایک بیٹا تو کسی کے دو بیٹیاں ہیں. اب ہمارے بچے پورا دن شرارتیں کرتے ہیں. لیکن مجال ہے جو والدہ انہیں منع بھی کریں. بلکہ ان کے ساتھ خود بھی کھیلتی رہتی ہیں.

کبھی کبھار بہنیں سسرال سے میکے آئیں تو بچہ پارٹی میں ان کے بچے بھی جمع ہوجاتے ہیں. پھر تو ادھم بازی کی انتہا ہوجاتی ہے. ہم والدہ کو کہتے ہیں کہ ہمیں تو آپ ذرا سی شرارت پر مار مار لال نیلا پیلا کردیا کرتی تھیں. انہیں کچھ کیوں نہیں کہتیں. والدہ ہنس کر ٹال جاتی ہیں. 
کسی نے درست کہا ہے: "سود اصل سے پیارا ہوتا ہے".
اولاد سے زیادہ اولاد کی اولاد پیاری لگتی ہے.

اب والد صاحب کا رجسٹر بڑا بھائی سنبھالتا ہے. اور والد صاحب پورا دن میرے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہیں.
والدہ پہلے اپنی پوتیوں نواسیوں کو کھلاتی ہیں. پھر خود کھانا کھاتی ہیں.
اب ہماری شرارتوں دشمن پانی کا پائپ صرف واشنگ مشین میں پانی بھرنے کے کام آتا ہے.

اللہ سب کے والدین کو تندرستی والی طویل عمر عطا فرمائے. اور انہیں پوتے پوتیوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب فرمائے. آمین..

_________________________

No comments:

Post a Comment

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...