Saturday, 21 January 2023

’’مارش میلو تھیوری‘‘

استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔
’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘
یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے ۔
چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کئے اور پڑھانا شروع کر دیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا.

کچھ سالوں بعد استاد نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔ کافی جدوجہد کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتا ہے۔ پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایک عام سی زندگی گزار رہی تھی، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی تھے، جنھیں سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔

اس تمام تر کاوش اور تحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالا اور وہ یہ تھا.
’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کر سکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘
اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا۔ کیوں کہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی، اس کا نام ’’مارش میلو‘‘ تھا۔ یہ فوم کی طرح نرم تھی ۔
اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے۔ جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔

Wednesday, 4 January 2023

نسبت اور صحبت سے فـــرق تو پڑتا ہـے*



اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناو

‏ایک عربی حکایت کا ترجمہ

ایک غریب شخص کام کاج کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا مگر کوئی بھی کام نہ مل سکا
وہ چرچ میں چلا گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا
"خداوندا تو مجھے کب تک غریب رکھے گا"
پادری نے اس شخص کو ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے وہ کہنے لگا کہ ٹھیک ہے پھر‏آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ پھر نہ دہرا سکوں
پادری کہنے لگا تم یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب لکھا کرو، ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میرے ذمے ہوگی
اس شخص نے فورا حامی بھر لی
پادری نے اسے کھاتہ رجسٹر اور قلم دے دیا اور یوں‏وہ شخص چرچ کا کاتب بن گیا
وہ روزانہ پادری کو ہر چیز کے متعلق تفصیل سے بتاتا رہتا
جب اسے کام کرتے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تو پادری نے کہا ذرا اپنا حساب کتاب لکھنے والا رجسٹر لے کر آؤ تاکہ اس ہفتے کی آمدن اور اخراجات کا موازنہ کیا جاسکے
وہ شخص کہنے لگا جناب مجھے تو لکھنا پڑھنا‏آتا ہی نہیں، میں تو زبانی ہر چیز کا حساب رکھتا ہوں
پادری نے کہا مجھے تو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو پڑھا لکھا ہو، تم یہ پچاس ڈالر لو اور جاؤ جاکر کوئی دوسرا کام تلاش کرو
وہ پچاس ڈالر لیکر جب چرچ سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں باتیں کررہے تھے
ایک شخص دوسرے کو کہہ‏رہا تھا کہ میں نے تمھیں پچاس ڈالر قرض دیے ہیں، اب تم ان سے کوئی تجارت کا کام کرو، اپنا نفع حاصل کرو اور بعد میں مجھے میری اصل رقم لوٹا دو
وہ گیا اور بازار میں گھوم پھر کر دیکھا، اس نے دیکھا کہ اس شہر کے امرا ٹماٹر سے روٹی کھاتے ہیں مگر ٹماٹر وہاں اگتا نہیں تھا، دور دراز کے
‏علاقوں سے جب ٹماٹر آتا ہے تو راستے میں خراب بھی ہوجاتا تھا اس وجہ سے دو تین تاجر ہی یہ کام کرتے تھے اور وہ منہ مانگے دام بھی وصول کرتے تھے
اس شخص نے بھی ٹماٹروں کو یہاں لاکر فروخت کرنے کا ارادہ کیا
اسے پتا تھا کہ کہاں پر ٹماٹر سستا اور کثرت سے پایا جاتا ہے وہ وہیں گیا‏اور وہاں سے جب ٹماٹر خرید کر لایا اور بہت کم منافع کے ساتھ انہیں فروخت کرنا شروع کیا تو پہلے دن ہی سارے ٹماٹر ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور اچھا خاصا منافع بھی حاصل ہوا
اور پھر کرتے کرتے وہ اس علاقے کا بڑا تاجر بن گیا
ایک دفعہ وہ سفر کرتے ہوئے ایسی جگہ پر گیا جہاں ہسپانوی زبان‏زبان بولی جاتی تھی جس سے وہ نابلد تھا
وہ ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا تو اسے کھانوں کے نام پلے نہیں پڑ رہے تھے
اس نے اپنے ایک نوکر کو بلا کر کہا
"ذرا ان کھانوں کے نام تو سمجھ کر مجھے بتاؤ "
نوکر نے حیرانی سے کہا جناب آپ اتنے بڑے تاجر ہیں مگر آپ کو ہسپانوی زبان نہیں آتی
‏اس شخص نے کہا اس لیے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں
تو نوکر نے کہا سوچیں اگر دو چار جماعتیں پڑھ لیتے تو پتا نہیں کتنے بڑے تاجر ہوتے
اس شخص نے جواب دیا
"اگر دو چار جماعتیں پڑھ جاتا تو آج پچاس ڈالر ماہوار پر چرچ میں پادری کا کاتب ہوتا "

سبق: اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناو

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...