روشن خیال (مکمل ناول)
عصر حاضر کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے سبق آموز رہنما ناول •
-:: پہلا حصہ ::-
”دیکھو بیٹے !....تمھارے بڑے بھائی نے حفصہ کے ساتھ شادی کر کے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے ۔تمھیں بھی حفصہ کی چھوٹی بہن صفیہ کو قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونا چاہیے ۔وہ بہت پیاری بچی ہے ۔حفظ بھی کر رہی ہے اور ان شاءاللہ اپنی بڑی بہن کی طرح ہی سلجھی ہوئی ،سلیقہ شعار ،نماز روزے اور پردے کی پابند ثابت ہو گی ۔ایسی بیوی تو مرد کے لیے اللہ پاک کا عظٰم تحفہ ہوتی ہے ۔“
”نہیں ابو!“اس نے باپ کی نصیحت کے جواب میں نفی میں سر ہلایا۔”میں نے رخشی سے شادی کرنی ہے ۔کیونکہ صفیہ کی طرح پرانے خیالات کی مالک کم پڑھی لکھی کبھی بھی میری پسند نہیں رہی ۔ایسی جاہلو ںکو تو اونچے طبقے میں اٹھنے بیٹھنے کی بھی تمیز نہیں ہوتی ۔میری بیوی تو میرے شانہ بہ شانہ چلنے والی ہو گی ۔یوں بھی آج کل پردے وردے کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔کسی مخلوط محفل میں جب ایسی بی حجّن جائے گی جو ساری زندگی برقعے میں ملبوس رہی ہو تو یقینا اپنے شوہر کے لیے جگ ہنسائی کا باعث ہی بنے گی ۔یا پھر حفصہ بھابی کی طرف ایسے محفلوں سے کوسوں دور بھاگے گی ۔“
”مگر بیٹے !....مردوں کی محافل میں عورتوںکا کیا کا م؟“اس کے باپ نے نرم لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔”اور یہ تمھیں کس نے کہا ہے کہ شانہ ہ شانہ چلنے کا مطلب کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہوتا ہے ۔عورت اور مرد دو علاحدہ اصناف ہیں ۔مرد کاکام گھر سے باہر کاروبار کو سنبھالنا ہوتا ہے جبکہ عورت کی ذمہ داری گھر کا اندرونی نظام بہ حسن خوبی چلانا ہوتا ہے ۔ دیکھتے نہیں تمھارے بھائی کی ازدواجی زندگی کس خوب صورتی سے چل رہی ہے ۔حفصہ بیٹی صرف اس کی فرماں بردار نہیں بلکہ ساس سسر کی خدمت میں بھی پیش پیش رہتی ہے ۔“
اس نے بد تمیزی سے کہا۔”تو یوں کہیں نا ابو !....آپ کو بہو نہیں اپنی خدمت کے لیے خادمہ چاہیے ۔“
اس کے والد نے دکھی ہو کر کہا ۔”بیٹیاں والدین کی خدمت کر کے نوکرانیاں نہیں بن جاتیں ۔بہو بھی ساس سسر کے لیے بیٹی کی طرح ہوتی ہے ۔اور میں نے صفیہ سے شادی کا مشورہ اپنی خدمت کرانے کے لیے نہیں بلکہ تمھاری بہتری کے لیے دیا ہے ۔“
وہ خود سری سے بولا۔”اپنا اچھا بھلا میں خوب جانتا ہوں ابو !....میں جانتا ہوں کہ کس طرح لڑکی مجھے خوشیوں سے ہم کنار کر سکتی ہے اور کس قسم کی لڑکی میرے لیے وبال جان بن سکتی ہے ۔یاد ہے پچھلے ہفتے چچا کامران کے بیٹے کی شادی میں حفصة بھابی نے شرکت نہیں کی تھی اور دوستوں کے استفسار پر مجھے خواہ مخواہ جھوٹ بولنا پڑ گیا تھا کہ بھابی کی طبیعت ناساز تھی اس لیے شادی کی محفل میں شرکت نہ کر سکی ۔اگر میں حقیقت بتا دیتا تو آپ دیکھتے ہمارے پیچھے کیسے ڈرامے بنتے۔اور یقینا صفیہ بھی اپنی باجی کی طرح ہی ہو گی ۔ایسی لڑکیوں میں مردوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔جبکہ میں چاہتا ہوں کہ میری ہر قدم پر میرے ساتھ چلے ،میرے دوستوکے ساتھ ملے جلے ۔میرے ساتھ ہر قسم کی محفلوں میں جائے ،یہاں تک کہ نوکری کر کے معاشی لحاظ سے میرا ہاتھ بٹائے ۔یہ نہیں کہ ہر وقت بچوں اور گھر داری میں کھوئی رہے ۔یہ کام تو چار پانچ ہزار لے کر ایک آیا بھی اچھے طریقے سے سرانجام دے سکتی ہے ۔“
”ہونہہ!....“کر کے اس کے باپ عبداللہ نے گہرا سانس لیا اور صوفے سے اٹھتا ہوا بولا۔”زندگی تم نے گزارنا ہے بیٹا !....میرا کام تھا اچھی بات کی تلقین کرنا ،اب ماننا نہ ماننا تمھاری اپنی مرضی پر منحصر ہے ۔بس دعا یہی ہے کہ تمھارا انتخاب ،تمھاری توقعات پر پورا اترے۔“
جواباََ وہ آمین بھی نہیں کہہ سکا تھا ۔والد کے جاتے ہی اس نے آنکھیں بند کر کے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی ۔
”رخشی !“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔”نام ہی کتنا سریلا اور دلکش ہے ۔کتنی اچھی لگے گی ہماری جوڑی۔اور صفیہ نام ہی باوا آدم کے زمانے والا ہے ۔خود جانے کیسی ہو گی ۔ عورت اور گھر داری ہونہہ!....عورت نہ ہوئی بچے پیدا کرنے کی مشین ہو گئی ۔میری توبہ ابو ناراج ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ۔ان کی ناراضی کے خوف سے میں اپنی زندگی تو جہنم نہیں بنا سکتا ۔“
اس کی آنکھوں میں رخشندہ کا خوب صورت سراپا لہرانے لگا ۔وہ اس کی کلاس فیلو تھی ۔ علمی مباحث میں حصہ لینے والی ،ایک اچھی مقررہ ۔یونیورسٹی سپورٹس کی ایک سر گرم رکن ۔خوش شکل ،خوش لباس،خوش گفتار ۔گفتگو کرتی تو مخاطب کو لاجواب کر دیتی ۔دلائل اس کے ہونٹوں سے یوں نکلتے جیسے دھاگا ٹوٹنے پر موتی کے بعد دوسرا موتی گرتا ہے ۔ماسٹر کرنے کے بعد اس نے تو فوراََ نوکری کر لی تھی ،رخشی نے البتہ تھوڑا عرصہ آرام کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
کچھ دیر رخشی کی سوچوں میں کھوئے رہنے کے بعد ایک بھرپور انگڑائی لیتے ہوئے اس نے آنکھیں کھولیں اور میز پر رکھی کار کی چابی اٹھا کر کھڑا ہو گیا ۔اس کا ارادہ رخشی سے مل کر اسے والد سے ہونے والی گفتگو کے بارے بتانے کا تھا ۔
٭٭٭
اور پھر ایک سال کے اندر اند ر رخشی اس کی زندگی میں بہار کی خوش گوار ہوا کاجھونکا بن کر داخل ہو گئی ۔وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھ رہا تھا ۔شادی ہال میں اس کے دوستوں نے اس کی بیوی کی شان میں جو تعریفی جملے بولے انھیں سن کر اس کا سینہ فخر سے چوڑااور سیروں خون بڑھ گیا تھا ۔اسے اپنے بڑے بھائی مظہر پر ترس آنے لگا جس کی دنیا فقط اپنی بیوی اور بیٹے پر مشتمل تھی ۔تفریح کے نام پر وہ غریب کبھی کبھا ر ہی ہی اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ گھر سے باہر نکلتاوہ بھی اس طرح کہ حفصہ بی بی برقعے میں چھپی ملبوس زمانہ قدیم کی عورت کا نمونہ نظر آ رہی ہوتی ۔مخلوط محافل میں تو حصہ لینا اس کی بھابی کے نزدیک گناہ تھا ۔
ہنی مون کے لیے انھوں باہمی مشورے سے مری جانا پسند کیا تھا ۔رخشندہ نے بھی چونکہ نوکری کر لی تھی اور اسے کمپنی سے دو ہفتوں کی چھٹی ملی تھی اس لیے وہ باہر ملک جانے کا پروگرام نہیں بنا سکے تھے ۔
مری سے واپسی کے اگلے دن رخشندہ نے نوکری پر جانا شروع کر دیا تھا ۔اس کی ابھی تک چند دن چھٹی بقایا تھی اس لیے وہ گھر پر ہی آرام کرنے لگا ۔
دوپہر کے قریب اسے بری طرح رخشندہ کی یاد آئی اور کار لے کر وہ اس کے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا ۔اس کا ارادہ رخشندہ کو ساتھ لے کر کسی اچھے سے ہوٹل میں جا کر دوپہر کا کھانا کھانے کا تھا ۔
”رخشندہ بی بی تو چیئر مین صاحب کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے گئی ہوئی ہیں ۔“ اس کے استفسار پر دفتر کے چپڑاسی نے مودّبانہ لہجے میں جواب دیا۔
”کہاں ؟“اس نے کوفت زدہ لہجے میں پوچھا ۔
”سامنے والے ہوٹل میں ۔“اس نے کمپنی کی عمارت کے مخالف سمت میں بنے ہوئے جدید طرز کے خوب صورت ہوٹل کی طرف اشارہ کیا ۔
اظہر سر ہلاتے ہوئے وہاں سے نکل آیا اس کا رخ اس ہوٹل کی طرف تھا ۔
ہوٹل کے ہال میں داخل ہوتے ہی اسے رخشندہ اسے ادھیڑ عمر کے خو ش شکل مرد کے سامنے بیٹھی چاے پیتی نظر آئی ۔وہ دونوں خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔اور ان کی میز کی طرف بڑھ گیا ۔
”آﺅ اظہر!....ان سے ملو یہ ہیں میرے باس چودھری تکریم فاروقی صاحب۔“ اسے دیکھتے ہی رخشندہ خوش دلی سے تعارف کرانے لگی ۔”اور فاروقی صاحب !....یہ ہیں میرے شوہر نامدار اظہر اقبال صاحب !“
”آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔“تکریم فاروقی اس سے مصافحہ کرتے ہوئے رسمی لہجے میں بولا۔”بیٹھیں ۔“
وہ رخشندہ کے ساتھ پڑی نشست پر بیٹھ گیا ۔
”ہم نے تو کھانا کھا لیا ہے ۔آپ کیا لینا پسند کریں گے ؟“اس کے بیٹھتے ہی تکریم فاروقی نے خوش دلی سے پوچھا ۔
”نہیں شکریہ ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔یہ سن کر کہ رخشندہ کھانا کھا چکی تھی اس کی بھوک ہی مر گئی تھی ۔
”اچھا رخشی !....میں چلوں گا ۔“تکریم فاروقی چاے کی پیالی ختم کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔
”چلیں سر !....میں بھی چلتی ہوں ۔“رخشندہ اس کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی تھی ۔ ”ٹھیک ہے اظہر !....آپ چھٹی منائیں ،ہم نے کچھ ضروری کام نبٹانے ہیں ۔“یہ کہہ کر وہ فاروقی کے ساتھ چل دی ۔جبکہ اظہر وہیں بیٹھا اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا ۔
”ددّا ....ددّا ....اووو....آ....“وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھا اخبار بینی میں مصروف تھا کہ اس کا ایک سالہ بھتیجا اس کی پتلون سے پکڑ کر اسے اپنی جانب متوجہ کرنے لگا ۔وہ چونکہ زیادہ تر دادا کے ساتھ کھیلتا تھا اس لیے اس کی زبان پر ددا کا لفظ چڑھا ہوا تھا ۔
”کیا بات ہے بھئی !“وہ اخبار لپیٹتا ہوا اس کو مخاطب ہوا ۔
”ددّا ....ددّا ....“وہ اسی لے میں شروع رہا ۔
”دے ....دے ۔“وہ اس سے اخبار چھیننے کی کوشش کر نے لگا ۔
”یہ لو یا ر!“اظہر نے اخبار اس کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑا ئی ۔
اخبار پکڑ کر وہ ڈرائینگ روم کے قالین پر بیٹھ گیا اور اخبار کو یون کھول کر دیکھنے لگا جیسے مطالعہ کر رہا ہو۔اس کی من موہنی صورت اور پھر اتنی پیاری حرکات دیکھ کر اظہر کو بے ساختہ اس پر پیار آ گیا ۔وہ صوفے سے اتر کر اس کے ساتھ ہی قالین پر بیٹھ کر کھیلنے لگا ۔وہ جلد ہی اس سے مانوس ہو گیا ۔ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اظہر اپنے بھتیجے کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ورنہ اس سے پہلے تو اس نے کبھی نظر بھر کر بھی بھتیجے کو نہیں دیکھا تھا ۔اور پھر رات کو وہ رخشندہ سے اسی بات کا ذکر کر رہا تھا ۔
”بچے ہوتے ہی پیارے ہیں ۔“رخشندہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔
”آج میں کافی دیر تک موبی کے ساتھ کھیلتا رہا ہوں ۔میرا دل کرتا ہے ہمار ا بھی ایسا پیارا سا بیٹا ہو اور ہم بھی دفتر سے واپسی پر اس کے ساتھ کھیلیں ۔“اس نے دبے لہجے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا ۔
”شٹ آپ یار !....کن فضولیات میں پڑ گئے ہو ۔میں اتنی جلدی ماں بننے کے حق میں نہیں ہوں ۔بچہ میری سارے فگرز خراب کر دے گا ۔اور میں اتنا جلد بوڑھی نہیں ہونا چاہتی ۔ اور پھر میری جاب کا بھی تو مسئلہ ہے میں کوئی گھریلو خاتون تو ہوں نہیں ۔آئے روزپارٹیوں میں جانا ہوتا ہے ۔تم چاہتے ہو میں حفصہ کی طرح گھر میں قید پڑی رہوں ۔“
”مگر رخشی !....شادی کا مقصد بھی تو اپنی نسل کو آگے بڑھانا ہوتا ہے اور ........“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔”ابھی تو عمر پڑی ہے اظہر !....بچے بھی ہو ں جائیں گے اور تم کھیل بھی لینا ۔لیکن فی الحال نہیں ۔ابھی میں اپنے پاﺅں میں زنجیر نہیں ڈالنا چاہتی ۔جوانی کے یہ دن زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ بچے سنبھالنے کے لیے ۔تمھاری بھابی تو بے وقوف عورت ہے ۔اس غریب نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے سوائے اپنے شوہر اور ساس سسر کے ۔“یہ کہہ کر وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی ۔جلد ہی اس کی بھاری کی سانسوں کی آواز اظہر کو سنائی دینے لگی ۔لیکن اسے کافی دیر تک نیند نہیں آسکی تھی ۔
صبح بھی جب وہ الارم بجنے کے ساتھ اٹھا تو رخشی ابھی تک سو رہی تھی ۔بستر سے اٹھ کر وہ غسل خانے میں گھس گیا ۔رخشی کا دفتر چونکہ ان کے گھر کے قریب ہی تھا اس لیے وہ تھوڑا لیٹ اٹھتی تھی ۔اس وقت تک اظہر ملازمہ کے ہاتھ سے ناشتا کر کے دفتر جا چکا ہوتاتھا۔
غسل خانے سے نکل کر وہ ڈائینگ ٹیبل پر آ بیٹھا ۔
اسی وقت اس نے باورچی خانے سے اپنی بھابی کو نکلتے دیکھا ۔سلیقے سے دوپٹا اوڑھے وہ ٹرے میں ناشتے کے لوازمات سجائے اپنی خوا ب گاہ کی طرف جا رہی تھی ۔
”یہ بھی بس ہر وقت اپنے خاوند کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے ۔“اس نے طنزیہ انداز میں سوچا ۔اسی وقت ملازمہ نے اس کے سامنے ناشتا چن دیا اور وہ سر جھٹک کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
٭٭٭
”کتنا پیارا موسم ہے ۔“وہ آسمان پر اکٹھے ہوتے بادلوں کو دیکھ کر رومانوی لہجے میں بولا ۔”میرا خیال ہے آﺅٹنگ کے لیے چلتے ہیں ۔“
”نہیں جی !....سنگھار میز کے سامنے سے اٹھ کر وہ بیڈ کے قریب پہنچی اور بیڈ پر پڑا مفلر نما دوپٹا گلے سے لپیٹنے لگی ۔
”کیوں ....؟“اظہر کا موڈ خراب ہونے لگا تھا ۔وہ تو ایسے موسم کا دیوانہ تھا ۔اور ایسے موسم میں جب رخشندہ ساتھ ہو تو پھر تو کیا کہنے ۔
”یہ ساری تیاری میں نے پارٹی میں جانے کے لیے کی ہے ۔“
”کون سی پارٹی ؟“اظہر نے اس کے خوب صورت سراپے پر نظریں دوڑائیں ۔
”تکریم فاروقی صاحب نے اپنے ورکرز کے لیے کھانے کا اہتمام کیا ہے ۔“
”چھوڑو کھانے کو ،ہم دونوں کسی اچھے سے ہوٹل میں رات کا کھانا کھائیں گے اور پھر لمبی ڈرائیو پر جائیں گے ۔“
”نہیں جی !....آپ جائیں لمبی ڈرائیو پر میں تو اپنے باس کو ناراض کرنے کا خطرہ نہیں مول سکتی ۔“
”میں بھی تو تمھارا خاوند ہوں ؟“اس کے لہجے میںہلکی سی تلخی در آئی تھی ۔
”میرا خیال ہے آپ روایتی شوہر بننے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اس اس بارے ہم نے شادی سے پہلے ہی اچھی طرح طے کر لیا تھا کہ ایک دوسرے کی ترجیحات میں دخیل نہیں ہوں گے ۔اور بیوی ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کی غلام بن گئی ہوں ۔آپ آﺅٹنگ کے لیے اپنے دفتر کی کسی ساتھی کو سا تھ لے جائیں اگر میں اعتراض کروں تب آپ کا کچھ کہنا بنتا ہے ۔“
”میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔جو آپ سمجھ رہی ہیں ۔“اس نے فوراََ ندامت کا اظہار کیا ۔ ”میں تو بس یہ چاہ رہا تھا کہ اتنے اچھے موسم کو ایک بور سے پارٹی کے لیے نظر انداز کر دینا کہاں کی عقل مندی ۔ہم لمبی ڈرائیو پر جاتے ایک دوسرے کو اپنا حال دل سناتے اور........“
”اور یہ کہ آپ آرام فرمائیں میں چلی ۔“رخشی نے قطع کلامی کرتے ہوئے اس کی جانب شوخ مسکراہٹ اچھالی اور کندھے سے پرس لٹکا کر ہاتھ ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
اس کے جانے کے بعد وہ کافی دیر بستر پر لیٹا رخشی کے رویے پر غور کرتا رہا ۔ اسے آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگا کہ اسے بیوی کے نام پر بس شب بسری کا ساتھی ملا تھا ۔ورنہ تو اس کا بناﺅ سنگھار ،خوب صورت لباس پہننا ،سجنا سنورنا سب کچھ مخلوط محفلوں میں شامل ہونے کے لیے ہوتا تھا ۔وہ کافی دیر انھی تلخ خیالات میں کھویا رہا ۔
آخر منفی سوچوں سے تنگ آ کر وہ بیڈروم سے باہر نکل آیا ۔ڈرائینگ روم میں اس کا بھتیجا موبی اپنے دادا کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔انھیں نظر انداز کرتا ہوا وہ باہر صحن میں نکل آیا ۔ہلکی ہلکی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی جس میں کوئی کوئی پانی کی بوند بھی شامل تھی ۔موبی کی ”ددا.... دے ،ددا ....دے ....“اسے دور تک سنائی دیتی رہی۔ وہ سڑک پر نکل آیا اور پیدل ہی ایک جانب روانہ ہو گیا ۔وہ فرلانگ بھر ہی گھر سے دور آیا ہوگا کہ اس کے بھائی مظہر کی کار زن سے اس کے قریب سے گزر گئی ۔اگلی نشست پر اسے کالے برقعے میں ملبوس جسم نظر آیا جو لازماََ اس کی بھابی کا تھا ۔ اس کے اندر عجیب سی تلخی گھل گئی تھی ۔وہ واپس گھر کی جانب مڑ گیا ۔اپنی خواب گاہ میں داخل ہوتے ہی وہ لباس تبدیل کرنے کا تکلف کیے بغیر بستر میں گھس گیا ۔اور پھر الٹے سیدھے خیالات کو سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی جو رخشی کی آمد پر کھلی تھی ۔وہ جدید تراش کے لباس میں مکمل بھیگی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔
’بہت تیز بارش ہے ۔“ اس کی جانب دیکھتے ہوئے وہ ہولے سے کپکپائی ۔
اس نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”مگر تم تو گاڑی میں تھیں ؟“
”صحیح کہا ۔“رخشی معصومیت سے بولی ۔”لیکن آپ میرے باس کو نہیں جانتے ۔فاروقی صاحب میں کسی بچے کی روح حلول کیے ہوئے ہے ۔پارٹی ختم ہوتے ہی مجھے کہنے لگے چلو بارش میں چہل قدمی کرتے ہیں ۔خود بھی بھیگ گئے اور میرا بھی یہ حال کر دیا ۔“
اپنے اندر اٹھنے والے غصے کی لہر کو اس نے بڑی مشکل سے دبایا تھا ۔نامعلوم اتنا غصہ اسے کیوں آ رہا تھا ۔اپنے تاثرات رخشی سے چھپانے کے لیے وہ لباس تبدیل کرنے کے بہانے الماری کی طرف بڑھ گیا ۔
سلپنگ سوٹ پہننے تک وہ اپنے غصے پر قابو پا چکا تھا ۔بیڈ پر لیٹتے ہوئے وہ اسے مخاطب ہوا ۔
”میں کھانا نہیں کھا سکا ہوں ،اپنے ہاتھوں کی بنی چاے ہی پلوا دو ۔“
”بہت تھک گئی ہوں جان !“وہ اس کے ساتھ ہی بستر پرڈھیر ہوتے ہوئے لاڈ سے بولی ۔”امی جان یا بھای کو کہہ دیں نا وہ بنا دیں گی ۔“
اظہر نے خون کے گھونٹ بھرتے ہوئے کروٹ بدل لی ۔
”آپ تو خفا ہو گئے ۔“اس کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے وہ صفائی دینے لگی ۔ ”یقین کرو اظہر !....میں بہت تھک چکی ہوں ۔آدھا گھنٹا تو فاروقی صاحب مجھے بارش میں گھماتے رہے اور اس پہلے بھی مجھے بیٹھنے کا کوئی خاص موقع نہیں ملا کہ اس کی بیوی تو ہے نہیں پارٹی کا سارا انتظام بھی مجھے سنبھالنا پڑ گیا تھا۔“
اس بار بھی اس نے رخشی کی بات کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی تھی ۔اس نے بھی مزید صفائی دیے بغیر لائیٹ بجھا کر آنکھیں بند کر لیں ۔اس سے بے نیاز کہ اپنے اور خاوند کے درمیان پیدا شدہ خلیج کو اس نے کتنا وسیع کر لیا تھا ۔
٭٭٭
”کالے سوٹ کے ساتھ میچنگ کرتی ٹائی نہیں مل رہی ۔“وہ رخشی کو نیند سے جگا کر مستفسر ہوا ۔
وہ خفگی سے بولی ۔”تو مجھے کیا معلوم تم نے ٹائی کہاں رکھی ہے ۔میں نے کبھی اپنی چیزوں کے متعلق تم سے پوچھا ہے ۔خواہ مخواہ نیند خراب کر دی ۔“یہ کہہ کر اس نے دوبارہ سونے کے لیے آنکھیں بند کرلیں ۔
اور وہ غصے میں کھولتا بغیر ٹائی باندھے ہی دفتر کی طرف روانہ ہو گیا ۔اگلے دو دن رخشی سے اس کی گفتگو ہوں ہاں تک ہی محدود رہی ۔اس بات کو رخشندہ نے بھی محسوس کر لیا تھا مگر وہ اس بات کو اہمیت دینے پر تیار نہیں تھی ۔تیسرے دن انھیں اپنے کلاس فیلو ذیشان کی سالگرہ کا دعوت نامہ ملا چونکہ وہ دونوں مدعو تھے اس لیے وہ ایک مرتبہ پھر بیوی سے بات چیت کرنے پر مجبور ہو گیا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کی آپس کی خفگی کو دوسرے جان لیں اور بات کا بتنگڑ بن جائے ۔
وہ جونھی ذیشان کی کوٹھی میں داخل ہوئے وہ لپک کر ان کی طرف بڑھا۔
”آئیں جی آئیں ۔وہ کیا کہتے ہیں ،وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے۔“اس نے رخشی کو دیکھتے ہوئے رومینٹک انداز میں کہا ۔
جواباََ رخشی کا مترنم قہقہہ اس کی حوصلہ افزائی کے لیے گونجا ۔اور اس نے اپنا ہاتھ مصافحے کے لیے ذیشان کی طرف بڑھا دیا ۔
وہ رخشی کا مصافحے کے لیے بڑھایا ہوا ہاتھ پیار سے سہلاتے ہوئے کہنے لگا ۔”رخشی !....خدا کی قسم اظہر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے ۔“
دوستوں کے منہ سے بیوی کی تعریف سننے کا خواہاں اظہر ،اس وقت کوئی خوشی محسوس نہیں کر سکا تھا ۔جبکہ رخشی کی مسکراہٹ ہر کسی کو ترغیب دینے والی تھی ۔وہ مردوں کے منہ سے اپنی تعریف سننے کی عادی تھی اور اس کو اپنا حق سمجھتی تھی ۔
ذیشان کو مل کر وہ آگے بڑھے ۔انھیں دوستوں نے گھیر لیا تھا ۔
اکمل نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔”ہائے رخشی !....آج تو قیامت ڈھا رہی ہو ، لگتا ہی نہیں کہ تم شادی شدہ ہو ۔“
”ہاں شادی کو تو بہت عرصہ ہو گیا ہے نا ۔“جبران نے منہ بنایا ۔”چند ماہ ہی تو بہ مشکل گزرے ہوں گے ۔“
عادل نے لقمہ دیا ۔”نہیں یا ر!....پھر بھی تازگی تو دیکھو محترما کے چہرے کی ۔شادی کا کچھ اثر تو نظر آنا چاہیے تھا ۔“
”اظہر بھائی !....آپ کا کیا خیال ہے ؟“فاران نے اس کی پیٹھ پر ہلکے سے تھپڑ مارا۔
مگروہ کوئی جواب نہیں دے سکا تھا ۔نہ جانے کیوںاسے رخشی کے ساتھ گپیں کرنے والے سارے کے سارے بہت برے لگ رہے تھے ۔اور ان سب سے زیادہ غصہ اسے رخشی پر آ رہا تھا ۔چند منٹ مزید وہ بکواس سننے کے بعد اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہونے لگا تھا ۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہاں سے بھاگ جائے ۔آخر اس سے زیادہ دیر برداشت نہ ہو سکا اور اس نے رخشی کو ایک طرف لے جا کر کہا ۔
”میرے سر میں درد ہے ،ہلکا سا ٹمپریچر بھی محسوس ہو رہا ہے ۔چلو گھر چلتے ہیں ۔“
”عجیب بات کر رہے ہو ۔“وہ بگڑ گئی تھی ۔”پارٹی چھوڑ کر چلی جاﺅں ۔تمام دوست کیا کہیں گے ۔میرا نہیں تو کچھ اپنی عزت ہی کا خیال کرو لو۔ایسا کرو تم کار لے جاﺅ میں کسی سے لفٹ لے کر آ جاﺅں گی ۔“
”غصے کی تیز لہر اس کے اندر اٹھی اور وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے نکل آیا ۔اس نے ذیشان سے بھی اجازت لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔تیز رفتار ڈرائیو کرتے ہوئے وہ گھر پہنچا ۔کار گیراج میں کھڑی کر کے وہ اپنی خواب گا ہ میں گھس گیا ۔اس کے دماغ میں اپنے باپ سے ہونے والی گفتگو گونج رہی تھی ۔وہ اسے آخری دم تک یہی کہتا رہا تھا کہ رخشی اس کے لیے اچھی بیوی ثابت نہیں ہو سکتی ۔اب اسے نہ رخشی کے پیسے کمانے سے کوئی غرض تھی اور نہ اس کے حسن سے کوئی مطلب ۔حسن بھی وہ جو صرف غیر مردوں کو دکھانے کے لیے تھا۔اب اسے ایک محبت کرنے والی اور خیال رکھنے والی بیوی کی ضرورت تھی ۔کوئی ایسی جس کا سجنا سنورنا صرف اس کے لیے ہو ،جسے پتا ہو کہ اس کے شوہر کا سامان کہاں پڑا ہے ،جو صبح اٹھ کر شوہر کے سامنے ناشتا رکھ سکے ،جو اسے بچے کا تحفہ دے سکے اور وہ ایسی ہو جیسے ....جیسے ....حفصہ بھابی ۔
”یقینا میں نے صفیہ کو ٹھکرا کر غلطی کی ہے ۔“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔
اسی وقت دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر اس کا والد اندر داخل ہوا ۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے بیٹا !....تم شاید کسی پارٹی میں گئے تھے ۔اتنی جلدی کیسے واپس آگئے ،اور بہو رانی کہاں ہے ؟“عبداللہ نے ایک ہی سانس میں کئی سوا ل کر ڈالے تھے ۔
”میر ے سر میں درد تھا ابوجان !....اس لیے چلا آیا ،رخشندہ ابھی تک وہیں ہے ۔“
”ابھی تک پارٹی شروع تھی اور یہ مناسب نہیں تھا ۔“
”بری بات بیٹا !....چند دن پہلے بھی وہ اکیلی کسی پارٹی میں گئی تھی اور رات گئے لوٹی جبکہ تم کمرے میں بند رہے ۔اس رات تم نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا ۔“
اس مرتبہ وہ باپ کی بات کا جواب نہ دے سکا تھا ۔اسے خاموش پا کر عبداللہ نے اپنی بات جاری رکھی ۔”بیٹا !....ایک بات یاد رکھنا ،اگر بیوی کو اتنی آزادی دو گے تو وہ کبھی تمھاری وفادار نہیں رہے گی ۔میں تو اس کی نوکری کے حق میں بھی نہیں تھا اور تمھارے ساتھ مخلوط محافل میں شرکت کرنے کے بھی خلاف ۔تم نے تو اسے بالکل ہی بے مہار چھوڑ دیا ہے ۔بیٹے نبی پاک ﷺ کی ایک حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ
” دیوث جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا حالانکہ اس کی خوشبو کروڑوں میلوں کے فاصلے سے آتی ہے ۔“عرض کیا گیا دیوث کون ؟....تو فرمایا، دیوث وہ شخص ہے جو اپنے گھر کی عورتوں یعنی بیوی ،بیٹی ،،بہن وغیرہ کے بارے کوئی پروا نہ کرے کہ وہ کس سے مل رہی ہیں اور کون ان کے پاس آجارہا ہے ۔تو بیٹے تم بالکل اپنی بیوی کو اپنے شانہ بہ شانہ چلاﺅ مگر اتنا آزاد نہ ہوجاﺅ کہ شریعت تو کجا ہماری تہذیب و ثقافت کا بھی جنازہ نکل جائے ۔تمھاری بیوی کا تعلق تمھارے دوستوں کی بیویوں سے ہونا چاہیے نہ کہ تمھارے دوستوں سے ۔اور یہ میں تمھیں آخری بار سمجھانے آیا ہوں ۔اگر اس کے بعد بھی تم بہ ضد ہو کہ بہو کا ٹھیک کر رہی ہے تو بیٹے !....میری جائیداد میں اپنا حصہ لے کر تم ہنسی خوشی علاحدہ ہو سکتے ہو ۔مجھے اپنے گھر میں ایسا ماحول بالکل گوارا نہیں ۔باقی وہ اپنے ساس سسر کی بالکل خدمت نہ کرے ہمیں اس کی خدمت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ہمارے لیے ہماری بیٹی حفصہ کافی ہے ۔“
”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ابوجان !....رخشی سے شادی کرنا میری بہت بڑی غلطی تھی ۔اور میں اس غلطی کو سدھارنے کی کوشش کروں گا ۔اس عورت نے میرا سکون بھی برباد کر دیا ہے ۔“اس نے والد کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی ۔ پہلی بار اس پر والد کی باتوں کی حقیقت آشکارا ہوئی تھی ۔
اسے نادم دیکھ کر عبداللہ نرم لہجے میں بولا۔”اب بھی کچھ نہیں بگڑا بیٹے ۔اسے آرام سے سمجھانے کی کوشش کرو ۔ہو سکتا ہے وہ راہ راست پر آ جائے اور پیار سے سمجھانا سختی کرنا بعض اوقات بات کو بگاڑ دیتا ہے ۔“
اس نے مرتبہ اس نے فرماں برداری سے سر ہلادیا تھا ۔
”ٹھیک ہے بیٹا !....آرام کرو میں ذرا نماز پڑھ لوں ۔“یہ کہہ کر اس کا والد تو کمرے سے نکل گیا مگر اسے پریشانی میں مبتلا کر گیا ۔وہ کوئی ایسی تدبیر سوچنا چاہ رہا تھا جس سے رخشی کچھ بدل جاتی ۔وہ جانے کتنی دیر اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا ۔اچانک موبائل فون کی بجنے والی گھنٹی نے اسے چونکا دیا تھا ۔گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر رات کے بارہ بجتے نظر آئے ۔اس کے دوست اکمل کی کال آ رہی تھی ۔
”جی اکمل !....“اس نے موبائل فون کان سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔
”بھابی گھر پہنچ گئی ہے یار !“اس کے لہجے میں شامل شرارت اظہر سے چھپی نہیں رہ سکی تھی ۔
اس کے شرارتی لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”نہیں ....کیا پارٹی ختم ہو گئی ہے ؟“
”پارٹی تو ساڑھے دس بجے ہی ختم ہو گئی تھی ۔بھابی کو میں نے لفٹ کی آفر کی تھی مگر اس نے ذیشان کے ساتھ جانا پسند کیا ۔اور اب تک تو انھیں پہنچ جانا چاہیے تھا ۔بہ ہرحال کال کر کے پتا کرلو کہیں ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو ؟“اکمل نے لفظ حادثے پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا ۔
”میں پتا کر لیتا ہوں ۔“آہستہ سے کہتے ہوئے اس نے کال منقطع کی اور رخشی کا موبائل فون نمبر ملانے لگا ۔تیسری چوتھی گھنٹی پر اس نے کال اٹینڈ کی ۔اور اظہر کے کانوں میں اس کی مترنم ۔”ہیلو ۔“گونجی ۔اس کے ساتھ ہی اسے ہلکی ہلکی موسیقی کا شور بھی سنائی دینے لگا تھا ۔
”کہاں ہو تم ؟“بڑی کوشش سے اس نے اپنے لہجے کو نرم رکھا تھا ۔
”میں اور ذیشان لانگ ڈرائیو پر نکلے ہوئے ہیں بس تھوڑی دیر میں پہنچ جاتی ہوں ۔“
”یہ کون سا وقت ہے لانگ ڈرائیوکا ؟“اس مرتبہ بھی اس نے اپنے اندرونی ابال پر قابو پا لیا تھا ۔
وہ شوخی سے بولی ۔”یہ بات اپنے دوست کو بتاﺅ نا ،پتا نہیںکون کون سی باتیں اسے آج یاد آ رہی ہیں ۔“
”جلدی گھر آﺅ ۔“اس مرتبہ وہ اپنے غصے کو نہیں دبا سکا تھا ۔کال منقطع کرتے ہوئے اس نے موبائل فون تپائی پر پھینکا ،جو تپائی کے بجائے نیچے قالین پر جا گرا تھا۔مگر اس نے موبائل فون اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”الو کی پٹھی !....“اس نے با آواز بلند کہا۔تھوڑٰ دیر پہلے اسے آرام اور پیار سے سمجھانے والے سارے خیالات بھک سے اڑ گئے تھے ۔اس سے بیٹھا نہ گیا ۔وہ بے قراری سے ٹہلنے لگا ۔
جلدی کی تاکید کے باوجود رخشی ڈیڑھ بجے کے قریب بیڈ روم میں داخل ہوئی ۔اپنا پرس بیڈ پر پھینک کر وہ اس کے ساتھ ہی ڈھیر ہو گئی ۔
”ہائے جان !....بہت تھک گئی ہوں ۔“اس نے گہر ا سانس لیتے ہوئے کہا ۔
”میرا خیال ہے ،میں نے کہا تھا جلدی گھر پہنچو ۔“اس کے سامنے کھڑ ہو کر وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
”میں آ تو رہی تھی ،مگر وہ ذیشان ہے نا ....“
”ذیشان ،تمھارا شوہر ہے یا بھائی ۔کیا رشتا اس سے ۔“وہ غضب ناک ہوتا ہوا دھاڑا۔
”کلاس فیلو ہے میرا ،اور یہ تم کس لہجے میں بات کر رہے ہو ؟“وہ اس کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہوئے بولی ۔مگر یہ کھڑا ہونا اسے مہنگا پڑاتھا ۔اظہر کا ہاتھ پوری قوت سے گھوما اور چٹاخ کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا ۔وہ تیورا کر چارپائی پر جا گری تھی ۔
وہ چیخا۔”لڑکی کا شوہر ،باپ اور بھائی کے علاوہ فقط یار کا رشتا ہوتا ہے جو کنجریوں کے ہوتے ہیں ،سمجھیں ۔“
”تت....تم وحشی ،جنگلی ،گنوار !....میں تمھارے ساتھ ایک منٹ نہیں گزار سکتی مجھے ابھی طلاق چاہیے ،اسی وقت ۔“
وہ باآواز بلند بولا۔”تو میں کون سا تم جیسی رنڈی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ۔“ اسی وقت اس کا باپ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔مگر اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کی بات جاری رہی ۔”میں تمھیں طلاق دیتا ہوں ،میں ....“مگر اس سے پہلے وہ کچھ آگے کہہ پاتا اس کے والد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔الفاظ اس کے منہ میں گھٹ کر رہ گئے تھے ۔
”کیا کر رہے ہو بے وقوف !....بس ایک دفعہ طلاق دینا کافی ہوتا ہے ۔“
”طلاق کا لفظ سن کر رخشی بالکل سن ہو گئی تھی ۔
”چلو میرے ساتھ ۔“اس کا والد اسے خوا ب گاہ سے باہر کھینچ کر لے گیا ۔اسی وقت اظہر کی ماں خواب گاہ میں داخل ہوکر رخشی کی طرف بڑھ گئی ۔
رخشی جس نے شادی کے بعد کبھی اپنی ساس سے سیدھے منہ بات نہیں کی اسے دیکھتے ہی اس کے ساتھ لپٹ کر رو دی ۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا میری بچی !“وہ اسے تھپکتے ہوئے بولی ۔”صرف ایک طلاق ہوئی ہے ۔اس کے بعد رجوع کی گنجائش موجود ہے ۔غمگین نہ ہو ۔“
”میں نے اس کے نہیں رہنا ،بالکل بھی نہیں رہنا ۔“وہ ہچکیاں لیتے ہوئے سسکنے لگی ۔
”اچھا وہ بعد کا مسئلہ ہے ۔“زتون بیگم نے تپائی پر پڑے شیشے کے جگ سے گلاس بھر کر اس کی طرف بڑھایا۔”لو پانی پیو۔“
رخشی گلاس پکڑ کر ۔چھوٹے چھوٹے گھونٹ لینے لگی ۔زتون بیگم نے تسلیاں دلاسے دیتے ہوئے اس کا موڈ نارمل کر دیا تھا ۔
”اچھا بات کیا ہوئی تھی جو اظہر اتنا غصے میں آ گیا تھا ۔“
”بس یونھی خواہ مخواہ ماں جی !“وہ رقت آمیز لہجے میں بولی ۔
”نہیں آخر کوئی بات تو ہوئی ہو گی ۔“زتون اسے کریدنے پر تلی تھی ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔