Sunday, 31 October 2021

اپنی اولاد کو متقیوں کا امام بنانے کی کوشش کریں

🍀 *اپنی اولاد کو متقیوں کا* *امام بنانے کی کوشش کریں* 🍀
وہ چھٹے بیج کی طالبہ تھی۔
اب جب بھی فون کرتی ہے اسی دعا کی درخواست کرتی ہے کہ اللہ اسےاولاد کی نعمت سے نواز دے۔
واقعی اولاد کی قدر کسی بے اولاد جوڑے سے پوچھئے۔۔
اولاد کی تمنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے لیکن ایک مسلمان اولاد کی خواہش کیوں رکھتا ہے قرآن خوبصورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
حضرت زکریا کے دل کی دعا ۔۔وہ چپکے چپکے پکارتے تھے اور
اپنا وارث طلب کرتے تھے۔
کیا پیغمبروں کی اساس دھن دولت ہوتی ہے؟
وہ کونسی میراث ہے جس کا وارث بنانے کے لیے وہ پریشان تھے؟
کیا ان کی ملیں دھواں اگلنا بند کر دیں گی؟
ان کی فیکٹریوں میں سناٹا ہو جائے گا؟
ان کے ویران سرے محلوں میں فاختائیں انڈے دیں گی؟
کیا پیغمبر معاذاللہ مال و جائیداد کی فکر میں گھلتے تھے ؟؟
بات واضح ہے۔حضرت زکریا اپنے دینی ورثے کے لیے بے چین تھے۔ انہیں یقیناً خاندان میں کوئی ایسا نظر نہیں آرہا ہوگا جو ان کے بعد اس داعیانہ کردار کو نبھا سکے۔۔
یہاں ٹھہریئے اور ۔۔
خود سے سچ بولیں۔
اپنے دل سے پوچھیں کہ یہ پاک آرزو ہمارے دل اور دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ ہے؟؟
کیا واقعی کوئی بے اولاد۔۔ اولاد کی دعا اس لیے کرتا ہے کہ جو نیکیاں میں دنیا میں پھیلا رہا ہوں میرے بعد ان نیکیوں کا سلسلہ میری نسل میں ختم نہ ہو جائے!!
کیا واقعی ہماری زندگی میں اتنا اہم مشن ہے کہ ہم فکر مند ہوں کہ جب ہم زیر زمین ہوں تب بھی یہ مشن جاری وساری رہے۔۔
ہم تو اپنے سماج میں لوگوں کو اس دکھ میں مبتلا دیکھتے ہیں کہ بیٹا ہوتا تو باپ کے بعد کاروبار سنبھال لیتا۔۔
بہنوں کی شادی کی ذمہ داری میں باپ کا ہاتھ بٹا دیتا۔
جس آدمی کے چار یا چھ بیٹے ہوں ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس گھرانے سے دین کو کتنا فروغ مل رہا ہوگا۔
ہم سوچتے ہیں کہ بیٹے معاشی آسودگی کی علامت ہیں نہ کہ دین کے فروغ کی۔۔۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اکثر لوگ جو دعوت و تبلیغ میں اپنی عمر گزارتے ہیں انکی اولاد اس راہ پر ان کی ہم سفر نہیں ہوتی۔
یہ بھی طرفہ تماشا ٹھہرا کہ ہم اپنے مادی ترکے کا وارث تو اپنی اولاد ہی کو بنانا چاہتے ہیں لیکن اپنے مشن کے ترکے کے لئے غیروں کی اولادوں کو تلاش کرتے ہیں ۔۔
کسی کے بیٹے کا کاروبار خسارے سے دوچار ہو تو والدین ہر ایک سے دعا کی درخواست کرتے ہیں لیکن وہی بیٹا اگر فرض عبادات سے غافل ہو تو والدین کی وہ تڑپ نظر نہیں آتی۔۔

ہم میں سےکتنے والدین تنہائیوں میں گڑگڑا کر اپنے رب سے اپنی اولاد کے لئے متقیوں کا امام بننے کی دعا مانگتے ہیں۔۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بوڑھے والد باقاعدگی سے باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کرتے ہیں اور جوان بیٹے گھر میں موجود ہوتے ہیں۔۔
باپ سمجھتے ہیں کہ تعلیم اور روزگار نے انہیں تھکا رکھا ہے فارغ ہوں گے تو عبادت بھی کرلیں گے۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ
والد اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دے سکتا ہے وہ اچھی تعلیم اور تربیت ہے۔۔
اولاد کو یہ تحفہ دینا ہی دل کی سب سے بڑی آرزو ہونا چاہیے ۔بالکل ایسے جیسے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا اچھا گھر اور اچھی معاش ہو۔
جب ہم واجعلنا للمتقین اماما کی دعا
کرتے ہیں تو ہماری زندگی کا سب سے بڑا مشن یہ ہونا چاہیے کہ ہم انہیں دین کی پاکیزہ تعلیمات سے آشنا کرائیں اور انھیں بتائیں کہ وہ ایک مشنری گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔اسلام ایک مشن کا نام ہے
قرآن نے زندگی کا حاصل بتا دیا کہ اگر اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتے ہیں تو انھیں متقیوں کا امام بنانے کی سعی کریں۔۔
تحریر،، افشاں نوید
انتخاب،، عابد چودھری
*برائے مہربانی پوسٹ کو شئیر یا فارورڈ کیا جائے*

🔹▬▬▬▬ 🌹 ▬▬▬▬🔹

No comments:

Post a Comment

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...