Sunday, 13 September 2020

اللہ کی لاٹهی بے آواز ہے

ستر اور اسی کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے ان کے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے.

وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہے تھے ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی خواہش کی انہوں نے اپنا ایک جہاز ال 747 بمع عملہ پیرس بھیجا جہاں سے آئیسکریم خریدنے کے بعد جنیوا سے چاکلیٹ لیکر اسی دن جہاز واپس کینیا پہنچا.

اس کے ایک دن کا خرچہ 1 ملین ڈالرز تھا.

لندن،پیرس،نیویارک،سڈنی سمیت دنیا کے 12 مہنگے ترین شہروں میں اس کے لگژری محلات تھے.

انہیں عربی نسل گھوڑوں کا شوق تھا دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاص اصطبل تھے.

اس کی دی ہوئی طلاق آج تک دنیا کی مہنگی ترین طلاق سمجھی جاتی ہے جب اس نے 875 ملین ڈالر اپنی امریکی بیوی کے منہ پر مارے اور اسے طلاق دی.

اس کی ملکیت میں جو یاٹ تھی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی یاٹ تھی،جو اس وقت بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھی
اس یاٹ میں 4 ہیلی کاپٹر ہر وقت تیار رہتے جب کہ 610 افراد پر مشتمل خدام اور عملہ تھا،وہ یاٹ بعد میں ان سے برونائی کے سلطان نے خریدی ان سے ہوتے ہوئے ڈونلڈ ٹرامپ تک پہنچی،ٹرامپ نے 29 ملین ڈالر میں خریدی.

ان کی اس یاٹ پر جیمز بانڈ سیریز کی فلموں سمیت کئی مشہور ہالی ووڈ فلمیں شوٹ کی گئیں.

اپنی پچاسویں سالگرہ پر اس نے سپین کے ساحل پر دنیا کی مہنگی ترین پارٹی دی جس میں دنیا کی 400 معروف شخصیات نے 5 دن تک خوب مستی کی.

امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کی ایک مسکراہٹ پر 60 ہزار پاونڈ مالیت کا طلائی ہار قربان کر دیا.

اسحلے کا بہت بڑا سوداگر تھا ملکوں کے درمیان وہ اسلحے کی ڈیل اور معاہدے کراتا تھا،سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان انہوں نے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کرائے.

شراب اور شباب ان کی کمزوری تھی 4 جائز اور 8 ناجائز بیگمات ان کے عقد میں تھیں.

یتیموں پر دست شفقت رکھنا،بیواوں کا خیال،مسکینوں کی مدد،سیلاب اور زلزلوں میں انسانی ہمدردی کے تحت فلاحی کام ان سب سے اسے سخت الرجی تھی ان کا یہ جملہ مشہور تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپ دی ہے.

اسی کی دہائی میں وہ 40 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک تھا.

پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے اس کی رسی کھینچ لی،اب تنزل و انحطاط کی طرف اس کا سفر شروع ہوا، اربوں ڈالرز کی مالیت کے ان کے ہیرے سمندر میں ڈوب گئے،کاروبار میں خسارے پہ خسارہ شروع ہوا،قرضے پہ قرضا چڑھا سب اثاثے فروخت کر ڈالے،ان کے دوست احباب،ان کے چاہنے والوں نے ان سے نظریں پھیر لی،یہ ایک لمبی مدت گمنامی کے پاتال میں چلا گیا،کسی کو خبر نہ تھی کہ کہاں ہے.

پھر ایک دن یہ لندن میں کسی سعودی تاجر کو ملا ،ان کی حالت غیر ہوچکی تھی،اس تاجر سے کہا وطن واپس جانا چاہتا ہوں لیکن کرایہ نہیں،اس سعودی تاجر نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے دیا اور یہ جملہ کہا.

اے عدنان ! اللہ تعالی نے فقیروں اور غریبوں پر مال خرچ کرنے اور صدقہ کا حکم دیا ہے یہ ٹکٹ بھی صدقہ ہے.

اپنے دور کا یہ کھرپ پتی شخص صدقے کی ٹکٹ پر عام مسافروں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جدہ پہنچ گیا.

اس عرب پتی تاجر کا نام عدنان خاشقجی تھا یہ عرب نژاد ترکی تھا،اس کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی ان کا والد شاہی طبیب تھا،یہ شخص ترکی میں قتل ہوئے صحافی جمال خاشقجی کا چچا تھا،2017 میں ان کا انتقال ہوا.

میں نے جب اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کیا یقین کیجئے میں ہل کر رہ گیا اللہ تعالی کے انصاف پر میرا ایمان مزید پختہ ہوگیا،یاد رکھیں آپ جتنے بھی طاقت ور ہیں آپ جتنے بھی ثروت مند ہیں اللہ تعالی کے آگے بہت کمزور ہیں،اپنی دولت اور طاقت کو کبھی بغاوت کے لئے استعمال نہ کرنا اللہ تعالی کی پکڑ بڑی سخت ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال نعمت سے ہمیشہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتے تھے.

اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك.

بقلم فردوس جمال!!!

🌹آج کی اچھی بات 🌹

🌹آج کی اچھی بات 🌹


*✍ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﻧﮧ ﻣﻼ ہوتا ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﺗﺮ ہوتی ۔۔۔ ﺍﻣﯿﺪ ہی ﻭﮦ ﺟﺬﺑﮧ ہے ﺟﻮ ﺑﮍﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﻣﺮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺳﮑﺘﺎ ہے ۔ ۔ ۔ !!!🌴*

*‏ہے خواہش میک اَپ سے" مثال حور" ہوجانا۔* *مگر ممکن کہاں کشمش کا پھر انگور ہو جانا۔🔥*

*‏ہے خواہش میک اَپ سے" مثال حور" ہوجانا۔*
*مگر ممکن کہاں کشمش کا پھر انگور ہو جانا۔🔥*

" دنیا کی تاریخ کا ایک دلیر ترین جاسوس "

السلام علیکم! 

" دنیا کی تاریخ کا ایک دلیر ترین جاسوس "

 کیا آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں ؟

نہیں جانتے تو جان لیجیے 
  
سیدناسعد بن ابی وقاص رضی للہ عنہ نے 7 افراد لشکرفارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس لشکر کے ایک آدمی کو گرفتار کر کے لے آئیں!! 
یہ ساتوں آدمی ابھی نکلے ہی تھے کہ اچانک انھوں نے دشمن کے لشکر کو سامنے پایا .جب کہ ان کا گمان یہ تھا کہ لشکر ابھی دور ہے.انھوں نے آپس میں مشورہ کر کے واپس جانے کا فیصلہ کیا ، . مگر ان میں سے ایک آدمی نے امیر لشکر کی جانب سے ذمہ لگائی گئی مہم کو انجام دیے بغیر واپس جانے سے انکار کر دیا!! اور یہ چھے افراد مسلمانوں کے لشکر کی جانب لوٹ آئے ..جب کہ ہمارا یہ بطل جلیل اپنی مہم کی ادائی کے لیے فارسیوں کے لشکر کی جانب تنہا بڑھتا چلاگیا!! انھوں لشکر کے گرد ایک چکر لگایا اور اور اندر داخل ہونے کے لیے پانی کے نالوں کا انتخاب کیا اورا س میں سے گزرتا ہوا فارسی لشکر کے ہراول دستوں تک جاپہنچا جو کہ 40 ہزار لڑاکوں پر مشتمل تھے!! .پھروہاں سے لشکر کے قلب سے گزرتا ہوا یک سفید خیمے کے سامنے جاپہنچا ، جس کے سامنے ایک بہترین گھوڑا بندھا ہوا تھا، اس نے جان لیا کہ یہ دشمن کے سپہ سالار رستم کا خیمہ ہے!! چنانچہ یہ اپنی جگہ پر انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ رات گہری ہو گئی ، رات کا کافی حصہ چھا جانے پر یہ خیمہ کی جانب گئے ، اور تلوار کے ذریعے خیمہ کی رسیوں کو کاٹ ڈالا ، جس کی وجہ سے خیمہ رستم اور خیمہ میں موجود افراد پر گر پڑا ، گھوڑے کی رسی کاٹی اور گھوڑے پر سوار ہو کر نکل پڑے اس سے ان کا مقصد فارسیوں کی تضحیک اور ان کے دلوں میں رعب پیدا کرنا تھا!! گھوڑا لے کر جب فرار ہوئے تو گھڑسوار دستے نے ان کا پیچھا کیا . جب یہ دستہ قریب آتا تو یہ گھوڑے کو ایڑ لگا دیتے اور جب دور ہو جاتا تو اپنی رفتار کم کرلیتے تاکہ وہ ان کے ساتھ آملیں ، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دھوکے سے کھینچ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے حکم کےمطابق لے جائیں !! چنانچہ 3 سواروں کے علاوہ کوئی بھی ان کا پیچھا نہ کر سکا انھوں نے ان میں سے دو کو قتل کیا اور تیسرے کو گرفتار کرلیا. یہ سب کچھ تن تنہا انجام دیا!! قیدی کو پکڑا ، نیزہ اس کی پیٹھ کے ساتھ لگایا ، اور اسے اپنے آگے ہانکتے ہوئے مسلمانوں کے معسکر جا پہنچے..اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا . فارسی کہنے لگا : مجھے جان کی امان دو میں تم سے سچ بولوں گا ..سعدرضی اللہ عنہ کہنے لگے: تجھے امان دی جاتی ہے اور ہم وعدے کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جھوٹ مت بولنا. پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں اپنی فوج کے بارے میں بتاؤ ..فارسی انتہائی دہشت ناک اور ہذیان کی کیفیت میں کہنے لگا :اپنے لشکر کے بارے میں بتانے سے قبل میں تمہیں تمھارے آدمی کے بارے میں بتلاتاہوں !!!! کہنے لگا : "یہ آدمی، ہم نے اس جیسا شخص آج تک نہیں دیکھا ، میں ہوش سنبھالتے ہی جنگوں میں پلا بڑھا ہوں ، اس آدمی نے دو فوجی چھاؤنیوں کو عبور کیا ، جنھیں بڑی فوج بھی عبور نہ کر سکتی تھی، پھر سالار لشکر کا خیمہ کاٹا ، اور اس کا گھوڑا لے اڑا ، گھڑسوار دستے نے اس کا پیچھا کیا ، جن میں سے محض 3 ہی اس کی گرد کو پا سکے ، ان میں سے ایک مارا گیا ۔جسے ہم ایک ہزار کے برابر سمجھتے تھے ، پھر دوسرا مارا گیا جو ہمارے نزدیک ایک ہزار افراد کے برابر تھا ، اور دونوں میرے چچا کے بیٹے تھے۔میں نے اس کا پیچھا جاری رکھا اوران دونوں مقتولین کے انتقام کی آگ سے میرا سینہ دہک رہا تھا ، میرے علم میں فارس کا کوئی ایسا شخص نہیں جو قوت میں میرا مقابلہ کر سکے۔اور جب میں اس سے ٹکرایا تو موت کو اپنے سر پر منڈلاتے پایا، چنانچہ میں نے امان طلب کر کے قیدی بننا قبول کر لیا۔اگر تمھارے پاس اس جیسے اور افراد ہیں تو تمھیں کوئی شکست سے دوچار نہیں کر سکتا!!!" پھر اس فارسی نے اسلام قبول کر لیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم بطل جلیل کون تھے؟ جنھوں نے لشکر فارس کو دہشت زدہ کیا ، ان کے سالار کو رسوا کیا اور ان کی صفوں میں نقب لگا کر واپس آگئے۔ 
یہ صحابی رسول حضرت  طلیحہ بن خویلد الاسدی رضی اللہ عنہ تھے.
اسلام کے سپاہی.... زندہ باد

Thursday, 3 September 2020

اپنے ڈرم میں شارک رکهو


جاپانیوں کو تازہ مچھلیاں بہت پسند ہیں ، لیکن جاپان کے قریب کے پانیوں میں کئی دہائیوں سے زیادہ مچھلی نہیں پکڑی جاتی
لہذا جاپانی آبادی کو مچھلی کھلانے کے لئے ، ماہی گیر کشتیاں بڑی ہوتی گئیں اور پہلے سے کہیں زیادہ دور جانے لگیں -
ماہی گیر جتنا دور گئے ، مچھلیوں کو پکڑ کر واپس لانے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگنے لگا۔ اس طرح ساحل تک باسی مچھلی پہنچنےلگی -
مچھلی تازہ نہیں تھی اور جاپانیوں کو ذائقہ پسند نہیں تھا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ، فشینگ کمپنیوں نے اپنی کشتیوں پر فریزر لگائے۔
وہ مچھلی کو پکڑ کر سمندر میں فریز کردیتے۔ فریزرز کی وجہ سے کشتیوں کو مزید دور جانے اور زیادہ دیر تک سمندر میں رہنے کا موقع ملا ۔
تاہم ، جاپانیوں کو فروزن مچھلی کا ذائقہ بھی پسند نہ آیا ۔
فروزن مچھلی کم قیمت پڑتی تھی۔
تو ، ماہی گیر کمپنیوں نے فش ٹینک لگائے۔ وہ مچھلی کو پکڑ لیتے اور ٹینکوں میں بھر کر زندہ لے آتے -
مگر تھوڑے وقت کے بعد ، مچھلیاں سست ہو جاتیں ۔ وہ زندہ تو رہتیں لیکن مدہوش ہو جاتیں -
بدقسمتی سے ، جاپانیوں کو اب بھی اس مچھلی کا ذائقہ پسند نہ آیا چونکہ مچھلی کئی دن تک حرکت نہیں کرتی تھی ،
اس لئے تازہ مچھلی والا ذائقہ کھو جاتا -
ماہی گیری کی صنعت کو ایک آنے والے بحران کا سامنا کرنا پڑا!
لیکن اب اس بحران پر قابو پالیا گیا ہے اور وہ اس ملک میں ایک اہم ترین تجارت بن کر ابھرا ہے۔
جاپانی فشینگ کمپنیوں نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا؟
وہ جاپان میں تازہ ذائقے والی مچھلی کیسے حاصل کرتے ہیں؟
مچھلی کے ذائقے کو تازہ رکھنے کے لئے جاپانی ماہی گیر کمپنیوں نے اس مچھلی کو ٹینکوں میں ڈال دیا۔
لیکن اب وہ ہر ٹینک میں ایک چھوٹی سی شارک کو شامل رکھتے ہیں۔
شارک کچھ مچھلیاں کھا جاتی ہے ، لیکن زیادہ تر مچھلیاں انتہائی رواں دواں متحرک حالت میں رہتی ہیں ۔
مچھلیوں کو شارک سے خطرہ رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ متحرک رہتی ہیں اور صحت مند حالت میں مارکیٹ تک پہنچتی ہیں ۔
وہ اچھی قیمت پر فروخت ہوتی ہیں -
خطرے کا سامنا انھیں تازہ دم رکھتا ہے!
انسانی فطرت بھی مچھلی سے مختلف نہیں ہے ۔
ایل رون ہبارڈ نے 1950 کی دہائی کے اوائل میں مشاہدہ کیا:
"انسان صرف ایک مشکل ماحول کی موجودگی میں عجیب طور پر کافی گرو اور ترقی کرتا ہے۔
"جارج برنارڈ شا نے کہا:
"اطمینان موت ہے.. !"
 اگر آپ مستقل طور پر چیلنجوں کو فتح کر رہے ہیں تو ، آپ خوش ہیں۔ آپ کے  چیلنجز آپ کو متحرک رکھتے ہیں۔ وہ آپ کو بھرپور زندہ رکھیں گے... !
 _ آپ بھی اپنے ٹینک میں شارک رکھیں اور دیکھیں کہ آپ واقعی ترقی کرکے کہاں تک جا سکتے ہیں... !
 : اگر آپ صحت مند ، کم عمر اور متحرک نظر آتے ہیں تو ، یقینی طور پر آپ کے گھر میں بیوی موجود ہے۔
 جی ہاں شارک کو اپنی زندگی میں موجود رکھئیے
 اور اگر زیادہ متحرک زیادہ جوان زیادہ خوشحال رہنا چاہتے ہیں تو پھر شارک کی تعداد بڑھا لیں۔۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
#copied

👈۔ *رئیس کی امی کہتی تھی* 👉

👈۔  *رئیس کی امی کہتی تھی*  👉

: "کوئی دھندہ چھوٹا نہیں ہوتا. اور دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا".

جبکہ میری امی کچھ نہیں کہتی تھیں. بلکہ عملی قدم اٹھاتیں. اور پانی کے پائپ کا گز بھر ٹکڑا اٹھاکر بلاتفریق ظالم مظلوم ہر دو فریق کی دھلائی فرماتیں. اور جب ایک مرتبہ دھلائی کا سیشن شروع ہوتا. تو کیا بہن اور کیا بھائی. سب ہی رگڑدیے جاتے.
مار کھانے کے بعد یہی پتہ نہیں چلتا تھا کہ ستانے والا کون سا تھا. اور مظلوم کون سا.

میرا بڑا بھائی بہت ڈرامے باز تھا. وہ جیسے ہی دیکھتا کہ والدہ جلال میں ہیں. اور پانی کا پائپ اٹھالیا ہے. مار کھانے سے پہلے ہی اونچی اونچی رونا شروع کردیتا. تاکہ والد صاحب متوجہ ہوجائیں. اور ریسکیو کےلیے آجائیں. مگر مجال ہے جو والد صاحب کے بھی کان پر جوں تک رینگے. جب ہم مار کھا کھا کر تھک جاتے اور والدہ دھلائی کر کر کے عاجز آجاتیں تو والد صاحب اپنا رجسٹر بند کرکے آجاتے کہ بھئی بس کرو. بچوں کو اتنا بھی کیا مارنا. 
آہ.. بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے....

ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھے. ایک دن مجھ سے بڑی والی بہن نے مشورہ دیا کہ "شرارتیں تو ہم چھوڑتے نہیں." اور غصے سے میری طرف دیکھا. کیوں کہ میں ہی نت نئے شرارتی آئیڈیاز سوچتا تھا.

"کیوں نہ ہم والد صاحب کا رجسٹر چھپادیں. رجسٹر نہیں ہوگا تو والد صاحب پہلے راؤنڈ میں ہی ہمیں بچانے آجایا کریں گے".
اس نے تائید طلب نگاہوں سے ہم تینوں کی طرف دیکھا. میں نے فوراً اثبات میں گردن ہلائی اور چھوٹی والی بہن کی ڈیوٹی لگادی کہ یہ چھپائے گی. یہ والد صاحب کی چمچی ہے.

بڑا بھائی جو گہری سوچ میں مستغرق تھا. ہماری جانب متوجہ ہو کر گویا ہوا "رجسٹر تو ہم چھپادیں. لیکن ایسا نہ ہو کہ پھر والد صاحب جلال میں آجائیں. ان کے کام کاج کی تفصیلات ہیں اس میں. وہ کہیں گے. نالائقو! چھپانا ہی تھا تو پانی کا پائپ چھپاتے. رجسٹر ہی چھپادیا. اور ان کا تو ہاتھ بھی بہت بھاری ہے. نہیں یہ آئیڈیا فلاپ ہے".

اس روز ہم بڑے بھائی کی دور اندیشی کے قائل ہوگئے. وقت گزرا اور ہم سب جوان ہوئے. اب چاروں الحمد للہ شادی اور شدہ اور صاحبِ اولاد ہیں. کسی کا ایک بیٹا تو کسی کے دو بیٹیاں ہیں. اب ہمارے بچے پورا دن شرارتیں کرتے ہیں. لیکن مجال ہے جو والدہ انہیں منع بھی کریں. بلکہ ان کے ساتھ خود بھی کھیلتی رہتی ہیں.

کبھی کبھار بہنیں سسرال سے میکے آئیں تو بچہ پارٹی میں ان کے بچے بھی جمع ہوجاتے ہیں. پھر تو ادھم بازی کی انتہا ہوجاتی ہے. ہم والدہ کو کہتے ہیں کہ ہمیں تو آپ ذرا سی شرارت پر مار مار لال نیلا پیلا کردیا کرتی تھیں. انہیں کچھ کیوں نہیں کہتیں. والدہ ہنس کر ٹال جاتی ہیں. 
کسی نے درست کہا ہے: "سود اصل سے پیارا ہوتا ہے".
اولاد سے زیادہ اولاد کی اولاد پیاری لگتی ہے.

اب والد صاحب کا رجسٹر بڑا بھائی سنبھالتا ہے. اور والد صاحب پورا دن میرے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہیں.
والدہ پہلے اپنی پوتیوں نواسیوں کو کھلاتی ہیں. پھر خود کھانا کھاتی ہیں.
اب ہماری شرارتوں دشمن پانی کا پائپ صرف واشنگ مشین میں پانی بھرنے کے کام آتا ہے.

اللہ سب کے والدین کو تندرستی والی طویل عمر عطا فرمائے. اور انہیں پوتے پوتیوں کی خوشیاں دیکھنا نصیب فرمائے. آمین..

_________________________

*شکر کیجئے... اس طرح بھی سوچیے*👇

*شکر کیجئے... اس طرح بھی سوچیے*👇
〰️〰️🌹🌀🌹〰️〰️

*آپ کی مشکل نوکری ہر بیروزگار انسان کا ایک خواب ہے*

*آپ کا پریشان کرنے والا بچہ کئی بانجھ لوگوں کا خواب ہے*

*آپ کی خوشی کیی اداس لوگوں کا خواب ہے*

*آپ کی صحت کیی بیمار لوگوں کا خواب ہے*


👈 *کیا آپ کو پتہ ہے؟* 
کشمیر میں اس وقت روٹی، عزت اور جان سے بھی بڑھ کر آزادی ہے

👈 *کیا آپ کو پتا ہے؟* 
پہلے زمانے میں بیرون ممالک سفر کرنے والے سالہا سال اپنے پیاروں کی آواز نہ سن پاتے تھے شکل تو دور

👈 *کیا آپ کو پتا ہے*؟
روٹی کا نوالہ آپ پیسے سے نہیں کھاتے بلکہ قسمت سے کھاتے ہیں اور خدا کی مرضی شامل نہ ہو تو وہی نوالہ آپ کی جان لے سکتا ہے

👈 *کیا آپ کو پتا ہے؟* 
آپ کے گھر میں موجود فریج ٹی وی اے سی اور گاڑی جیسی سہولتیں بے شمار خزانوں کے مالک خدائی کا دعویٰ کرنے والے نمرود کے پاس بھی نہ تھی

👈 *کیا آپ کو پتا ہے؟*
اس دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو بینائی سے محروم اور کبھی بھی دنیا کی خوبصورتی نہیں دیکھ پائیں گے

👈کیا آپ کو پتہ ہے دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے ساری زندگی ایک لفظ نہ بولا اور نہ سنا

*تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے*

*اے میرے ﷲ ۔۔۔ میں بہت تھک چکی ہوں*


*اے میرے ﷲ ۔۔۔ میں بہت تھک چکی ہوں*
ذمہ داریاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں. 
 بیشک زندگی بہت تھکا دینے والی چیز ہے ۔۔ دنیا میں ایسا الجھ گئی ہوں کہ سکون کھوتی جا رہی ہوں  آپ سے دور ہو کر جینا نہ پہلے کبھی آیا تھا نہ اب آتا ہے میں آپکی طرف لوٹنا چاہتی ہوں اس دنیا سے نجات چاہتی ہوں میں چھوٹی سے چھوٹی بات بھی آپ سے کیا کرتی تھی...آج اپنے لیئے دوسروں سے دعائیں کراتی پھرتی ہوں...میں جو توکل کی رسی تھامے ہوئے پرسکون رہا کرتی تھی...آج امید بھری آئیتیں تلاشتی رہتی ہوں....بیشک آپ گم نہیں ہوتے ہم گمراہ ہو جاتے ہیں اور مجھے اس گمراہی سے صرف آپ نکال سکتے ہیں میری مدد کردیں ۔۔۔!!
*اے میرے پیارے ﷲ۔*۔
میرے سارے مسائل کو تو ہی جانتا ہے... تو ہی مجھے سمجھتا ہے... ۔

رونگٹے کھڑے کر دینے والی تحریر... ضرور پڑھیں اور شیئر کریں... حوریہ نور

رونگٹے کھڑے کر دینے والی تحریر... ضرور پڑھیں اور شیئر کریں... حوریہ نور 

میرابڑا بیٹاچونکہ پڑھائی کے معاملے میں بہت اچھا جارہا ہے اس لیے طے پایا کہ اسے مزید ’’ارسطو‘‘ بنایا جائے اور ٹیوشن رکھی جائے۔میں نے دبا دبا سا احتجاج کیا کہ بچے کو کھیلنے کے لیے بھی کچھ ٹائم ملنا چاہیے‘ لیکن بیگم نے غصے سے دیکھا اور کڑک کر بولی ’’آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ بچہ کچھ نہ پڑھے اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر سارا سارا دن ’’ٹام اینڈجیری ‘‘اور ’’ڈورے مان ‘‘دیکھتا رہے‘‘۔ میں نے کھسیانی آواز میں کہا’’یاروہ کارٹون تو میں صرف بچے کی دلچسپی کے لیے دیکھتا ہوں ورنہ اللہ جانتا ہے مجھے تو صرف نیشنل جیوگرافک چینل اچھا لگتاہے‘‘ ۔ حالانکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ٹام اینڈ جیری اور ڈورے مان سے عشق ہے‘ یہ کارٹون لگے ہوں تو میں اکثر کھانا کھانا بھی بھول جاتاہوں۔بہرحال فیصلہ ہوگیا کہ ثمریز کے لیے ہوم ٹیوٹر کا بندوبست کیا جائے۔ایک دوست سے ذکر کیا تو انہوں نے اگلے ہی دن ایک پڑھے لکھے نوجوان کو میری طرف بھیج دیا۔ میں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا‘ چائے پلائی اور بچے کو پڑھانے کا ’’جرمانہ ‘‘ پوچھا۔ اس نے انتہائی لاپروائی سے ٹانگ پر ٹانگ رکھی اورسپاٹ لہجے میں بولا’’پانچ ہزار۔۔۔وہ بھی ایڈوانس‘‘۔
آئیے 1988 ء میں چلتے ہیں‘ ملتان کے محلے طارق آباد میں یہ چھوٹا سا تین مرلے کاگھر ہمارا ہے‘ میں میٹرک میں پڑھ رہا ہوں‘ چھ ماہ بعد سالانہ امتحان ہونے والے ہیں اور گھر والوں کوخدشہ ہے کہ کہیں میں فیل نہ ہوجاؤں۔میں خود بھی گھر والوں کے خدشات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش میں ہوں لہذا پڑھتا تو ہر وقت ہوں لیکن صرف عمران سیریز کے ناول۔گھر میں بات چلی کہ مجھے ٹیوشن پڑھانی چاہیے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ذرائع آمدن محدود تھے اور ابا جی اپنی آمدنی میں سے میری ٹیوشن کے لیے ماہانہ ’’ڈیڑھ سو‘‘ روپیہ نکالنے سے قاصر تھے۔میں نے انہیں بڑا یقین دلایا کہ میں دل لگا کر پڑھ رہا ہوں لیکن پتا نہیں کیوں انہیں ہمیشہ میری پڑھائی پر شک ہی رہا۔انہی دنوں پتا چلا کہ ہمارے محلے میں چھ گلیاں دور ایک خدا ترس‘ ماسٹر شفیع صاحب رہتے ہیں جو بچوں کو مفت ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ہمارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور طے پایا کہ اب سے میں ماسٹر شفیع کے پاس ٹیوشن پڑھنے جایا کروں گا۔
اُن دنوں ٹیوشن تو ہوتی تھی لیکن پیسے ایڈوانس نہیں لیے جاتے تھے لہذا میں نے ماسٹر شفیع کے پاس جانا شروع کر دیا۔ ان کے گھر کی بیٹھک میں لگ بھگ بیس طالبعلم ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔ماسٹر شفیع اتنی محبت اور انہماک سے ہمیں پڑھاتے کہ ٹیوشن کا ٹائم ختم ہونے کے بعد بھی دل کرتا کہ ان کے پاس بیٹھے رہیں۔ان کی بیٹھک کا اندرونی دروازہ ایک اور چھوٹے سے کمرے میں کھلتا تھا ‘ یہ کمرہ ماسٹر صاحب کا تھا ‘ گو کہ میں ابھی تک اس کمرے میں نہیں گیا تھا لیکن جس جگہ میں بیٹھتا تھا وہاں سے اِس کمرے میں پڑی جائے نماز‘ تسبیح اور کتابوں کا ڈھیر ضرور نظر آتا تھا۔مجھے ماسٹر صاحب کے پاس ٹیوشن پڑھتے ہوئے ایک ماہ پوراہوا تو ایک دن ماسٹر صاحب نے ایک ایسا جملہ کہا کہ میرے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ انہوں نے اندر والے کمرے کی طرف اشارہ کر کے کہا’’باری باری جاؤ اور اپنی فیس کے پیسے پلنگ کے پاس پڑے ہوئے ڈبے میں ڈال آؤ‘‘۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں‘ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ ماسٹر صاحب مفت پڑھاتے ہیں لیکن وہ تو پیسے مانگ رہے تھے۔میں نے پاس بیٹھے اپنے دوست علی عباس کو کہنی ماری ’’ماسٹر صاحب کی فیس کتنی ہے؟‘‘ اُس نے سرگوشی میں جواب دیا’’ڈیڑھ سو روپے‘‘۔۔۔اور میرے ہاتھ پاؤں سن ہوگئے۔مجھے صاف پتا چل رہا تھا کہ آج سب کے سامنے ذلیل ہونا پڑے گا۔ بیٹھک میں بیٹھا ایک ایک لڑکا باری بار ی اٹھ کر اندر کمرے میں جاتا اور فیس کے پیسے ڈبے میں ڈال کر واپس آجاتا۔ تھوڑی ہی دیر میں علی عباس کی باری آگئی‘ وہ اطمینان سے اُٹھا اور اندر چلا گیا۔ بے عزتی اور شرمندگی کے احساس سے میری ہتھیلیاں نم ہونے لگیں‘میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ علی عباس واپس آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ماسٹر صاحب کی نظریں میری طرف اٹھ گئیں۔میں بوکھلا کر کھڑا ہوگیا اور بظاہر اپنا آپ معتبر بناتے ہوئے کمرے کی طرف چل دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے بائیں طرف دیکھا جہاں ایک پرانا سا پلنگ پڑا ہوا تھا‘ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی لکڑی کی میز تھی جس پر گتے کا ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا‘ ڈبے کے چاروں طرف کالے رنگ کی ٹیپ لپیٹی ہوئی تھی اوراوپر والی طرف چھوٹا ساسوراخ تھا‘ یہ بالکل ایسا ہی ڈبہ تھا جیسے چندے کے ڈبے ہوتے ہیں۔میں کچھ دیر سوچتا رہا‘ پھر اچانک دماغ میں ایک ترکیب آئی۔اگر میں ایسے ہی واپس چلا جاؤں تو؟؟؟۔۔۔ماسٹر صاحب کو بھلا کیسے پتا چلے گا کہ کس طالبعلم نے فیس کے پیسے نہیں دیے‘ یہ خیال ذہن میں آتے ہی میرے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔میں چند ساعتوں کے لیے وہیں رُکا اور پھر بڑے اطمینان سے بیٹھک میں آکر واپس بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہمیں چھٹی ہوگئی۔
اگلے دن میرا دل دھک دھک کر رہا تھا کہ کہیں ماسٹر صاحب کو میرے فراڈ کا پتا نہ چل گیا ہو‘  لیکن شاید میری چال کام کر گئی تھی‘ ماسٹر صاحب کو کچھ پتا نہ چل سکا اور میں اطمینان سے ٹیوشن پڑھتا رہا۔دوسرا مہینہ ختم ہوا تو میں نے پھر یہی طریقہ اختیار کیا اور صاف بچ نکلا۔اب مجھے بھی اطمینان ہوگیا تھا کہ کچھ نہیں ہونے والا لہٰذا ہر دفعہ جیسے ہی فیس دینے کی باری آتی‘ میں کمرے کے اندر جاتا اور گردن اکڑائے باہر آجاتا۔اب مجھے ماسٹر صاحب سے ٹیوشن پڑھنے میں زیادہ مزہ آنے لگا تھا کیونکہ اب مجھ میں کافی اعتماد آگیا تھا کہ بہرحال اب میں ’’فیس‘‘ ادا کرکے ٹیوشن پڑھ رہا ہوں۔چھ ماہ تک میں نے ماسٹر صاحب کو یونہی بیوقوف بنائے رکھا اورمفت ٹیوشن کے مزے لوٹے۔ اس کے بعد سالانہ امتحان ہوگئے اور ٹیوشن بھی ختم ہوگئی۔میٹرک کے نتائج کے اعلان سے پہلے دو ماہ کی چھٹیاں تھیں لہذا میں نے خوب ناول پڑھے اور دوستوں کے ساتھ ہاکی اور ٹیبل ٹینس کھیلا۔ہم دوست جب بھی گراؤنڈ کی طرف جارہے ہوتے تو اکثر راستے میں ہمیں ماسٹر صاحب مل جاتے‘ ہم سب انہیں سلام کرتے‘ میں دل ہی دل میں قہقہے لگاتا کہ میں نے چھ ماہ تک ماسٹر صاحب کو پوری فیس ادا کرکے مفت ٹیوشن پڑھی ہے۔
1992 ء میں ماسٹر شفیع انتقال کرگئے‘ میں ان کے جنازے میں بھی شریک ہوا تھا اور دل ہی دل میں اُن سے اپنی حرکت کی معافی بھی مانگی تھی۔آج ماسٹر شفیع مجھے اس لیے بھی یاد آگئے کہ لگ بھگ 22 سال بعد میری ملاقات علی عباس سے ہوئی ‘ وہ ایک معروف الیکٹرانکس کمپنی میں مارکیٹنگ ہیڈ ہے‘ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے‘ ملتان کی یادیں اور بچپن کی شرارتیں یاد کیں۔میں نے ہنستے ہوئے علی عباس کو اپنی ٹیوشن فیس والی حرکت بھی بتائی۔۔۔میری بات سن کر وہ یکدم سکتے میں آگیا‘ پھر بے اختیار اس کی پلکوں کے گوشے نم ہوگئے۔میں گھبرا گیا کہ کہیں میری حرکت کا خمیازہ علی عباس تو نہیں بھگتتا رہا؟؟؟ لیکن علی عباس نے ایک ایسی بات کہی کہ میرا پورا وجود برف ہوگیا۔کہنے لگا’’ ماسٹر شفیع سے ٹیوشن پڑھنے والا ہر طالبعلم یہی کیا کرتا تھا.

ماخوذ

🔘 *سبق آموز واقعہ* 🔘

🔘 *سبق آموز واقعہ* 🔘

لندن کے ایک امام مسجد کا سچا واقعہ 

کہا جاتا ہے کہ لندن کےایک امام صاحب تھے۔

 روزانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول تھا۔

لندن میں لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔

1مرتبہ یہ امام بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر1 نشست پر بیٹھ گئے۔

ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔

پہلے امام صاحب نے سوچا کہ یہ20 پنس وہ اترتے ہوئےڈرائیور کو واپس کر دینگے کیونکہ یہ اُنکا حق نہیں بنتے۔ 

پھر 1 سوچ آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُنکی کمائی میں کیا فرق پڑے گا؟ میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔

اسی کشمکش میں کہ واپس کروں یا نہ کروں، امام صاحب کا سٹاپ آگیا۔

بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو 20 پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ 

یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے۔

ڈرائیور نے 20 پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛ 

کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ 

میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آکر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ 

یہ 20 پنس میں نے جان بوجھ کر آپکو زیادہ دیئے تھے تاکہ آپکا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔

امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنےکیلئے ایک بجلی کے پول کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، 

یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔

یاد رکھئیے

 بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔

یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔

کوشش کریں کہ کہیں کوئی ہمارے شخصی اور انفرادی رویئے کو اسلام کی تصویر اور تمام مسلمانوں کی مثال نہ بنا لے. 

اگر ہم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی کسی حرکت کی وجہ سے اسے اسلام سے متنفر بھی نہ کریں.

*ہم مسلمانوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ سفید کپڑے پر لگا داغ دور سے نظرآجاتا ہے*

استخارہ

استخارہ کے فوائد
(۱)استخارہ دلیل ہے مومن کے دل کے اللہ کے ساتھ ہر حال میں تعلق پر۔

(۲)استخارہ قضاءو تقدیر پر رضامند ی کی دلیل ہے۔

(۳)دنیا وآخرت میں سعادت کا سبب ہے۔

(۴)استخارہ کے بعد انسان میسر اسباب کے مطابق کوشش کرتا ہے تو خوشی اور سکون ملتا ہے اور (جو بھی حاصل ہو تا ہے اس پر)رضا اور قناعت سے خوشی محسوس کرتا ہے۔

(۵)استخارہ کی ہر چھوٹے بڑے معاملے میں سخت ضرورت ہے۔

(۶)استخارہ سے انسان کی روحانیت بڑھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت میں پختہ یقین ہو تا ہے۔

(۷)استخارہ سے انسان کان ثواب اور ہے اپنے رب سے قرب بڑھتا ہے کیوں کہ اس کے ساتھ نماز اور دعا بھی ہوتی ہے۔

(۸)استخارہ انسان کے اپنے رب پر بھروسہ کی دلیل اور اس کے قرب کا وسیلہ ہے۔

(۹)استخارہ کرنے والا اپنی کوشش میں ناکام نہیں ہوتا اور اسے بھلائی اور خیر کو اختیار کرنا نصیب ہوتا ہے اور ندامت سے بچاؤ ہوتا ہے۔

(۱۰)استخارہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی ثناء ہے۔

(۱۱)استخارہ کے اندرپریشانی اور شک سے نکلنے کا راستہ ہے اور یہ اطمینان اور خوش حالی کا ذریعہ ہے۔

(۱۲)استخارہ کے اندر سنت مطہرہ پر عمل ہوتا ہے اور اس کی برکت حاصل ہوتی ہے۔

نضرۃ النعیم

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...