Saturday, 19 September 2020

🔘 *کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں* 🔘

🔘 *کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں* 🔘

میں ایک گھر کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک مجھے گھر کے اندر سے ایک دس سالہ بچے کے رونے کی آواز آئی۔ آواز میں اتنا درد تھا کہ مجھے مجبوراً گھر میں داخل ہو کر معلوم کرنا پڑا کہ یہ دس سالہ بچا کیوں رو رہا ہے۔ اندر داخل ہو کر میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آہستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ہو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رہی ہو جبکہ خود بھی روتی ہو۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ہے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں اور ہم بہت غریب بھی ہیں۔ 
میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ہوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ہوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ہے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ہے۔ جاتے ہوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ہے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ہے۔ میں نے بچے اور اس کی ماں  کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔
ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رہا ہے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر  اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہو رہا تھا کہ چکر کیا ہے۔ میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دوکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ہی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ہی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔بھلا ہو اس شخص کا  جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہی کہا۔ تھوڑی سی سبزی تھی جلد ہی فروخت ہو گئی۔اور وہ بچہ اٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ہوا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر  دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔ 
 میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹا دیر ہو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے  سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ہے اسے مت مارو۔ استاد فرمانے لگے کہ سر یہ روزانہ ایک گھنٹا دیر سے آتا ہے میں روزانہ اسے سزا دیتا ہوں کہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ہوں۔ بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ہوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ہی گیا ہوں۔
حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔ 
اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ منڈی ٹائم ہر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔ سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ہوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔ میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ہے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ہوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہی۔چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ہم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔ حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت ہی درد بھری سیسکیاں لے کر زاروقطار رو رہی تھی اور میں نے  فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رہے تھے۔دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ہو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو۔
اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ہوئے سکول چلا گیا۔ 
حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ہوگئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے لو۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹا لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ہاتھ آگئے بڑھا دیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔
استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ہے وہ کس کے لیے ہے۔ بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئ سوٹ نہی ہے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ہے۔ یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟ میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ہی نکال دی۔۔۔۔ 
بچے نے جواب دیا نہیں انکل جی چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے دوں گا.... 😭😭



*اگر پوسٹ اچھی لگی ہے تو شٸیر ضرور کردیجٸیے*


Friday, 18 September 2020

ہمیں صرف اسلامی قانون چاہیے:

ہمیں صرف اسلامی قانون چاہیے:

لوگوں کے اعضاء نہ کاٹیں بلکہ نکاح کو آسان کریں شادی کی فضول رسومات کو ختم کریں جہیز پر پابندی لگائیں وراثت کو یقینی بنائیں کیونکہ بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ بچی گناہ و ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بنیں گے اور گناہ کریں گے.

اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا نکاح انسانوں کا طریقہ ہے جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں رہ سکتے ہیں ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں جوان بچیوں کو یونیورسٹیز ہوسٹل میں رکھنا شرعا حرام ہے ان کی بنیادی ضرورت نکاح ہوتا ہے اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے اور زنا کیلئے سخت ترین وعیدیں ہیں.

بلوغت کے بعد مرتے دم تک نکاح انسان کے حیا کی حفاظت کرتا ہے بغیر نکاح کے انسان باولے کتے کی مانند ہوتا ہے وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے اور نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے بدقسمتی کی انتہا یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔

والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں
نوجوانوں کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ جنسی زندگی  ہے اور اس پہ بات کرنا ہمارے معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے جو والدین اولاد سے دوستی نہیں کرتے یا جو بچے والدین سے دوستی نہیں کرتے وہ مستقل نقصان کرتے رہتے ہیں نکاح کی تحریک شروع کریں نکاح کو آسان بنائیں اگر اپنی معاشرت عزیز ہے بصورت دیگر 
عذاب کا انتظار کریں.

Sunday, 13 September 2020

یک مجاہد جس نے 17 سال جہاد کیا بیان کرتا ہے:

 یک مجاہد جس نے 17 سال جہاد کیا بیان کرتا ہے:


میں نے اپنے امیر سے اجازت لی اور گھر واپس آیا۔ اپنی والدہ سے پوچھا:


امی! میری خالہ کیسی ہیں؟

(جواب ملا): وہ وفات پا چکی ہیں۔

(اور) پھوپھو کیسی ہیں؟

وہ بھی وفات پا چکی ہیں۔

(اور) میرے چچا کیسے ہیں؟

وہ بھی گزر چکے ہیں۔


میں نے کہا:

"دیکھیں! 17 سال جس موت کی امید آپ نے مجھ سے کی، مجھے نہیں آئی لیکن ان لوگوں کو آ گئی جو (گھروں میں) بیٹھے تھے۔" 


___


کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے ( مکی زندگی میں ) کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کر رکھو ، اور نماز قائم کیے جاؤ اور زکوٰۃ دیتے رہو ۔ پھر جب ان پر جہاد فرض  کیا گیا تو ان میں سے ایک جماعت ( دشمن ) لوگوں سے ایسی ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے ، یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے لگی ، اور ایسے لوگ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ، تھوڑی مدت تک ہمیں مہلت کیوں نہیں دی؟   کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے ، اور جو شخص تقوی اختیار کرے اس کے لیے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے ، اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔

تم جہاں بھی ہوگے ( ایک نہ ایک دن ) موت تمہیں جاپکڑے گی ، چاہے تم مض


مائیں اتنی معصوم کیوں ہوتی ہیں

😥😥😥
مائیں اتنی معصوم کیوں ہوتی ہیں؟
موبائل فون میں ایک مقبول عام ایپ ہے’’ٹاکنگ ٹام‘‘۔ آپ جانتے ہوں گے کہ اِس ٹام کے سامنے جو کچھ بولا جاتا ہے یہ اُسے مضحکہ خیز آواز کے ساتھ دُہرا دیتا ہے۔ یہ آپ ہی کی آواز ہوتی ہے جو پچ کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ آپ کو سنائی دیتی ہے۔ شہزاد صغیر میرا دیرینہ دوست ہے۔ اُس کی والدہ حیات تھیں تو ایک پرانے اینڈرائڈ موبائل پر بطور خاص ٹاکنگ ٹام سے گھنٹوں باتیں کیا کرتی تھیں۔حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جب وہ ٹاکنگ ٹام سے باتیں کرتیں تو پہلے وضو کرتیں، پھر سر پر چادر اوڑھ کر نہایت انہماک سے گھر کے کسی پرسکون کونے میں بیٹھ کر ٹاکنگ ٹام ایپ کھول کر گفتگو کرنے لگتیں۔ گھر والوں نے پوچھا کہ ماں جی یہ آپ کیا باتیں کرتی ہیں؟ جواب ملا ’میں اسے قرآن پڑھا رہی ہوں‘۔ شہزاد صغیر کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ بڑی خوش تھیں کہ ٹاکنگ ٹام نامی یہ بچہ بڑی محنت اور محبت سے قرآن کی آیات سیکھ رہا ہے اور جیسا میں سکھاتی ہوں ویسا ہی آگے سے پڑھتاہے…!!!
کئی برس پہلے میں لاہور کے ایک ٹی وی چینل سے بطور اسکرپٹ ایڈیٹر وابستہ تھا ۔ملتان سے ماں جی بے تابی سے پوچھا کرتی تھیں کہ کب آئو گے؟ میری مصروفیات کچھ ایسی تھیں کہ ایک سال سے پہلے چکر لگانا مشکل ہوتا تھا لہٰذا میں رمضان کے آخری دنوں میں ہرحال میں ملتان پہنچ جایا کرتا تھا تاکہ عید والدین کے ساتھ کرسکوں۔ ایک دفعہ چینل کی تنخواہ کچھ لیٹ ہوگئی۔ پچیسواں روزہ تھا۔ ماں جی کے فون پر فون آرہے تھے کہ تم آکیوں نہیں رہے۔ پہلے تو میں بہانے بناتا رہا لیکن جب اٹھائیسواں روزہ آگیا اور تنخواہ نہ ملی تو مجبوراً مجھے بتانا پڑا کہ ابھی مجھے پیسے نہیں ملے۔ ماں جی کی آواز میں پریشانی امڈ آئی۔فوراً بولیں’’میں تمہارے ابو کو لاہور بھیجتی ہوں تاکہ وہ تمہاری ’’فیکٹری ‘‘ والوں سے جاکر پوچھیں کہ آخر بچے کے پیسے کیوں نہیں دے رہے…‘‘
بیس سال پہلے مجھے ایک اخباری فیچر کی تیاری کے سلسلے میں جیل جانے کا اتفاق ہوا۔فیچر کا موضوع تھا کہ سزائے موت کے قیدی کیا محسوس کرتے ہیں؟ جیل میں میری ملاقات ایک ایسے قیدی سے ہوئی جسے فخر تھا کہ اُس نے اپنے دو دشمنوں کو سوتے میں موت کے گھاٹ اتاردیا۔ یہ قیدی ایک پچیس سال کا نوجوان لڑکا تھا جسے سزائے موت سنائی جاچکی تھی اور سپریم کورٹ سے بھی اُس کی اپیل رد ہوگئی تھی۔میں نے جیل انتظامیہ سے اُس کے گھر کا ایڈریس لیا اور اُس کی ماں سے ملا۔ جب اسے پتا چلا کہ میں صحافی ہوں اور اُس کے بیٹے سے مل کر آرہا ہوں تو ایک دم رونے لگی اور ہاتھ جوڑ کر بولی’’میرے بچے کو چھوٹی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا نہیں ملنی چاہیے‘‘۔ میں نے بے بسی سے کہا کہ ماں جی آپ کے بیٹے نے دو قتل کیے ہیں اور اعتراف بھی کرچکا ہے۔ ماں بھرائی ہوئی آواز میں بولی’’پُتروہ تو ناسمجھ ہے، جب میں کہہ رہی ہوں کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا تو پھر یہ لوگ اُسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے…اُنہیں کہو اگر میری بات کا یقین نہیں تو میرا تین مرلے کا سارا مکان گارنٹی کے طور پر رکھ لیں۔‘‘
میرے ایک دوست ریحان علی کے والد فوت ہوئے تو جائیداد کا بٹوارہ ہوگیا۔ والد صاحب کا آبائی گھر بک گیا تو ریحان نے اپنے حصے کے پیسے بھی والدہ کو تھما دیے۔ والدہ نے زندگی میں کبھی دو ہزار سے زائد کی رقم نہیں دیکھی تھی سو پریشان ہوگئیں اور پوچھا کہ یہ کتنے پیسے ہیں؟ ریحان نے بتایا کہ امی دس لاکھ ہیں۔ والدہ مزید پریشان ہوگئیں ۔ ان کی بلا جانے کہ دس لاکھ کیا ہوتے ہیں، نہایت رازدارانہ انداز میں بولیں’’پیسے بہت زیادہ لگتے ہیں کہیں گھر میں ڈاکا ہی نہ پڑ جائے ایسا کرو پانچ ہزار بینک میں رکھوا دو ، باقی بے شک یہیں پڑے رہنے دو۔‘‘
پاکستان کے صف اول کے ایک مقبول اداکار بتانے لگے کہ ایک دفعہ انہوں نے ایک ڈرامے میں ایک سنگدل شوہر کا کردار ادا کیا جو اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرلیتاہے اور وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ڈرامے کی بیس اقساط آن ایئر جاچکی تھیں۔اسی دوران اُنہیں اپنے ایک دوست کے گھر کھانے پر جانے کا اتفاق ہوا۔ جونہی دوست کی والدہ نے اداکار کو دیکھا اُسے نہایت پیار سے ہاتھ پکڑ کر تخت پوش پر بٹھایا اور سمجھانے لگیں کہ بیٹا تمہاری بیوی بہت مشکل میں ہے، نہ اس کے پاس کوئی گھر ہے نہ کوئی ٹھکانا۔ بچے بھی رُل گئے ہیں۔ خدا کے لیے جائو اور اُسے واپس لے آئو ، مجھے پتا ہے وہ اس وقت کہاں ہے۔‘‘
کچھ عرصہ پہلے ایدھی ہوم میں ایک 75 سالہ ماں جی سے ملاقات ہوئی۔ بہت خوش نظر آئیں۔ حیرت سے پوچھا کہ آپ کی اولاد آپ کویہاں چھوڑ گئی ہے اور آپ اتنی خوش ہیں؟ چہک کر بولیں’’وے کملیا! میرے بچوں نے تو مجھ پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا ہے‘‘۔ تفصیل پوچھی تو بڑے فخر سے بتانے لگیں کہ ’’میرے دو بیٹے ہیں، دونوں شادی شدہ ہیں لیکن میری بہوئیں اچھی نہیں۔مجھے کھانا بھی نہیں دیتی تھیں اور بغیر پنکھے والے کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ اصل میں وہ ہر وقت میرے مکان پر قبضے کے خواب دیکھتی رہتی تھیں۔ پھر میرے بیٹوں نے مجھے کہا کہ ماں جی یہ چھوٹا سا گھر ہے اسے بیچ دیتے ہیں اور ہم اپنے پیسے بھی ملا کر آپ کے لیے ایک بہت بڑاسا گھر لے لیتے ہیں جہاں ہماری بیویوں کو آنے کی اجازت ہی نہیں ہوگی۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا۔میں نے گھر اُن کے نام کردیا۔ گھر بک گیا لیکن میرے بچوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور یہ دیکھو مجھے اتنا بڑا گھر لے کر دیا ہے جہاں اتنے سارے پنکھے بھی لگے ہوئے ہیں، کھانا بھی وقت پر ملتا ہے اور میری کوئی بہو یہاں قدم بھی نہیں رکھتی۔اللہ میاں میرے بچوں کو دنیا جہان کی خوشیاں دے۔
تحریر مستعار
✍️ادبی تحریریں📚

قیمتی باتیں

1- آپ کے جوتے وہ پہلی چیز ہیں جن کی وجہ سے لوگ آپ کی شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ نفیس جوتے پہنو ۔

2- اگرآپ گیارہ گھنٹے سے زیادہ بیٹھے رہتے ہیں تو جان لیں کہ پچاس فیصد امید ہے آپ دو سال میں بیمار ہو جائیں گے ۔

3- کم ازکم چھ لوگ دنیا میں آپ کے ہم شکل موجود ہیں ۔ اور نو فیصد امید ہے کہ زندگی میں ان میں سے ایک سے آپ کی ملاقات بھی ہو گی

4- تکیے کے بغیر سونے سے آپ کی کمر مضبوط ہوتی ہے ۔ اور کمر درد سے آرام محسوس ہوتا ہے

5-کسی شخص کا قد عموما اس کے باپ کی طرح ہو گا ۔ اور وزن اس کی ماں کی طرح

6- انسانی دماغ تین چیزوں پر فورا متوجہ ہوتا ہے ۔ کھانا ، دلکش لوگ اور خطرہ

7-دایاں ہاتھ استعمال کرنے والے کھانا بھی دائیں طرف چباتے ہیں ۔

8- خشک ٹی بیگ ورزش کے سامان اور بدبودار جوتوں سے بدبو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

9- البرٹ آئن سٹائن کے مطابق اگر زمین سے شہد کی مکھی کا وجود ختم ہو جائے تو انسانی حیات چار دن میں ختم ہو جائے گی ۔

10- سیب کی اتنی زیادہ اقسام ہیں کہ اگر ہر روز ایک نئی قسم کا سیب آپ کھانا شروع کر دیں ۔ تو بیس سال تک کھاتے رہیں گے ۔

11-آپ کھانے کے بغیر ہفتوں تک زندہ رہ سکتے ہیں ۔ لیکن نیند کے بغیر صرف گیارہ دن زندہ رہ پائیں گے ۔

12-ہنسنے مسکرانے والے لوگ خشک مزاج لوگوں سے زیادہ صحت مند ہوتے ہیں ۔

13-سستی اسی طرح لوگوں کو ہلاک کرتی ہے جیسے سگریٹ نوشی ۔

14- ایک انسانی دماغ وکی پیڈیا سے پانچ گُنا زیادہ معلومات جمع کر سکتا ہے ۔

15- ہمارا دماغ دس واٹ کے بجلی کے بلب جتنی طاقت استعمال کرتا ہے ۔

16- ہمارا جسم تیس منٹ میں اتنی حرارت پیدا کرتا ہے کہ ڈیڑھ لڑ پانی اُبالا جا سکتا ہے ۔

17- ہر روز دس منٹ پیدل چلنا چاہئیے ۔ مسکراتے ہوئے ۔ اس سے ڈپریشن دور ہوجاتا ہے ۔
#یو کے یوسفزئی
کچھ دن پہلے چھوٹے بھائی کا فون آیا۔ جو اماں کا سب سے لاڈلہ تھا کہ اماں نے اس سے بات چیت بند کی ہوئی ہے۔ لہٰذا میں سفارش کر کے اماں کو راضی کرلوں۔ گاؤں جب گیا، اماں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ سلام کرکے چارپائی کے ایک کونے پر ادب سے بیٹھ گیا۔ اور بولا کہ اماں چھوٹے کا فون آیا تھا۔ آپ کس بات پر اُس سے ناراض ہیں؟ معاف کردیں اُسے اماں غصے سے اُٹھ گئیں۔ اور کہا کہ وہ تو اپنا دودھ بھی اس کو نہ بخشیں، اتنا دل دُکھایا ہے اُس نے۔ میں ہل کر رہ گیا۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ گھر میں ابا کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تو اماں نے چھوٹے کا اے ٹی ایم کارڈ ابا کو دیا کہ اکاونٹ سے پیسے نکال کر خرچ کرلینا۔ اگلے دن چھوٹے کا فون آیا کہ ابا کو میرے پیسے نظر آگئے تھے۔ میرے اپنے بچے ہیں اپنے بچوں کےلئے کچھ بچاسکوں۔ ابا کو احساس ہی نہیں ہے۔ 
اماں بتارہی تھیں اور روئے جارہی تھیں کہ ابھی تو میں زندہ ہوں اور یہ لوگ میرے شوہر کی توہین کررہے ہیں۔ کتنی مشکلوں سے میرے شوہر نے ان کو پال پوس کر بڑا کیا۔ اگر میں اُس کے ساتھ لڑتی جھگڑتی ہوں۔ تو وہ ہم دونوں کا آپس کا معاملہ ہے۔ مگر کسی کو یہ حق نہیں دوں گی کہ وہ میرے جیتے جی میرے سُہاگ کی توہین کرے۔

میں خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اور فون نکال کر بیوی کو کال ملائی۔ آگے سے پُھنکارتی ہوئی آواز میں وہ چیخی کہ یہ معلوم کرنے کےلئے فون کیا ہے ناں؟ کہ میں زندہ ہوں، یا مر گئی ہوں۔
میں نے کہا کہ کیا واقعی تم میرے بغیر زندہ رہ سکتی ہو؟

دوسری طرف فون پر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

هنسنا منع ہے

😋ھنسنا_منع_ھے 🙂

ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا . طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے
پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے

جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے .
پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا
موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے

اور سبزے کی بہتات ہو جاتی ہے ، اس موسم کو اونٹ بہت پسند کرتے ہیں اور اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے

اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
پرنسپل صاحب نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ مناسبت کی وجہ سے بہار کی بجائے اونٹ پر لکھ بیٹھا ہو آپ اسے کوئی اور موضوع دے کر دیکھتے

استاد صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ تم اس طرح کرو کہ جاپان میں گاڑیوں کی فیکٹری پر مضمون لکھو۔ اس طالب علم نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا

جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور گاڑیوں کی صنعت میں اس کو منفرد و اعلی مقام حاصل ہے۔ جاپان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے گاڑیاں برآمد کرنے میں۔ ہمارے ملک میں بھی زیادہ تر گاڑیاں جاپان کی استعمال ہوتی ہیں

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمت بہت زیادہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم سواری کے لیے اونٹ کا استعمال کریں اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے

اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل بہت حیران ہوا اس نے کہا کہ شاید سواری کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے ، آپ بالکل ہی کوئ الگ موضوع دے کے دیکھتے ۔

استاد صاحب نے کہا جی ایک دفعہ میں نے بالکل ہی الگ موضوع دیا جس میں اونٹ کا ذکر آنا ہی ناممکن تھا میں نے اسے کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو کہا لیکن اس نے جو مضمون لکھا وہ کچھ اس طرح تھا

کمپیوٹر ایک نہایت ہی حیران کن ایجاد ہے۔ جو کام پہلے سالوں میں نہیں ہوتے تھے وہ آج سکینڈوں میں ہوتے ہیں ۔کمپیوٹر کا انسانی زندگی پر بہت بڑا احسان ہے۔ آج کل کی نئی نسل کمپیوٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔اس کا استعمال زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں

جو تعلیم یافتہ ہوں۔ لیکن جہاں تک غیر تعلیم یافتہ طبقے کا تعلق ہے تو وہ کمپیوٹر پر توجہ نہیں دیتے کیوں کہ وہ اور سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بالخصوص صحراوں میں جو بدھوں رہتے ہیں

ان کو تو کمپیوٹر کی الف ب کا پتا نہیں۔ لہذا ہمارے علاقے میں یہ لوگ زیادہ تر وقت اونٹ کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے

۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل نے یہ سنکر کہا کہ پھر تو آپ نے ٹھیک فیل کیا ، پھر طالب علم سے کہا کہ میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں آپ بہیں بیٹھ کر ایک مضمون لکھو جو موضوع سے ادھر ادھر نہ ہٹے ،
طالب علم مان گیا اور پرنسپل نے اسے ایک روڈ ایکسیڈنٹ پر مضمون لکھنے کو کہتا ہے تو طالب علم یوں مضمون لکھتاہے
ایک دفعہ میں ریاض سے مکہ جا رہا تھا۔ میرے پاس ٹویوٹا کرسیڈا گاڑی تھی جو بڑی مست تھی۔ میں جناب ہائی وے ہے پر بہت ہی تیز رفتاری کے ساتھ جا رہا تھا

میں ایسے علاقے سے گزر رہا تھا جہاں پر اونٹ روڈ کراس کرتے ہیں۔ اور اونٹ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ ہی گاڑی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی دور ہٹتا ہے۔ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔

اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب پرنسپل صاحب نے یہ مضمون پڑا تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ تمہارا کوئی علاج نہیں اور اس کو فیل کردیا۔ اب جناب اس شاگرد کا شک یقین میں بدل گیا کہ اس کے ساتھ ضرور بالضرور ظلم ہوا ہے اور اس نے محکمہ تعلیم کو ایک درخواست لکھی

جناب عالی
میں اپنی کلاس کا ایک نہایت ہی ذہین طالب علم ہوں اور مجھے سالانہ امتحان میں جان بوجھ کر فیل کر دیا گیا ہے ، میرے استاد نے میری قابلیت کی وجہ سے مجھے فیل کیا ہے ،

جناب میں نے اپنے استاد کے ناقابل برداشت رویہ پر ایسے ہی صبر کیا جیسے اونٹ اپنے مالک کے ستانے پر صبر کرتا ہے۔ مالک اونٹ سے اپنے کام بھی نکلواتا ہے اور اس کو ستاتا بھی ہے۔
اور ہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اونٹ بہت ہی طاقت ور جانور ہے۔ یہ صحراء کا جہاز کہلاتا ہے۔ اونٹ نہایت ہی صابر جانور ہے۔ لمبے لمبے سفروں پر نکلتا ہے 

اور زیادہ دن بھوک و پیاس برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عرب کے لوگ اونٹ کو بہت پسند کرتے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کے کام بھی آتا ہے😂😂😂😂😂😂😂😂

منقول۔۔
✍️ادبی تحریریں📚

یہ سانپ کئی طریقہ سے ڈستے ہیں

بہت پرانا قصہ ہے۔ بارہا کہا گیا بارہا سنا گیا۔ایک شخص جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے خاردار جھاڑیوں میں ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا سانپ زخموں سے چور ملتجیٰ نظروں سے اس آدمی کو دیکھنے لگا آدمی کو سانپ پہ ترس آگیا اور اس نے اک زیتون کی شاخ لے کر زخمی سانپ کو جھاڑیوں سے باہر نکالا
باہر نکلے کے بعد بجائے اسکے کہ سانپ اس آدمی کا مشکور ہوتا سانپ نے پھنکارنا شروع کردیا میں تمہیں ڈسوں گا، میں تمہیں ڈسوں گا۔
اب آدمی مشکل میں پھنس گیا اسے سمجھ نہ آئے کیا کرے۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی مگر سانپ کے زہر کے ڈر سے بھاگ نہ سکا۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ نیکی گلے پڑگئی

 
اس آدمی نے سانپ سے کہا میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی مگر تم بجائے ممنون ہونے کے الٹا مجھے ڈسنے پہ آمادہ ہو۔ سانپ نے کہا ہاں نیکی کا بدلہ بدی ہے۔

اس آدمی نے کہا چلو کسی معزز کسی منصف کے پاس چلتے ہیں فیصلہ کروا لیتے ہیں۔ میں نے نیکی کی ہے اور میرے خیال میں نیکی کا بدلہ نیکی ہے
اس لیے فیصلہ میرے حق میں ہی ہوگا۔ سانپ نے کہا یہ رہا گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان فیصلہ کروانا کون سا مشکل کام ہے ابھی چلتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا آج
نیکی کا بدلہ بدی ہے
اس لیے فیصلہ میرے حق میں ہوگا۔ سب سے پہلے وہ آدمی اور سانپ ایک گائے کے پاس گئے اور اپنا مدعا بیان کیا۔
اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کے سانپ کہتا ہے کہ
نیکی کا بدلہ بدی ہے۔
گائے نے ساری کہانی سنی اور ٹھنڈی آہ بھر کر بولی اے شخص شاید تمہیں قبول نہ ہو مگر
اب نیکی کا بدلہ بدی ہے۔
مجھے دیکھو میں جوان تھی تو مالک کو دودھ دیتی تھی۔ مالک کا بوجھ اٹھاتی تھی۔ اس کے بچے میرا دودھ پی کر جوان
ہوئے ہیں۔ مالک بھی میرا خیال رکھتا تھا۔ مجھے چارہ اور پانی دیتا تھا۔ اب میں بیمار اور بوڑھی ہوگئی ہوں۔ اب میں دودھ دینے کے قابل نہیں رہی۔ تو مالک نے میرا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اب میں بھوکی مروں یا پیاسی اس کی بلا سے۔
یہ سن کر سانپ خوشی سے پھنکارنے لگا میں تمہیں ڈسوں گا
میں تمہیں ڈسوں گا۔ اب پریشان آدمی نے اس سے کہا یہ گائے بیمار ہے عربی کی کہاوت ہے بیمار کی رائے بھی بیمار ہوتی ہے چلو کسی اور سے پوچھتے ہیں۔ سانپ مان گیا۔

آگے ان کو ایک گدھا ملا۔ گدھے نے پوری بات سنی اور کہا میرے خیال میں بھی
نیکی کا بدلہ بدی ہے۔
جب میرے اندر دم تھا میرا مالک
دن رات مجھ پہ سوار رہتا تھا۔ میرے مالک نے میری سواری کرکے قریہ قریہ گھوما ہے۔ مجھ پہ میری سکت سے دوگنا بوجھ لادتا رہا۔ اب جب میں بوڑھا ہوگیا تو میرے مالک نے مار پیٹ کے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ اب میں جنگل میں درندوں سے بچتا پھرتا ہوں۔ اس حالت میں میرا کوئی پرسان حال نہیں۔

 
سانپ یہ بات سن کر آدمی کو ڈسنے ہی لگا تو آدمی نے منت سماجت کرکے سانپ سے کہا مجھے اک موقع اور دے دو۔
گدھے میں کہاں کی عقل جو ہم اس سے فیصلہ کروانے چلے۔ کسی دانا کے پاس چلتے ہیں۔
سانپ طوعاً وکرہاً مان گیا۔ دو فیصلے سانپ کے حق میں ہوچکے تھے سانپ کو امید تھی تیسرا فیصلہ بھی اسی کے
حق میں ہوگا۔ اب کی بار وہ اک بزرگ کے پاس پہنچے اور سارا واقعہ دہرایا۔ ساتھ میں سابقہ فیصلوں کی تفصیل بھی بیان کردی۔ بزرگ نے ان کا قصہ سنا اور ان سے کہا مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو جہاں سے سانپ کو نکالا تھا۔ پہلے سانپ کو جھاڑیوں میں پھینکو اور پھر میرے سامنے نکالو جیسا
تم نے پہلے نکالا تھا۔ تب میں فیصلہ کروں گا۔
ایسا ہی کیا گیا۔ تینوں جھاڑیوں کے پاس گئے اور سانپ کو دوبارہ خاردار جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا۔
اب آدمی سانپ کو دوبارہ نکالے ہی لگا تھا کے بزرگ نے منع کردیا۔ اور کہا اس کی یہ اوقات نہیں کے اس کے ساتھ نیکی کی جائے۔
اس کا مقام یہی خاردار جھاڑیاں ہیں۔ اس کے لیے یہی بہتر کے یہاں ہی پڑا رہے جو اسے نکالے گا وہی نقصان اٹھائے گا۔

عشروں سے ہمارا واسطہ بھی کئی طرح کے سانپوں سے ہے۔
کچھ آستین کے سانپ۔
کئی مذہب کے نام پر لوٹ مار کرنے والے سانپ۔
کچھ خون چوسنے والے سانپ۔
کچھ رنگ باز سانپ۔
کئی خاندانی سانپ ہیں جو نسل درنسل زہر پھونک رہے ہیں۔
اور ہم نے ہی ان جھاڑیوں میں رہنے والوں کو مسند ارشاد عطا کی ہے۔

ان سانپوں نے اپنے محسنوں کو ڈس ڈس کر جھاڑیوں میں پھینک دیا ہے اور خود محل پہ محل کھڑے کر لیے ہیں۔
یہ سانپ کئی طریقہ سے ڈستے ہیں
کبھی لیڈری کے نام پر۔
کبھی سیاست کے نام پر۔
کبھی رہبری کے نام پر۔
ان سانپوں کا اصل مقام خاردار جھاڑیاں ہیں۔
کبھی گائے اور گدھے کو منصف نہ چنیں۔
اپنے فیصلے ان لوگوں کے ہاتھ دیں جو دانا اور بزرگ ہوں اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں. 

#Copied

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

نصیب

شادی کے ایک سال بعد میری گریجویٹید بہن پاس بیٹھی تھی
کہتی اب تم بھی شادی کرلو سنجیدہ ہو جاؤ... عمر بڑھ جائے تو رشتے نہیں ملتے... اور اپنی بیوی کا خیال رکھنا
میں ہنس دیا اور کہنے لگا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تمہارے سسرال والے تمہیں روٹی بھی نہ دیتے ہوں
اک دم سے زرد پڑ گئی اور رونے لگ گئی
میں ڈر گیا کہ کیوں رونے لگ گئی پوچھا تو کہنے لگی
"وہ مجھے روٹی نہیں دیتے" میں نے کہا کیا مطلب؟
کہتی بھائی جب شوہر سسرال کچھ دن کے لیے چھوڑ جائے مجھ پر زندگی تنگ ہو جاتی ہے، سارے کام کرتی ہوں سب کے کپڑے استری کرکے دیتی ہوں، ایک وقت کا صرف کھانا 5 کلو کا سالن بنانا ہوتا ہے پھر 3 درجن تک روٹیاں ... جیٹھانی نے کبھی ہاتھ نہیں بٹایا یہ بھی نہیں سوچا مہمان ہوں جو ٹکڑے بچتے ہیں ان کو پانی میں ڈبو کر کھاتی ہوں کیونکہ سالن یا ختم ہو جاتا ہے یا جیٹھانی فریج میں رکھ کر اسے تالا لگا دیتی ہے، میری بچی میری کوکھ میں تھی تب بھی کام کروایا، ڈیلوری کے بعد بھی شوہر جب مل کر چلے گئے تو بھی کام پر لگا دیا...
میں مرد ہوں میں کمزور نہیں کہ روؤں لیکن اس دن میں عورت کی طرح رویا مجھے پتا ہی نہیں چلا میں کب رویا...
کہنے لگی بھائی میں آپ لوگوں کو دکھ نہیں دینا چاہتی نہ شوہر کو ایسے اس کے گھر والوں سے بدظن کرنا چاہتی ہوں، تمہاری روٹی نہ دینے والی بات نے مجھے رولا دیا...
بے بسی تھی جس نے بتایا آج مرد ہو کر بھی میں اپنی بہن کے لیے کچھ نہیں کر سکتا....
ابھی لوگ کہتے ہیں ڈگری والی پڑھی لکھی عورتوں کو گھر بسانا نہیں آتے
. اللہ سب کی بہن بیٹی کا نصیب اچھا کرے آمین❤️

🔘 *رشتے اور جُدائیاں* 🔘

🔘 *رشتے اور جُدائیاں* 🔘

ہمارے سامنے کی بات ہے کہ جب گاوں کے ایک گھر تنور گرم کیا جاتا تو گھر والی خاتون  اپنی بچی کو پڑوس کے گھر بھجواتی کہ آ کے روٹیاں لگا لیں۔اور خواتین اپنا آٹا لے کر پہنچ جاتیں۔ ایک تو سب کا بھلا ہو جاتا دوسرا تنور میں جو آگ جلائی جاتی وہ ایندھن ضائع ہونے سے بچ جاتا کیونکہ ایک دفعہ آپ تنور گرم کر لیں تو پانچ گھروں کی روٹیاں پکا سکتے ہیں۔پھر تنور کے اندر بینگن سیخ میں پرو کر ڈالے جاتے اور بھون لیے جاتے اس کے بعد بھی آگ اتنی ہوتی کہ بڑے پتیلے میں پانی بھر کر چنے۔گندم۔باجرہ بمع گڑ ڈال دیتے اور کچھ دیر میں گھگھنیاں تیار ہو جاتیں۔ ہماری مائیں گھگھنیاں خیرات کے طور پر پکاتی تھیں۔جس خاتون نے قرآن کا اس دن ختم کیا ہوتا وہ گھنگنیاں پکا کے خیرات کرتی۔ صبح جب مکھن کے لیے دودھ بلویا جاتا تو پڑوسی بچے اس گھر لسی لینے پہنچ جاتے اور ایک ایک لیٹر لسی سب کو فری ملتی۔ گاٶں والی ماسیاں  چھوٹا سا مکھن کا پیڑا بھی ڈال دیتیں۔ اگرچہ غریبی کا زمانہ تھا مگر لوگوں کے دل بہت بڑے تھے۔ گاوں کے گھروں میں بچے ایک دوسرے کے گھر سے نمک۔مرچ۔لہسن۔پیاز۔ مانگنے آتے تو پیار محبت سے دے دئیے جاتے اور یکجہتی میں اضافہ ہوتا۔ پکے ہوے سالن کی مُنگری تو ساتھ کے ایک دو گھر ضرور جاتی۔ شروع میں جب میں لاھور سے ایک الارم والی گھڑی جو تین انچ گولائی میں ہوتی لے آیا۔ گاوں والے نہر کا پانی اپنی باری کے حساب سے لگاتے تو بہت خوش ہوۓ کہ چلو اب ٹایم دیکھ کے پانی لگایا کریں گے۔گاوں کے کارپینٹر سے اس کا شیشم کی لکڑی کا ڈبے نما فریم بنایا گیا پالش ہوئی اس کو پکڑنے کے لیے اوپر ہینڈل لگا دیا۔ گاٶں کے کسان ایک ہاتھ میں گھڑی اور دوسرے میں کہی اٹھاے خوشی خوشی پھرتے اور اپنے نمبر پر کھیت کو پانی دیتے۔ بعض تو اتنا سادہ تھے کہ پہلے ان کو سمجھانا پڑتا کہ بڑی سوئی جب 12 بجے پہنچے گی تمھاری پانی لگانے کی باری شروع ہو گی۔ یہ گھڑی 24 گھنٹے میں ایک دفعہ ہمارے گھر اس لیے واپس آتی کہ ہم اس کو چابی دے دیں۔اب ویسی گھڑیاں کہیں نظر نہیں آتیں۔جب گاوں میں شادی کی تقریب ہوتی ہر گھر سے لڑکے ایک ایک چارپائی جمع کرتے رنگدار پانی کے ساتھ گھر والے کا نام لکھا جاتا اور شادی مکمل ہونے پر واپس کرتے۔سردیوں میں ایک ایک بستر بھی جمع  کیا جاتا۔ شروع میں جب ریڈیو اور پھر ٹی وی ہمارے گھر آیا تو شام کو بچوں کی پوری کلاس بیٹھ کے ریڈیو سنتی اور ٹی وی دیکھتے کیونکہ پورے گاوں میں ٹی وی ایک دو گھر تھا۔اس کے لیے زمین پر دریاں بچھائی جاتیں۔ ہمارے مکان کچے تھے ہر سال ساون کے مہینے سے پہلے لپائی کرنی ہوتی۔اس کے لیے گاوں کے پندرہ بیس آدمی بلاۓ جاتے جس کو وِنگار کہتے۔ یہ سب بلا معاوضہ گھر کی لپائی کر دیتے صرف کھانا اور چاے ان کو مہیا کی جاتی۔ اسی طرح عورتیں پنگھٹ پر یا کنویں سے گھڑوں میں پانی بھرنے اکٹھی ہوتیں تو یہ ایک قسم کی کیمونٹی میٹنگ ہوتی۔ایک دوسرے کے دکھ درد۔بیماری خوشی۔کا پتہ چلتا اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کو تیار رہتے۔ یہ سب پیار سب یکجہتی اس وقت ختم ہونا شروع ہوئی جب باھر کے لوگ ہمارے گاوں پہنچے۔پہلے پہل ہمیں قومی اور نسلی تفاخر کا سبق پڑھایا گیا کہ یہ تورانی۔یہ افغانی  یہ فلاں یہ فلاں ہم سے کمتر اور ہم بہتر ہیں۔ جب یہ فارمولا پورا کامیاب نہ ہوا تو جمھوریت نے حملہ کر دیا۔ گاوں میں گروپ بن گئیے کون کونسلر بنے گا کس کے ووٹ زیادہ ہیں۔ بس اب ہم جدا ہونا شروع ہوۓ۔ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ باہر سے کچھ پڑھے لکھے عالم تشریف لاے ۔انہوں نے ہمیں واضع کیا کہ آپ کا باپ بریلوی ۔بھائی دیوبندی۔کزن شیعہ۔ماموں وہابی۔چچا پتھری۔ خالو ض صحیح نہیں پڑھتا۔ پھوپھا تبلیغی ہے۔بس پھر تو وہ گرد اڑی کی خدا کی پناہ ہم نے مسجدیں جدا جدا بنا کر اپنا مسلک لکھ دیا ۔میناروں پر چار پانچ لاوڈسپیکرز لگا لیے ۔امام صاحب علیحدہ۔نمازیں الگ۔جنازے الگ۔عیدیں الگ۔ پھر فرقہ واریت کا جو نتیجہ نکلا اور خون کی ہولی کھیلی گئی سب کے سامنے ہے۔ ابھی کچھ کسر باقی تھی کہ سیاسی پارٹیاں نمودار ہو گئیں پھر ایک بار ہم فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد نعرے لگاتے باہم ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گیے۔ ہمارے لیڈر ہم سے ووٹ لے کر پانچ سال کے لیے غائیب ہو  جاتے ہیں مگر ہم ووٹر روز لڑتے رہتے ہیں۔ان تمام عوامل کا اثر یہ ہوا کہ آج ہمارے گاوں میں بھائی اپنے بھائی سے جدا ہے اور جمھوریت ۔ فرقہ بندی ۔ نااتفاقی۔لڑائی جھگڑوں۔ نسلی فخر اور غرور کے جہنم کے گڑھے میں جل رہا ہے اور یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس آگ کو بھڑکانے والے ہاتھ کہاں سے آتے ہیں اور کہاں غائیب ہو جاتے ہیں؟

میاں بیوی

میاں بیوی دونوں ایک ہی فیلڈ میں کام کر رہے تھے۔
بیوی پائلٹ تھی اور خاوند کنٹرول ٹاور انسٹرکٹر۔

پائلٹ بیوی: ہیلو کنٹرول ٹاور! یہ فلائٹ 358 ہے۔ یہاں کچھ پرابلم ہے۔
کنٹرول ٹاور سے شوہر: آپ کی آواز ٹھیک سے نہیں آ رہی ہے۔ کیا آپ دوباہ اپنی پرابلم بتا سکتی ہیں؟
بیوی: کچھ نہیں، جانے دو، تمہیں میری آواز آتی ہی کب ہے؟ شوہر: براہ مہربانی، اپنی پرابلم بتائیے۔
بیوی: اب تو رہنے ہی دو۔
شوہر: پلیز بتائیں۔
بیوی: کچھ نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ تم رہنے دو۔
شوہر: ارے بولیٔے کیا پرابلم ہے؟
بیوی: تمہیں میرے پرابلم سے کیا مطلب؟
شوہر: بے وقوف عورت! اس فلائٹ میں دو سو پیسنجر بھی ہیں۔ پرابلم بتا۔
بیوی: تمہیں کبھی میری پرواہ نہیں رہی۔ ابھی بھی دو سو مسافروں کی پرواہ ہے۔ بس مجھے نہیں کرنی بات…
او پیا جے جاج 🧐😁😂

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...