Sunday, 13 September 2020

میاں بیوی

میاں بیوی دونوں ایک ہی فیلڈ میں کام کر رہے تھے۔
بیوی پائلٹ تھی اور خاوند کنٹرول ٹاور انسٹرکٹر۔

پائلٹ بیوی: ہیلو کنٹرول ٹاور! یہ فلائٹ 358 ہے۔ یہاں کچھ پرابلم ہے۔
کنٹرول ٹاور سے شوہر: آپ کی آواز ٹھیک سے نہیں آ رہی ہے۔ کیا آپ دوباہ اپنی پرابلم بتا سکتی ہیں؟
بیوی: کچھ نہیں، جانے دو، تمہیں میری آواز آتی ہی کب ہے؟ شوہر: براہ مہربانی، اپنی پرابلم بتائیے۔
بیوی: اب تو رہنے ہی دو۔
شوہر: پلیز بتائیں۔
بیوی: کچھ نہیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ تم رہنے دو۔
شوہر: ارے بولیٔے کیا پرابلم ہے؟
بیوی: تمہیں میرے پرابلم سے کیا مطلب؟
شوہر: بے وقوف عورت! اس فلائٹ میں دو سو پیسنجر بھی ہیں۔ پرابلم بتا۔
بیوی: تمہیں کبھی میری پرواہ نہیں رہی۔ ابھی بھی دو سو مسافروں کی پرواہ ہے۔ بس مجھے نہیں کرنی بات…
او پیا جے جاج 🧐😁😂

🌹آج کی اچھی بات 🌹 *✍ ‏‏‏

🌹آج کی اچھی بات 🌹

*✍ ‏‏‏کیا ہم پر ہمارے ربّ کا یہ انعام تھوڑا ہے کہ ہم جتنے بھی نافرمان ہو جائیں، سرکشی کر لیں۔ بس سچے دل سے توبہ کر لیں، خود کو ٹھیک کر لیں، ہمارا ربّ ہم سے راضی ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ !!!🌴*

*‏بعض لوگوں کے دلوں مَیــــں واقعی سوراخ ہوتے ہیــــــــں ... جتنی بھی محبتیــــں ڈال لیــــں ... وہ خالی ہی رہتے ہیــــــــں ......!!!*❤️

آج کی آیت

آج کی آیت۔

ولسوف یعطیک ربک فترضی۔

"عنقریب آپ کا رب آپ کو کچھ ایسا عطا کرے گا جس سے آپ راضی ہوجائیں گے۔"
اگر آپ آج یہ آیت پڑھ رہے ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک نشانی ہے۔ آیت کا مطلب ہی نشانی ہوتا ہے۔ اللہ تعالی بنا کسی وجہ کے ہمیں اپنی آیات نہیں پڑھواتا۔اللہ کے ہاں ہماری کہانیاں لکھی ہوتی ہیں۔ اسٹیپ بائی اسٹیپ۔ اللہ تعالی کو بہتر معلوم ہے کہ ہمیں کیا دینا ہے، کیا نہیں دینا اور کیا کس مرحلے سے گزار کے دینا ہے۔ ایسے میں یہ آیت اگر آپ کے سامنے آئی ہے، تو یقینا اللہ تعالی آپ کو بہت جلد کچھ ایسا عطا کرے گا جس سے آپ راضی ہوجائیں گے۔

ہو سکتا ہے کہ یہ وہ چیز نہ ہو جس کی آپ کو بہت خواہش ہو۔ ہم خواہشیں اپنی خوشی تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ جب یہ ملے گا تو ہم خوش ہوجائیں گے۔ مگریہاں پہ یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ وہ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوں گے بلکہ راضی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ راضی ہونا خوش ہونے سے مختلف ہوتا ہے۔ خوشی کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، اس کے کھونے کا خوف رہتا ہے۔ رضا ایسی نہیں ہوتی۔ رضا دل کے مطمئن ہوجانے کا نام ہے۔ رضا دل کے سکون کا نام ہے۔

اگر آپ کا دل کسی مسئلے کی وجہ سے بے چین ہے، اس میں اضطراب ہے، تو یقین رکھیں، اللہ تعالی جلد کچھ ایسا کرے گا کہ آپ کا دل راضی ہوجائے گا۔ ایسے میں اگر اللہ نے آپ کو یہ خوشخبری دی ہے تو آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد ایک دفعہ آنکھیں بند کریں، دل میں اپنی تمام محرومیوں اور قدرتی آزمائشوں کو لائیں اور اللہ تعالی سے کہیں کہ اے اللہ...میں آپ سے، اور آپ کے دیے گئے امتحانوں سے راضی ہوں۔ آپ جس حال میں بھی رکھیں، آنکھ آنسو بہائے گی لیکن زبان شکوہ نہیں کرے گی۔ اللہ میں راضی ہوں۔ آپ بھی مجھ سے راضی ہوجائیں۔
اگر آپ نہیں راضی تب بھی یہ کہہ کے دیکھیں۔ عنقریب آپ کی زندگی میں ایسی نعمت عطا ہوگی کہ آپ واقعی راضی ہوجائیں گے۔ اللہ تعالی ہم سب سے راضی ہوجائے۔ آمین

*‏کوئی کسی کا نہیــں ہوتا ہے ... اور اســــں کوئی میــــں "ہــــم" خود بھی شامل ہوتے ہیــــــــں .....!!!* 💞 💞

: *‏جسے لوگ زندگی کہتے ہیــــــــں ... وہ : *‏کبھی کـبھی ہم اس لیے خاموش ہـو جاتے ہیــــــــں ... کہ دوسرے انسان کو ہمارا احساس ہو ... وہ خود ہم سے بات کرے ... لیکــن ایسا نہیــں ہوتا ... کیونکہ مان تو ہوتے ہی ٹوٹنے کیلئے ہیــــــــں ......!!!*
💞 💞


*دٌکھ دودھ کی طرح ہوتا ہے ... آنسوؤں کا پانی ملاتے جائیــــں گے ... تو بــــڑھتــــا جائے گا ... پـی لــــیں گے ... تو ختم ہــــو جائـــے گا .......!!!*
💞 💞


 *‏جب کوئی نہ سمجھ رہا ہو ... تب خاموش رہنا بہتر ہے ... کیونکہ بحث باتوں کو بگاڑ دیتی ہے ......!!!*
💞 💞

*‏خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں ... یہ اذیت بھی بڑی اذیت ہے .....!!!* 💞 💞

*‏خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں ... یہ اذیت بھی بڑی اذیت ہے .....!!!*
💞 💞

کچھ درد اتنے شدید ہوتے ہیــــــــں

*‏کچھ درد اتنے شدید ہوتے ہیــــــــں ... کہ ان کے سہہ لینے کے بعد انسان بےحس ہو جاتا ہے ... پھر چاہے کوئی کتنی ہی تکلیف دے فرق ہی نہیــں پڑتا ... آنکھیں رونا بھول جاتی ہیــــں ... دل و دماغ سوچنے کی قوت سے محروم ہو جاتے ہیــــں ... در حقیقت یہ ہی اذیت کی آخری حد ہوتی ہے ......!!!*
💞 💞

ایک عورت ہتھوڑا لےکر اپنے بیٹے کے اسکول میں پہونچی اور چپراسی سے پوچھنے لگی:

ایک عورت ہتھوڑا لےکر اپنے بیٹے کے اسکول میں پہونچی اور چپراسی سے پوچھنے لگی:

نقیب سر کی کلاس کونسی ہے؟😁

ہتھوڑے کو دیکھ کر چپراسی نے ڈرتے ہوئے پوچھا: لیکن آپ کو ان سے کیا کام ہے؟🤓

ہتھوڑے کو ہوا میں لہراتے ہوئے بولی: ارے وہ میرے بیٹے کی کلاس ٹیچر ہیں، مجھے ان کی کلاس دکھاؤ!🤭❤️

چپراسی دوڑ کر نقیب سر کے پاس گیا اور اطلاع دی کہ ایک عورت ہاتھ میں ہتھوڑا لئے آپ کو تلاش کررہی ہے!

نقیب سر کے چھکےّ چھوٹ گئے! وہ دوڑ کر پرنسپل کے پاس گئے!❤️👌

پرنسپل فوراً اس عورت کے پاس آکر نہایت عاجزانہ انداز میں بولے: آپ جلد بازی سے کام نہ لیں، اطمنان رکھیں آپ کی شکایت فوری طور پر دور کیجائے گی۔

اس عورت نے کہا: مجھے کوئی شکایت نہیں، بس آپ نقیب سر کی کلاس بتائیں، میں ان کی کلاس میں جانا چاہتی ہوں۔

پرنسپل نے کہا: لیکن!  آپ ان کی کلاس میں کیوں جانا چاہتی ہیں۔

اس عورت نے کہا: کیوں کہ مجھے وہاں اس Bench کی کیل ٹھوکنی ہے جس پر میرا بیٹا بیٹھتا ہے، کل وہ تیسری بار پینٹ پھاڑ کر آیا ہے۔
🙉🙈🙉🙈

"پولیس کی ایک اور نا اہلی"

"پولیس کی ایک اور نا اہلی"
================
 (کارِ جہاں) ... میاں غفار احمد!

شیرشاہ سوری صرف 5 سال برصغیر کا حکمران رہا اگر اُسے زندگی مہلت دیتی اور 50 سال تک حکمران رہتا تو پورے ہندوستان کا کلچر بدل چکا ہوتا۔ کہتے ہیں کہ شیرشاہ سوری کے دور میں ایک اندھے قتل کی واردات ہوئی اور تھانیدار اُس واردات کو ٹریس کرنے میں ناکام رہا۔ اُس دور میں شیرشاہ سوری کے سب سے بڑے منصوبے جی ٹی روڈ پر کام ہورہا تھا اور سڑک کی تعمیر کے دوران سڑک کے اطراف میں تیزی سے شجرکاری کا عمل بھی جاری تھا۔ کئی روز گزر جانے کے باوجود قاتل نہ پکڑا جاسکا تو شیرشاہ سوری نے آج کی طرح کے نااہل‘ نکمے اور احساس سے عاری حکمرانوں کی طرح رپورٹ طلب نہیں کی بلکہ خاموشی سے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوا اور چند ساتھیوں کے ہمراہ ڈیڑھ سو کلومیٹر کا سفر کرکے اُس تھانیدار کے علاقے میں پہنچ گےا جہاں قتل ہوا تھا۔ شیرشاہ سوری نے وہاں جاکر درختوں کو کاٹنا شروع کردیا۔ تھوڑی سی دیر بعد اُس دور کی پولیس گھوڑے دوڑاتی ہوئی وہاں پہنچ گئی اور تھانیدار نے شیرشاہ سوری کو گرفتار کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں علم نہیں کہ بادشاہ کے حکم کے مطابق درخت کاٹنا جرم ہے۔ اُسی دوران شیرشاہ سوری کے ذاتی محافظ بھی پہنچ گئے اور شیرشاہ سوری نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ”میں نے تمہارے علاقے میں درخت کاٹا اور تمہیں مخبری ہوگئی‘ تمہارے علاقے میں قتل ہوا ہے تمہیں مخبری کیسے نہیں ہوئی اور تم سے قاتل کیوں نہ پکڑا گیا؟“ وہی تھانیدار گرفتار ہوا‘ نوکری سے گیا‘ اُس کی مراعات ختم ہوئیں اور تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ 48 گھنٹے میں قاتل گرفتار ہوچکا تھا۔
وہ روشن ضمیر لوگ تھے‘ انہیں احساس تھا کہ کہیں نہ کہیں انہیں جوابدہ ہونا ہے‘ انہیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن انہوں نے روزِمحشر پیش ہونا ہے مگر اُن احساسات سے آج کے حکمران‘ آج کی نوکرشاہی اور آج کی اشرافیہ عاری ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے انجام بارے نہیں سوچتے بلکہ کینیڈا‘ امریکہ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا میں اپنا انجام تلاش کرتے ہیں۔ 
سکون کی زندگی اور طاقت کا ناجائز استعمال کرنے کے عادی یہ لوگ سورة کہف کی آیات کی روشنی میں اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ جس طرح اﷲ نے انہیں دُنیا میں مال ومتاع‘ جاہ وجلال‘ عزت واحترام اور طاقت دی ہے یقینا اگلے جہان میں بھی اُن کو اُسی قسم کا پروٹوکول ملے گا اور پھر جس طرح تکبر کرنے والے کا باغ اُجڑا‘ پھل درختوں سے گر گئے‘ پانی گہرا ہوگیا‘ کہیں پاکستانی اشرافیہ کی غلط فہمی کا وہی نتیجہ نہ نکلے۔
آئے روز وارداتیں ہورہی ہیں مگر اقتدار کے نشے نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ موٹروے پر بچوں کی موجودگی میں گاڑی سے عورت کو نکال کر اُسے بے آبرو کرنا‘ اس نظام کے منہ پر سب سے بڑا طمانچہ ہے اور میں لکھ کردیتا ہوں کہ پولیس ملزموں کو گرفتار نہیں کرسکے گی کیونکہ پولیس میں تفتیش کا عنصر ختم‘ ذہانت کی جگہ تکبر اور فہم وفراست کی جگہ چِھتر نے لے لی ہے‘ پھر کون پوچھنے والا ہے؟ 4اوباش پکڑ کر اُن پر کیس ڈال دیں گے اور بے شرمی کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے سُرخرو بھی ہوجائیں گے۔ ہاں! اگر حکومت پنجاب کی لاہور میں قائم پنجاب فرانزک لیب جوکہ سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کا اُسی طرح کا شاندار کارنامہ ہے جس طرح چودھری پرویزالٰہی کا 1122‘ تو ڈی این اے کی بنیاد پر یقینا قاتل گرفتار ہوں گے ہاں البتہ نااہل اشرافیہ ملزمان کی گرفتاری کا سہرا ڈی این اے کی چھاتی پر سجانے کے بجائے پولیس کی چھاتی پر سجائے گی کیونکہ انتخابات میں جائز اور ناجائز کام اس بدبخت سیاسی سسٹم کے پروردہ لوگوں نے اُسی پولیس سے لینا ہوتا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں اور جمعرات 10 ستمبر کو دوپہر 3 بجے یہ کیس پنجاب فرانزک لیب کے حوالے کردیا گیا ہے جو قصور کی زینب کیس اور چونیاں زیادتی کیس کے اصل ملزم پکڑ کر پولیس کے حوالے کرچکی ہے اور اُن میں سے ایک مجرم تو اپنے انجام کو بھی پہنچ چکا ہے۔
پولیس کا نظام اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ اربوں روپے کا بجٹ لینے والی اس پولیس نے چونیاں اور قصور میں اس قدر نااہلی کا مظاہرہ کیا کہ ملزمان کی شارٹ لسٹنگ بھی نہیں کرسکی۔ نتیجتاً قصور کیس میں تقریباً 1600 سے 1700 افراد کے ڈی این اے لئے گئے اور ان میں 1400 سے 1500 کی فہرست کے درمیان ملزم عمران کے ڈی این اے نے میچ کیا تھا جو کیس فرانزک لیب والوں نے حل کیا تھا تو اُس پر 12 سے 15 کروڑ لاگت آئی تھی مگر میڈل پولیس کے گلے میں ڈالے گئے اور میڈل وصول کرنے والے کسی بھی چہرے پر شرم کی رَتی بھر بھی رمق نہ تھی۔ اسی طرح چونیاں کیس میں بھی پولیس سے کہا گیا کہ تحصیل میں بچوں سے زیادتی کے حوالے سے جو ریکارڈ یافتہ لوگ ہیں صرف اُن کا ڈی این اے کرایا جائے مگر اُس کے لئے تو فائل ورک کرنا پڑتا تھا اور اگر چِھتر کا استعمال کرنا ہو تو وہاں فائل ورک کیونکر؟ ہر کسی کو پکڑا گیا اور نمونے لئے گئے‘ کروڑوں روپے فرانزک لیب پر خرچ ہوئے اور آخرکار جب پولیس نے سائنسدانوں اور نفسیات دانوں کی بات مانی تو اُن لوگوں کو پکڑا جو بچوں سے زیادتی کے حوالے سے حراست میں رہ چکے تھے یا جن کے بارے اس قسم کی شکایات تھیں‘ پھر صرف 11 گھنٹے میں اصل مجرم محض ڈی این اے کی بنیاد پر پکڑا گیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب فرانزک لیب پولیس کی نااہلی‘ جہالت‘ ناکامی اور عدم مہارت کا پول کھول رہی ہے لہٰذا پنجاب کی بیوروکریسی اور پنجاب پولیس پورا زور لگارہی ہے کہ شہبازشریف کے دور میں بنائی گئی ایشیاء کی جدید ترین فرانزک لیب بند ہوجائے اور پولیس کی سیاہ کاریاں جاری رہیں۔ انہیں انجام سے کیا خوف اور آخرت کا کیا ڈر مگر خاطر جمع رکھیں جس قسم کا چِھتر ظالم کے خلاف وہاں چلے گا ‘اُس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ کاش! کوئی ان نااہل حکمرانوں اور اشرافیہ کو سمجھائے کہ نام مِٹ جاتے ہیں اور کام زندہ رہتے ہیں۔
٭٭٭
 روزنامہ خبریں گروپ ٗ ..... 11 ستمبر 2020ء

"انصاف وہی ہوتا ہے جو فوری ہو"

*Shaoor E Pakistan Family*

لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض علی چشتی کہتے ہیں کہ 1977 کے آخری دنوں کی بات ہے مارشل لاء کے نفاذ کو چند ماہ گزارے تھے، معمول کے مطابق جب میں دفتر گیا اور اخبارات دیکھنا شروع کیے تو وہاں مخصوص خبروں کی نشاندہی کی گئی تھی، ایک خبر پر سرخ دائرہ لگا ہوا تھا۔ اس خبر کے مطابق گلبرگ لاہور کے تاجر احمد داؤد کے اکلوتے کمسن بیٹے اعجاز عرف پپو کو اغوا کر کے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ میں نے اسی وقت جنرل ضیاء کو جی ایچ کیو میں ٹیلیفون کیا اور ان سے دریافت کیا کہ سر! آپ نے اخبار دیکھا؟ ان کا جواب نفی میں تھا، میں اخبارات لے کر جی ایچ کیو میں ان کے دفتر پہنچ گیا اور ان سے کہا کہ مارشل لاء کے دوران بچے کا اغوا اور قتل مقام افسوس ہے، اس طرح عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ جنرل ضیاء الحق نے میرے سامنے ہی پنجاب کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد اقبال کو ہدایات جاری کیں کہ مجرموں کو فوری پکڑا جائے چنانچہ پولیس حرکت میں آئی، تفتیش شروع ہوئی تو گھر کا ڈرائیور ہی مجرم نکلا، جس نے 18 دسمبر 1977ء کو اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ بچے کو اغوا کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزموں کا فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور فوری فیصلہ سنایا گیا جس میں تین مجرموں کو سزائے موت اور تین کو قید کی سزا سنائی گئی۔ مجرموں کو نشان عبرت بنانے کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی بار سرعام پھانسی کا فیصلہ کیا گیا جس کے لیے 23 مارچ 1978ء کی تاریخ مقررکی گئی۔ کیمپ جیل لاہور کے باہر خاص طور پر پھانسی کے تختے بنائے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ افراد پھانسی کا یہ منظر دیکھنے امڈ آئے۔ شام کے پانچ بجے مجرموں کو پھانسی دے دی گئی لیکن ان کی لاشیں لٹکتی رہیں اور ان کو شام کا اندھیرا ہونے کے بعد اتارا گیا۔ اس سزا کا نتیجہ یہ ہوا کہ مارشل لاء کے دور میں اس نوعیت کا واقعہ پھر کبھی پیش نہیں آیا پھانسی کے وقت جنرل ضیاء الحق شہید کے تاریخی الفاظ یہ تھے:-
"انصاف وہی ہوتا ہے جو فوری ہو"

👈 *"کسی کا پردہ پاش نہ کریں"* 👉

۔             👈 *"کسی کا پردہ پاش نہ کریں"* 👉


```ایک مصری عالم کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں کسی نے لاجواب نہیں کیا سوائے ایک عورت کے جس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا جو ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے اس سے پوچھا تھال میں کیا چیز ہے؟؟


وہ بولی اگر یہ بتانا ہوتا تو پھر ڈھانپنے کی کیا ضرورت تھی۔
پس اس نے مجھے شرمندہ کر ڈالا۔


یہ ایک دن کا حکیمانہ قول نہیں بلکہ ساری زندگی کی دانائی کی بات ہے۔


کوئی بھی چیز چھپی ہو تو اس کے انکشاف کی کوشش نہ کرو۔
کسی بھی شخص کا دوسرا چہرہ تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں خواہ آپ کو یقین ہو کہ وہ بُرا ہے یہی کافی ہے کہ اس نے تمہارا احترام کیا اور اپنا بہتر چہرہ تمہارے سامنے پیش کیا بس اسی پر اکتفا کرو۔


ہم میں سے ہر کسی کا ایک بُرا رخ ہوتا ہے جس کو ہم خود اپنے آپ سے بھی چھپاتے ہیں۔


اللہ تعالٰی دنیا و آخرت میں ہماری پردہ پوشی فرمائے ورنہ
جتنے ہم گناہ کرتے ہیں اگر ہمیں ایک دوسرے کا پتہ چل جائے تو ہم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کریں۔


جتنے گناہ ہم کرتے ہیں اس سے ہزار گنا زیادہ کریم رب ان پر پردے فرماتا ہے۔


کوشش کریں کہ کسی کا عیب اگر معلوم بھی ہو تو بھی بات نہ کریں آگے کہیں آپ کی وجہ سے اسے شرمندگی ہوئی تو کل قیامت کے دن اللہ پوچھ لے گا کہ جب میں اپنے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہوں تو تم نے کیوں پردہ فاش کیا؟

سدا خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

*🇵🇰شعور پاکستان فیملی🇵🇰*

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...