Thursday, 27 January 2022

*طلاق کے کاغذ* 🌼 رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ

🌼 *طلاق کے کاغذ* 🌼

رونگٹے کھڑے کر دینے والا
سچا واقعہ۔۔ 

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔
قریب شام کے7بجےہونگے ،موبائل کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز ۔۔۔ 
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا ؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ ۔ اور ماں کدھر ہیں۔آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔ 
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہونچا۔۔ 

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں ) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ 
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں؛ ١٢ سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور ٩ سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔ 

میں نے بھائی صاحب سے پوچھاکہ" آخر کیا بات ہے"؟ 
بھائی صاحب  کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

 کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔  مجھے طلاق دینا، چاہتے ہیں َ۔ 

میں نے پوچھا " یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟  اتنی اچھی فیملی ہے ؛ دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔  پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔ 

لیکن میں نے بچوں سے  پوچھا دادی کدھر ھے ۔ تو بچوں نے بتایا ؛  پاپا  انہیں ٣ دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا؛ مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ 
کچھ دیر میں چائے آئی  َ بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔  اور بولے میں نے ٣ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔ 

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں  کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نا تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔  

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔ 
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے۔ اور اپنی من مانی کرتے تھے۔ 

ماں نے ۱۰ دن پہلے بول دیا ۔۔۔۔۔، تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔ 
                     جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں  نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے *مجھے پڑھایا* اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں،

لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ 

اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے  تھے۔ 

           مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔
 
ایک بار  جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔۔۔پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔ 

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے  یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔ 

 مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔ 
کہتے کہتے رونے لگے۔۔ ۔۔ اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہونگے۔ 

ہم جنکے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے '؛ '''جو انکی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔ 

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔ 

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
 
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے  اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔ 
اور اگر اتنا سب کچھ کر نے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے ۔ 
تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔ 

ماں کے ساتھ رہتے۔ رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔
 ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
 جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ 

اسی درمیان رات کے 12:30ھوگیے۔ میں نے بھابی جی کے چہرے کو دیکھا۔ 
انکے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئےتھے۔ 

میں نے ڈرائیور سے کہا " ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔  بھابی جی ؛ بچے، اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہونچے،
  بہت زیادہ گزارش کرنے پر گیٹ کھلا۔ 
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے ۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔ 

چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب" ؟ 
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔ 

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہے۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے ۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہونگے صاحب۔

 اتنا کہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔ 

اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔  2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں  اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دونگی، ؟ 

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت  پچھتاوے میں جی رہے ہیں، ۔ 

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی 
۔ کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ 
صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے۔، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔ 

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔ 
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔  آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔ 

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے ۔

 سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔ 

راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور  بھای صاحب ایک دوسرے کے جذبات کو اپنے پرانے رشتے پر بٹھا رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گیا۔ 

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے۔ یہ سمجھ گئی تھیں۔ 

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔ 

*ماں صرف ماں ھے*
اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔ 

ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا سماج کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔ 

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کی کوئی مسئلہ ھو تو؛ انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں ؛  کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔  اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی جنموں تک رہے گا۔ 

یقین مانیں سب ھوگا  تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔ 
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔ 

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھنے کو دیں۔۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں

انتخاب،، عابد چوہدری

برائے مہربانی اس تحریر کو شئیر یا فاروڈ کیا جائے

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂
          *🌼Join🌼*

  
 ❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂

Wednesday, 19 January 2022

حقیقت

*ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی*

*وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا جو کوشش کے بعد بھی نہیں نکلے گا*

*تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہو جائے گی*

*تو تڑپے گی*
*وہ خوش ہوگا*
*اس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا*

*چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا مرچ مصالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا*

*10 , 10 انگلیوں والے انسان 32 , 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے*
*یہ تیرا انجام ہوگا*

*بڑی مچھلی سمجھانے کا حق ادا کر کے چلی گئی*
*چھوٹی مچھلی نے دریا میں اپنی عقل سے ریسرچ کی* 

*نہ شکاری* 
*نہ آگ*
*نہ کھولتا تیل* 
*نہ مرچ مصالحہ*
*نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان*
*کچھ بھی نہیں نظر آ رھا*

*چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی ان پڑھ جاہل پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی*

*کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں میں نے خود ریسرچ کی ھے*
*اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں*

*میرا ذاتی مشاہدہ ھے وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے*

*اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔*

*چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیادپر بوٹی کو منہ میں ڈالا*

*کانٹا چبھا*
*مچھلی تڑپی*
*شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا*

*آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے*

*حاصل کلام*

*انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں*

*بڑی مچھلی کیطرح کے دانا انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کر دی*

*چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل پڑا*

*لیکن موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے*

*مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی*
*انسان دنیا سے جائے گا واپس نہیں آئے گا*
*بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گۓ تو*

*اللہ تعالی کا وجود کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور جتنی باتیں ہمیں قرآن وحدیث سے آخرت کے بارے میں پتہ چلتی ہیں وہ کوئی مذاق نہیں ہے یا کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے*

*اللہ تعالی ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے*۔                              
آمین ثم آمین ۔

Monday, 17 January 2022

ہم شیطان سے بھی بڑے دھوکے باز ہیں* 👉

👈 *ہم شیطان سے بھی بڑے دھوکے باز ہیں* 👉


ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﭽﮯ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ، ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ دیکھ رہے ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ کر امام صاحب سمجھﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﮬﮯ۔
تو امام صاحب فرمانے لگے کہ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ؟" ﺳﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮧ ﭼﻮﻧﮏ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ. ﺳﺐ ﮐﻮ ﭼﭗ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﻠﺐ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ۔
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﻥ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ؟" ﺍﻧﮑﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩﺬﺍ ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ.. ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔" ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ؟ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ؟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮬﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﮧ ﮬﻮﮞ؟ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺳﮕﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟ ﮐﺰﻥ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻃﻨﺰ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﺁﮐﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﮬﻢ ﺁ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﮐﮧ ﮬﻢ ﮬﯿﮟ ﻧﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺸﻦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ۔
ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﻨﮕﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﺩﻭﮬﮍﮮ ﻣﺎﮨﯿﮯ، ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻏﺰﻟﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﭼﻨﺪ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ۔ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮬﻢ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯ، ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔"
ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﮭﮑﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ، "ﺧﺪﺍﺭﺍ۔۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﮬﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﮟ ﺳﮑﯿﮟ.. ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕِ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﻂ ﺁﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔۔
" ﺩﺭﺱ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﮬﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔۔ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ!
ﮬﺎﮞ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ .........
💫 _*"جوائن واٹس ایپ پیغامِ محمدﷺ آفیشل گروپ"*_
📲+923132161222

بدبودار معاشرہ

*بدبودار معاشرہ*
امریکہ کی ایک ریاست میں ایک ماں نے اپنے بچے کے خلاف مقدمہ کیا کہ میرے بیٹے نے گھر میں ایک کتا پالا ہوا ہے، روزانہ چار گھنٹے اس کے ساتھ گزارتا ہے۔ اسے نہلاتا ہے، اس کی ضروریات پوری کرتا ہے، اسے اپنے ساتھ ٹہلنے کے لئے بھی لے جاتا ہے، روزانہ سیر کرواتا ہے اور کھلاتا پلاتا بھی خوب ہے اور میں بھی اسی گھر میں رہتی ہوں، لیکن میرا بیٹا میرے کمرے میں پانچ منٹ کے لئے بھی نہیں آتا۔ اس لئے عدالت کو چاہیئے کہ وہ میرے بیٹے کو روزانہ میرے کمرے میں ایک مرتبہ آنے کا پاپند کرے۔

جب ماں نے مقدمہ کیا تو بیٹے نے بھی مقدمے لڑنے کی تیاری کر لی۔ ماں بیٹے نے وکیل کر لیا۔ دونوں وکیل جج کے سامنے پیش ہوئے اور کاروائی مکمل کرنے کے بعد جج نے جو فیصلہ سنایا ملاحظہ کیجیئے ۔

"عدالت آپ کے بیٹے کو آپ کے کمرے میں 5 منٹ کے لئے بھی آنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ کیونکہ ملک کا قانون ہے جب اولاد 18 سال کی ہو جائے تو اسے حق حاصل ہوتا ہے کہ والدین کو کچھ ٹائم دے یا نہ دے یا بالکل علیحدہ ہو جائے۔ 
رہی بات کتے کی، تو کتے کے حقوق لازم ہیں، جنہیں ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ ماں کو کوئی تکلیف ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ حکومت سے رابطہ کرے تو وہ اسے بوڑھوں کے گھر لے جائیں گے اور وہاں اس کی خبرگیری کریں گے۔

یہ وہ متعفن اقدار ہیں جن کے پیچھے ہمارے بہت سے لوگ اندھا دھند بھاگ رہے ہیں۔ یقین کریں ہمارے معاشرے میں بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت جیسی اعلیٰ روایات ہماری اسی مغربی تقلید کی وجہ سے ہی دم توڑ رہی ہیں۔ کیا ہم بھی اب ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں کتوں بلیوں کو والدین سے زیادہ حقوق ملیں ؟ جہاں والدین کی کوٸ عزت نہ ہو کیا ہم جانوروں والا معاشرہ چاہتے ہیں ؟جہاں رشتوں اور اقدار کی اہمیت نہ ہو۔
😔😔😒😕

مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا ۔

مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا ۔

ہمارے گھروں میں جب کوئی باہر سے عورتیں آتیں،
امی بیٹوں کو کہتی ہیں، تم ادھر جا کر بیٹھو یہاں خواتین بیٹھیں گی
جس کمرے میں بہنیں سوئی ہوں، 
بھائیوں کو اجازت نہیں ہوتی تھی کہ بےدھڑک وہاں گھس جائیں،
اگر راستے میں کسی عورت کو مدد چاہیئے تو ماں کہتی کہ بیٹا جاؤ، "تمہاری ماں جیسی ہے اس کی مدد کرو" 
بیٹا ماں ہی سمجھ کر ایسا کرتا
کسی کی جوان بیٹی کو کوئی کام ہوتا تو امی یوں کہتیں "جاؤ تمہاری بہن جیسی ہے، بلکل اس کے جتنی ہی ہے، فلاں کام کر دو، یا وہاں چھوڑ آؤ
بیٹے کے دل میں بیٹھ جاتا کہ "میری بھی اتنی ہی بہن ہے ایسی ہی بہن ہے، یہ بھی میری بہن جیسی ہے" 
بہنوں کی سہیلیاں گھر آتیں تو ان کا بہنوں ہی کی طرح احترام کیا جاتا 
منگنیاں ہوجاتی تھیں بیٹوں کو پتا تک نہ ہوتا تھا،
شادی ماں کی پسند سے کر لیتے مرتے دم تک نبھاتے خوش رہتے کبھی ڈپریشن نہ ہوتا تھا،

یہ تربیت ہوتی تھی، یہ ہمارا معاشرہ تھا جو ماؤں نے تشکیل دیا تھا
اب تو لگتا ہے 
نئی نسلوں کی مائیں 
روٹی سالن میں ہی کھو گئی ہیں،
وہ تربیت کرنا بھول گئی ہیں💔💔😔* تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-

پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے___

دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے_

تیسرا قانون فطرت: 
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ____
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے___
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے___
* مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
* اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" خطرات" میں اضافہ ہوتا ہے___

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں___

خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں_____

حدیث

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

*بسم الله الرحمن الرحيم*

📚 *ہر نئی صبح ایک حدیث کے ساتھ*

🍂 *پڑھیں، عمل کریں اور دعوت دیں*

١۳ جمادي الآخرة ١٤٤٣ ھ
17 جنوری 2022، پیر

*نبی ﷺ کا طریقہ نماز، تکبیر تحریمہ سے سلام تک*

*سجدے کی فضیلت*

*سجدے کی جگہوں پر آگ کاحرام ہونا*

*The Prophet’s ﷺ method of prayer from Takbir Tahrimah to Salam*

*Virtue of prostration*

*Fire is forbidden at places of prostration*

🍃 قَالَ رَسُولُ اللہ صلى الله عليه وسلم …. إِذَا أَرَادَ اللَّهُ رَحْمَةَ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَيُخْرِجُونَهُمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ النَّارِ فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ۔ [صحیح البخاری:806]

🍃 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ۔۔۔ جب اللہ اہل جہنم میں سے جن پر مہربانی کرنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ نکال لیے جائیں، چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان کر نکال لیں گے کیونکہ اللہ نے آگ پر سجدوں کے نشانات کو کھانا حرام کردیا ہے۔ 
• انہیں آگ سے اس حالت میں نکالا جائے گا کہ بنی آدم کے سجدوں کے نشانات کے علاوہ ان کی ہر چیز کو آگ کھا چکی ہو گی.
🍃The Messenger ofAllah ‎ﷺ said…when Allah will intend mercy on whomever He likes amongst the people of Hell, He will order the angels to take out of Hell those who worshipped Allah. 
The angels will take them out by recognizing them from the traces of prostrations, for Allah has forbidden the (Hell) fire to eat away those traces. 
• They will be taken out of the fire in such a state that everything except the traces of the prostrations of the children of Adam will have been consumed by the fire.

Sunday, 16 January 2022

پاکستانی ہیکرز


ایک نامور غیر ملکی ویب سیریز کے اندر پاکستانی ہیکرز کو دکھایا گیا ہے کہ یہ بہترین اور پروفیشنل لوگ ہیں.

اس سے مجھے یاد آگیا کہ کمپیوٹر وائرس کی تاریخ کے سرخیل بھی دو پاکستانی بھائی ہیں، جو کمپیوٹر وائرس کے موجد و امام ہیں، دنیا میں بننے اور استعمال ہونے والے تمام کمپیوٹر وائرس اور اینٹی وائرس ان کے بنائے ہوئے وائرس سے بعد کے ہیں. جو نہیں جانتے ان کے لیے تفصیل.... 
پاکستان پنجاب لاہور کے رہائشی دو بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے یہ وائرس اسوقت تیار کیا تھا جب دونوں بھائیوں کی عمریں بالترتيب سترہ سال اور چوبیس سال تھیں. ان کا کمپیوٹر سافٹویئر کا کاروبار تھا، 1986 کے آس پاس کی بات ہے یہ سافٹ وئیر کو فلاپی-ڈسک 💾 کے اندر کاپی بنا کر فروخت کرتے تھے، اپنی فلاپی-ڈسک کے اندر یہ ایک وائرس بھی رکھ دیتے تھے، جو ان کے آئیڈیا کے مطابق تو بے ضرر تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ جب ان کی فلاپی-ڈسک سے کوئی آگے مزید کاپی کرنا چاہیے تو وہ ایسا نہ کرسکے. کیونکہ انکو پتا چل گیا تھا کہ ان کے کام کو آگے مزید کاپی کر کے فروخت کیا جاتا ہے جس سے انکے کاروبار کا متاثر ہونا یقینی تھا، اس کے بعد انہوں نے جو وائرس بنایا تھا، اس سے اگر کوئی انکے سافٹویئر کو کاپی کرلیتا تو اسکا کمپیوٹر سسٹم، کاپی اور اصل فلاپی دونوں کرپٹ ہوجاتے تھے.
اس وائرس کا پتا یوں چلا کہ 
یہ 1986 کی بات ہے جب امریکا کی ڈیل وئیر یونیورسٹی کے طالبعلموں کو کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے عجیب و غریب علامات سے سامنا ہونے لگا، یہ تمام علامات یا کمپیوٹر سسٹم میں ظاہر ہونے والی پرابلمز ایسی تھیں جو انکی سمجھ میں نہیں آرہی تھیں ، جیسے عارضی طور پر میموری ختم ہوجانا، سست ڈرائیو اور دیگر۔
بعد میں پتا چلا کہ اس سب کے پیچھے پہلا پرسنل کمپیوٹر وائرس ہے جسے اب برین کے نام سے جانا جاتا ہے جو میموری کو تباہ کرنے کے ساتھ ہارڈ ڈرائیو کو سست اور بوٹ سیکٹر میں ایک مختصر کاپی رائٹ میسج چھپا دیتا تھا. 
2011 میں فن لینڈ کی ایک اینٹی وائرس کمپنی ایف سیکیور کو دیئے گئے انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے اس بگ کو 'دوستانہ وائرس' قرار دیا تھا، جس کا مقصد 'کسی ڈیٹا کو تباہ' کرنا نہیں تھا اور اسی وجہ سے وائرس کوڈ پر ان کے نام، فون نمبر اور دکان کا پتا بھی موجود تھا۔
کچھ سال پہلے ایک انٹرویو میں امجد علوی نے بتایا 'اس کے پیچھے بس یہ خیال تھا کہ اگر پروگرام کی غیرقانونی کاپی بنائی جائے تو وائرس لوڈ ہوجائے'۔
دونوں بھائیوں نے وائرس کے پھیلاﺅ پر نظر رکھنے کے لیے طریقہ کار بھی مرتب کیا جس میں ایک کاﺅنٹر سسٹم رکھا، تاکہ تمام کاپیوں کو ٹریک کرسکے اور معلوم ہوسکے کہ انہیں کب بنایا گیا'۔
ان کا دعویٰ تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وائرس اتنا پھیل جائے گا کہ ان کے کنٹرول سے باہر ہوجائے گا مگر ٹائم میگزین نے ستمبر 1988 میں اس حوالے سے ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کی بلکہ میگزین کور بھی وائرسز کے نام پر تیار کیا جس میں کچھ پیچیدہ پہلوﺅں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
میگزین کے مطابق یہ دونوں بھائی اپنے سافٹ وئیر کی چوری کے حوالے سے جتنے بھی فکرمند تھے، مگر خود دیگر مہنگے پروگرامز جیسے لوٹس 1-2-3 کی کاپیاں فروخت کررہے تھے اور ان کا موقف بھی کافی دلچسپ تھا کہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کو پاکستان میں کاپی رائٹ تحفظ حاصل نہیں تو بوٹ لیگ ڈسکس کی تجارت کوئی پائریسی نہیں۔
اسی جواز کے تحت دونوں بھائی صاف کاپیاں پاکستانیوں کو فروخت کرتے جبکہ وائرس سے متاثرہ ورژن امریکی طالبعلموں اور سیاحوں کو۔
جب یہ امریکی شہری واپس گھر پہنچ کر پروگرامز کی کاپی بنانے کی کوشش کرتے تو وہ ہر اس فلاپی ڈسک کو انفیکٹ کردیتے جو وہ اپنے کمپیوٹرز میں لگاتے، وہ ڈسکس بھی جس کا اوریجنل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔
ڈیل وئیر یونیورسٹی کے بعد برین وائرس دیگر یونیورسٹیوں میں سامنے آیا اور پھر اخبارات تک جاپہنچا۔
 یہ وائرس ان دونوں بھائیوں کے کاروبار کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا. ان کی کمپنی برین نیٹ پاکستان کی چند بڑی انٹرنیٹ سروسز پروائڈرز میں سے ایک ہے. ایک انٹرویو کے دوران امجد علوی نے کہا 'یہ وائرس اس وقت تک نہیں پھیل سکتا تھا جب تک لوگ سافٹ وئیر کو غیرقانونی طور پر کاپی نہ کرتے'۔
دونوں بھائیوں کے مطابق انہوں نے وائرس سے متاثرہ سافٹ ویر کی فروخت 1987 میں ختم کردی تھی اور اب بھی اسی پتے پر موجود ہیں جو برین کوڈ پر دیا گیا تھا۔۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کے ایک حالیہ مضمون کے مطابق درحقیقت اب کمپیوٹر وائرسز کی تاریخ پاکستانی برین کے بغیر مکمل نہیں ہوتی کیونکہ اس سے ہی بیشتر پروگرامرز کو اینٹی وائرس سافٹ وئیر تحریر کرنے کا خیال آیا، جن میں سرفہرست نام جان میکافی کا ہے جو اب اینٹی وائرس سافٹ وئیر کمپنی کی بدولت کروڑ پتی بن چکے ہیں اور وہ پاکستانی بھائیوں کو جنیئس قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا 'میں نے سان جوز مرکری نیوز میں اس بارے میں پڑھا اور سوچا کہ آخر انہوں نے ایسا کیسے کیا، کسی نے بھی کبھی سافٹ ویر کو بیکٹریا اور وائرسز کے طور پر استعمال کرنے کا نہیں سوچا تھا، یہ ایک جنیئس آئیڈیا تھا'۔

(اس مضمون کو لکھنے میں گوگل اور فیسبک کی مختلف پوسٹوں سے استفادہ کیا گیا ہے)

توقیر بُھملہ #toqeerbhumla Toqeer Bhumla
#digiwordsmith #teetalkswrite

Monday, 15 November 2021

کیا آپ نے وہ دعا سیکھ لی ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے

کیا آپ نے وہ دعا سیکھ لی ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے؟؟!
ایک والد کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی سے ایک بڑا سبق سیکھا۔ ہوا یوں کہ وہ ایک مرتبہ سورہ احقاف حفظ کر رہی تھی۔ اچانک مجھ سے سوال کر بیٹھی:
ابو جان! آپ کی عمر کتنی ہے؟
میں نے اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا: 44 سال۔

کہنے لگی گویا آپ چار سال پہلے ہی 40 سال کے ہو چکے ہیں۔ پھر کیا آپ وہ دعا پڑھتے ہیں جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے؟
میں نے بڑی حیرت سے پوچھا: کیا ایسی بھی کوئی خاص دعا ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد کی جاتی ہے؟
بیٹی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
ابو جان! ہماری ٹیچر نے سورہ احقاف کی ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے:

*وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (15) أُولَٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ (16)..*
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں ( یہ ) جنتی لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے ۔

ہماری ٹیچر نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ان کے والد صاحب صاحب 30 سال سے پابندی کے ساتھ یہ دعا پڑھ رہے ہیں اور اب 80 سال پہنچنے کے قریب ہیں اس کے باوجود وہ اچھی صحت و تندرستی کے ساتھ جی رہے ہیں۔
اس بہترین نصیحت کے لئے میں نے اپنی بیٹی کا شکریہ ادا کیا اور اس کے سر کو بوسہ دیتے ہوئے ہوئے اللہ کی تعریف کی کہ اس نے مجھے ایسی بیٹی سے نوازا ہے جس کے ذریعے مجھے یہ سبق سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

بیٹی نے کہا: ابو جان! آپ بھی یہ دعا برابر ہر پڑھے رہا کریں:

*رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ .*
(اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔)

عربی سے منقول
آپ کے ایک شئیر سے کتنے والد پڑھیں گے
اور ہر ایک کی نسل سنور جائے تو آپ کا آخرت کا ڈیپارٹمنٹ کلئیر ہونے میں آسانی ہو گی

Sunday, 31 October 2021

سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کاابو موسٰی اشعری کو خط

💞 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ابو موسیٰ اشعری رض کو ایک جامع خط 💞

عمر رضی اللہ عنہ کا عبد اللہ بن قیس ( ابو موسیٰ اشعری) کی طرف : آپ پر سلامتی ہو .

اما بعد ! بے شک فیصلہ کرنا پکا فریضہ اور واجب الاتباع سنت ہے تو سمجھ لو کہ جب تمہارے پاس کوئی دعویٰ آئے تو ایسی حق گوئی جس کی تعمیل نہ ہو، فایدہ نہیں دیتی۔
اپنے ملنے میں ، عدل میں اور مجلس میں لوگوں سے مساویانہ سلوک کرو حتی کہ کوئی عزت دار تمہارے ظلم و ستم کی طمع نہ کرے اور کوئی کمزور تمہارے عدل سے ناامید نہ ہو۔
دلیل لانا مدعی کے زمہ ہے اور جو انکار کرے اس کے زمہ قسم ہے۔
مسلمانوں کے درمیان صلح کرنا جائز ہے مگر وہ صلح (جائز نہیں ) جو حرام کو حلال کردے اور حلال کو حرام کردے۔
کل کیا ہوا کوئی فیصلہ تجھے نہ روکے کہ تو اپنی عقل سے اس میں غور وفکر کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے اور پھر تو حق کی طرف لوٹ آئے۔ بیشک حق قدیم ہے اور حق کی طرف رجوع کرنا باطل میں حد سے تجاوز کرنے سے بہتر ہے ۔

_______________________
حوالہ : الاحکام السلطانیة، جلد ١ صفحه ١٢٢ .

اپنی اولاد کو متقیوں کا امام بنانے کی کوشش کریں

🍀 *اپنی اولاد کو متقیوں کا* *امام بنانے کی کوشش کریں* 🍀
وہ چھٹے بیج کی طالبہ تھی۔
اب جب بھی فون کرتی ہے اسی دعا کی درخواست کرتی ہے کہ اللہ اسےاولاد کی نعمت سے نواز دے۔
واقعی اولاد کی قدر کسی بے اولاد جوڑے سے پوچھئے۔۔
اولاد کی تمنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے لیکن ایک مسلمان اولاد کی خواہش کیوں رکھتا ہے قرآن خوبصورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
حضرت زکریا کے دل کی دعا ۔۔وہ چپکے چپکے پکارتے تھے اور
اپنا وارث طلب کرتے تھے۔
کیا پیغمبروں کی اساس دھن دولت ہوتی ہے؟
وہ کونسی میراث ہے جس کا وارث بنانے کے لیے وہ پریشان تھے؟
کیا ان کی ملیں دھواں اگلنا بند کر دیں گی؟
ان کی فیکٹریوں میں سناٹا ہو جائے گا؟
ان کے ویران سرے محلوں میں فاختائیں انڈے دیں گی؟
کیا پیغمبر معاذاللہ مال و جائیداد کی فکر میں گھلتے تھے ؟؟
بات واضح ہے۔حضرت زکریا اپنے دینی ورثے کے لیے بے چین تھے۔ انہیں یقیناً خاندان میں کوئی ایسا نظر نہیں آرہا ہوگا جو ان کے بعد اس داعیانہ کردار کو نبھا سکے۔۔
یہاں ٹھہریئے اور ۔۔
خود سے سچ بولیں۔
اپنے دل سے پوچھیں کہ یہ پاک آرزو ہمارے دل اور دماغ کے کسی گوشے میں محفوظ ہے؟؟
کیا واقعی کوئی بے اولاد۔۔ اولاد کی دعا اس لیے کرتا ہے کہ جو نیکیاں میں دنیا میں پھیلا رہا ہوں میرے بعد ان نیکیوں کا سلسلہ میری نسل میں ختم نہ ہو جائے!!
کیا واقعی ہماری زندگی میں اتنا اہم مشن ہے کہ ہم فکر مند ہوں کہ جب ہم زیر زمین ہوں تب بھی یہ مشن جاری وساری رہے۔۔
ہم تو اپنے سماج میں لوگوں کو اس دکھ میں مبتلا دیکھتے ہیں کہ بیٹا ہوتا تو باپ کے بعد کاروبار سنبھال لیتا۔۔
بہنوں کی شادی کی ذمہ داری میں باپ کا ہاتھ بٹا دیتا۔
جس آدمی کے چار یا چھ بیٹے ہوں ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس گھرانے سے دین کو کتنا فروغ مل رہا ہوگا۔
ہم سوچتے ہیں کہ بیٹے معاشی آسودگی کی علامت ہیں نہ کہ دین کے فروغ کی۔۔۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اکثر لوگ جو دعوت و تبلیغ میں اپنی عمر گزارتے ہیں انکی اولاد اس راہ پر ان کی ہم سفر نہیں ہوتی۔
یہ بھی طرفہ تماشا ٹھہرا کہ ہم اپنے مادی ترکے کا وارث تو اپنی اولاد ہی کو بنانا چاہتے ہیں لیکن اپنے مشن کے ترکے کے لئے غیروں کی اولادوں کو تلاش کرتے ہیں ۔۔
کسی کے بیٹے کا کاروبار خسارے سے دوچار ہو تو والدین ہر ایک سے دعا کی درخواست کرتے ہیں لیکن وہی بیٹا اگر فرض عبادات سے غافل ہو تو والدین کی وہ تڑپ نظر نہیں آتی۔۔

ہم میں سےکتنے والدین تنہائیوں میں گڑگڑا کر اپنے رب سے اپنی اولاد کے لئے متقیوں کا امام بننے کی دعا مانگتے ہیں۔۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بوڑھے والد باقاعدگی سے باجماعت نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کرتے ہیں اور جوان بیٹے گھر میں موجود ہوتے ہیں۔۔
باپ سمجھتے ہیں کہ تعلیم اور روزگار نے انہیں تھکا رکھا ہے فارغ ہوں گے تو عبادت بھی کرلیں گے۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ
والد اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دے سکتا ہے وہ اچھی تعلیم اور تربیت ہے۔۔
اولاد کو یہ تحفہ دینا ہی دل کی سب سے بڑی آرزو ہونا چاہیے ۔بالکل ایسے جیسے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا اچھا گھر اور اچھی معاش ہو۔
جب ہم واجعلنا للمتقین اماما کی دعا
کرتے ہیں تو ہماری زندگی کا سب سے بڑا مشن یہ ہونا چاہیے کہ ہم انہیں دین کی پاکیزہ تعلیمات سے آشنا کرائیں اور انھیں بتائیں کہ وہ ایک مشنری گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں۔اسلام ایک مشن کا نام ہے
قرآن نے زندگی کا حاصل بتا دیا کہ اگر اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتے ہیں تو انھیں متقیوں کا امام بنانے کی سعی کریں۔۔
تحریر،، افشاں نوید
انتخاب،، عابد چودھری
*برائے مہربانی پوسٹ کو شئیر یا فارورڈ کیا جائے*

🔹▬▬▬▬ 🌹 ▬▬▬▬🔹

Thursday, 21 October 2021

سبق

کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ، کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی،  اتنے میں پرنسپل  کلاس روم میں داخل ہوئے،   کلاس روم  میں سناٹا چھاگیا ۔

پرنسپل  صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔

*سبق01*

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔

وزیٹنگ پروفیسر  انصاری نے ہال  میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ  کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….

‘‘تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….

‘‘یہ ناممکن ہے۔’’، کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔

پروفیسر  نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے  بلیک بورڈ پر اس  لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔   اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:

‘‘آپ  نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے،  وہ  یہ ہے  دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام  کیے بغیر، ان سے حسد  کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’’

آگے بڑھنےکی خواہش  انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔  دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے اور بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔

*سبق02*

دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی  پروفیسر  انصاری نے  بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد  انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے  ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ   کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:

‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا‘‘ایک سیاہ نقطہ’’۔

طالب علم  تعجب کا اظہار کررہے تھے سر  بھی کمال کرتے ہیں ،  کل لکیر کھینچی تھی آج نقطہ   بنادیا ہے ….

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ حیرت ہے ! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک چھوٹا  سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟’’

زندگی میں کیے گئے لاتعداد اچھے کام سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں پر توجہ زیادہ دیتی ہے لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے  ، تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے ….   دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے  جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاشکرلیتے ہیں۔

ہماری زندگی کے معاملات میں لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔   ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’ جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ دو راہوں پر گامزن کردیتے ہیں۔ یہ دوراہی  فیصلہ لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس صورتحال میں صرف نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکررہ جاتے ہیں۔

اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں، کوئی بھی راہ چنیں ، تو یہ یاد رکھیں کہ  آپ ہر شخص کو مطمئننہیں کرسکتے ۔

*سبق03*

تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔

‘‘سر کیا آپ وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’ ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا  ‘‘نہیں!  آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے  خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’

‘‘پچاس گرام’’، ‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔

‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’ پروفیسر نے کہا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’

‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘ٹھیک ہے، اب یہ  بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’ پروفیسر نے پوچھا۔

‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’ طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔

‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’ پروفیسر  نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’

‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔

‘‘بہت اچھا!’’ پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا ‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیلہوا….؟’’

‘‘نہیں۔’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’پروفیسر  نے پوچھا۔طالب علم چکرائے گئے۔

‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’ ایک طالب علم نے کہا۔

‘‘بالکل صحیح!….’’ استاد نے کہا۔

‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک  لگتے ہیں۔انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

 دیکھیے….!اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً  اہمیت رکھتا ہے۔لیکن…. اس سے کہیں زیادہ اہم  بات یہ ہے کہ ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتاردیا جائے۔ اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے۔ اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو  یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے  کرنا رکھنا یاد رکھیں۔’’

*سبق04*

پروفیسر نے  کہا  کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔

جب طلباء  تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا کہ :

‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ  نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر  چن لیں اور اس  پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں۔’’

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا،  پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو  دیکھابعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے۔

پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:

  ‘‘ یہ آپ کا ہوم ورک ہے،   آپ سب  ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لیے پھریں۔ رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں،   جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز  آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا۔ ’’

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو  چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب  نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں  کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا….؟’’

سب طلبہ و طالبات خاموش رہے۔

‘‘اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ  ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا ، کسی پر احسان کرنااس شخص کے لیے  اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لیے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں ، اس کے خلاف بدلہ لینے  کے لیے سوچتے ہیں اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔“

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...