Sunday, 23 April 2023

*لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجوہات

لڑکوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجوہات

میری عمر بیس سال تھی میں بی اے کا طالب علم تھا۔ اور میرے ایک قریبی دوست و محسن کی عمر 50 سال تھی۔ ہم دونوں ملکر مویشیوں کا بیوپار اور کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ ہم بزنس پارٹنر ہونے کے ساتھ ہم راز بھی تھے۔ انہوں نے ہی مجھے بائیک و ٹریکٹر وغیرہ چلانا سکھایا۔ ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

پہلے بیٹے کا رشتہ دیکھنے اپنی اہلیہ کے ہمراہ پہلے دن ہی کہیں گئے۔ تو لڑکی کو آنکھ اٹھا کر دیکھے بنا پانچ سو روپے دے آئے اور کہہ آئے کہ ہمیں رشتہ پسند ہے۔ آنٹی کو لڑکی پسند نہ تھی انکے مطابق انکا گھر بھی اتنا اچھا نہ تھا۔ عمر بھی لڑکے سے زیادہ تھی۔ بہت احتجاج ہوا۔ مگر میرے دوست نے انکی اور اپنی سب بیٹیوں کی ایک نہ سنی اور بیٹے کی شادی وہیں کر دی۔ اللہ نے دو چاند سے پوتے دیے۔ بیٹے پر بھی آفرین ہے باپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کیا۔

دوسرے بیٹے کی باری بھی ایسا ہی ہوا۔ انکی اہلیہ نے کہا کہ آپ یہاں شادی کریں گے تو میں خود کشی کرکے جان دے دونگی ۔ انہوں نے کہا دیر نہ کرو اس کام میں ۔ میں کسی کی دھی کو رد نہیں کر سکتا۔ تم پہلے معلوم کرتی اب جو ہے قبول ہے۔ کسی کے گھر جا کر دھی رانی میں نقص نکالنا مجھ سے نہ ہوگا۔ میری گھر چار بیٹیاں ہیں ان کو بھی رد کیا جائے گا۔

احتجاج حد سے بڑھ گیا۔ کہ اس بار بھی لڑکے اور لڑکی کی عمر میں فرق تھا۔ اور لڑکا لڑکی سے کافی خوبصورت تھا۔ خواتین کی باتوں کو نظر انداز کرکے شادی کر دی گئی۔ اللہ نے دو بیٹے ایک بیٹی عطا کی۔ ہر کسی ( گاؤں محلے کی خواتین ) نے بہوؤں نے نام رکھے اور ان دونوں شادیوں کو مِس میچ کرار دیا۔ مگر دونوں لڑکے اپنے باپ کے فیصلے پر خوش ہیں اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

بیٹیوں کی شادی کی باری آئی۔ میں ان کے گھر ایسے ہی جاتا تھا جیسے اپنے گھر آتا ہوں۔ آپ میری بات پر اگر یقین کر سکیں تو کریں۔ بڑی آپی کا جس دن رشتہ ہوا میں کہیں گیا ہوا تھا ۔ زندگی میں پہلی بار جو فیملی دیکھنے آئی۔ پسند کر گئی۔ باقی تو میری تینوں بہنوں کو دیکھنے جب مہمان آنے ہوتے تھے۔ میں وہیں انکے گھر ہوتا تھا۔ پانچ منٹ میں ہی مہمان کہہ دیتے تھے ہمیں بیٹی پسند ہے۔۔اور چاروں کو ہی جو دیکھنے آئے بیاہ کر لے گئے۔ ان کی طرف سے بھی بہت نکتہ چینیاں نہ کی گئیں۔

الحمدللہ میری چاروں بہنیں اپنے گھروں میں بے حد خوش ہیں۔ سب کے پاس بیٹے بھی ہیں بیٹیاں بھی ہیں۔ میں سب نے سسرال کئی بار گیا ہوں۔ کہ انکی شادیوں میں سارا انتظام میں ہی تو سنبھال رہا ہوتا تھا۔ تو انکے سارے سسرال والے جانتے ہیں۔

میرے دوست نے اپنے دونوں بیٹوں اور چار بیٹوں کی شادی بیس سال کے اوپر نیچے عمر میں کی تھی۔

اس ایک گھر کی مثال میں سیکھنے والوں کے لیے بے شمار سبق ہیں۔

میرے دوست نے مجھے چند سبق پڑھائے تھے۔ وہ آپ سے شئیر کرتا ہوں۔

میرے بیٹے کبھی بھی اپنے یار کی بہن کو گندی نگاہ سے نہ دیکھنا۔ یہ چیز تمہیں تمہاری اپنی نظر میں نِکا کر دے گی۔ اسے وہی عزت و احترام دینا جو اپنی بہن کو دیتے ہو۔ غیرت مندوں میں شمار کئیے جاؤ گے۔ پرے پنچائت کے بندے بنو گے۔

تم استاد بننا چاہتے ہو۔ تو اپنی شاگردوں سے عاشقی نہ لڑانا۔ نہ اپنی کسی شاگرد سے شادی کرنا۔ بڑا نام کماؤ گے۔ 

اپنی ماں اور باپ سے کہنا کسی کی بیٹی کو رد کرکے نہ آئیں۔ رد کرو گے تمہارے بہنیں رد کی جائیں گی۔ اچھی طرح ہوم ورک کرکے رشتہ لیکر جائیں۔ نہ کہ رشتہ دیکھنے۔ اور تمہارا رشتہ طے کرنے کا اختیار اپنے دادا والد یا چھوٹے بھائی کو دینا۔ رشتے ناطے مرد ہی جوڑا کرتے تھے۔ اور یہ کام تو تھرڈ پارٹی (نائی, میراثی) ہی اپنی صوابدید پر طے کر دیا کرتی تھی۔ وہ لوگ بڑے زمانہ شناس ہوتے تھے۔ یہ کام جب سے خواتین نے آل اِن آل سنبھالا ہے تو ہر تیسرے چوتھے گھر میں بیٹی شادی کے انتظار میں شادی کی عمر سے گزر چکی ہوئی ہے۔ 

یہ رشتہ دیکھنا کیا ہوتا ہے؟ وہ بھی بیٹیوں کو دیکھنے کون جاتا ہے؟ رشتہ تو بیٹی والے دیکھنے آتے ہیں۔ میرے دوست کا دور یہ تھا۔ وہ اس سے نہ نکل سکے۔ وہ کہتے تھے کہ بیٹی کا تو رشتہ لیکر جایا جاتا ہے۔ انکی نظر میں بیٹے کے لیے رشتہ دیکھنے جانے والے لوگ اور پھر بیٹیوں کے "نام" رکھ کر رد کر دینے والے لوگ اللہ کی بارگاہ میں گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔ 

انکے مطابق بیس سے لیکر حد پچیس سال کی عمر میں بیٹے کی شادی کر دو۔ وہ ایڈجسٹ ہوجائے گا۔ اس کے بعد یاریاں لگائے گا۔ پرفیکشن میں جائے گا۔ جو ملے گی نہیں تو اول شادی میں تاخیر ہوگی۔ اور ہو گی بھی تو بیوی سے گھل مل نہیں سکے گا۔ کہ پہلے ہی درجن بھر سہیلیوں کا نشہ کر چکا ہوگا۔ پوسٹ میرٹل افیئرز میں بھی جائے گا۔ کہ تیس تک جاکر لڑکا بوہتا سیانا ہوچکا ہوتا۔ اور دو شادیوں یا ایک بیوی ایک معشوق والی نفسیات بننے لگتی۔ ٹائم سے شادی ہوئی تو ایسی نفسیات کم بنتی ہے۔ 

اور ہم لڑکے ہیں ناں۔ قسم سے اکثریت میں ہمیں سسرال کے کچے پکے گلی یا ٹاؤن والے گھر کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ نہ ہمیں انکے گھر میں موجود لڑکی کی زیادہ بہنوں کی ٹینشن ہوتی ہے۔ ناں ہی ہم جہیز لینے کی نفسیات رکھتے ہیں۔ ہم تو شادی پر کھانا بھی خود دینا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک کمرے کا سامان خود بنانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ لڑکی کو سادگی سے لانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اپنا اور مخالف پارٹی کا خرچ کم سے کم کروانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ دولہے کی نفسیات ہوتی۔ 

مگر ایسا کچھ بھی ہم کر نہیں پاتے۔ کیوں؟ ہماری ہی مائیں بہنیں پھوپھیاں خالائیں مامیاں ان سب باتوں میں ٹانگ اڑا لیتی ہیں۔ اور ایسی بہو لانے کی لاحاصل میراتھن دوڑ میں شامل ہوجاتی کہ جسے سارا خاندان دیکھے اور دیکھتا رہ جائے۔ سائیں موئے جوڑ ہی نہیں بن پاتے۔ قد رنگ فیملی سائز تعلیم مکان کی بناوٹ اور نجانے کتنے انتہائی بیوقوفانہ و جاہلانہ اعتراض لگا کر ہماری خواتین لڑکیوں کو رد کر آتی۔ 

ایک عورت بڑے فخر سے بتا رہی تھی کہ ماسٹر صاحب سب کچھ ٹھیک تھا۔ انکے گھر کے آگے خالی پلاٹ میں روڑھی لگی ہوئی تھی۔ میرا پتر اوتھے بو واں سُنگھن جائے دا؟ میں نے کہا چاچی اسی ٹریکٹر لاکے اوتھوں روڑھی چک دیاں گے۔ اوہ پلاٹ ای اسی آپے خرید لواں گے۔ فیر کیہ خیال اے؟ اپنا سا منہ لیکر رہ گئی۔ اس بیبی نے پنجاب کا کوئی ضلع ہی شاید چھوڑا ہو۔ کہنا تو نہیں چاہیے مگر اپنا بیٹا کِسے نا چج دا تھا۔ مروجہ پنجابی مردانہ بیوٹی سٹینڈرڈز کو دس نمبر دیں تو اس لڑکے کو دو نمبر مل سکتے ہیں۔ اور بات کرنے اٹھنے بیٹھنے کی بھی کوئی تمیز نہیں۔ بس پیسہ تھا۔ اور اکلوتا تھا۔ ابھی تک بیٹھا ہوا ہے۔ کوئی انکو اب پسند نہیں کر رہا۔ ترلے کر رہے کوئی بس انکا رشتہ کروا دے۔ مگر نہیں ہو پا رہا۔ 

خواتین کو میری باتیں یقیناً ناگوار گزریں گی۔ اور خصوصاً وہ آنٹیاں جو کئی سال سے بیٹے کا رشتہ تلاش کرنے کا تماشا لگائے ہوئے ہیں۔ آپ مجھے انفرینڈ کریں یا بلاک کر دیں۔ اپنے چن مکھن کی بوتھی ویکھ کر کسی کی دھی بہن کا نام رکھا کریں۔ اور اپنی گھر بیٹھی شاہ زادیوں کی عقلیں اور شکلیں بھی دیکھ لیا کریں۔ وہ کوئی حلیمہ سلطان نہیں ہیں۔ جو آپ کرتی پھر رہی ہیں۔ وہی کل کو بھگتیں گی بھی۔ 

اور لڑکوں سے بس ایک بات کہوں گا۔ میرے ویرو زندگی لڑکی کی جاب اسکے گورے رنگ تیکھے نین نقشوں اور خوبصورتی کے ساتھ اچھی نہیں گزرتی۔ اس کی تعلیم و تربیت اسکا خاندانی ہونا اسکا باشعور ہونا، اسکا گھر داری اور نئے گھر میں آکر اپنا انٹرسٹ پیدا کرنا ہی اسکے گُن ہیں۔ چھوڑو یہ جانو مانو شونا بیبی کو۔ اور بندے دے پتر بن کے ویاہ کراؤ۔ 

ایک آخری بات۔ بہو سے کل کو لگانا تو بیر ہی ہے ناں؟ اس کے کھانے پینے نہانے کپڑے پہننے ہسنے رونے سونے جاگنے بات کرنے آٹے گوندتے ہوئے ہلنے میں بھی نکالنے تو نقص ہی ہیں۔ پھر اتنا سیاپا کیوں اپنی جان کو ڈالا ہوا ہے؟ 

Thursday, 23 March 2023

ارمضان المبارک کے تین گھنٹے بہت قیمتی ہیں، پس اگر تم ان کی حافظت کرو تو یہ تین گھنٹے ماہ رمضان کے آخر تک نوے گھنٹے ہوجائیں گ !!!*


*رمضان المبارک کے تین گھنٹے بہت قیمتی ہیں، پس اگر تم ان کی حافظت کرو تو یہ تین گھنٹے ماہ رمضان کے آخر تک نوے گھنٹے ہوجائیں گے !!!*

یہ تین گھنٹے👇🏻:

۱♥️: افطار کا گهنٹہ، افطاری جلدی تیار کیجئے اور دعا کے لئے وقت نکالئے کیونکہ روزه دار کی دعا اس وقت رد نہیں ہوتی لہذا خود اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور مرحومین کے لیے دعا کریں-

۲♥️: دوسرا گهنٹہ: رات کا آخری گهنٹہ پس خداوندعالم سے خلوت کرو کہ اللہ آواز دیتا ہے آیا کوئی درخواست کرنے والا ہے کہ میں قبول کروں آیا کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اس کو معاف کردوں پس اس تم وقت استغفار کرو-

۳♥️: تیسرا گھنٹہ: صبح کی نماز کے بعد سے سورج نکلنے تک مصلے پر بیٹھے رہنا اور ذکر خدا کرنا-
🟢یہ نوے گهنٹے ہیں ان اوقات پر مداومت کرو, ذکر خدا کرو اور غیبت سے دوری ... نماز پنجگانہ اور نافلہ بجا لاو کہ صرف تیس دن ہیں اور بہت جلدی گزر جائیں گے-

تین دعائیں اپنے سجدوں میں پڑهئے👇🏻
1- *اللهم إنی أسألك حسن الخاتمة*

2- *اللهم ارزقني توبة نصوحه قبل الموت*

3- *ياالله یارحمن یارحیم یا مقلب القلوب ثبّت قلبي علي دينك*

پارسا کتے (استدعا ہے مکمل پڑھئے)

استدعا ہے کہ مکمل پڑھیئے گا

پارسا کتے

مریض پر گزشتہ 20 منٹ سے جھکا ہوا ڈاکٹر سیدھا ہوکر مڑا چند ثانیے توقف کے بعد عاشق حسین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مغموم لہجے میں کہا :

''بزرگو! ہم نے اپنی سی پوری کوشش کی زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں یے کسی بھی وقت کوئی بھی معجزہ رونما ہو سکتا ہے ۔مگر مرض اتنا پرانا تھا اور سلوتریوں نے مرض کو اتنا بگاڑا تھا کہ مریض کے بچنے کی اب کوئی امید نہیں ہے۔ بمشکل 13 گھنٹے جی سکے گا ۔''
عاشق حسین نے نیلی آنکھوں سے جو بہ کثرت رونے سے لال ہوئی تھی ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا :
''ڈاکٹر صاحب ، کیا میرے جوان جہان بیٹے کے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔؟ ڈاکٹر نے تاسف کے ساتھ کہا :
''مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ شائد ہی ہم آپ کے بیٹے کو بچاسکیں ۔''
'' اچھا ڈاکٹر صاحب پھر ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم گھر کی راہ لیں۔''
عاشق حسین نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر اس تقاضے پر ششدر رہ گیا۔
حیرت سے کہا : ''بزرگو! آپ کے بیٹے پر جانکنی طاری ہے۔ وہ جان دینے کے کرب میں مبتلا ہے ۔ یہاں ہم اسے ایسی ادویات ڈرپ میں ڈال کر دے رہے ہیں کہ جس سے موت کا عمل کم تکلیف دہ ہوتا ہے۔ درد کا احساس کم ہوتا ہے اور روح قدرے کم تکلیف سے نکل جاتی ہے اور آپ نیم مردہ بیٹے کو گھر لے جانے کی بات کر رہے ہیں ۔''
عاشق حسین نے افسردگی کے ساتھ کہا : ''ڈاکٹر صاحب آپ موت کی تکلیف کی بات کر ریے ہیں لیکن آپ زندگی کے درد سے واقف نہیں ہیں۔کبھی تو غریب رہ کر زندہ رہنے کا تجربہ کر لیجئے۔ کبھی تو غریب کی طرح مر کر دیکھ لیجئے ۔آپ کو کیا معلوم غربت کی زندگی اور غربت کی موت کسی محشر سے کم نہیں ہوتی۔ ہمیں ہسپتال سے جانے کی اجازت دیجئے ۔سرکار پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔''
ڈاکٹر نے غصہ ہوکر کہا: '' یہی تو تم لوگوں کی جاہلیت ہے ۔پہلے جوان بیٹے کو خودساختہ ڈاکٹرز، حکیموں اور پیروں فقیروں سے علاج کرواتے ہوئے موت کے منہ میں دھکیلا، ایک سادہ عام سی بیماری کو اتنا پیچیدہ کردیا کہ بیچارہ اس دنیا سے رخصت ہورہا ہے ۔اب اسے چین سے مرنے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ کیا یہ آپ کا فرزند ہے یا دشمن۔؟''
عاشق حسین نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا :''ڈاکٹر صاحب اگر یہ چین سے مر گیا تو دنیا والے مجھے چین سے جینے نہیں دیں گے۔ میرے بیٹے کی درد ناک موت میں میری آبرومندانہ زندگی چھپی ہوئی ہے۔ ہمارے گاوں تک بس کا کرایہ 120 روپے ہے اور ایمبولینس والے 6 ہزار مانگتے ہیں۔ بس والے میت کی ٹکٹ نہیں کاٹتے اور نہ ہی مردے کو سیٹ دیتے ہیں۔ البتہ رستے میں اگر سواری مرجائے تو لاش کو اتارنے کا نہیں کہتے ۔آپ نے 13 گھنٹے مزید زندہ رہنے کا کہا ہے اور یہ تجہیز و تکفین کے لیئے مناسب وقت ہے ۔ایمبولینس کا کرایہ آخری رسومات پر خرچ کرلوں گا اور بس میں انشاللہ اسے موت بھی جلد آجائیگی ۔ جانکنی کے عذاب کا دورانیہ بھی کم ہوجائے گا ۔''
ڈاکٹر یہ سب کچھ سن کر سن ہوگیا ۔ بنا کچھ کہے چل پڑا ۔عاشق حسین بیٹے کو ٹکٹکی باندھے اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں نے اس کا چہرہ ڈھانپ نہ لیا تھا ، اتنے میں نرس نے آکر عاشق حسین کو ڈسچارج سلپ تمھاتے ہوئے کہا:
'' بابا جی آپ مریض کو لیکر جاسکتے ہیں۔''
عاشق حسین بوجھل دل اور شکست خوردہ قدموں کے ساتھ گاؤں کی طرف چل پڑا۔ بس میں دوران سفر اب بھی وہ گاؤں سے کوسوں دور تھا وہ تجہیز و تکفین کے پورے انتظامات کو ذہن میں ترتیب دے چکا تھا۔ آج جمعہ مبارک کا دن تھا ۔صبح کے 10 بج ریے تھے۔اسے امید تھی کہ گاؤں پہنچتے پہنچتے اس کے بیٹے نے جان دے چکی ہوگی ۔ گاؤں والے انا”فانا” قبر کھود کر تیار کرلیں گے ۔کفن، عرق گلاب، سخات کا صابن، مولوی صاحب کی جائے نماز اور دیگر تمام لوازمات گاؤں کے بازار میں "سلام دکاندار” کے پاس دستیاب ہوتے ہیں۔ اس نے انگلیوں پر موٹا موٹا حساب لگاتے ہوئے تخمینہ ساڑھے چار ہزار کا نکالا ۔ اس کے علاوہ قل تک اور بعد میں بھی فاتحہ پڑھنے کے لیئے آنے والے مہمانوں اور دور پاس کے رشتہ داروں کے لیئے آٹے، دودھ ، پتی، چائے اور گھی شکر کا خرچہ اس کے حساب سے کوئی ڈھائی ہزار بن رہا تھا اور تقریبا اتنی ہی رقم اس کے پاس بچی ہوئی تھی ۔جو اس نے بیٹے کے علاج معالجے کے لیئے گھر کا آخری اثاثہ بیل بیچتے ہوئے کھری کی تھی ۔
انسانوں سے جانور اچھے ہوتے ہیں ضرورت کے وقت تو کام آجاتے ہیں۔اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے سوچا ۔ورنہ انسان تو مشکل میں منہ موڑ لیتے ہیں اور خوامخوا کے لیئے اشرف المخلوقات بنے پھرتے ہیں۔ ورنہ کہاں جانور اور کہاں انسان ۔۔۔۔
جوں جوں گاؤں قریب آتا جارہا تھا توں توں اس کی پریشانی بڑھ رہی تھی۔ اس نے جنازے کا وقت ظہر کی نماز ادا ہوتے ہی طے کیا تھا اور مغرب تک ساری رسومات ادا ہو چکی ہوں گی ۔ مغرب پڑھنے کے بعد مسجد میں گاؤں والوں اور مہمانوں کو جو کھانا اس نے دینا تھا اس کا انتظام اس سے نہیں ہو پارہا تھا ۔کسی سے ادھار لینا تو ناک کٹنے والی بات تھی۔ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ شرم کی بات تھی ۔زندگی بھر گاؤں والے طعنہ دیتے کہ بیٹے کو ادھارے کا کفن پہنایا تھا ۔مسکینوں کی طرح زمین میں گاڑا تھا ۔بغیر رسومات ادا کئے جانے کے دفنانا تھوڑا ہوتا ہے۔ گاڑنا ہی تو ہوتا ہے۔ اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے مردہ بیٹے کو گاؤں لانے کی بجائے جاں بلب بیٹے کو لانے کا فیصلہ کیا ۔ورنہ گاؤں میں شلوار بھی اترتی اور بیٹے کی بخشش بھی نہ ہوتی ۔
گلابو کمہار کے ساتھ یہی تو ہوا تھا ۔ بیوی کی موت پر جنازے کے بعد نہ مولویوں میں سخات بانٹ سکا، نہ ہی امام مسجد کو جائے نماز خرید کر دے سکا اور نہ ہی تدفین کے بعد لوگوں کو کھانا کھلا سکا ۔مولوی صاحب تو صاف بات کرنے کے عادی تھے۔انہوں نے تو برملا کہا تھا کہ
''گلابو کمہار کی بیوی کی بخشش نہیں ہوگی اور اگر پھر بھی کوئی نیکی کام آگئی اور بخشش ہو بھی گئی تو عذاب قبر تو تا قیامت پکاہے۔ بے چارہ گلابو کمہار! بیوی بھی جہنمی اور وہ بھی ۔
آج تک کسی سے آنکھ ملانے کا قابل نہیں ہے۔عاشق حیسن کو جھرجھری سی آگئی اور ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو داد دی کہ بیٹے کو جانکنی کی حالت میں ہسپتال سے نکالا ،ورنہ اگر یہی پیسے ایمبولینس پر خرچ ہوتے تو اس کا انجام بھی گلابو کمہار جیسا ہوتا اور بیٹا بھی عذاب قبر سہتا۔
اچانک عاشق حسین کو زبردست جھٹکا لگا۔ ڈرائیور نے اتنے زور سے بریک دبائی تھی کہ سڑک پر ٹائروں کے نشانات پڑ گئے تھے اور پہیوں کے گھسنے کی کریہہ آواز بھی دور تک سنائی دی گئی تھی۔
مگر ڈرائیور پھر بھی ان تین کتوں کو نہیں بچا سکا تھا جو جفتنی کتیا کا تعاقب کرتے ہوئے کتیا سمیت چلتی بس کی زد میں آگئے تھے۔ جنس کی شدت ہمیشہ حواس چھینتی ہے۔ محبت اور عقل اسی لئے تو ایک دوسرے کی ضد ہے آگ اور پانی ہے، چوہے بلی کا کھیل ہے ۔محبت میں جنسی نا آسودگی پاگل پن طاری کرتی ہے ۔دیوانہ بناتی ہے ۔محبت میں خود سپردگی تتلیوں کی گود میں سونا ہے۔ رنگ و نور میں نہانا ہے ۔محبتوں میں جسمانی ملاپ بارش کی معصوم ادا ہے۔ کلی کا چٹکنا ہے ۔ بن جسمانی لمس کے محبت زہنی مرض ہے۔ آسیب ہے۔
بریک لگنے کی شدت سے سواریاں ایک دوسرے پر لڑھک گئی تھیں ۔بس میں یک دم سے افراتفری مچ گئی۔ سواریوں کے شور وغوغا نے آسمان سر پر اٹھا دیا۔
تین کتے، ایک کتیا اور عاشق حسین کا بیٹا؛ایک ساتھ مرگئے۔ ادھر تین کتے اور ایک کتیا بس کے نیچے آکر کوچ کرگئے اور ادھر عاشق حسین کے بیٹے کی روح اوپر پرواز کر گئی۔
عاشق حسین نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے رب کا شکریہ بھی ادا کردیا کہ تین کتوں اور ایک کتیا کے ساتھ ساتھ اس کے بیٹے کی جان بھی نکال دی۔
اس نے دل ہی دل میں عزرائیل کو بھی بڑی داد دی، کس چابکدستی سے لوگوں کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ اگر عزرائیل نہ ہوتا تو خدا جانے لوگ کیسے جیتے۔ ؟
بیٹے اور کتوں کے مرنے کا وقت اور مقام جیسے اس کے زہن میں نقش ہو کر رہ گیا ۔
کنڈیکٹر نے جلدی جلدی مرے ہوئے کتوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے سڑک کے کنارے ڈال دیا اور بس روانہ ہوئی۔ تقریبا 5 منٹ بعد بس عاشق حسین کے گاؤں کے سٹاپ پر رکی ۔سٹاپ کے قریبی گھر سے چارپائی منگوا کر عاشق حسین نے گاؤں والوں کی مدد سے بیٹے کی لاش چارپائی پر رکھی اور گھر کی راہ لی بس اس گاؤں کے واحد سواریوں کو اتارنے کے بعد دھواں اگلتے ہوئے اور غوں غوں کی آوازیں نکالتے اگلی منزل کی طرف رینگنے لگی تھی۔
عاشق حسین نے گاؤں والوں اور رشتہ داروں کے حوالے تجہیز و تکفین کے انتظام کرتے ہوئے چھوٹے بھائی کو ساری نقد رقم بھی ہاتھ میں تمھا دی ۔خواتین کے بین اور گاؤں والوں کی با آواز بلند انتظامات بارے باتوں کے دوران عاشق حسین ایک بڑی بوری میں ایک عدد کلہاڑی ، تیز دار والی چھری اور کام والے میلے اور بوسیدہ کپڑے رکھ کر خاموشی کے ساتھ نکل گیا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ جائے حادثہ پر موجود تھا ۔
سڑک پر ویرانی چھائی ہوئی تھی وہ جلدی جلدی چاروں مرے ہوئے کتوں کو ٹانگوں سے کھینچتے ہوئے سڑک کنارے گنے کے کھیتوں میں اندر تک لے گیا ۔بجلی کی سی سرعت کے ساتھ اس نے چاروں کتوں کو کاٹ کر بوری میں ڈالا اور کپڑوں کے اوپر پہنے ہوئے میلے اور خون آلود ملبوس کو اتار کر ماچس کی تیلی سلگا دی۔ گھر داخل ہوکر اس نے بڑی بیٹی کو گوشت حوالے کرکے میت کا کھانا تیار کرنے کے بارے میں اچھی طرح سمجھایا اور باہر نکل کر فاتحہ کے لیے آنے والوں میں گھل مل گیا ۔تدفین بھی شان سے ہوئی۔ چار پیٹی صابن بانٹا گیا اور آئے ہوئے تمام مولویوں میں جائے نماز، سفید ٹوپیاں اور تسبیح بھی تقسیم کی گئیں۔ مغرب کے بعد سارے گاوں کو مسجد ہی میں چھوٹا گوشت کھلایا گیا۔ گرم گرم تندوری روٹیوں کے ساتھ سب نے پیٹ بھر کر کھایا خوب واہ واہ ہوئی۔ سب نے لذت کی تعریف کی۔
عاشق حسین مطمئن تھا کہ انشاللہ میت کا ایسا کھانا گاؤں میں کسی کے باپ نے بھی اب تک نہیں دیا ہوگا اور نہ ہی آئندہ سو سالوں میں کھلا سکے گا۔ عاشق حسین نے ایک بھرا ہوا خوانچہ مولوی صاحب کے گھر بھی بجھوایا خوب دعائیں ہوئیں اور مرحوم کو شہید کا درجہ بھی عطا ہوا ۔اگلی صبح فجر پڑھ کر بھری مسجد میں مولوی صاحب نے عاشق حسین کو مخاطب کیا ''بھائی عاشق حسین رات کو تو بڑی عجیب بات ہوئی میں نے اور ملانی جی نے اکھٹے ایک ہی خواب دیکھا کہ تیرا برخوردار جنت کی باغوں میں چہل قدمی کر رہا ہے۔ خوش و خرم ہے۔ میں نے تو بس صرف یہی دیکھا۔ مگر ملانی جی کہہ رہی تھی کہ اسے شہید نے کہا کہ ابا کی حویلی بھی وہ جنت میں دیکھ چکا ہے جس کی سفید موتیوں کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے ۔''
تمام جماعت عش عش کر اٹھی۔ عاشق حسین زیر لب مسکرایا اسے پہلی مرتبہ نجس کتے کی پارسائی کے زور کا علم ہوا تھا ۔ واقعی جنت کا ہر راستہ پیٹ سے گزرتا ہے اور جہنم بھوک کی پیداوار ہے ۔
عاشق حسین نے دل ہی دل میں ان چاروں کتوں کا شکریہ ادا کیا کہ نجس ہونے کے باوجود اس کی انا اور دین کو قائم رکھا۔ اس کے بیٹے اور اسے جنت تک لے جانے کا سبب بنے پہلی مرتبہ اس کے دل سے کتوں کے لیے دعا نکلی اگر ان کتوں نے آج اس کی پردہ پوشی نہ کی ہوتی تو انسان تو اسے برہنہ کرچکے ہوتے

وراثت میں حصہ

*آسیہ عمران*
*وراثت میں حصہ ۔۔۔۔۔۔*
کل میرا بھائی آیا اور مجھے دس لاکھ روپے دے کر کہا کہ یہ تمھارا ابا کی وراثت میں سے حصہ ہے۔
والد صاحب نےانتقال کے وقت ترکہ میں دو منزلہ مکان چھوڑا جو اس وقت چالیس لاکھ کا تھا۔
پچیس سال گزر گئے ہم بہنیں خاموشی سے منتظر رہیں کہ بھائی خود ہی تقسیم کریں گے۔
پچھلے ماہ بھائی نے وہ مکان چار کروڑ میں بیچا کاغذی کارروائی میں ہم دونوں بہنیں بھی ساتھ تھیں۔ لیکن جو ہمیں حصہ دیا وہ م پچیس سال پہلے کی مکان کی قیمت کے حساب سے صرف دس لاکھ دیا ۔
مولانا صاحب کیا یہ زیادتی نہیں ہے ؟
اس خاتون نے مولانا صاحب سے پوچھا ۔
بالکل ذیادتی ہے اول تو وقت پر تقسیم ہونی چاہیے تھی لیکن اگر پچیس سال بعد جائیداد کی تقسیم ہوئی تو ورثاء میں آج کی قیمت کے اعتبار سے حصہ تقسیم کیا جانا چاہیے تھا ۔
بلکہ دین کا تقاضا تو یہ ہے کہ جتنے سال بھائی نے فایدہ اٹھایا اس کا کرایہ بھی ان پر واجب الادا ہے یہ اور بات کہ دیگر ورثا خود ہی نہ لینا چاہیں۔
یہ ایک بہن کا مسئلہ تھا جس کے بھائی نے لا علمی یا پھر چالاکی سے بہن کے حصہ کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا۔ہزاروں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھوں نے باپ کے مال پر صرف قبضہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے حق سمجھ کر کھایا ۔
میرا ایک آرٹیکل شادی میں جہیز جیسے بوجھ سے چھٹکارہ پانے کے حوالے سے تھا ۔
کچھ لوگوں نے اس پر کہا کہ ماں باپ چونکہ وراثت میں بیٹی کو حصہ نہیں دیتے اس لیے جہیز دے دیتے ہیں۔
آپ جہیز کی مخالفت ضرور کریں کہ یہ فضول رسم ہے لیکن بیٹیوں کے وراثت میں ان کے شرعی حصہ کی تو بات کریں ۔جو ان کا رب کی طرف سے دیا گیا حق ہے ۔
جہاں جہیز سے ڈسے لوگوں کی کمی نہیں وہاں ایسے اعلی تعلیم یافتہ ،بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہزاروں لوگ بھی ہیں ۔ بیٹیوں کو حق دینے کی بات پر جن کی غیر ت جاگ جاتی ہے کہ انھوں نے ایسا کہا تو کیوں کہا؟ بیٹیاں روایتی شرم کے زیر اثر اس پر مستزاد میکے کا بھرم اور مان قائم رکھنے کی خاطر خاموشی سے گھٹتے عمر بتا دیتی ہیں۔ زبان سے اف تک نہیں کہتیں۔
فیملی میں ہی ایک رشتہ دار اپنے بچوں سے کہہ رہے تھے میرے مرنے کے بعد تینوں مکانوں کو دونوں بھائی آپس میں برابر برابر تقسیم کر لینا ۔ کسی نے توجہ دلائی کہ صرف دو بھائی ہی تو نہیں تین بہنیں بھی تو حقدار ہیں ۔
ایک نے کم علمی کے زیر اثر سوال کیا ۔جس گھر میں رہائش ہوکیا اس میں سے بھی بہنوں کا حصہ نکلے گا۔
تبھی مولانا صاحب آگئے انھوں نے تفصیلا بتایا کہ جہیز اور شادی کے اخراجات کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ۔
وہ صرف والدین کی طرف سے تحائف ہو سکتے ہیں اور ترکہ کے لئے رہائشی یا غیر رہائشی کی بھی کوئی شرط نہیں ۔
کسی کے فوت ہونے کے بعد اس کی ایک ایک چیز ترکہ(وراثت کا مال ) بن جاتی ہے جس کی تقسیم اللہ رب العزت نے خود کی ہے کوئی اپنی مرضی سے اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کر سکتا۔
اس کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے میت پر کوئی قرض ہو تو وہ میت کے چھوڑے ہوئے مال سےادا کیا جائے گا۔ چاہے قرض دینے میں ہی سارا مال ختم ہو جائے قرض سب سے پہلے دینا ہوگا۔
اس کے بعد اس کے تجہیز و تکفین کا بندوست اسی مال سے کیا جائے گا ۔
اگر میت نے اپنے ورثاء کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو کل مال کے تیسرے حصے سے ادا کی جائے گی ۔
بقیہ مال ورثاء میں کیسے تقسیم ہوگا اس کا باقاعدہ علم علم الفرائض کے نام سے موجود ہے جس کے سیکھنے کی باقاعدہ ترغیب دی گئی ہے ۔اب اس حوالے سے ایپس بھی بن چکی ہیں آپ کل مال لکھیں اور ورثاء لکھیں تو ہر ایک کو ملنے والا حصہ معلوم ہو جائے گا ۔
تخصص کی کلاس میں مولانا صاحب ایک اور مسئلہ کا بتا رہے تھے کہ ایک شخص نے پلاٹ بیٹے کے نام لگوائے اور اسے کہا کہ یہ میری ملکیت ہیں میرے مرنے کے بعد شریعت کے مطابق ان میں سے بہنوں اور ماں کو حصہ دے دینا ۔اچانک ہی کسی ناگہانی میں پہلے باپ پھر بیٹا چل بسا ۔ بہو نے یہ کہتے ہوئے بہنوں کو حصہ دینے سے انکار کر دیا کہ میرے شوہر کے نام ہیں لہذا اسے کوئی مجھ سے نہیں لے سکتا۔
کچھ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مال کب تک کھاؤ گی یہاں نہ دو گی تو دوسرے جہاں میں پھنسنا یقینی ہے عدالت کے فیصلے سے بھی حقیقت تو نہ بدلے گی۔ بات سمجھ نہ آنی تھی نہ آئی کہ دولت فتنوں میں ایک بڑا فتنہ ہے
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ فضول رسم و رواج سے ہٹ کر اپنی اصل کی طرف آئے وہ تمام حقوق جو رب کریم نے کسی کے بتائے وہ پورے کئے جائیں الگ سے جو بھی دیں رسوم کے زیرِ اثر نہیں اخلاص اور نیک نیتی سے دیں۔
اپنا حق لینے میں شرمانے یا قباحت کی کوئی بات نہیں ۔
اگر کوئی اپنا حصہ لینے کے بعد کسی دوسرے کو اپنی مرضی سے دے دے تو وہ ایسا کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔
مقام شرم تو موجود ہ صورتحال ہے۔ جہاں لوگ معاشرے کی اندھی تقلید ،ریاکاری ،اور لوگ کیا کہیں گے کے چکر میں قرضدار ہی نہیں ذہنی مریض اور پھردل کے مریض بن جاتے ہیں اور میکے والوں کو زندگی بھر اس بوجھ سے چھٹکارہ نہیں ملتا۔

Saturday, 21 January 2023

’’مارش میلو تھیوری‘‘

استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔
’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘
یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے ۔
چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کئے اور پڑھانا شروع کر دیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا.

کچھ سالوں بعد استاد نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔ کافی جدوجہد کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتا ہے۔ پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایک عام سی زندگی گزار رہی تھی، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی تھے، جنھیں سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔

اس تمام تر کاوش اور تحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالا اور وہ یہ تھا.
’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کر سکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘
اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا۔ کیوں کہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی، اس کا نام ’’مارش میلو‘‘ تھا۔ یہ فوم کی طرح نرم تھی ۔
اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے۔ جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔

Wednesday, 4 January 2023

نسبت اور صحبت سے فـــرق تو پڑتا ہـے*



اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناو

‏ایک عربی حکایت کا ترجمہ

ایک غریب شخص کام کاج کی تلاش میں مختلف شہروں کی خاک چھانتا رہا مگر کوئی بھی کام نہ مل سکا
وہ چرچ میں چلا گیا اور اونچی آواز میں کہنے لگا
"خداوندا تو مجھے کب تک غریب رکھے گا"
پادری نے اس شخص کو ڈانٹا کہ ایسے دعا نہیں کرتے وہ کہنے لگا کہ ٹھیک ہے پھر‏آپ مجھے کوئی کام دے دیں، تاکہ میں یہ الفاظ پھر نہ دہرا سکوں
پادری کہنے لگا تم یہاں آنے جانے والوں کے علاوہ چرچ کے اخراجات کا حساب لکھا کرو، ماہانہ پچاس ڈالر کے علاوہ کھانا اور رہائش بھی میرے ذمے ہوگی
اس شخص نے فورا حامی بھر لی
پادری نے اسے کھاتہ رجسٹر اور قلم دے دیا اور یوں‏وہ شخص چرچ کا کاتب بن گیا
وہ روزانہ پادری کو ہر چیز کے متعلق تفصیل سے بتاتا رہتا
جب اسے کام کرتے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تو پادری نے کہا ذرا اپنا حساب کتاب لکھنے والا رجسٹر لے کر آؤ تاکہ اس ہفتے کی آمدن اور اخراجات کا موازنہ کیا جاسکے
وہ شخص کہنے لگا جناب مجھے تو لکھنا پڑھنا‏آتا ہی نہیں، میں تو زبانی ہر چیز کا حساب رکھتا ہوں
پادری نے کہا مجھے تو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو پڑھا لکھا ہو، تم یہ پچاس ڈالر لو اور جاؤ جاکر کوئی دوسرا کام تلاش کرو
وہ پچاس ڈالر لیکر جب چرچ سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں باتیں کررہے تھے
ایک شخص دوسرے کو کہہ‏رہا تھا کہ میں نے تمھیں پچاس ڈالر قرض دیے ہیں، اب تم ان سے کوئی تجارت کا کام کرو، اپنا نفع حاصل کرو اور بعد میں مجھے میری اصل رقم لوٹا دو
وہ گیا اور بازار میں گھوم پھر کر دیکھا، اس نے دیکھا کہ اس شہر کے امرا ٹماٹر سے روٹی کھاتے ہیں مگر ٹماٹر وہاں اگتا نہیں تھا، دور دراز کے
‏علاقوں سے جب ٹماٹر آتا ہے تو راستے میں خراب بھی ہوجاتا تھا اس وجہ سے دو تین تاجر ہی یہ کام کرتے تھے اور وہ منہ مانگے دام بھی وصول کرتے تھے
اس شخص نے بھی ٹماٹروں کو یہاں لاکر فروخت کرنے کا ارادہ کیا
اسے پتا تھا کہ کہاں پر ٹماٹر سستا اور کثرت سے پایا جاتا ہے وہ وہیں گیا‏اور وہاں سے جب ٹماٹر خرید کر لایا اور بہت کم منافع کے ساتھ انہیں فروخت کرنا شروع کیا تو پہلے دن ہی سارے ٹماٹر ہاتھوں ہاتھ بک گئے اور اچھا خاصا منافع بھی حاصل ہوا
اور پھر کرتے کرتے وہ اس علاقے کا بڑا تاجر بن گیا
ایک دفعہ وہ سفر کرتے ہوئے ایسی جگہ پر گیا جہاں ہسپانوی زبان‏زبان بولی جاتی تھی جس سے وہ نابلد تھا
وہ ایک ریستوران میں کھانا کھانے گیا تو اسے کھانوں کے نام پلے نہیں پڑ رہے تھے
اس نے اپنے ایک نوکر کو بلا کر کہا
"ذرا ان کھانوں کے نام تو سمجھ کر مجھے بتاؤ "
نوکر نے حیرانی سے کہا جناب آپ اتنے بڑے تاجر ہیں مگر آپ کو ہسپانوی زبان نہیں آتی
‏اس شخص نے کہا اس لیے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں
تو نوکر نے کہا سوچیں اگر دو چار جماعتیں پڑھ لیتے تو پتا نہیں کتنے بڑے تاجر ہوتے
اس شخص نے جواب دیا
"اگر دو چار جماعتیں پڑھ جاتا تو آج پچاس ڈالر ماہوار پر چرچ میں پادری کا کاتب ہوتا "

سبق: اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بناو

Tuesday, 8 February 2022

شِکوہ اور جوابِ شِکوہ 💨 (رُوحِ اقبال رح سے معذرت کے ساتھ

ازدواجی شِکوہ اور جوابِ شِکوہ 💨
(رُوحِ اقبال رح سے معذرت کے ساتھ)

صرف وہ لُطف اندوز ہوں گے جو علّامہ محمّد اقبال رح کا شِکوہ اور جوابِ شِکوہ پڑھ چُکے ہیں اور شادی شُدہ بھی ہیں۔۔ تاہم باقی لوگ بھی پڑھ کر کچھ نہ کچھ لُطف اندوز ہونے کی کوشِش ضرور کریں کیونکہ پوسٹ شادی شُدہ پلس نہیں ہے۔۔

شوہر کا شِکوہ 😇 😉

کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں
زن مُریدی ہی کروں مَیں اور مدہوش رہوں
طعنے بیگم کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا مَیں کوئی بُزدل ہوں کہ خاموش رہوں
جرّأت آموز مری تابِ سُخن ہے مجھ کو
شِکوہ اک زوجہ سے! خاکم بدہن ہے مجھ کو

تجھ کو معلُوم ہے لیتا تھا کوئی رشتہ ترا؟
سَر پٹختے ہوئے پِھرتا تھا کبھی ابّا ترا
کس قدر خوش تھا مَیں جس دن تیرا ڈولا نکلا
تیرا ڈولا تو مگر موت کا گولا نکلا

تُو جو سوتی ہے تو سالن بھی پکاتا ہوں مَیں
ٹیپُو روتا ہے تو فِیڈر بھی بناتا ہوں مَیں
گُڈّی جاگے ہے تو جُھولا بھی جُھلاتا ہوں مَیں
پپُّو اُٹھ بیٹھے جو راتوں کو، کِھلاتا ہوں مَیں
پھر بھی مجھ سے یہ گِلہ ہے کہ وفادار نہیں
مَیں وفادار نہیں، تُو بھی تو دِلدار نہیں

ہے بجا حلقۂ ازواج میں مشہُور ہوں مَیں
تیرا بَیرا، تیرا دھوبی، تیرا مزدُور ہوں مَیں
زن مُریدی کا شرف پا کے بھی رنجُور ہوں مَیں
قصّہء درد سُناتا ہوں کہ مجبُور ہوں مَیں
میری مخدُومہ! میرے غم کی حکایت سُن لے
ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سُن لے

زچّہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تُو نے
ہر نئے سال نیا گُل ہے کِھلایا تُو نے
رشتہ داروں نے تیرے، جان میری کھائی ہے
فوج کی فوج میرے گھر میں جو دَر آئی ہے
کوئی مامُوں، کوئی خالُو، کوئی بھائی ہے
بات کہنے کی نہیں، تُو بھی تو ہرجائی ہے

کیسے غُربت میں، مَیں پالوں تیرے غمخواروں کو
اِن ممُولوں کو سمبھالوں، یا چِڑی ماروں کو؟
مَیں وہ شوہر ہوں کہ خود آگ جلائی جس نے
لا کے بستر پہ تجھے چائے پلائی کس نے؟
تُو ہی کہہ دے تیرا حُسن نِکھارا کس نے؟
اِس بلیک آؤٹ سے مُکھڑے کو سنوارا کس نے؟

کون تیرے لیۓ درزی سے غرارا لایا؟
واسطہ دے کے غریبی کا خدارا لایا؟
پھر بھی مجھ سے گِلا کہ کماتا کم ہوں
لے کے شاپنگ کے لیۓ تجھ کو، مَیں جاتا کم ہوں
نوجوانی میں تجھے عیش کراتا کم ہوں
اور پلازا میں تجھے فلم دِکھاتا کم ہوں

کاش نوٹوُں سے حکومت میری جیبیں بھر دے
مُشکلیں شوہرِ مظلُوم کی آسان کر دے
محفلِ شعر و سُخن میں تو چمک جاتا ہوں مَیں
تیری سرکار میں پہنچوں تو دبک جاتا ہوں مَیں
تُو جو بلغم بھی کھنگارے تو ٹَھٹک جاتا ہوں مَیں
گُھور کر دیکھے تو پیچھے کو سَرک جاتا ہوں مَیں

پھر بھی مجھ سے یہ گِلہ ہے کہ وفادار نہیں
تُو ہے بیکار، تیرے پاس کوئی کار نہیں

بیوی کا جوابِ شِکوہ 😜 😁

تیری بیوی بھی صنم تجھ پہ نظر رکھتی ہے
چاہے مَیکے ہی میں ہو تیری خبر رکھتی ہے
اُس کی سینڈل بھی میاں اتنا اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
شعر تھا فِتنہ گر و سرکش و چالاک ترا
دل، جگر چِیر گیا نالہء بیباک ترا

آئی آواز، ٹھہر! تیرا پتا کرتی ہوں
تُو ہے اَپ سَیٹ، مَیں ابھی تیری دوا کرتی ہوں
مَیں تجھے پہلے بھی اکثر یہ کہا کرتی ہوں
ارے کمبخت! بہت تیری حیا کرتی ہوں
اور تُو ہے کہ بڑی نظمیں ہے پڑھتا پِھرتا
اپنے یاروں میں بڑا اب ہے اکڑتا پِھرتا

مَیں دکھاتی ہوں ابھی تجھ کو بھی نقشہ تیرا
نہ کوئی قوم ہے تیری، نہ ہے شجرہ تیرا
بھائی تیرے ہیں سبھی مجھ کو تو غُنڈے لگتے
یہ ترے کان کڑاہی کے ہیں کُنڈے لگتے

اپنی شادی پہ عجب رسم چلائی کس نے؟
نہ کوئی بس، نہ کوئی کار کرائی کس نے؟
آٹو رکشے ہی پہ بارات بُلائی کس نے؟
مُنہ دِکھائی کی رقم میری چُرائی کس نے؟
کچھ تو اب بول ارے! نظمیں سُنانے والے
مولوی سے میرا حقِ مہر چُھڑانے والے

صاف کہہ دے مجھے کس کس پہ ہے اب کے مرتا؟
رات کے پِچھلے پہر کس کو ہے کالیں کرتا؟
کس کے نمبر پہ ہے سو سو کا تُو بیلنس بھرتا؟
چل بتا دے مجھے، اب کاہے کو تُو ہے ڈرتا
ورنہ ابّے کو ابھی اپنے بُلاتی مَیں ہوں
آج جُوتے سے مزا تجھ کو چکھاتی مَیں ہوں

اپنی تنخواہ فقط ماں کو تھمائی تُو نے
آج تک مجھ کو کبھی سَیر کرائی تُو نے؟
کوئی ساڑھی، کوئی پشواز دلائی تُو نے؟
ایک بھی رسمِ وفا مجھ سے نِبھائی تُو نے؟
لُطف مرنے میں ہے باقی، نہ مزا جینے میں
کتنے ارمان تڑپتے ہیں مرے سِینے میں

بُھول ابّا سے ہوئی اور سزا مجھ کو ملی
ماں بھی جان گئی کیسی بلا مجھ کو ملی
مَیں نے چاہی تھی وفا اور جفا مجھ کو ملی
میری تقدیر ہی دراصل خفا مجھ کو ملی

میرے مَیکے سے جو مہمان کوئی آتا ہے
رنگ ترے چہرے کا اُسی وقت بدل جاتا ہے
سامنے آنے سے اّبا کے تُو کتراتا ہے
کتنا سادہ ہے، کہتا ہے کہ شرماتا ہے
تُو ہوا جس کا مخالف وہ تری ساس نہیں؟
میری عزّت کا ذرا بھی تجھے احساس نہیں!

ہڈّی پسلی مَیں تری توڑ کے گھر جاؤں گی
ارے گنجے! ترا سَر پھوڑ کے گھر جاؤں گی
سَرّیا گردن کا تری موڑ کے گھر جاؤں گی
سارے بچّوں کو یہیں چھوڑ کے گھر جاؤں گی

یاد رکھنا! مَیں کسی سے بھی نہیں ڈرتی ہوں
آخری بار خبردار تجھے کرتی ہوں۔۔۔

Thursday, 27 January 2022

*طلاق کے کاغذ* 🌼 رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ

🌼 *طلاق کے کاغذ* 🌼

رونگٹے کھڑے کر دینے والا
سچا واقعہ۔۔ 

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔
قریب شام کے7بجےہونگے ،موبائل کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز ۔۔۔ 
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا ؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ ۔ اور ماں کدھر ہیں۔آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔ 
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہونچا۔۔ 

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں ) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ 
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں؛ ١٢ سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور ٩ سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔ 

میں نے بھائی صاحب سے پوچھاکہ" آخر کیا بات ہے"؟ 
بھائی صاحب  کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

 کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔  مجھے طلاق دینا، چاہتے ہیں َ۔ 

میں نے پوچھا " یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟  اتنی اچھی فیملی ہے ؛ دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔  پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔ 

لیکن میں نے بچوں سے  پوچھا دادی کدھر ھے ۔ تو بچوں نے بتایا ؛  پاپا  انہیں ٣ دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا؛ مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ 
کچھ دیر میں چائے آئی  َ بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔  اور بولے میں نے ٣ دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔ 

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں  کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نا تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔  

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔ 
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے۔ اور اپنی من مانی کرتے تھے۔ 

ماں نے ۱۰ دن پہلے بول دیا ۔۔۔۔۔، تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔ 
                     جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں  نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے *مجھے پڑھایا* اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں،

لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ 

اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے  تھے۔ 

           مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔
 
ایک بار  جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔۔۔پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔ 

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے  یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔ 

 مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔ 
کہتے کہتے رونے لگے۔۔ ۔۔ اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہونگے۔ 

ہم جنکے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے '؛ '''جو انکی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔ 

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔ 

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
 
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے  اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔ 
اور اگر اتنا سب کچھ کر نے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے ۔ 
تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔ 

ماں کے ساتھ رہتے۔ رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔
 ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
 جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ 

اسی درمیان رات کے 12:30ھوگیے۔ میں نے بھابی جی کے چہرے کو دیکھا۔ 
انکے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئےتھے۔ 

میں نے ڈرائیور سے کہا " ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔  بھابی جی ؛ بچے، اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہونچے،
  بہت زیادہ گزارش کرنے پر گیٹ کھلا۔ 
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے ۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔ 

چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب" ؟ 
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔ 

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہے۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے ۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہونگے صاحب۔

 اتنا کہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔ 

اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔  2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں  اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دونگی، ؟ 

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت  پچھتاوے میں جی رہے ہیں، ۔ 

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی 
۔ کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ 
صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے۔، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔ 

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔ 
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔  آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔ 

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے ۔

 سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔ 

راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور  بھای صاحب ایک دوسرے کے جذبات کو اپنے پرانے رشتے پر بٹھا رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گیا۔ 

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے۔ یہ سمجھ گئی تھیں۔ 

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔ 

*ماں صرف ماں ھے*
اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔ 

ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا سماج کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔ 

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کی کوئی مسئلہ ھو تو؛ انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں ؛  کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔  اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی جنموں تک رہے گا۔ 

یقین مانیں سب ھوگا  تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔ 
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔ 

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھنے کو دیں۔۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں

انتخاب،، عابد چوہدری

برائے مہربانی اس تحریر کو شئیر یا فاروڈ کیا جائے

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂
          *🌼Join🌼*

  
 ❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂

Wednesday, 19 January 2022

حقیقت

*ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی*

*وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا جو کوشش کے بعد بھی نہیں نکلے گا*

*تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہو جائے گی*

*تو تڑپے گی*
*وہ خوش ہوگا*
*اس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا*

*چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا مرچ مصالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا*

*10 , 10 انگلیوں والے انسان 32 , 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے*
*یہ تیرا انجام ہوگا*

*بڑی مچھلی سمجھانے کا حق ادا کر کے چلی گئی*
*چھوٹی مچھلی نے دریا میں اپنی عقل سے ریسرچ کی* 

*نہ شکاری* 
*نہ آگ*
*نہ کھولتا تیل* 
*نہ مرچ مصالحہ*
*نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان*
*کچھ بھی نہیں نظر آ رھا*

*چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی ان پڑھ جاہل پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی*

*کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں میں نے خود ریسرچ کی ھے*
*اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں*

*میرا ذاتی مشاہدہ ھے وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے*

*اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔*

*چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیادپر بوٹی کو منہ میں ڈالا*

*کانٹا چبھا*
*مچھلی تڑپی*
*شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا*

*آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے*

*حاصل کلام*

*انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں*

*بڑی مچھلی کیطرح کے دانا انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کر دی*

*چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل پڑا*

*لیکن موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے*

*مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی*
*انسان دنیا سے جائے گا واپس نہیں آئے گا*
*بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گۓ تو*

*اللہ تعالی کا وجود کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور جتنی باتیں ہمیں قرآن وحدیث سے آخرت کے بارے میں پتہ چلتی ہیں وہ کوئی مذاق نہیں ہے یا کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے*

*اللہ تعالی ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے*۔                              
آمین ثم آمین ۔

Monday, 17 January 2022

ہم شیطان سے بھی بڑے دھوکے باز ہیں* 👉

👈 *ہم شیطان سے بھی بڑے دھوکے باز ہیں* 👉


ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﭽﮯ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ، ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ دیکھ رہے ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ کر امام صاحب سمجھﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﮬﮯ۔
تو امام صاحب فرمانے لگے کہ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ؟" ﺳﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮧ ﭼﻮﻧﮏ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ. ﺳﺐ ﮐﻮ ﭼﭗ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﻠﺐ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ۔
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﻥ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ؟" ﺍﻧﮑﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩﺬﺍ ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ.. ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔" ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ؟ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ؟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮬﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﮧ ﮬﻮﮞ؟ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺳﮕﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟ ﮐﺰﻥ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻃﻨﺰ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﺁﮐﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﮬﻢ ﺁ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﮐﮧ ﮬﻢ ﮬﯿﮟ ﻧﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺸﻦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ۔
ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﻨﮕﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﺩﻭﮬﮍﮮ ﻣﺎﮨﯿﮯ، ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻏﺰﻟﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﭼﻨﺪ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ۔ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮬﻢ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯ، ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔"
ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﮭﮑﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ، "ﺧﺪﺍﺭﺍ۔۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﮬﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﮟ ﺳﮑﯿﮟ.. ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕِ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﻂ ﺁﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔۔
" ﺩﺭﺱ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﮬﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔۔ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ!
ﮬﺎﮞ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ .........
💫 _*"جوائن واٹس ایپ پیغامِ محمدﷺ آفیشل گروپ"*_
📲+923132161222

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...