Wednesday, 20 October 2021

نعت شریف

ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ
ﷺ چہرہ ھے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
ﷺ آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ھیں
ﷺ ماتھا ھے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ھے
ﷺ عارِض ھیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں
ﷺ ھیں
ﷺ گیسو ھیں کہ ” وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے
ﷺ سائے
ﷺ  ابرو ھیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ھیں
ﷺ  گردن ھے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
ﷺ  لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ھیں
ﷺ  قَد ھے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
ﷺ  بازو ھیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم 
ﷺ  ھیں
ﷺ  سینہ ھے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
ﷺ  پلکیں ھیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ھیں
ﷺ  باتیں ھیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ھوئی 
ﷺ  کلیاں
ﷺ  لہجہ ھے کہ یزداں کی زباں بول رھی ھے
ﷺ  خطبے ھیں کہ ساون کے امنڈتے ھوئے دریا
ﷺ  قِرأت ھے کہ اسرارِ جہاں کھول رھی ھے
ﷺ  یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
ﷺ  یاقوت کی وادی میں دمکتے ھوئے ھیرے
ﷺ  شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
ﷺ  یہ موجِ تبسم ھے کہ رنگوں کی دھنک ھے
ﷺ  یہ عکسِ متانت ھے کہ ٹھہرا ھوا موسم
ﷺ  یہ شکر کے سجدے ھیں کہ آیات کی تنزیل
ﷺ  یہ آنکھ میں آنسو ھیں کہ الہام کی رِم 
ﷺ  جھم
ﷺ  یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
ﷺ  یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
ﷺ  یہ پاؤں، یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
ﷺ  یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
ﷺ  یہ رفعتِ دستار ھے یا اوجِ تخیل!
ﷺ  یہ بندِ قبا ھے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
ﷺ  یہ سایۂ داماں ھے کہ پھیلا ہوا بادل
ﷺ  یہ صبحِ گریباں ھے کہ خمیازۂ خورشید
ﷺ  یہ دوش پہ چادر ھے کہ بخشش کی گھٹا
ﷺ  ھے
ﷺ  یہ مہرِ نبوت ھے کہ نقشِ دلِ مہتاب
ﷺ  رخسار کی ضَو ھے کہ نمو صبحِ ازل کی
ﷺ  آنکھوں کی ملاحت ھے کہ روئے شبِ کم
ﷺ  خواب 
ﷺ  ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ھے کہ جیسے     
ﷺ  تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال       
ﷺ  ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ھے جیسے     
ﷺ  ترتیب سے پہلے رُخِ ھستی کے خد و خال      
ﷺ                                                              
ﷺ  رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور        
ﷺ  کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ھے      
ﷺ  گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن        
ﷺ  معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ھے 
ﷺ                         
ﷺ  وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں        
ﷺ  وہ فقر کہ ٹھوکر میں ھے دنیا کی بلندی   
ﷺ  وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون  
ﷺ وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی     
ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ

ٹین ڈبے والا

ٹین ڈبے والا

میں لاہور میں سعودی عرب کے تعلیمی اتاشی کے سامنے بیٹھا تھا، میرے کاغذات اور جدہ یونیورسٹی کا ویزا اسکے ہاتھ میں تھا- وہ کافی دیر تک کاغذات کو دیکھتا رہا پھر بولا لیکن میں اس ویزے کو نہیں مانتا- میں نے پوچھا وجہ؟ اس نے کہا تعلیم تو ٹھیک ہے مگر تمھارا تجربہ انڈسٹری کا ہے تدریس کا تجربہ تو صفر ہے، جسکو پڑھانے کا کوئی تجربہ ہی نہ ہو وہ کیا پڑھائے گا- میں نے کہا سر لیکن جدہ میں رئیس القسم نے میرا ٹیسٹ اور پڑھائی کا طریقہ دیکھ کر میری سفارش کی ، پھر میرا ڈین سے انٹرویو ہوا اسکے بعد یہ ویزا دیا گیا ہے- اسکےہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی بولا ضروری نہیں کہ اگر انھوں نے غلطی کی ہو تو میں بھی غلطی کروں- میں نے کہا سر یہ ویزا وائس چانسلر نے جاری کیا ہے جسکی پوسٹ وزیر کے برابر ہوتی ہے، وہ پھر مسکرایا اور بولا اور مجھکو ایسے 15 وزیروں کے کاموں کو چیک کرنے کے لیئے بٹھایا گیا ہے اگرآپ چاہیں تو میں آپ کے کاغذات پر لکھ کر دے سکتا ہوں کہ آپ کو ویزا نہیں دیا جاسکتا۔ میں نے اس سے مزید حجت کی تو اس نے کہا جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے - میرے ذہن میں اپنی پرانی کمپنی کے
مسٹر فریڈرک کیسے کے الفاظ گونجے " مسٹر رضوان ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر بڑی غلطی کررہے ہو، میں نے ان لوگوں کے ساتھ 20 سال کام کیا ہے، انکا ہر وعدہ غلط ہوتا ہے" اور میں نے غصہ میں جواب دیا تھا " یہ لوگ ہمارے لئیے بڑے مقدس ہیں تم انکی توہین کررہے ہو، اس نے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا ایک وقت آئے گا تم میرے الفاظ کو یاد کروگے- شاید وہ وقت آگیا تھا- پھر اس کے بعد میں نے دو اور چکر لگائے ہوائی جہاز سے اور ہر بار اتاشی کا وہی جواب تھا " کہ جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے" میرے لئیے یہ بڑا سخت وقت تھا نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ دو مہینے بےروزگاری کے ہوچکے تھےمیں سخت ٹینشن میں بیٹھا تھا کہ بیل بجی دروازے پر ٹین ڈبےوالا تھا، کوئی ستر سال کا ہوگا بالکل ہڈیوں کا ڈھانچا، میلا کچیلا پیوند لگے کپڑے، پسینے میں نہایا ہوا- کہنے لگا صاحب دس سال ہوگئے ہیں ان گلیوں میں چکر لگاتے آج پہلی بار کسی کے گھر کی بیل بجائی ہے میں نے حیرت سے کہا ہاں ۔۔ بولو، کہنے لگا یہاں نہیں وہاں نیم کے پیڑ کے نیچے چبوترے پر بیٹھ کر آرام سے بات کرنی ہے- میں تذبذب کے عالم میں اس کے ساتھ چل پڑا- کہنے لگا صاحب میری اکلوتی بچی کی شادی ہونے والی ہے شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے مگر میرے پاس ایک پیسہ نہیں ہے آج کل کام بھی بہت مندا ہےکئی لوگوں سے ادھار مانگا سب نے منع کردیا، کل رات بہت دیر تک مسجد میں رویااور دعا مانگی تو رات میں خواب میں آپ کی گلی اور گھر نظر آیا اور آواز آئی ان سے جا کر مانگ لے اس لئیے صرف آپکا دروازہ کھٹکھایا ہے- مجھے اس کی کہانی پر یقین نہیں آیا اور ہنسی بھی آئی کہ لوگ کیسی کیسی چار سو بیسی کرنے لگے ہیں- میں نےازراہ مذاق پوچھا کتنے پیسے کی ضرورت ہے بولا صاحب سادگی سے رخصتی کرنی ہے، زیور تو میں اپنے بیوی کا چڑھا دوں گا، مگر پانچ چھ جوڑے اور شادی کا کھانا تو کرنا ہوگا، کوئی تیس ہزار کا خرچہ ہوگا-

میں نے سوچا 50000 تو آج کل صرف دلہن کے بیوٹی پارلرمیں ہی خرچ ہوجاتے ہیں- یہ رقم میرے لئیے بہت معمولی تھی اگر میں باہر کام کررہا ہوتا، مگر اب اس بے روزگاری میں یہ میرے لئیے بہت بڑی رقم تھی- میں خاموش سا ہوگیا وہ بولا صاحب آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں اور میرے محلے والوں سے پوچھ لیں یہ جھوٹی کہانی نہیں ہے، میں غریب ضرور ہوں مگر ایماندار ہوں قسطوں میں آپ کی رقم لوٹا دوں گا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر بےچارگی اور لجاجت- وہ پھر بولا میں کبھی بیل نہ بجاتا اگر یہ خواب نہ دیکھتا۔ میں عجیب شش و پنج میں تھا پھر مجھے یاد آیا کہیں پڑھا تھا کہ جب تنگی ہو تو خدا سے تجارت کیا کرو وہ کبھی نا امید نہیں کرتا۔۔۔ تیس ہزار دینے کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی کی کوئی امید نہیں – خیر میں گیا اور تیس ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دئیے- اس نے میرے ہاتھ چوم لئیے اور رونے لگا۔۔۔
کوئی پندرہ دن بعد پھر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے غصہ سے پوچھا اب کیا مسئلہ ہے کیا پھر کوئی خواب دیکھا ہے بولا ہاں مگر آپ کو کیسے پتہ چلا ؟ میں نے جنجھلا کر کہا ظاہر ہےپہلے خواب دیکھا تھا تو بیل بجائی اب پھر خواب دیکھا ہوگا جو بیل بجائی ہے- جلدی بتاؤ مجھے بہت کام ہیں- کہنےلگا صاحب کل عشاء کی نماز پڑھ کر بڑی دعا کی کہ مولا قرض تو دلا دیا ہے اب ادائیگی میں بھی مدد کردے اور سوگیا تو پھر آپ کا گھر نظر آیا آواز آئی کہ تیرا قرض ادا کردیا گیا ہے جاکر بتادے کہ اسکا بھی کام کردیا گیا ہے- میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا- میں نے کہا ٹھیک ہے جاؤ میں نے تم سے کون سا قرض وصول کرنا تھا- لیکن کمرہ میں آکر میں کافی دیر تک سوچتا رہا پھر والدہ سےمشورہ کیا تو وہ بولی تم کل ہی لاہور جاؤ ہوسکتا ہے قدرت کوئی راستہ نکالے میں نے تنک کر کہا تین بار تو جا چکا ہوں وہ تو بس ایک ہی بات کہتا ہے" جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے" اب تو اس کو میرا چہرا بھی زبانی یاد ہوگیا ہوگا- والدہ نے کہا میں پیسے دیتی ہوں تم اللہ کا نام لے کر جاؤ تو سہی، کچھ لوگ خدا کےبہت قریب ہوتے ہیں یہ بات عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔
خیر میں اگلےدن لاہور پہنچا موسلا دھار بارش ہورہی تھی، ڈرتے ڈرتے اتاشی کے کمرہ میں داخل ہوا دیکھا کرسی پر ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہے، میں نے کہا یہاں تو ایک اور صاحب ہوتے تھے بولا ہاں انکو ایک ہفتہ ہوا واپس وزارت خارجہ میں بلا لیا گیا ہے اور میں نے چارج سنبھال لیا ہے- میں نے کاغذات اسکو دیئے بولا آپ بہت لیٹ آئے اب تو یونیورسٹی کھلنے میں چند دن رہ گئےہیں- پھر اس نے سکریٹری کو بلایا کہا کہ پرسوں سےیونیورسٹی شروع ہورہی ہے یہ پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں فورا ٹکٹ بناؤ پاسپورٹ پر ویزا لگاؤ اورسالانہ ھاؤس رینٹ، ایک ماہ کی سلیری کا چیک بنا کر لے آؤ، اور سنو چائے بھجوادینا- میں ایک لمحہ کے لئیے گم سم سا ہوگیا، قدرت اس طرح بھی مہرباں ہوسکتی ہے ؟، پرانے اتاشی کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہےتھے- اوپر والے نے اس مغرور شخص کی کرسی چھین لی تھی کیا صرف میرا کام کروانے کے لئیے؟ پھر موسم پر میں نے گفتگو شروع کی بتایا کہ بہت موسلادھار بارش ہورہی تھی بڑی مشکل ہوئی آنے میں تو اس نے بڑی شائستہ اردو میں جواب دیا کہ آپ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں ہم تو ایسے موسم کو ترستے ہیں، مجھ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے اس کی اردو سن کر- میرا حیران چہرہ دیکھ کر وہ ہنسا بولا میں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی ہے پاکستانی ایک ذہین ، محنتی اور بڑی مہمان نوازقوم ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں خاص طور پر استادوں سے۔۔۔ چائے ختم ہوگئی تھی، پاسپورٹ، ٹکٹ اور چیک میرے ہاتھ میں تھا۔۔۔ مجھے ٹین ڈبے والے کے خواب کےالفاظ یاد آئے کہ تمھارا قرض ادا کردیا گیا ہے- لیکن ایسی ادائیگی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا-“
U. H❤️ S

Monday, 4 October 2021

بیکن ہاؤس

*..بیکن ھاؤس ..*

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی "سکول" کسی ریاست کو شکست دے دے؟؟
حالیہ کچھ عرصہ میں ریاست پاکستان نے فیصلہ کیا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے تمام بچوں کو خواہ امیر ہوں یا غریب انکو یکساں نصاب پڑھایا جائے گا.....
اس فیصلے کو ہر باشعور پاکستانی کیطرف سے قابل تحسین قرار دیا گیا.....
لیکن کل بیکن ھاؤس کے پرنسپل مائیکل تھامس نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کیا.....

بیکن ھاؤس کا نام سب سے پہلے سوشل میڈیا پر تب گردش میں آیا جب طلباء و طالبات کی مخلوط ڈانس محفلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔

پھر وہاں کے پڑھائے جانے والی نصابی کتب کے سکرین شاٹس شئیر ہوئے جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو " انڈین سٹیٹس" لکھا گیا تھا۔
اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا بلکہ تقریباً تمام کلاسسز کی تمام کتابوں میں تھے جن کے خلاف سوشل میڈیا، میڈیا حتی کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔

بیکن ھاؤس کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے بیکن ھاؤس کے سابق ملازم ارمغان حلیم صاحب کو اس قسم کے مواد کے خلاف آواز اٹھانے پر شدید زدوکوب کیا گیا اور قتل تک کی دھمکیاں ملیں۔

بیکن ھاؤس میں انڈین سرمایہ کاری کا انکشاف بھی ہوا۔ 1996ء میں ان سکولوں میں ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے " انٹرنیشنل فائنینس گروپ " نے براہ راست کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کی۔

بیکن ھاؤس پاکستان کا سب سے مہنگا سکول ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بیکن ھاؤس ماہانہ 5 تا 6 ارب اور سالانہ 60 تا 70 ارب روپیہ پاکستانیوں سے نچوڑتا ہے۔

یہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بیگم نسرین قصوری کی ملکیت ہے جن کو ان کا بیٹا قاسم قصوری چلاتا ہے۔

خورشید محمود قصوری وہی صاحب ہیں جس نے پندرویں آئینی ترمیم ( شریعہ بل ) کے خلاف احتجاجاً استعفی دیا تھا۔ ( شائد اسلام سے نفرت اس پورے خاندان کے خون میں شامل ہے )

لبرل ازم کا علمبرادار " بیکن ھاؤس ہر سال پاکستانی سوسائٹی میں اپنے تربیت یافتہ کم از کم 4 لاکھ طلبہ گھسیڑ رہا ہے۔ یہ طلبہ پاکستان کے اعلی ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سرکاری اداروں کے بڑے بڑے بیوروکریٹ، صحافی، سیاستدان، بزنس مین اور وڈیرے شامل ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرنے والے ان طلباء کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور افکار کا تمسخر اڑاتے نظر آتے ہیں جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے بلکہ جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلباء کی اکثریت کو اردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے۔ (جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے رکھنے والا دوسرا اہم ترین جز ہے۔ :) )

پاکستان کے اعلی ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلباء کی اکثریت بڑی تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اسی طبقے کا ایک بڑا حصہ فوج میں بھی جارہا ہے جو ظاہر ہے وہاں سپاہی بھرتی ہونے کے لیے نہیں جاتے

مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون آیاز نظامی کے الفاظ شائد آپ کو یاد ہوں کہ ۔۔

۔۔ " ہم نے تمھارے کالجز اور یونیوسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں۔ جو تمھاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دینگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرات اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمھاری پوری تاریخ رد کردینگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمھارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریہ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوسی نعرہ لگے گا اور وہ تمھارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمھارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائینگے حتی کہ تمھارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے"

بیکن ھاؤس نے " تعلیم " کے عنوان سے پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ دونوں ناکام نظر آرہے ہیں۔

اس " عفریت " کو اب عوام ہی زنجیر ڈال سکتے ہیں۔ یہ کام ہم سب نے ملکر کرنا ہے۔انکے خلاف آواز اٹھائیں

اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں اور اس مضمون کو کاپی کر کے اپنے اپنے پیجز اور ٹائم لائنز پر شیر کریں۔

ماں

ماں
سارے رشتے پیدا ہونے کے بعد بنتے ہیں ، اس زمین پر ایک واحد ایسا رشتہ ہے جو ہمارے پیدا ہونے سے نو ماہ پہلے بن جاتا ہے۔
وہ بس وہی کھاتی ہے جس سے ہمیں نقصان نہ ہو ، وہ بڑے سے بڑے درد میں بھی عذاب بھگت لیتی ہے، مگر درد مارنے کی دوا نہیں کھاتی کہ کہیں وہ دوا ہم کو نہ مار دے ۔ ہم اس کی پسند کے کھانے چھڑا دیتے ہیں ، ہم اس پر نیند حرام کر دیتے ہیں ، وہ کسی ایک طرف ہو کر چین سے سو نہیں سکتی ، وہ سوتے میں بھی جاگتی رہتی ہے ، ٩ مہینے ایک عذاب سے گزرتی ہے، گرتی ہے تو پیٹ کے بل نہیں گرتی پہلو کے بل گر کر ہڈی تڑوا لیتی ہے لیکن تجھے بچا لیتی ہے ۔
اس نے ابھی تیری شکل نہیں دیکھی ، لوگ شکل دیکھ کر پیار کرتے ہیں، وہ غائبانہ پیار کرتی ہے ، لوگ تصویر مانگ کر سلیکٹ کرتے ہیں ، دنیا کا کوئی رشتہ اس خلوص کی مثال پیش نہیں کر سکتا ، خدا کو اس پر اتنا اعتبار ہے کہ اس کو اپنی محبت کا پیمانہ بنا لیا ، اور جنتی ہے تو قیامت سے گزر کر جنتی ہے اور ہوش آتا ہے تو پہلا سوال تیری خیریت کا ہی ہوتا ہے ۔

خدا کے بعد وہ واحد ہستی ہے جو عیب چھپا چھپا کر رکھتی ہے ، تیری حمایت میں وہ عذر تراشتی ہے کہ تیرے باپ کو مطمئن اور تجھے حیران کر دیتی ہے۔ باپ کھانا بند کرے تو وہ اپنے حصے کا کھلا دیتی ہے ، باپ گھر سے نکال دے تو وہ دروازہ چوری سے کھول دیتی ہے۔
خدا کے سوا کوئی تیرا اتنا خیال نہیں رکھتا جتنا ماں رکھتی ہے۔ خدا نے بھی جنت اٹھا کر اس ماں کے قدموں میں رکھ دی ۔
اللہ پاک سب کے ماؤں کو لمبی زندگی دے جن کے مائیں فوت ہو گئی ہیں انہیں اللہ پاک جنت فردوس عطا کریں ۔
آمین ثم آمین
🔰WJS🔰

صحت

**یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا 

’’ صحت‘‘۔ 

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘
 
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت 
اور 
منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔

یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
 مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں 
مگر 
ہم جب تیز چلتے ہیں‘ 
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
 ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
 یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
 یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

 مثلاً
 دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
 قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

 مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘ 

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں

‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘ 

مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے

‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے

‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
 اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘ 

آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں

‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘ 
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘ 

ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘ 

صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
 مگر
 جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘ 
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘ 

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے

‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا

‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں

‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘ 

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں

‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘ 
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘ 

دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘

 لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘ 

آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘

 دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘

 آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘ 

دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔

گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘

 انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے

‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘ 

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘

 آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘

 شوگر‘
 کولیسٹرول
 اور
 بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
 اور
 آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی‘ 

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘

 ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر 
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘ 

ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘
 ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘
 ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘
 دوڑ لگا سکتے ہیں‘ 
جھک سکتے ہیں
 اور
 ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘ 
کانوں سے سن‘ 
ہاتھوں سے چھو‘ 
ناک سے سونگھ
 اور منہ سے چکھ سکتے ہیں

 تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘
 اس کے کرم کے قرض دار ہیں
 اور 
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
 کیونکہ 
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘ 

ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔

یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ 
اللہ کریم و عظیم رحمان و رحیم آ پ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین یا میرے رب کریم و عظیم.💞

بچو کی تربیت کے موضوع پر کچھ باتیں

*بچوں کی تربیت کے موضوع پر* *کچھ باتیں* !

ہر گھر کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بھی اگر کچھ اصول بنا لیے جائیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے؛ ہماری ہی نہیں، انکی بھی!
اصول تھوڑے ہوں، اور جو ہوں انکی پابندی کی جائے۔ احمد کے لئے جو اصول ہمارے گھر میں ہیں،
ان میں سے چند مختصراً بتاتی ہوں۔ میں چاہوں گی کہ آپ کا اگر کوئیخاص اصول ہے تو شیئر کریں۔ ہم سبھی ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔

*1- صدقہ دینا۔*
جب بھی احمد کو کچھ پیسے ملیں، اصول یہی ہے کہ پہلے صدقہ الگ کرنا ہے۔ اب الحمدللہ وہ چھوٹو سا آ کر جب مجھے کہتا ہے کہ ماما! یہ صدقہ رکھ لیں، کسی غریب بندے کے لئے، بہت اچھا لگتا ہے۔ ہم سب کبھی باہر کسی غریب کو کھانا پکڑا دیتے ہیں، گھر میں کام کرنے والی ماسی کی کوئی مدد کر دیتے ہیں، حتی کہ باہر پرندوں کو بچی ہوئی روٹی ڈالتے ہیں، لیکن بچوں کو شامل نہیں کرتے۔ کرنا چاہیے! انہیں پتہ ہو کہ ہر بندے کے پاس وہ تمام سہولتیں نہیں جو ہمارے پاس ہیں اور جنکی قدر ہمیں نہیں۔ اور پیسہ جتنا بھی ہمیں عزیز ہو، اسکے ایک حصے پر اوروں کا حق ہے۔

*2- کھانے سے متعلق ہمارا اصول* ۔
احمد کو کھانا کھلانا شروع سے ہی ایک مشکل کام رہا۔ یہی وہ وقت ہے جس وقت صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور بار بار چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے کوئی لیکچر سنا کہ اگر کھانا حلال اور صحت بخش ہے تو بس یہ کافی ہے، کھانے کے وقت کو جنگ نہ بنائیں۔ اس دن کے بعد سے اگر احمد وہ کھانا نہیں کھانا چاہتے جو گھر میں بنا ہے تو جو وہ چاہیں، حلال اور صحت بخش، انکو مل سکتا ہے بشرطیکہ وہ پہلے اتنے نوالے گھر بنے کھانے کے لیں جتنی انکی عمر ہے۔ جب 4 سال کے تھے تو چار لقموں کے بعد انہیں بریڈ انڈہ/دودھ سیریل/نان پنیر۔۔۔ جو وہ چاہیں مل سکتا تھا۔ اب پانچ سال کے ہیں تو پہلے پانچ لقمے لینا پڑیں گے، یہی ہمارا اصول ہے۔

*3- "میں نہیں کر سکتا" نہیں* *کہنا* ۔
یہ ہمارا ایک نیا سا اصول ہے اور اسکا بہت فائدہ دیکھتی ہوں۔ ہمارے گھر میں "I can't" کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ میں احمد کو یہ بتاتی ہوں کہ "I can't/میں نہیں کر سکتا" تو ہوتا ہی نہیں ہے، "I'll try/میں کوشش کروں گا" ہوتا ہے۔ کوشش بھی پہلی بار شاید کامیاب نہ ہو لیکن ہمیں پھر بھی کوشش کرتے رہنی ہے جب تک ہم وہ کام سیکھ نہ لیں۔ پھر میں اسکو یاد بھی کرواتی ہوں کہ یاد ہے جب آپ پہلی بار تیرنے کے لئے گئے تھے، کنارے پر بیٹھی ماما کی انگلی ہی نہیں چھوڑ رہے تھے۔ اب دیکھیں، کیسے زور سے پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ یاد ہے شروع میں آپکو پڑھنا مشکل لگتا تھا، اب آپ چھوٹی چھوٹی کتابیں خود ہی پڑھ لیتے ہیں۔۔۔ کچھ دن پہلے احمد کے بابا نے اس سے کہا کہ وہ lego نہیں بنا سکتے تو احمد کا جواب تھا: "بابا! ہم نے ہمیشہ کوشش کرنی ہوتی ہے۔ پھر ہمیں آ جاتا ہے۔ شروع میں نہ آیا تو کچھ دفعہ کے بعد آپ سیکھ جائیں گے۔" :)
*4- اپنے ہر عمل کے ذمہ دار ٓاپ* *خود* *ہیں* ۔
ٓاپ نے غلط لفظ کیوں بولا؟ مجھے فلاں نے سکھایا ہے۔ ٓاپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیوں کہ فلاں نے ٓائیڈیا دیا تھا۔ ایسے جواب ٓاپکے بچے بھی بارہا ٓاپکو دیتے ہونگے۔ ایسے میں اصول یہ ہے کہ
Learn to take responsibility for all your actions. No blaming is allowed, neither acceptable.
اپنے ہر عمل کے ذمہ دار ٓاپ خود ہیں۔ اگر کسی نے مستی والے کام کا ٓائیڈیا دیا ہے تو بھی ٓاپ اسکی بات ماننے یا انکار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو بھی عمل ٓاپ نے کیا ہے، اچھا یا برا، اس کے لئے ذمہ دار اور جوابدہ ٓاپ خود ہیں۔

بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اولاد کی بہترین پرورش کرنے والا بنائے، انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

تحریر،، نیر تاباں
انتخاب،، عابد چودھری

*برائے مہربانی پوسٹ کو شئیر کیا جائے کاپی پیسٹ نہ کیا جائے*

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂
*🌼Join🌼*

🇵🇰 اپنے بچوں کی اچھی تربیت اورتربیہ گروپ کی مزید تحریریں اور ویڈیوز اور روزانہ قرآنی، اصلاحی اور سبق آموز *کہانی* حاصل کرنے اور واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کیلئے اس نمبر پر *تربیہ* لکھ کر واٹس ایپ میسج کریں
03459277238
❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬▬❂

مسکرانا سنت ہے

جمعہ کی نماز کےبعد جب چندے والا ڈبہ میرے
سامنے سے گزرا تو میں نے اپنے وائلٹ سے چن کر نہایت بوسیدہ سا پچاس کا نوٹ ڈبے میں ڈالا۔ اتنے میں پچھلی لائن سے ایک صاحب نے میرے کندھے کو تھپتھپاتے ہوے ایک کڑک سا ہزار روپے کا نوٹ مجھے پکڑایا جسے میں نے فوراً ڈبے میں ڈال دیا پھر مڑ کر احترامًا اس کی جانب بہت ہی قابل تحسین نظروں سے دیکھا میرےتو حواس تب اڑے جب اس نے مسکراتے ہوئے کہا، بٹوا نکالتے ہوئے آپ کی جیب سے گر گیا تھا احتیاط کیا کریں😂

نوٹ:
صدقات و خیرات آپ خود نکالا کریں ورنہ خود بھی نکل سکتے ہیں..
*مسکرانا سنت ہے...*

لمحہ فکریہ🔥

🔥لمحہ فکریہ🔥

والدین کا رشتہ قیمتی ترین رشتوں میں سے ہے...
⁦☝🏼⁩
 ہمارے دین میں والدین کی خدمت اور انکی عزت پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے.... 
اور نافرمانی کی سزا عذاب الہی ہے....🔥

بس اتنی گزارش ہے....⁦🙏🏻⁩
 جب یہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں.. تو ان کی خدمت میں کمی نہ کیجئے....
 ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے میں احسان مت جتائیے.....
 والدین کی خدمت اور ان کی ضرورت کا خیال رکھنا فرائض میں سے ہے...  

🍁والدین کو نہ صدقہ لگتا ہے نہ زکوٰۃ..... ان پر خرچ کرنا ہمارا ہے🍁

 آج ہم جس مقام پر ہیں انہی کی بدولت ہیں،
 اگر یہ ہماری تربیت نہ کرتے اور ہمیں پال پوس کر بڑا نہ کرتے تو آج ہم اس مقام پر نہ ہوتے..😥

اسکے علاوہ ایک بات یاد رکھیں.... 
⁦☝🏼⁩
💔آپ اپنے والدین کے ساتھ جو بھی نیکی کرتے ہیں وہ پلٹ کر آپ کی اولاد آپ کو دے گی، یہی قدرت کا اصول ہے.... جیسا کرو گے ویسا بھرو گے💔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے...
💔
 بیوی بچوں کے آنے کے بعد ،
 والدین کو وقت دینا،
ان کا حال پوچھنا،
ان کے پاس بیٹھنا،
 یہ سب ناپید ہوتا جا رہا ہے...😥
 ان باتوں کا خیال ان کی زندگی رکھیے،
 ورنہ ان کے مرنے کے بعد جو خلا آپ کی زندگی میں پیدا ہوگا وہ کبھی بھر نہیں سکے گا

،،🥀🥀،بھلا نہیں سکتا،، 🥀🥀،،

،،🥀🥀،بھلا نہیں سکتا،، 🥀🥀،،
،،دنیا کا انمول، عظیم،، رشتہ.. ماں،،
جسکے پیروں کے نیچے.. جنت.. جسکو.. دیکھے تو.. حج..،، جسکے دوڑنے کو.. حج کا.. رکن،،،، ،جسکے ساتھ بیٹھو تو.. اعتکاف،،، اور.. اور،،، اور،،، وہ... ناراض ھو جاے.... تو... جہنم... ماں کی عظمت کو سلام..
.🥀،،،،  میں بھلا نہیں سکتا،،، ،🥀
،،اس رات کو... خود گیلے میں مجھے سوکھے میں سلایا،،،،
،،اس دن کو،، جب گھر سے نکلا تو دعائیں دیں...
اس شام کو..جبتک نہ آیا منتظر پایا
اس بارش کو... خود بھیگتی رھی مجھے بارش سے بچایا.....
،، اس عیادت کو.... خود بیمار  تھی میرے لیے. طبیب.. بلوایا....
،اس سوچ کو.. خود ان پڑھ تھی. مجھے پڑھنا سکھایا.....،،،، ،،،،
اس لاغری کو... خود کمزور تھی مجھے طاقتور بنایا....،، 
، اس عادت کو...  دوسروں سے لڑ کر بھی.. مجھے.. مسکرانا سکھایا،،
اس تحفظ کو.. مجھے. دنیا میں جینا سکھایا....                       
،،،، اور❤️اور،،،، ،،،،❤️،،،،،،،،❤️،،اور
اس زندہ دلی کو.... پیدائش کے وقت تکلیف برادشت کرکے..... مجھے.... مسکراہ کر دیکھا...،،
،

Saturday, 26 December 2020

👈 *اللہ_والوں_کی_مجلس_کا_اپنا_ہی_اثر_ہے* 👉

👈 *اللہ_والوں_کی_مجلس_کا_اپنا_ہی_اثر_ہے* 👉


جنید بغدادی ؒ کے زمانے میں ایک بہت مشہور ڈاکو تھا، وہ ڈاکہ زنی سے باز نہیں آتا تھا یہاں تک کہ کئی مرتبہ پکڑا گیا ،قاضی اسے ہر بار پکڑے جانے پر کبھی 100، کبھی 200، کبھی 300دروں کی سزا دیتے، اسے اس وقت تک 16ہزار درے لگ چکے تھے مگر وہ اس قبیح فعل سے باز نہیں آتا تھا حتیٰ کہ اس کا ایک ہاتھ بھی کاـٹ دیا گیا مگر وہ باز نہ آیا اور اپنےایک ہاتھ سے ہی چوری اور ڈاکہ زنی کرتا رہا.لوگ اس سے بہت خوفزدہ رہتے ، کوئی اس کے سامنے جانے کی جرأت نہ کرتا.

ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ڈاکو جنید بغدادیؒ کے گھر چوری کی نیت سے داخل ہو گیا.حضرت جنید بغدادیؒ نے تجارت کی غرض سے کچھ کپڑے اور دیگر اشیا منگوا کر رکھی ہوئی تھیں اور انہیں دو تین گٹھڑیوں میں باندھ رکھا تھا. مشہور ڈاکو جب دیوار کود کر گھر میں داخل ہوا تو اسے وہ سامان
جو گٹھڑیوں میں بندھا پڑا تھا نظر آگیا . وہ ایک ہاتھ ہونے کے باعث ان کو اٹھا کر لے جانے سے قاصر تھا اور ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ کسی کو اس سامان کو اٹھا لے جانے کیلئے مدد کیلئے لایا جائے کہ اسی اثنا میں حضرت جنید بغدادی ؒ نماز تہجد کیلئے نیند سے بیدار ہوئے اور اپنے گھر کے صحن میں تشریف لائے.ڈاکو کی نظر آپ پر پڑی اور اس نے سمجھا کہ شاید یہ اس گھر کا کوئی نوکر ہے جو مالکوں کے بیدار ہونے سے قبل گھر کے کام کیلئے بیدار ہوا ہے.اس نے حضرت جنید بغدادیؒ کو نہایت سخت آواز میں اپنے پاس بلایا’’ادھر آئو! اور یہ گٹھڑی اٹھا کر میرے سر پر رکھو‘‘حضرت جنید بغدادیؒ اس کی جانب بڑھے اور گٹھڑی اٹھا کر اس کے سر پر رکھ دی. اس نے جب دیکھا کہ گھر کا ایک نوکر اس کے رعب میں آچکا ہے اور اس کے احکامات کی جوں کے توں تعمیل کر رہا ہے تو اس نے بجائے اپنے سر پر گٹھڑیاٹھوانے کے حضرت جنید بغدادیؒ کے سر پر گٹھڑی اٹھوانے کا ارادہ کیا اور انہیں اسی سخت لہجے میں حکم دیا کہ ’’میرے سر پر یہ گٹھڑی نہ رکھو بلکہ اپنے سر پررکھو‘‘. حضرت جنید بغدادیؒ آمادہ ہو گئے ، اس نے اپنے ایک ہاتھ سے گٹھڑی آپؒ کے سر پر رکھنے میں مدد کی ، جب آپؒ نے گٹھڑی سر پر اٹھا لی تو اس نے حکم دیا کہ’’ جلدی کرو اور میرے ساتھ چلو ،فجر ہونیوالی ہےاور سورج کی روشنی ہو جائے گی اس سے پہلے پہلے تم نے یہ گٹھڑی میری مطلوبہ جگہ تک چھوڑ کر آنی ہے اور اگر تم نے دیر کی تو میں ڈنڈے سے تمہاری مرمت کروں گا‘‘.
حضرت جنید بغدادیؒ اپنا مال اپنے سر پر رکھ کر اس کے گھر کی جانب چل پڑے.حضرت جنید بغدادیؒ راستے میں تھک گئے ، وزن زیادہ ہونے کے باعث آپ کا سانس بھی پھول چکا تھا،آپ کی رفتار آہستہ ہو جاتی جس پر وہ بدنام زمانہ ڈاکو آپ کو ڈنڈے سے مارنے لگ جاتا یہاں تک حضرت جنید بغدادیؒ وہ گٹھڑی سر پر اٹھائے اس کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں اور گھر واپس آجاتے ہیں.بدنام زمانہ ڈاکو نے ایک دن گزارا، وہ رات کو نہایت اطمینان سے سویا اور اگلی صبح اٹھا . اسے خیال آیا کہ جس گھر میں میں نے گزشتہ روز چوری کی واردات کی ہےاور سامان سرکا اسی گھر کے نوکر کے ذریعے یہاں تک لایا ہوں کہیں وہ میرا راز فاش نہ کردے، مجھے اس سے متعلق خبر رکھنی چاہئے اور چل کے دیکھنا چاہئے کہ آیا وہاں لوگ جمع ہیں یا نہیں اگر تو جمع ہوئے تو یقیناََ اس نوکر نے میرا راز فاش کر دیا ہو گا اور وہ تفتیش کر رہے ہونگے اور اگر وہاں خاموشی ہوئی تو یقیناََ نوکر نے میرے متعلق کسی کو ڈر کے مارے نہیں بتایا ہو گاچنانچہ وہ آپؒ کے گھر کی جانب چل پڑا . وہاں پہنچ کر کیا دیکھتا ہے کہ لوگ آرہے ہیں اور گھر میں قطار در قطار داخل ہو رہے ہیں.گھر میں داخل ہونے والے افراد حلئے سے نہایت پرہیز گار اور متقی لگ رہے تھے. وہ بڑا حیران ہوا اس نے کسی سے پوچھا کہ یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں.اسے بتایا گیا کہ کیا جانتے نہیں کہ یہ گھر ایک بہت بڑے شیخ ، پیر کامل کا ہے.
اس نے استفسار کیا کہ کیا میں ان کو دیکھ سکتا ہے. بتایا گیا کہ ہاں دیکھ سکتے ہو، معلومات دینے والے نے اسے اپنے ساتھ لیا اور گھر میں داخل ہو گیا. اس دوران ڈاکو نے اپنا کٹا ہواہاتھ چھپا لیا کہ کہیں گھر کا نوکر اسے پہچان نہ لے. گھر میں داخل ہو کر اس نے دیکھا کہ وہی نوکر جس سے اس نے گٹھڑی اٹھوائی اور گھر تک مارتا ہوا لے گیا تھا وہ مسندِ ارشاد پر تشریف فرما ہے.معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ حضرت جنید بغدادیؒ ہیں جو ولی کامل ہیں . اس کے دل کی دنیا بدل گئی، آپ کی مجلس میں گناہوں سے توبہ کی اور آپ سے بیعت ہوا. 
روایات میں آتا ہے کہ 
بغداد کا یہ بدنام زمانہ ڈاکو پھر ایسا ہوا کہ حضرت جنید بـغدادیؒ نے اسے اپنی خلافت عطا فرمائی. 

اللہ والوں کی مجلس کا اپنا ہی اثر ہے. کہاں بغداد کا مشہور چور اور ڈاکو اور کہاں جنید بغدادیؒ کا خلیفہ. 
یہ اللہ والوں کی محفل کا اثر تھا کہ دل کی دنیا بدل گئی اور راہ راست اختیار کی۔“

Thursday, 15 October 2020

Short Keys System

Shortcut Keys System!!

CTRL+A. . . . . . . . . . . . . . . . . Select All
CTRL+C. . . . . . . . . . . . . . . . . Copy
CTRL+X. . . . . . . . . . . . . . . . . Cut
CTRL+V. . . . . . . . . . . . . . . . . Paste
CTRL+Z. . . . . . . . . . . . . . . . . Undo
CTRL+B. . . . . . . . . . . . . . . . . Bold
CTRL+U. . . . . . . . . . . . . . . . . Underline
CTRL+I . . . . . . . . . . . . . . . . . Italic
F1 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Help
F2 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Rename selected object
F3 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Find all files
F4 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Opens file list drop-down in dialogs
F5 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Refresh current window
F6 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Shifts focus in Windows Explorer
F10 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Activates menu bar options
ALT+TAB . . . . . . . . . . . . . . . . Cycles between open applications
ALT+F4 . . . . . . . . . . . . . . . . . Quit program, close current window
ALT+F6 . . . . . . . . . . . . . . . . . Switch between current program windows
ALT+ENTER. . . . . . . . . . . . . . Opens properties dialog
ALT+SPACE . . . . . . . . . . . . . . System menu for current window
ALT+¢ . . . . . . . . . . . . . . . . . . opens drop-down lists in dialog boxes
BACKSPACE . . . . . . . . . . . . . Switch to parent folder
CTRL+ESC . . . . . . . . . . . . . . Opens Start menu
CTRL+ALT+DEL . . . . . . . . . . Opens task manager, reboots the computer
CTRL+TAB . . . . . . . . . . . . . . Move through property tabs
CTRL+SHIFT+DRAG . . . . . . . Create shortcut (also right-click, drag)
CTRL+DRAG . . . . . . . . . . . . . Copy File
ESC . . . . . . . . . . . . . . . . . . . Cancel last function
SHIFT . . . . . . . . . . . . . . . . . . Press/hold SHIFT, insert CD-ROM to bypass auto-play
SHIFT+DRAG . . . . . . . . . . . . Move file
SHIFT+F10. . . . . . . . . . . . . . . Opens context menu (same as right-click)
SHIFT+DELETE . . . . . . . . . . . Full wipe delete (bypasses Recycle Bin)
ALT+underlined letter . . . . Opens the corresponding menu
PC Keyboard Shortcuts
Document Cursor Controls
HOME . . . . . . . . . . . . . . to beginning of line or far left of field or screen
END . . . . . . . . . . . . . . . . to end of line, or far right of field or screen
CTRL+HOME . . . . . . . . to the top
CTRL+END . . . . . . . . . . to the bottom
PAGE UP . . . . . . . . . . . . moves document or dialog box up one page
PAGE DOWN . . . . . . . . moves document or dialog down one page
ARROW KEYS . . . . . . . move focus in documents, dialogs, etc.
CTRL+ > . . . . . . . . . . . . next word
CTRL+SHIFT+ > . . . . . . selects word
Windows Explorer Tree Control
Numeric Keypad * . . . Expand all under current selection
Numeric Keypad + . . . Expands current selection
Numeric Keypad – . . . Collapses current selection
¦ . . . . . . . . . . . . . . . . . . Expand current selection or go to first child
‰ . . . . . . . . . . . . . . . . . . Collapse current selection or go to parent
Special Characters
‘ Opening single quote . . . alt 0145
’ Closing single quote . . . . alt 0146
“ Opening double quote . . . alt 0147
“ Closing double quote. . . . alt 0148
– En dash. . . . . . . . . . . . . . . alt 0150
— Em dash . . . . . . . . . . . . . . alt 0151
… Ellipsis. . . . . . . . . . . . . . . . alt 0133
• Bullet . . . . . . . . . . . . . . . . alt 0149
® Registration Mark . . . . . . . alt 0174
© Copyright . . . . . . . . . . . . . alt 0169
™ Trademark . . . . . . . . . . . . alt 0153
° Degree symbol. . . . . . . . . alt 0176
¢ Cent sign . . . . . . . . . . . . . alt 0162
1⁄4 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . alt 0188
1⁄2 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . alt 0189
3⁄4 . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . alt 0190
PC Keyboard Shortcuts
Creating unique images in a uniform world! Creating unique images in a uniform world!
é . . . . . . . . . . . . . . . alt 0233
É . . . . . . . . . . . . . . . alt 0201
ñ . . . . . . . . . . . . . . . alt 0241
÷ . . . . . . . . . . . . . . . alt 0247
File menu options in current program
Alt + E Edit options in current program
F1 Universal help (for all programs)
Ctrl + A Select all text
Ctrl + X Cut selected item
Shift + Del Cut selected item
Ctrl + C Copy selected item
Ctrl + Ins Copy selected item
Ctrl + V Paste
Shift + Ins Paste
Home Go to beginning of current line
Ctrl + Home Go to beginning of document
End Go to end of current line
Ctrl + End Go to end of document
Shift + Home Highlight from current position to beginning of line
Shift + End Highlight from current position to end of line
Ctrl + f Move one word to the left at a time
Ctrl + g Move one word to the right at a time
MICROSOFT® WINDOWS® SHORTCUT KEYS
Alt + Tab Switch between open applications
Alt +
Shift + Tab
Switch backwards between open
applications
Alt + Print
Screen
Create screen shot for current program
Ctrl + Alt + Del Reboot/Windows® task manager
Ctrl + Esc Bring up start menu
Alt + Esc Switch between applications on taskbar
F2 Rename selected icon
F3 Start find from desktop
F4 Open the drive selection when browsing
F5 Refresh contents
Alt + F4 Close current open program
Ctrl + F4 Close window in program
Ctrl + Plus
Key
Automatically adjust widths of all columns
in Windows Explorer
Alt + Enter Open properties window of selected icon
or program
Shift + F10 Simulate right-click on selected item
Shift + Del Delete programs/files permanently
Holding Shift
During Bootup
Boot safe mode or bypass system files
Holding Shift
During Bootup
When putting in an audio CD, will prevent
CD Player from playing
WINKEY SHORTCUTS
WINKEY + D Bring desktop to the top of other windows
WINKEY + M Minimize all windows
WINKEY +
SHIFT + M
Undo the minimize done by WINKEY + M
and WINKEY + D
WINKEY + E Open Microsoft Explorer
WINKEY + Tab Cycle through open programs on taskbar
WINKEY + F Display the Windows® Search/Find feature
WINKEY +
CTRL + F
Display the search for computers window
WINKEY + F1 Display the Microsoft® Windows® help
WINKEY + R Open the run window
WINKEY +
Pause /Break
Open the system properties window
WINKEY + U Open utility manager
WINKEY + L Lock the computer (Windows XP® & later)
OUTLOOK® SHORTCUT KEYS
Alt + S Send the email
Ctrl + C Copy selected text
Ctrl + X Cut selected text
Ctrl + P Open print dialog box
Ctrl + K Complete name/email typed in address bar
Ctrl + B Bold highlighted selection
Ctrl + I Italicize highlighted selection
Ctrl + U Underline highlighted selection
Ctrl + R Reply to an email
Ctrl + F Forward an email
Ctrl + N Create a new email
Ctrl + Shift + A Create a new appointment to your calendar
Ctrl + Shift + O Open the outbox
Ctrl + Shift + I Open the inbox
Ctrl + Shift + K Add a new task
Ctrl + Shift + C Create a new contact
Ctrl + Shift+ J Create a new journal entry
WORD® SHORTCUT KEYS
Ctrl + A Select all contents of the page
Ctrl + B Bold highlighted selection
Ctrl + C Copy selected text
Ctrl + X Cut selected text
Ctrl + N Open new/blank document
Ctrl + O Open options
Ctrl + P Open the print window
Ctrl + F Open find box
Ctrl + I Italicize highlighted selection
Ctrl + K Insert link
Ctrl + U Underline highlighted selection
Ctrl + V Paste
Ctrl + Y Redo the last action performed
Ctrl + Z Undo last action
Ctrl + G Find and replace options
Ctrl + H Find and replace options
Ctrl + J Justify paragraph alignment
Ctrl + L Align selected text or line to the left
Ctrl + Q Align selected paragraph to the left
Ctrl + E Align selected

  Quick Math with a Simple Online Calculator Simplify Everyday Calculations In daily life, doing quick arithmetic is a common need. A simp...